سونا ترک کرنے کی اخلاقیات کس کے لیے، اور نمائش کی آزادی کس کو؟

ہندوستان جیسے معاشی طور پر غیر مساوی معاشرے میں جب ایثار و قربانی یا ترک آسائش کی بات آتی ہے تو سب سے پہلے یہ سوال اٹھنا چاہیے کہ قربانی کون دے گا؟ وہ جو پہلے ہی راشن، کرایہ، فیس اور ای ایم آئی کے جال میں گرفتار ہے، یا وہ جو دولت کو کپڑے کی طرح زیب و تن کر سکتا ہے؟ یہاں سوال حسد کا نہیں، اخلاقی توازن کا ہے۔ اور یہ تعصب نہیں بلکہ عوامی انصاف کا سوال ہے۔

ہندوستان جیسے معاشی طور پر غیر مساوی معاشرے میں جب ایثار و قربانی یا ترک آسائش کی بات آتی ہے تو سب سے پہلے یہ سوال اٹھنا چاہیے کہ قربانی کون دے گا؟ وہ جو پہلے ہی راشن، کرایہ، فیس اور ای ایم آئی کے جال میں گرفتار ہے، یا وہ جو دولت کو کپڑے کی طرح زیب و تن کر سکتا ہے؟ یہاں سوال حسد کا نہیں، اخلاقی توازن کا ہے۔ اور یہ تعصب نہیں بلکہ عوامی انصاف کا سوال ہے۔

عوام سے کہا جاتا ہے، سونا مت خریدو۔ اشرافیہ سے کہا جاتا ہے، سونے کو آرٹ بنا دو۔ قوم کی کفایت شعاری کمزور لوگوں کی جیب میں تلاش کی جاتی ہے، اوپر کے جھومروں میں نہیں۔‘(تصویر:پی ٹی آئی/ انسٹاگرام /گورو گپتا)

وزیر اعظم نریندر مودی نے جب عوام سے کہا کہ ایک سال سونا نہ خریدیں، پیٹرول- ڈیزل بچائیں، کار-پول کریں، گھر سے کام کریں اور غیر ضروری بیرون ملک سفر کو مؤخر کریں، تو یہ صرف معیشت سے متعلق ایک خشک سا مشورہ نہیں تھا؛ یہ ہندوستانی متوسط طبقے، نچلے متوسط طبقے اور روزمرہ کی چھوٹی موٹی کفایت شعاری کے سہارےچلنے والے خاندانوں کے شعور پر رکھا گیا ایک اخلاقی رسید تھا۔ جیسے ریاست نے شہری کے گھر کے دروازے پر دستک دے کر کہا ہو، اخراجات میں احتیاط کریں، اپنی خواہشات کو کچھ دیر کے لیے مؤخر کر دیں، کیونکہ قوم ایک مشکل وقت کی دھوپ میں کھڑی ہے۔

تیل کے بحران، غیر ملکی زرمبادلہ پر دباؤ اور سونے کی درآمدات کے خدشات کو اس اپیل کی وجوہات بتایا گیا۔ ہندوستان نے 2025-26 میں سونے کی درآمد پر تقریباً 71.98 ارب ڈالر خرچ کیے۔ یہ واقعی ایک بھاری درآمدی بل ہے، معیشت کی پسلیوں پر رکھا ہوا سنہری مگر وزنی پتھر۔

لیکن سوال یہیں سے پیدا ہوتاہے کہ کفایت شعاری کا یہ اخلاقی درس ہمیشہ عوام  کو ہی کیوں پڑھایا جاتا ہے؟ یہ اخلاقی معاشیات غریب اور متوسط خاندان کی بیٹی کی شادی کے چھوٹے سے ہار تک کیوں پہنچتی ہے، ارب پتی اشرافیہ کے ہیرے اور زمرد سے جڑے عالمی نمائش تک کیوں نہیں جاتی؟


اگر ایک اسکول ٹیچر اپنی بیٹی کی شادی کے لیے دس گرام سونا خریدے تو اسے قومی زرمبادلہ پر بوجھ سمجھا جاتا ہے؛ لیکن اگر کسی ارب پتی خاندان کی وارث میٹ-گالا کی سیڑھیوں پر سونے کے دھاگے، ہیرے، زمرد، پولکی اور موروثی زیورات سے آراستہ ’فیشن آرٹ ‘بن کر چلے تو اسے ہندوستانی دستکاری کا عالمی جشن کہا جاتا ہے۔

یہ وہ لمحہ ہے جہاں معیشت اپنے اعداد و شمار سے نکل کر سماجیات بن جاتی ہے، اور سماجیات انسانی مایوسی، تقابل اور احساس تذلیل میں ڈھل کر نفسیات بن جاتی ہے۔


