ایس آئی آر کا تیسرا مرحلہ: میزورم، اڑیسہ، منی پور اور سکم کے 22 لاکھ ووٹر باہر

ایس آئی آر کے عمل سے پہلے میزورم، اڑیسہ، منی پور اور سکم میں مشترکہ طور پر ووٹر کی تعداد 3.68 کروڑ تھی، جو اب گھٹ کر 3.46 کروڑ رہ گئی ہے۔ ان ریاستوں کی مسودہ ووٹر لسٹ سے اتنی ہی تعداد میں ووٹروں کو باہر رکھا گیا ہے۔

ایس آئی آر کے عمل سے پہلے میزورم، اڑیسہ، منی پور اور سکم میں مشترکہ طور پر ووٹر کی تعداد 3.68 کروڑ تھی، جو اب گھٹ کر 3.46 کروڑ رہ گئی ہے۔ ان ریاستوں کی مسودہ ووٹر لسٹ سے اتنی ہی تعداد میں ووٹروں کو باہر رکھا گیا ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

نئی دہلی:میزورم، اڑیسہ، منی پور اور سکم کے مشترکہ ووٹر بیس میں 22 لاکھ کی کمی آئی ہے۔ ان ریاستوں کی مسودہ ووٹر لسٹ سے اتنی ہی تعداد میں ووٹروں کو باہر رکھا گیا ہے۔

ان ریاستوں میں اس وقت الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر فہرستوں کے ایس آئی آرکا تیسرا مرحلہ جاری ہے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، ایس آئی آر کے دوران مسودہ ووٹر لسٹ سے سب سے زیادہ ووٹروں کو ہٹانے والا صوبہ اڑیسہ رہا ہے۔اس مشرقی صوبے میں 20.11لاکھ ووٹروں کو مسودہ ووٹر لسٹ سے بار کر دیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایس آئی آر کے عمل  سے پہلے ان چار ریاستوں کا مشترکہ ووٹر بیس 3.68 کروڑ تھا، جو اب گھٹ کر 3.46 کروڑ رہ گیا ہے۔

ایس آئی آر کا تیسرا مرحلہ 14 مئی کو شروع کیا گیا تھا۔ ایس آئی آر کی شروعات کے وقت ان 16 ریاستوں اور 3 مرکز کے زیر انتظام علاقوں کا مجموعی ووٹر بیس 36.73 کروڑ تھا، جہاں اس وقت یہ عمل جاری ہے۔

پہلے دو مراحل میں تقریباً 59 کروڑ ووٹر والے 13 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو شامل کیا گیا تھا۔ اس عمل میں 6.3 لاکھ سے زیادہ بوتھ لیول افسران (بی ایل او)اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے مقرر کردہ 9.2 لاکھ ایجنٹ شامل تھے۔

مغربی بنگال میں ایس آئی آر کا عمل متنازعہ رہا۔ انتخابات سے دو ہفتے سے بھی کم وقت پہلے 27 لاکھ ووٹروں کو اپنے مستقبل کے فیصلے کے لیے 19 عدالتی ٹربیونل کے فیصلوں کا انتظار کرنا پڑا تھا۔ یہاں تک کہ سپریم کورٹ نے بھی عبوری راحت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ آخر کار، ووٹنگ کے دن سے پہلے ٹربیونل بہت کم تعداد میں معاملوں کا ہی فیصلہ کر سکے۔

دی وائر کی ایک رپورٹ کے مطابق، مغربی بنگال کی 294 اسمبلی سیٹوں میں سے 150 سیٹوں پر ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے ناموں کی کل تعداد جیت کے فرق سے زیادہ تھی۔ ان 150 سیٹوں میں سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے 99 سیٹوں پر جیت درج کی، جبکہ 2021 کے انتخابات میں بی جے پی ان میں سے صرف 19 سیٹ جیت سکی تھی۔

اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر کا مقصد ایسے ووٹروں کو نشانہ بنانا ہے جو بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتوں کے حامی نہیں ہیں۔