سپریم کورٹ نے اسی سال جنوری میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی عرضیاں مسترد کر دی تھیں۔ یہ دونوں دہلی فسادات سے متعلق ایک مقدمے میں گزشتہ پانچ سالوں سے جیل میں ہیں۔ سوموارکو جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس اجول بھوئیاں کی بنچ نے اس سلسلے میں اپنےاعتراضات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ضمانت اصول ہے اور جیل استثنیٰ۔ عدالت نے مزید کہا کہ کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ’بے گناہی کے تصور‘پر استوار ہوتی ہے۔

عمر خالد اور شرجیل امام۔ پس منظر میں سپریم کورٹ۔
نئی دہلی: سپریم کورٹ کی ایک بنچ نے سوموار (18 مئی) کو سپریم کورٹ ہی کی ایک دوسری بنچ کے اس فیصلے پر سوال اٹھائے، جس میں اسکالر اور ایکٹوسٹ عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، سپریم کورٹ نے اسی سال جنوری میں خالد اور امام کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔ یہ دونوں پانچ سالوں سے جیل میں بند ہیں۔ دہلی پولیس کا ماننا ہے کہ یہ دونوں 2020 کے دہلی فسادات کے پیچھے کی’ بڑی سازش‘میں ملوث تھے۔
قابل ذکر ہے کہ اسی معاملے میں عدالت نے گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمٰن، شاداب احمد اور محمد سلیم خان کو ضمانت دے دی تھی۔
لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق، سوموار کو جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس اجول بھوئیاں کی بنچ نے اس سلسلے میں اپنے اعتراضات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ضمانت اصول ہے اور جیل استثنیٰ۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ اصول ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 21 اور 22 سے ماخوز ہے اور کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ’بے گناہی کے تصور‘پر استوارہوتی ہے۔
یہ تبصرہ عدالت نے سید افتخار اندرابی کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے کیا۔ اندرابی مبینہ نارکو-دہشت گردی سے متعلق غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے ایک مقدمے میں پانچ سالوں سے زیادہ سے حراست میں ہیں۔
بنچ نے کہا کہ عدالت نے 2021 میں تین ججوں کی بنچ کے فیصلے’یونین آف انڈیا بنام کے اے نجیب‘پر صحیح طریقے سے عمل نہیں کیا۔ اس فیصلے میں یو اے پی اے کے تحت آنے والے مقدمات میں ٹرائل میں طویل تاخیر کو ضمانت کی بنیاد مانا گیا تھا۔
لائیو لا کے مطابق، عدالت نے یہ بھی کہا کہ 2024 کے’گروندر سنگھ بنام یونین آف انڈیا‘مقدمے میں بھی کے اے نجیب فیصلے پر عمل نہیں کیا گیا۔
وہیں،بار اینڈ بنچ کی رپورٹ کے مطابق، سماعت کے دوران عدالت نے کہا،’ہمیں گلفشاں فاطمہ معاملے کے فیصلے پر سنگین اعتراضات ہیں۔ گلفشاں فاطمہ کا فیصلہ ہمیں اس نتیجے پر پہنچنے پر مجبور کرتا ہے کہ نجیب (ایک ایسا کیس لاجو کہتا ہے کہ کسی ملزم کو غیر معینہ مدت تک جیل میں نہیں رکھا جا سکتا) دفعہ 43ڈی(5) سے صرف ایک محدود اور غیر معمولی استثنیٰ ہے، جسے صرف انتہائی سنگین حالات میں ہی درست قرار دیا جا سکتا ہے۔‘
عدالت نے مزید کہا،’ کے اے نجیب میں دیے گئے مشاہدات کی اہمیت کو اس طرح کمزور کیے جانے کو لے کر ہمیں تشویش ہے۔ نجیب کی وسیع تشریح سے واضح ہوتا ہے کہ اگر ٹرائل میں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہو اور ملزم طویل عرصے سے جیل میں قید ہو، اور تمام حالات اس کے حق میں ہوں، تو یہ ضمانت دینے کی بنیاد بن سکتا ہے۔‘
بنچ نے کہا کہ نجیب ایک مقدس اصول ہے اور اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کی جا سکتی۔ عدالت نے مزید کہا،’اسی جذبے کے ساتھ ہم واضح کرتے ہیں کہ نجیب ایک لازمی قانون ہے اور عدالتی نظم و ضبط کے تحفظ کا حق رکھتا ہے۔ ٹرائل کورٹ، ہائی کورٹ یا حتیٰ کہ اس عدالت کی کم ارکان والی بنچ بھی اسے کمزور نہیں کر سکتیں، اس سے گریز نہیں کر سکتیں یا اسے نظر انداز نہیں کر سکتیں۔‘
بنچ نے یہ بھی تبصرہ کیا کہ این آئی اے بنام ظہور احمد شاہ وٹالی (2019) کے اُس فیصلے کا حوالہ دے کر، جو نجیب سے پہلے دیا گیا تھا، یو اے پی اے کے تحت طویل پیشگی حراست کو درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
عدالت نے کہا،’ہمیں یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ یو اے پی اے کے تحت بھی ضمانت اصول ہے اور جیل استثنیٰ۔ البتہ، کسی مناسب معاملے میں، اُس خاص کیس کے حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ضمانت دینے سے انکار کیا جا سکتا ہے۔‘
عدالت نے بنچ کی تعداد کے حوالے سے بھی تبصرہ کیا۔ جسٹس بھوئیاں نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایک چھوٹی بنچ کا فیصلہ بڑی بنچ کے طے کردہ قانون کا پابند ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عدالتی نظم و ضبط کا تقاضہ ہے کہ ایسی لازمی نظیر پر یا تو عمل کیا جائے، یا اگر کوئی شبہ ہو تو معاملہ بڑی بنچ کو بھیجا جائے۔ ایک چھوٹی بنچ بڑی بنچ کے فیصلے کے بنیادی اصول کو کمزور نہیں کر سکتی، نہ اسے نظر انداز کر سکتی ہے اور نہ ہی اس کی خلاف ورزی کر سکتی ہے۔