ایثار و قربانی کی اخلاقیات کس کے لیے، اور دکھاوے کی آزادی کس کو؟

امریکی ترقی پسند دور کے ممتاز مفکر اور معروف کتاب دی تھیوری آف دی لیزر کلاس (1899) کے مصنف تھارسٹین ویبلین نے جسے’کانشس کنزمپشن‘یعنی دکھاوے کا استعمال کہا تھا، وہ صرف خرچ نہیں ہوتا؛ وہ اقتدار کی زبان ہوتی ہے۔ مہنگے کپڑے، ہیرے، نجی طیارے، ڈیسٹینیشن شادیاں، گولڈ تھریڈ کی ساڑیاں وغیرہ یہ سب اپنی افادیت سے نہیں بلکہ اپنی نایابی سے بولتے ہیں۔ وہ کہتے نہیں ، اعلان کرتے ہیں ۔ یہ لباس نہیں ہوتے، یہ سماجی ڈھانچے پر لہراتے ہوئے جھنڈے ہوتے ہیں۔

عام آدمی سونا اس لیے خریدتا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے تحفظ، سماجی وقار اور ہنگامی حالات کے لیے تھوڑی سی جمع پونجی اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے۔ اس کے لیے سونا مستقبل کی غیر یقینی اور اندھی رات میں جلنے والی چھوٹی سی آگ ہے۔ جبکہ ارب پتی سونا اس لیے پہنتا ہے کہ دنیا دیکھےکہ میرے پاس اتنی دولت ہے کہ میں اسے اپنے جسم پر بھی سجا سکتا ہوں۔ ایک کے لیے سونا خوف سے جنم لینے والی بچت ہے، دوسرے کے لیے فحاشی کی  اٹھکھیلیاں کرتےشان وشوکت سے پیدا ہونے والارتبہ۔

ایشا امبانی کا میٹ گالا لُک اسی تضاد کا ایک بصری مظہر ہے۔ ووگ انڈیا نے لکھا کہ یہ ساڑی خالص سونے کے دھاگوں سے بنی گئی، جسے مقامی کاریگروں نے 1200 سے زائد گھنٹے میں تیار کیا اور 50 سے زیادہ کاریگروں نے اسے شکل دی۔ بوڈس میں نیتا امبانی کے ذاتی کلیکشن سے 200 سے زیادہ پرانے مائن کٹ ہیرے استعمال کیے گئے۔ٹاؤن اینڈ کٹ اور دیگر فیشن رپورٹس نے اس میں 1800 کیرٹ سے زیادہ قیمتی پتھر، 250 کیرٹ سے زیادہ ڈائمنڈ نیکلس، 50 کیرٹ زمرد، اور نظام سے منسوب سرپیش جیسی نایاب اور تاریخی اشیاء کابھی ذکر کیا۔ یہ محض لباس نہیں، بلکہ ایک چلتا پھرتا خزانہ تھا؛جسم پر سجا ہوا موروثی سرمایہ، جس میں کاریگری، دولت، حسب ونسب، منڈی اور عالمی ثقافتی حیثیت سب ایک ساتھ چمک رہے تھے۔

آپ چاہیں تو اسے ہندوستانی دستکاری کی فتح کہہ سکتے ہیں۔ اور حقیقت میں کاریگروں کی مہارت، پچوائی سے متاثرہ نقش و نگار، کندن، پولکی، زری، زردوزی وغیرہ یہ سب ہندوستانی جمالیاتی روایت کا حصہ ہیں۔ ان میں صدیوں کی انگلیوں کا لمس ہے، گمنام ہاتھوں کا صبر ہے، آنکھوں کی باریک روشنی ہے اور روایت کی خاموش محنت ہے۔ لیکن مسئلہ فن میں نہیں، بلکہ لگژری آپٹکس یعنی عیش و عشرت کے نمائشی اظہار میں ہے۔

جس ملک میں وزیراعظم عوام سے سونا نہ خریدنے کی اپیل کر رہے ہوں، اسی وقت ایک ہندوستانی ارب پتی خاندان کا عالمی فیشن پلیٹ فارم پر سونا، ہیرے اور زمرد کا جشن بن جانا صرف فیشن کی خبر نہیں رہتا؛ یہ عدم مساوات کی اخلاقی معیشت کا معاملہ بن جاتا ہے۔ یہ صرف لباس کا سوال نہیں رہتا؛ یہ سوال اٹھنے لگتا ہے کہ ایثار وقربانی کی اخلاقیات کس کے لیے ہے اور نمائش کی  آزادی کس کو ہے۔

