پونے عدالت میں ستیہ کی ساورکر کا بیان، ’ساورکر نے رحم کی درخواستیں دیں، بھگت سنگھ اپنے اصولوں پر قائم رہے‘

راہل گاندھی کے خلاف دائر ہتک عزت کے معاملے کی شنوائی کے دوران ونایک دامودر ساورکر کے رشتہ دار ستیہ کی ساورکر نے پونے کی عدالت میں تسلیم کیا کہ ساورکر نے برطانیہ حکومت کے سامنے دس رحم کی درخواستیں دائر کی تھیں۔ انہوں نے یہ بھی مانا کہ کئی دوسرے انقلابیوں نے ایسی درخواستیں نہیں دی تھیں۔

راہل گاندھی کے خلاف دائر ہتک عزت کے معاملے کی شنوائی کے دوران ونایک دامودر ساورکر کے رشتہ دار ستیہ کی ساورکر نے پونے کی عدالت میں تسلیم کیا کہ ساورکر نے برطانیہ حکومت کے سامنے دس رحم کی درخواستیں دائر کی تھیں۔ انہوں نے یہ بھی مانا کہ کئی دوسرے انقلابیوں نے ایسی درخواستیں نہیں دی تھیں۔

ونایک دامودر ساورکر۔ (تصویر بہ شکریہ: فیس بک)

نئی دہلی:ونایک دامودر ساورکر کے ایک رشتہ دار نے سوموار(15 جون) کو پونے کی اسپیشل ایم پی/ایم ایل اے کورٹ کو بتایا کہ ساورکر نے برطانیہ حکومت کے سامنے اپنی سزا کم کروانے کے لیے دس رحم کی درخواستیں دائر کی تھیں۔

لائیو لاکی رپورٹ کے مطابق، ساورکر کے رشتہ دار ستیہ کی ساورکر – جنہوں نے لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا ہے – نے اسپیشل جج امول شندے کے سامنے اپنی جرح کے دوران یہ بھی بتایا کہ کئی ایسے کئی مجاہدین آزادی بھی تھے جنہوں نے انگریزی حکومت کے سامنے رحم کی درخواست دینے سے انکار کر دیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ راہل گاندھی کی جانب سے وکیل ملند پوار کی جرح کے دوران ستیہ کی ساورکر نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ ساورکر نے دس مرتبہ رحم کی درخواستیں دائر کی تھیں۔

انہوں نے عدالت سے مزید کہا،’یہ سچ ہے کہ اسی دور کے انقلابیوں- راج گرو، بٹوکیشور دت اور اشفاق اللہ خان – نے معافی کی کوئی عرضی نہیں دی تھی۔ یہ بھی سچ ہے کہ ساورکر نے سزا سنائے جانے کے ایک ماہ کے اندر ہی معافی کی عرضی داخل کر دی تھی۔‘

انہوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ  انڈمان بھیجے جانے سے پہلے ہی ’غدر سنگٹھن‘ کے ایک رسالے میں ان کے دادا کے بھائی کو ’ویر‘کہا گیا تھا۔

لائیو لاکے مطابق، ستیہ کی ساورکر نے عدالت میں کہا،’مجھے اس بات کی جانکاری نہیں تھی کہ بھگت سنگھ اور بٹوکیشور دت نے برطانوی حکومت کے سامنےیہ مطالبہ کرتے ہوئے عرضی دائر کی تھی کہ انہیں جنگی قیدی کا درجہ دیا جائے، اور انہوں نے کسی بھی طرح کی رعایت یا نرمی قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔‘

انہوں نے مزید کہا،’یہ سچ ہے کہ بھگت سنگھ اور بٹوکیشور دت آخر تک اپنے نظریات اور اصولوں پر ثابت قدم رہے۔ مجھے پتہ ہے کہ انقلابی بھگت سنگھ اور بٹوکیشور دت نے انگریزوں کے ساتھ اپنے برتاؤ میں آخر تک اپنے اصولوں اور نظریات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔‘

جرح کے دوران ستیہ کی ساورکر نے یہ بھی کہا کہ ساورکر کی درخواستوں میں استعمال ہونے والی زبان عاجزانہ یا برطانوی حکومت سے وفاداری ظاہر کرنے والی نہیں تھی، بلکہ وہ صرف سرکاری پروٹوکال کے مطابق لکھی گئی تھی۔

اس سلسلے میں انہوں نے کہا،’یہ سچ ہے کہ برطانوی حکومت کے دور میں سزا کم کروانے کے لیے رحم کی درخواست دینا ایک عام قانونی عمل تھا۔ یہ بھی سچ ہے کہ صرف ساورکر ہی نہیں بلکہ دوسرے قیدیوں نے بھی ایسی درخواستیں دی تھیں۔ رحم کی درخواست دینا نہ کوئی غیر معمولی بات تھی اور نہ ہی غیر قانونی۔ تاہم یہ کہنا درست نہیں کہ ساورکر نے اپنی درخواستوں میں عاجزی والی زبان استعمال کی تھی۔ یہ کہنا بھی درست نہیں ہےکہ ان درخواستوں میں برطانوی حکومت سے وفاداری ظاہر کرنے والے الفاظ تھے۔ یہ سچ ہے کہ ساورکر نے ان درخواستوں میں اپنی سزا کم کرنے کی درخواست کی تھی۔‘

انہوں نے مزید کہا،’یہ سچ ہے کہ کسی بھی قیدی پر رحم کی درخواست دائر کرنے کے لیے کوئی دباؤ نہیں تھا۔ یہ پوری طرح سے متعلقہ قیدی کی اپنی مرضی پر منحصر تھا کہ وہ ایسی درخواست دے یا نہ دے۔ یہ بھی سچ ہے کہ ان انقلابیوں نے بے شمار پریشانیوں کا سامناکیا، تاہم مجھے ان مخصوص قیدیوں کے نام نہیں پتہ جنہوں نے رحم کی درخواستیں دائر کی تھیں۔‘

غور طلب ہے کہ یہ معاملہ کانگریس رہنما راہل گاندھی کےخلاف دائر فوجداری ہتک عزت کی شکایت سے متعلق ہے، جو ستیہ کی ساورکر نے درج کرائی ہے۔ الزام ہے کہ راہل گاندھی نے لندن میں ایک تقریر کے دوران ساورکر کے بارے میں قابل اعتراض تبصرہ کیا تھا۔

ستیہ کی ساورکر کی شکایت کے مطابق، راہل گاندھی نے مارچ 2023 میں لندن میں ایک خطاب کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ وی ڈی ساورکر نے ایک’کتاب‘میں لکھا تھا کہ،’انہوں نے اور ان کے پانچ چھ دوستوں نے ایک مرتبہ ایک مسلمان شخص کو مارا پیٹا تھا، اور اس پر انہیں (ساورکر کو) خوشی ہوئی تھی۔‘

ہتک عزت کے مقدمے میں شکایت کنندہ کا دعویٰ ہے کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا اور نہ ہی ساورکر نے اس بارے میں کبھی کچھ لکھا تھا۔