کرناٹک حکومت کے 13 مئی کو جاری نئے فیصلے میں طلبہ کو یونیفارم کے ساتھ ’محدود روایتی اور رسم و رواج سے متعلق علامتیں‘ پہننے کی اجازت دی گئی ہے- جن میں حجاب، جنیئو، رودراکش وغیرہ شامل ہیں۔ فروری 2022 میں مسلم طالبات کو حجاب پہننے سے روکنے والے تعلیمی اداروں کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے اس وقت کی بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت نے حجاب پر پابندی عائد کر دی تھی۔

حجاب کی حمایت میں بنگلورو میں ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا تھا۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)
نئی دہلی: کرناٹک حکومت نے باضابطہ طور پر فروری 2022 میں اس وقت کی بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کے متنازعہ فیصلے کو واپس لے لیا ہے، جس کے تحت تعلیمی اداروں کو کلاس میں حجاب پر پابندی لگانے کی اجازت دی گئی تھی۔ اب طلبہ کو اسکولوں اور کالجوں میں مقررہ یونیفارم کے ساتھ مذہبی اور روایتی علامات پہننے کی اجازت ہوگی۔
بدھ، 13 مئی کو جاری نئے فیصلےمیں طلبہ کو یونیفارم کے ساتھ ’محدود روایتی اور رسم و رواج سے متعلق علامتیں‘پہننے کی اجازت دی گئی ہے، جن میں حجاب، جنیئو، رودراکش، شیودھارا اور شروسترا شامل ہیں۔
یہ فیصلہ سرکاری اسکولوں اور کالجوں، امداد یافتہ اداروں اور ریاست کے محکمہ تعلیم کے تحت آنے والے نجی تعلیمی اداروں پر لاگو ہوگا۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ یونیفارم اب بھی لازمی رہے گی، تاہم یہ علامتیں اضافی طور پر پہنی جا سکیں گی، بشرطیکہ ان سے نظم و ضبط، سکیورٹی، صفائی یا شناخت پر کوئی اثر نہ پڑے۔ کسی بھی طالبعلم کو داخلے سے محروم نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کسی کو ان علامتوں کو پہننے یا اتارنے پر مجبور کیا جائے گا۔
اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس پالیسی کو آئینی اقدار کے مطابق نافذ کریں-جن میں مساوات، وقار، بھائی چارہ، سیکولرزم، سائنسی سوچ، عقلیت پسندی اور تعلیم کا حق شامل ہیں۔
کانگریس حکومت کا یہ فیصلہ پارٹی کے ریاست میں اقتدار میں آنے کے تین سال بعد آیا ہے۔ کرناٹک حکومت کے اسکولی تعلیم اور خواندگی کے وزیر مدھو بنگارپا نے وزیر صحت دنیش گنڈو راؤ اور شیواجی نگر کے کانگریس ایم ایل اے رضوان ارشد کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں نئے آرڈر کا اعلان کیا۔ بعد میں پریس کانفرنس سے متعلق بیان جاری کیا گیا جس میں فیصلوں کی وضاحت کی گئی۔
تاہم، ریاست میں کانگریس کے اقتدار میں آنے کے بعد دسمبر 2023 میں وزیر اعلیٰ سدارمیانے کہا تھا کہ انہوں نے حجاب پر پابندی کا فیصلہ واپس لینے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ لباس اور خوراک کا انتخاب ذاتی معاملہ ہے اور اس میں مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔
حجاب پر پابندی کے بعد کے برسوں میں یہ معاملہ مسلسل تنازعہ کا باعث بنا رہا اور اس سے خواتین کی تعلیم تک رسائی شدید طور پر متاثر ہوئی۔ ڈریس کوڈ کے نام پر طلبہ کو بار بار امتیازی سلوک، ذہنی دباؤ اور کلاس و امتحانات سے باہر کیے جانے جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ معاملہ 1 مئی کو کرناٹک کامن انٹرنس ٹیسٹ(کے سی ای ٹی)کے دوران دوبارہ سامنے آیا، جب مبینہ طور پر کئی طلبہ سے امتحان کے مرکز میں داخلے سے پہلے حجاب اور جنیئو اتارنے کو کہا گیا۔
دکن ہیرالڈکی ایک رپورٹ کے مطابق وزیر تعلیم دنیش گنڈو راؤنے اس واقعہ کو’غیر انسانی ‘قرار دیا تھا۔
پس منظر
واضح ہو کہ فروری 2022 میں مسلم طالبات کو حجاب پہننے سے روکنے والے تعلیمی اداروں کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے اس وقت کی بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت نے کہا تھا کہ’ مساوات، سالمیت اور عوامی نظم و ضبط کو متاثر کرنے والے لباس کی اجازت نہیں دی جا سکتی‘۔ حکومت کے مطابق، کلاس میں حجاب پر پابندی آئین کے تحت دیے گئے مذہبی آزادی کے بنیادی حق کی خلاف ورزی نہیں تھی۔
پابندی کے باعث ریاست میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے اور کئی طلبہ اس پابندی کے خلاف کرناٹک ہائی کورٹ گئے تھے۔ عدالت نے مارچ 2022 میں اس پابندی کو برقرار رکھا اور ان درخواستوں کو مسترد کر دیا جن میں کہا گیا تھا کہ حجاب پہننا اسلام میں ایک لازمی مذہبی عمل کا حصہ نہیں ہے۔
اکتوبر 2022 میں سپریم کورٹ نے اس معاملے پر منقسم فیصلہ سنایا تھا اور کیس کو چیف جسٹس کے پاس بھیج دیا تھا، تاکہ ایک بڑی بنچ تشکیل دی جا سکے۔
منقسم فیصلے میں جسٹس ہمنت گپتا (اب سبکدوش) نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کو خارج کر دیا تھا ، جبکہ جسٹس سدھانشو دھولیہ نے اس کی اجازت دی تھی۔
جسٹس گپتا نے کہا تھا کہ یہ صرف یکسانیت کو فروغ دینے اور ایک سیکولر ماحول کو تقویت دینے کے لیے تھا۔ وہیں، جسٹس دھولیہ نے ریاست اور ہائی کورٹ کے فیصلے کو رد کرتے ہوئے کلاس میں حجاب پہننے کے حق کو ’پسندکا معاملہ‘اور’بنیادی حق‘قرار دیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ حجاب سے متعلق یہ تنازعہ سب سے پہلے اڈپی ضلع کے ایک سرکاری پری یونیورسٹی کالج میں اس وقت شروع ہوا تھا جب دسمبر 2021 میں چھ طالبات حجاب پہن کر کلاس میں آئیں اور انہیں کالج میں داخلے سے روک دیا گیا۔
ان کے حجاب پہننے کے جواب میں کالج میں ہندو طلبہ بھگوا گمچھا پہن کر آنے لگے اور آہستہ آہستہ یہ تنازعہ ریاست کے دیگر حصوں میں بھی پھیل گیا، جس کے باعث کئی مقامات پر تعلیمی اداروں میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہو گیا تھا۔