مجسمے صرف پتھر یا دھات کے ڈھانچے نہیں ہوتے۔ وہ اس بات کی علامت ہوتے ہیں کہ ایک معاشرہ کن نظریات، جدوجہد اور یادوں کو اپنی معاشرت میں جگہ دینا چاہتا ہے۔ جب سیاست حافظے اور یادداشت کے انہدام کی شکل اختیار کر لے، تو پھر کوئی بھی علامت محفوظ نہیں رہتی- نہ لینن، نہ گاندھی، نہ نہرو، نہ امبیڈکر۔

خود اعتماد معاشرہ تاریخ سے مکالمہ قائم کرتا ہے، جبکہ ایک غیر محفوظ معاشرہ تاریخ کی علامتوں کو مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔(السٹریشن: پری پلب چکرورتی / دی وائر)
مغربی بنگال میں ولادیمیر لینن کے مجسمے کو گرائے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر بار بار ایک سوال پوچھا گیا کہ ’بنگال میں لینن کے مجسمے کی کیا ضرورت ہے؟‘یہ سوال صرف ایک مجسمے تک محدود نہیں ہے؛ بلکہ یہ ہمارے تاریخی شعور اور سیاسی حافظے کے زوال کی بھی علامت ہے۔
سند رہے، تاریخ کبھی جغرافیہ کی بند سرحدوں میں تشکیل نہیں پاتی۔ نظریات، جدوجہد، انقلابات اور فلسفے ہمیشہ سرحدوں سے آگے کا سفر کرتے ہیں۔ بنگال میں لینن کا مجسمہ اس بات کی علامت تھا کہ سوشلسٹ نظریات، مزدور تحریکوں اور سامراج مخالف سیاست نے بنگال سمیت دنیا کے کئی خطوں کے سیاسی شعور کو متاثر کیا۔ اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
کوئی شخص لینن پر تنقید کر سکتا ہے، کمیونسٹ سیاست کو مسترد کر سکتا ہے، لیکن کسی تاریخی شخصیت کی اہمیت کو محض اس کی قومیت تک محدود کر دینا تاریخ فہمی کو سطحی اور محدود بنا دیتا ہے۔
پھر یہی سوال ہم الٹ کر بھی پوچھ سکتے ہیں کہ مہاتما گاندھی کے مجسمے دنیا کے مختلف ممالک میں کیوں موجود ہیں؟ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر، جواہر لال نہرو یا رابندرناتھ ٹیگور کو ہندوستان سے باہر کیوں یاد کیا جاتا ہے؟
اس لیے کہ بعض شخصیات اپنے ملک کی سرحدوں سے آگے بڑھ کر انسانیت کے وسیع تر ڈسکورس کا حصہ بن جاتی ہیں۔ گاندھی صرف ہندوستان کے نہیں بلکہ پوری دنیا میں عدم تشدد پر مبنی مزاحمت کی علامت ہیں؛ امبیڈکر سماجی انصاف اور آئینی اخلاقیات کی علامت ہیں؛ ٹیگور انسانیت کی آفاقیت کی علامت ہیں؛ اور نہرو جمہوری جدیدیت کے۔
تصور کیجیے، اگر کسی دوسرے ملک میں گاندھی کا مجسمہ توڑ دیا جائے اور یہ کہا جائے کہ ’ یہاں گاندھی کی کیا ضرورت ہے؟‘ تب ہم فوراً سمجھ جائیں گے کہ یہ دلیل کتنی تنگ نظر اور خطرناک ہے۔ تب ہم کہیں گے کہ حملہ صرف ایک مجسمے پر نہیں، بلکہ ان اقدار اور نظریات پر ہے جو پوری دنیا کی مشترکہ میراث ہیں، ملکوں کی سرحدوں سے ماورا۔
جمہوریت کی قوت اس بات میں نہیں ہوتی کہ سب ایک ہی تاریخی شخصیت یا ایک ہی نظریے کو تسلیم کریں، بلکہ اس میں ہوتی ہے کہ نظریاتی اختلاف کے باوجود معاشرہ حافظے اور تاریخ کے ساتھ بقائے باہمی قائم رکھ سکے۔
خود اعتماد معاشرہ تاریخ سے مکالمہ کرتا ہے، جبکہ ایک غیر محفوظ معاشرہ تاریخ کی علامتوں کو مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔
آخرکار مجسمے صرف پتھر یا دھات محض نہیں ہوتے۔ وہ اس بات کی علامت ہوتے ہیں کہ معاشرہ کن نظریات، جدوجہد اور یادوں کو اپنی معاشرت میں جگہ دینا چاہتا ہے۔ اور جب سیاست حافظے اور یادداشت کے انہدام کی شکل اختیار کر لے، تو پھر کوئی بھی علامت محفوظ نہیں رہتی – نہ لینن، نہ گاندھی، نہ نہرو، نہ امبیڈکر، اور نہ ہی ٹیگور۔ کیا ہم واقعی ایسے معاشرے کو قبول کر پائیں گے؟
یہ مضمون ایکس پر شائع ہوا ہے۔
(منوج کمار جھا راشٹریہ جنتا دل کے راجیہ سبھا ممبر ہیں۔)