بہار کے کئی غریب خاندانوں کے لیے مڈ ڈے میل ایک ضروری سہارا ہے، لیکن سہرسہ میں اس کے مبینہ استعمال کے بعد 150 سے زیادہ بچوں کے بیمار پڑنے کے بعد والدین کا کہنا ہے کہ ان کا اس سے بھروسہ اٹھ گیا ہے۔ ایک گارجین نے بچوں کو اسکول نہ بھیجنے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ ان پڑھ رہ جائیں تو بھی چلے گا، لیکن کم سےکم زندہ تو رہیں گے۔‘

سہرسہ کے صدر اسپتال میں اپنی بیٹی سونی کماری کے ساتھ آئس کریم فروش پرتھوی چند داس۔ سونی اسکول میں مڈ ڈے میل کھانے کے بعد بیمار پڑ گئی تھیں۔ (فوٹو: اسپیشل ارینجمنٹ)
نئی دہلی: بہار کے سہرسہ ضلع کے بلواہا گاؤں کی 11 سالہ رادھا کماری اور ان کا بھائی راجہ کمار گاؤں کے مڈل اسکول میں پانچویں جماعت میں پڑھتے ہیں۔ تقریباً ایک ماہ پہلے راجہ نے اسکول کا مڈ ڈے میل کھانا بند کر دیا تھا، کیونکہ انہیں کھانے میں کیڑے رینگتے ہوئے دکھائی دیے تھے۔ تاہم، رادھا اسکول کا کھانا کھاتی رہی۔
گزشتہ7مئی کو رادھا جب اسکول سے گھر واپس آئی تو اسے چکر آنے لگے، سر میں شدید درد تھا اور مسلسل الٹیاں ہو رہی تھیں۔ ان کے والد پرمود شاہ نے کانپتی ہوئی آواز میں بتایا، ’اس نے اسکول میں دال چاول کھایا تھا، جس میں سانپ کا بچہ ملا تھا۔ ‘
مزدوری کرنے والے پرمود شاہ قریبی گاؤں میں کام کر رہے تھے، جب انہیں بیٹی کی طبیعت خراب ہونے کی خبر ملی۔ جب وہ گھر پہنچے تو معلوم ہوا کہ گاؤں کے 40 سے زیادہ بچے بیمار ہو چکے ہیں۔ ان سب نے اسکول میں مڈ ڈے میل کھایا تھا۔
بتایا گیا ہے کہ یہ کھانا اسکول میں نہیں بلکہ ایک سینٹرلائزڈ رسوئی گھر میں تیار کیا جاتا ہے، جہاں سے پورے ضلع کے سرکاری اسکولوں کے لیے کھانا بنا کر بھیجا جاتا ہے۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر (ڈی ای او) ہیم چندر نے کہا: ’یہ سینٹرلائز کینٹین علاقے کے 150 سے زیادہ اسکولوں میں کھانا بھیجتی ہے۔ ‘

مڈڈے میل کھانے کے بعد بیمار پڑے طلبہ سہرسہ کے صدر اسپتال میں۔ (فوٹو: اسپیشل ارینجمنٹ)
گاؤں کے دیگر گارجین نے بھی بتایا کہ اس سے پہلے بھی مڈ ڈے میل میں کیڑے ملنے کی شکایتیں سامنے آئی تھیں۔ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے کمد ٹھاکر نے فون پر بتایا، ’ہمارے بچوں نے پہلے بھی اسکول کے کھانے میں کیڑے ہونے کی شکایت کی تھی، لیکن بچوں کی بات کو کون سنجیدگی سے لیتا ہے؟ ‘
انہوں نے کہا،’اب میں اپنے بچوں کو اسکول نہیں بھیجوں گا۔ وہ ان پڑھ رہ جائیں تو بھی چلے گا، لیکن کم سے کم زندہ تو رہیں گے۔ ‘ ٹھاکر کے دو بچے ہیں جو بلواہا مڈل اسکول میں پہلی اور پانچویں جماعت میں پڑھتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اس دن صرف قسمت نے ان کے بچوں کو بچالیا۔
انہوں نے کہا، ’بھگوان کی مہربانی تھی کہ میں گھر پر تھا اور بچوں کو اسپتال لے گیا۔ اگر میں وہاں نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ بچے مر جاتے اور حکومت کے پاس افسوس کرنے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ‘