قوم کی کفایت شعاری نیچے کی جیبوں میں تلاش کی جاتی ہے، اوپر کے جھومروں میں نہیں

حقیقت میں اگر اسے ہندوستانی جین فلسفے کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ واضح طور پر علامتی تشدد ہے۔ ایسا تشدد جس میں کسی پر لاٹھی نہیں چلتی، لیکن معاشرے کو یہ یاد دلایا جاتا ہے کہ آپ کی ریاضت حب الوطنی ہے اور ہماری عیش و عشرت تہذیبی نمائندگی۔

عوام سے کہا جاتا ہے، سونا نہ خریدیں۔ اشرافیہ سے کہا جاتا ہے، سونے کو فن بنا دو۔ عوام سے کہا جاتا ہے، کار-پول کرو۔ اشرافیہ کے لیے نجی طیاروں اور عالمی ریڈ کارپیٹ نیٹ ورک پر کوئی اخلاقی نصیحت نہیں۔ عوام سے کہا جاتا ہے، ورک فرام ہوم کرو۔ مگر ان گھروں میں جہاں ڈرائیور، گھریلو ملازمین، اسٹائلسٹ، سکیورٹی اہلکار اور ایونٹ اسٹاف کام کرتے ہیں، ان کی محنت پر قائم اس شان و شوکت سے کوئی قومی ایثار طلب نہیں کیا جاتا۔ قوم کی کفایت شعاری نیچے کی جیبوں میں تلاش کی جاتی ہے، اوپر کے جھومروں میں نہیں۔

صاف صاف دیکھا جائے تو یہ وہ نظریہ ہے جسے محرومیت نسبی کی تھیوری کہا جاتا ہے، جس کے مطابق لوگ اس وقت بے چینی محسوس کرتے ہیں جب وہ اپنی حالت کا موازنہ دوسروں سے کرتے ہیں اور یہ پاتے ہیں کہ ان کے پاس وہ سب کچھ نہیں  ہےجو ہونا چاہیے تھا۔ یہ معروضی غربت نہیں بلکہ ’ذہنی محرومی‘ہے۔

یہ وہ کیفیت ہے جو اکثر سماجی بے چینی اور تحریکوں کو جنم دیتی ہے۔ غریب آدمی صرف غربت اور تنگدستی سے نہیں تڑپتا؛ وہ اس وقت زیادہ زخمی ہوتا ہے جب اس کے چھوٹے موٹے اخراجات پر اسے گناہ کا احساس دلایا جائے اور بڑے اخراجات کو جشن بنا دیا جائے۔ یہی عدم مساوات کی نفسیاتی آگ ہے۔

کسی متوسط طبقے کے باپ سے کہنا کہ بیٹی کی شادی میں سونا مؤخر کریں، جبکہ کروڑوں کے ہیروں کو ’ہیریٹیج کلچر‘قرار دیا جائے، یہ عوامی اخلاقیات کا دوہرا معیار ہے۔ یہ اس شخص کو اندر سے توڑ دیتا ہے جو پہلے ہی فیس، علاج، کرایہ، راشن اور شادی کی سماجی ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔

معاشی قوم پرستی ہمیشہ نیچے سے ہی کیوں شروع ہوتی ہے؟

لیکن پالیسی کا اصل سوال یہ ہے کہ کیا معاشی قوم پرستی ہمیشہ نیچے سے شروع ہوگی؟ کیا زرمبادلہ بچانے کا بوجھ صرف ان خاندانوں پر ڈالنا ہے جو شادی کے قرض میں ڈوبے ہیں، روزانہ پیٹرول بھرنے والے ملازمین، کرایہ کے گھروں میں رہنے والے تنخواہ دار افراد اور چھوٹے تاجروں پر ہی ڈالا جائے گا؟

اگر سونا درآمدی بل ہے تو انتہائی لگژری درآمد شدہ طرز زندگی بھی تو ڈالر کے اخراج کا سبب ہے۔ اگر ایک متوسط طبقے کی دلہن کی کلائی کی چوڑی قومی مفاد میں مؤخر ہو سکتی ہے تو امیروں کے اربوں کے نمائشی اخراجات پر کم از کم عوامی اخلاقی سوال کیوں نہیں اٹھ سکتا؟ کیا قومی کفایت شعاری کی گھنٹی صرف ان دروازوں پر بجے گی جہاں پہلے ہی مہینے کے آخر میں حساب و کتاب کی سانس پھول جاتی ہے؟

یہاں مسئلہ ’روکنا‘نہیں ہے۔ جمہوری معاشرے میں ذاتی ملکیت اور ذاتی لباس پر پابندی کی بات نہیں ہونی چاہیے۔ ایشا امبانی کیا پہنیں، یہ ان کا ذاتی حق ہے۔ کوئی مہذب معاشرہ کسی فرد کے لباس پر نگرانی نہیں چاہتا۔ لیکن وزیراعظم کی عوامی اپیل بھی اسی وقت اخلاقی اعتبار حاصل کرتی ہے جب کفایت شعاری کا پیغام اوپر سے نیچے بہے، نہ کہ نیچے سے اوپر نچوڑا جائے۔

