سیاسی تجزیہ کار یوگیندر یادو نے دی وائر سے کہا، ’سونم نے اپنی بھوک ہڑتال ختم نہیں کی ہے۔ وہ اس وقت اسپتال میں ہیں اور وہاں سے جنتر منتر واپس جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پولیس کچھ کہنے کو تیار نہیں ہے۔ لیکن سونم نے سی جے پی کو بتایا ہے کہ جیسے ہی انہیں اسپتال سے نکلنے دیا جاتا ہے، وہ سیدھے جنتر منتر پہنچیں گے۔‘
سنیچر کی صبح جنتر منتر سے دہلی پولیس سونم وانگچک کو زبردستی لے جاتی ہوئی۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
نئی دہلی:ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال سنیچر (18 جولائی) کی صبح دہلی پولیس کی جانب سے انہیں زبردستی صفدرجنگ اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد بھی جاری ہے۔
ذرائع نے
دی وائر کو بتایا کہ سونم وانگچک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم نہیں کی ہے اور حکام سے کہا ہے کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھنے کے لیے جنتر منتر واپس جانا چاہتے ہیں۔
غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کے 21ویں دن سنیچر کی صبح دہلی پولیس وانگچک کو زبردستی اسپتال لے گئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس کارروائی میں شامل کئی پولیس اہلکار سادہ لباس میں تھے۔ وانگچک کو اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دیپکے بھی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کار یوگیندر یادو نے
دی وائر سے کہا، ’سونم نے اپنی بھوک ہڑتال ختم نہیں کی ہے۔ وہ اس وقت اسپتال میں ہیں اور وہاں سے جنتر منتر جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پولیس کچھ کہنے کو تیار نہیں ہے، لیکن سونم نے سی جے پی کو بتایا ہے کہ جیسے ہی انہیں اسپتال سے نکلنے دیا جائے گا، وہ سیدھے جنتر منتر پہنچیں گے۔‘
یادو نے مزید کہا،’اس ملک میں کسی زندہ شخص کو سفید چادر میں نہیں لپیٹا جاتا، لیکن اس حکومت میں یہ شرمناک حرکت کی گئی ہے۔‘
سنیچر کی صبح کی یہ پولیس کارروائی انوراگ کمار کے دہلی پولیس کمشنر کا عہدہ سنبھالنے کے ایک دن بعد ہوئی۔ مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے ستیش گولچا کی جگہ انوراگ کمار کی تقرری کے بعد انہوں نے جمعہ کو اپنا منصب سنبھالا تھا۔
دہلی پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا کہ وانگچک کی بگڑتی ہوئی صحت اور ڈاکٹروں کے مشورے پر دہلی ہائی کورٹ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے انہیں اسپتال لے جایا گیا۔
وانگچک کو صفدرجنگ اسپتال لے جایا گیا، جہاں ان کی اہلیہ گیتانجلی آنگمو بھی پہنچیں۔
گیتانجلی آنگمو نے
ایکس پر لکھا،’میری، ہمارے خاندان اور گزشتہ 20 دنوں سے ان کی صحت کی نگرانی کرنے والے ڈاکٹروں کی رضامندی کے بغیر انہیں منہ کے ذریعے یا نس کے ذریعے کوئی دوا یا مائع نہ دیا جائے۔‘
دہلی پولیس نے صفدرجنگ اسپتال کے باہر فسادات پر قابو پانے والی گاڑیاں بھی تعینات کر دی ہیں۔
سونم وانگچک اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کے تین طلبہ کارکن-نہا، آمین اور منیش-گزشتہ 21 دنوں سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ اور ملک کے اگزام اورایجوکیشن سسٹم میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں۔
گزشتہ 21 دنوں سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے آئیسا کے طلبہ کارکن سونم وانگچک کی حراست کے بعد بھی احتجاج جاری رکھیں گے۔تصویر: اسپیشل ارینجمنٹ
صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ابھیجیت دیپکے نے وزیر اعظم نریندر مودی کو تاناشاہ قرار دیتے ہوئے کہا،’یہ پولیس والے نہیں بلکہ آر ایس ایس کے غنڈے ہیں۔ میں بیرون ملک سے اپنے ملک واپس آیا ہوں، کیا میں کوئی مجرم ہوں؟ یہ پولیس نہیں، آر ایس ایس کے غنڈے ہیں۔‘
جنتر منتر پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
چار کارکنوں کی بھوک ہڑتال اور طلبہ کی اس تحریک پر اب تک حکومت کی جانب سے کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ مظاہرین مسلسل وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں اور نریندر مودی حکومت سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ طلبہ کی آواز کو سنجیدگی سے سنے اور ان کے مطالبات پر توجہ دے۔
دریں اثنا، وانگچک کو پولیس کے ذریعے اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد جنتر منتر پر احتجاج سے خطاب کر رہے ابھیجیت دیپکے پر ایک خاتون نے سیاہی پھینک دی۔