سہرسہ صدر اسپتال میں بھرتی اپنے بچوں کے ساتھ پرمود شاہ (بائیں، پیلے رنگ کا گمچھا پہنے ہوئے) اور کمد ٹھاکر (کھڑے ہوئے)۔ (تصویر: اسپیشل ارینجمنٹ)
انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق، بلواہا اسکول میں مجموعی طور پر 719 طلبہ ہیں۔ جس دن بچے بیمار پڑے، اس دن 543 طلبہ اسکول میں موجود تھے۔
ڈی ای او ہیم چندر نے کہا کہ یہ ’ممکن نہیں ‘ ہےکہ بچوں کو دیے جانے والے کھانے میں باقاعدگی سے کیڑے ملتے رہے ہوں۔ انہوں نے کہا، ’کھانے کی باقاعدہ جانچ کی جاتی ہے۔ ‘
ابتدا میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ بچوں کی بیماری کی وجہ کھانا نہیں بلکہ شدید گرمی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ پھر اتنے بچے ایک ساتھ کیسے بیمار ہو گئے، تو انہوں نے کہا،’یہ جانچ کا معاملہ ہے۔ ‘
ڈی ای او نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ’صرف‘15 یا 20 طلبہ بیمار ہوئے تھے، جبکہ سہرسہ کے ضلع مجسٹریٹ دیپیش کمار نے صحافیوں سے کہا کہ اسپتال میں داخل بچوں کی تعداد 160 تھی۔
دی وائر سے بات کرنے والے والدین نے بتایا کہ بچوں نے انہیں کہا تھا کہ ایک طالبعلم کی دال میں قریب ڈیڑھ فٹ لمبا مردہ سانپ ملا تھا۔ اس طالبعلم نے استاد کو بلا کر سانپ دکھایا، لیکن استاد نے اسے پلیٹ سے ہٹا کر یہ کہہ دیا کہ یہ معمول کی بات ہے اور فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
صدر اسپتال میں داخل طلبہ میں سے ایک سونی کماری کے والد پرتھوی چندر داس نے کہا،’ہم غریب طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہمارے پاس اپنے بچوں کو سرکاری اسکول میں بھیجنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔‘ پرتھوی چندر داس آئس کریم بیچتے ہیں۔
علاقے میں محروم طلبہ کے ساتھ کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے کبیر مارگ درشک منڈل کے بانی راوشن یادو نے کہا،’ان اسکولوں میں پڑھنے والے زیادہ تر بچے غریب خاندانوں اور دلت-بہوجن برادریوں سے آتے ہیں، جو نجی تعلیم کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے۔ بدانتظامی کا سب سے زیادہ اثر اسی طبقے پر پڑ رہا ہے۔‘
مرکزی حکومت کی وزارت تعلیم کی مڈ ڈے میل اسکیم کے بارے میں حکومت ان الفاظ میں بتاتی ہے؛
’مڈ ڈے میل اسکیم بچوں میں بھوک، غذائی قلت اور اسکولوں میں کم حاضری جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے شروع کی گئی ایک فلاحی اسکیم ہے۔ اس کا مقصد ملک بھر کے اسکولی بچوں کو مفت اور غذائیت سے بھرپور کھانا فراہم کرنا ہے۔ اس اسکیم کے تحت پرائمری اور اپر پرائمری اسکولوں کے بچوں کو گرم پکا ہوا کھانا دیا جاتا ہے۔
اس اسکیم کے دو بنیادی مقاصد ہیں۔ پہلا، بچوں کی غذائی سطح میں بہتری لانا تاکہ انہیں نشوونما کے لیے ضروری متوازن غذا اور غذائی اجزاء مل سکیں۔ دوسرا، بھوک کی رکاوٹ کو ختم کر کے اور والدین کو بچوں کو اسکول بھیجنے کی ترغیب دے کر اسکولوں میں حاضری اور بچوں کے برقرار رہنے کی شرح کو بڑھانا۔‘
لیکن یہی وعدہ ٹھاکر، شاہ اور داس جیسے والدین کے لیے خوف کی وجہ بن گیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے پڑھیں اور مڈ ڈے میل ان کے لیے ایک اہم سہارا ہے۔ لیکن انہوں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ یہی بھروسہ خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ خاص طور پر بہار میں مڈ ڈے میل اسکیم کئی بار سرکاری اسکولوں کے بچوں کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔
سال 2013 میں مڈ ڈے میل کھانے کے بعد فوڈ پوائزننگ سے 22 بچوں کی موت ہو گئی تھی۔ یہ اس طرح کے سب سے ہولناک واقعات میں سے ایک تھا، اگرچہ اس کے بعد بھی چھوٹےموٹے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔
بہار سمیت ملک کے زیادہ تر حصوں میں مڈ ڈے میل اسکیم ایک ’مرکزی کی جناب سےاسپانسرڈاسکیم ‘ہے، جس میں خرچ کا 60:40 تناسب مرکز اور ریاستی حکومت کے درمیان تقسیم ہوتا ہے۔ کچھ سال پہلے اس کا نام بدل کر پی ایم پوشن (پردھان منتری پوشن شکتی نرمان) رکھ دیا گیا تھا، لیکن غیر رسمی طور پر اسے آج بھی مڈ ڈے میل اسکیم ہی کہا جاتا ہے۔
8 مئی کی دوپہر ڈی ای او نے کہا کہ سہرسہ واقعہ کے بعد اسپتال میں داخل تمام بچوں کی حالت اب بہتر ہے اور انہیں ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