ایثاراور قربانی کی تعلیم اس وقت تک نامکمل ہے جب تک وہ اقتدار، سرمایہ اور اشرافیہ کے طرز زندگی کے دروازے تک نہ پہنچے۔

حقیقی گاندھیائی معاشی فکر یہ کہتی ہے کہ پہلے اقتدار اپنے قافلے کم کرے، وزراء اپنی تقریبات سادہ کریں، سرکاری تشہیر کے اخراجات کم ہوں، عوامی عہدوں پر عیاشی محدود ہو، اور بحران کے وقت ارب پتی خاندان رضاکارانہ طور پر اپنی پرتعیش زندگی سے پرہیز کریں، پھر عوام سے کہا جائے کہ آئیں، ہم سب مل کر ملک بچائیں۔ ورنہ یہ اپیل ’آسٹیریٹی فار دی ماسز، اسپیکٹیکل فار دی ایلیٹس یعنی جہاں عوام سے ریاضت کا مطالبہ ہوتا ہے اور اشرافیہ کی پیٹھ تھپتھپاؤ کہ تماشا جاری رہے والی علامت بن کر رہ جاتی ہے۔

ملک میں عدم مساوات

عدم مساوات کا حوالہ بھی یہاں ضروری ہے۔ آکسفیم انڈیا 2023 کے اندازوں کے مطابق ہندوستان کی سب سے اوپر کی 1 فیصد آبادی کے پاس مجموعی دولت کا 40 فیصد سے زیادہ حصہ تھا، جبکہ نچلے 50 فیصد کے پاس تقریباً صرف 3 فیصد دولت تھی۔ ایسے معاشرے میں جب ایثار کی بات کی جاتی ہے تو سب سے پہلا سوال یہ ہونا چاہیے کہ ایثار کون کرے گا؟ وہ جو پہلے ہی راشن، کرایہ، فیس، ای ایم آئی اور پیٹرول کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے یا وہ جو دولت کو لباس کی طرح پہن سکتا ہے؟ یہ سوال حسد کا نہیں بلکہ اخلاقی توازن کا ہے۔ یہ نفرت نہیں بلکہ اجتماعی انصاف کا سوال ہے۔


ایشا امبانی کی ساڑی کسی فیشن ایونٹ کا محض لباس نہیں؛ یہ ہمارے زمانے کا ایک درخشاں استعارہ ہے۔ اس کے دھاگے سونے کے ہیں، لیکن ان میں بُنا ہوا سوال سیاسی ہے۔ اس کے ہیروں کی کٹ شاید پرانی کانوں سے آئی ہو،مگر ان میں جھلکتا ہوا چہرہ نئے ہندوستان کا ہے۔ ایک ایسا ہندوستان جہاں عوام سے کہا جاتا ہے کہ بحران میں خرچ کم کرو اور اشرافیہ سے کہا جاتا ہے کہ اپنی وراثت کو عالمی سطح پر اور زیادہ چمکدار بناؤ۔

ایک ایسا ہندوستان جہاں عام لڑکی کی چوڑیاں معیشت کا مسئلہ بن جاتی ہیں اور غیر معمولی دولت کی چمک ثقافتی فخر میں بدل دی جاتی ہے۔


اصل آئینہ یہی ہے کہ بحران کے وقت حب الوطنی کا معیار عام آدمی کی بیٹی کی دس گرام چوڑی نہیں بلکہ اشرافیہ کے ہزاروں قیراط کی نمائش ہونی چاہیے۔ معاشیات بتاتی ہے کہ سونا غیر ملکی زر مبادلہ پر دباؤ ڈالتا ہے، لیکن نفسیات بتاتی ہے کہ غیر مساوی بوجھ معاشرے کے ذہن پر اور زیادہ بھاری پڑتا ہے۔ جب غریب کی بچت جرم محسوس ہونے لگے اور امیر کی آسائش ثقافت کہلانے لگے تو پالیسی اخلاقی نہیں بلکہ طبقاتی دکھائی دینے لگتی ہے۔

ایثار کی زبان تبھی معتبر ہوتی ہے جب وہ سب سے پہلے بلند دروازوں پر دستک دے۔ عوام سے ضبط نفس طلب کرنے سے پہلے اُن ہاتھوں کو دیکھنا ضروری ہے جو دولت کو فن، وراثت اور قومی وقار کا چمکتا ہوا نقاب بنا کر پہنتے ہیں۔

(تریبھون سینئر صحافی ہیں۔)