سوموار کی صبح امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ اس مذاکراے میں ثالث کا کردارادا کر رہے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اس کی جانکاری دی۔ وہیں، امریکہ-ایران معاہدے کے اعلان کے بعد ایشیا میں شروعاتی کاروبار کے دوران تیل کی قیمتوں میں گراوٹ درج کی گئی، جبکہ ایشیائی شیئر بازاروں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔

تہران کے اسلامک ریولوشن اسکوائر پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای (بائیں) اور آیت اللہ خامنہ ای کے پوسٹر۔تصویر: اےپی /وحید سلیمی
نئی دہلی: امریکہ اور ایران کے درمیان سوموار (15 جون) کی صبح آبنائے ہرمز کو کھولنے اور گزشتہ کئی مہینوں سے مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان غیر مستحکم جنگ بندی کو آگے بڑھانے کے لیے شروعاتی سمجھوتے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ اس سے انتہائی ضروری تیل اور قدرتی گیس کی عالمی منڈیوں تک رسائی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، اس معاہدے کا اعلان سب سے پہلے پاکستان نے کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا، ’دونوں فریقوں نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا ہے۔‘
Following intensive talks, we are pleased to announce that the Peace Deal between the United States of America and Islamic Republic of Iran has been REACHED. Both sides have declared the immediate and permanent termination of military operations on all fronts, including in…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) June 14, 2026
تاہم، ابھی یہ صاف نہیں ہے کہ اسرائیل، جو امریکہ پر منحصر ہے، لیکن 2023 سے اس خطے میں کئی جنگوں میں شامل رہا ہے، ان شرائط پر راضی ہوا ہے یا نہیں۔
قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز سے بات چیت میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو ’بہت مشکل انسان‘ بتایا۔
ٹرمپ نے کہا،’اور سچ کہوں تو، ایسا کرنے کے لیےانہیں ہمارا بہت شکر گزار ہونا چاہیے۔ کیونکہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتا، تو اسرائیل دو گھنٹے بھی نہیں ٹک پاتا۔ ‘
بتادیں کہ اس ڈیل کی جانکاری فوراً جاری نہیں کی گئی اور ایران نے اشارہ دیا کہ معاہدے پر دستخط ہونے تک اس پر عملدرآمد شروع نہیں ہوگا۔
اس معاہدے کے اہم ثالث پاکستان نے کہا ہے کہ اس پر جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں باضابطہ دستخط کیے جائیں گے۔ اس سے گزشتہ کئی مہینوں سے جاری جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں پورے مغربی ایشیا میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایران کے سپریم لیڈر اور امریکہ-اسرائیل حملوں میں میناب کے ایک اسکول میں مارے جانے والے سینکڑوں لوگ شامل ہیں۔ اس جنگ نے عالمی سطح پر ایک تاریخی توانائی بحران کو بھی جنم دیا ہے۔
ایران کی مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، معاہدے کے مسودے میں 14 نکات شامل ہیں۔
الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ان نکات میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر لڑائی کا فوری اور مستقل خاتمہ، 30 دنوں کے اندر بحری ناکہ بندی کو مکمل طور پر ہٹانا، ایران کے آس پاس سے امریکی افواج کے انخلا کا وعدہ اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
مسودے میں ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندیوں کے خاتمے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم، الجزیرہ، مہر نیوز ایجنسی کی ان معلومات کی آزادانہ طور پرتصدیق نہیں کر سکا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ اس معاہدے کے تحت ایران کے افزودہ یورینیم اور اس کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملوں کے سلجھانے کے لیے صرف 60 دن کا وقت دیا گیا ہے۔
ٹرمپ کا یو- ٹرن
عالمی طاقتوں کے ساتھ تہران کے 2015 کےجوہری معاہدے میں اس مسئلے کو حل کرنے میں کئی سال لگے تھے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دور صدارت میں یکطرفہ طور پر امریکہ کو اس معاہدے سے الگ کر لیا تھا، جس کے نتیجے میں کشیدگی بڑھی اور آخر کار جنگ کی صورتحال پیدا ہو گئی۔
حالیہ فیصلے کے بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا،’سب کو مبارکباد! ‘ انہوں نے اتوار کو وہائٹ ہاؤس میں یو ایف سی کیج میچ فائٹ کے ساتھ اپنی 80ویں سالگرہ منائی۔
انہوں نے مزید کہا،’میں آبنائے ہرمز کو بغیر کسی فیس کے کھولنے کی مکمل اجازت دیتا ہوں اور ساتھ ہی امریکی بحریہ کی ناکہ بندی کو فوراًہٹانے کا بھی حکم دیتا ہوں۔‘یہ ناکہ بندی ایران کی جانب سے اس اہم آبی گزرگاہ پر قبضہ کرنے کے جواب میں لگائی گئی تھی۔
تاہم، جلد ہی انہوں نے اپنے بیان سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا کہ جمعہ کو معاہدے پر دستخط ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھلےگا۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سرکاری ٹیلی وژن پر معاہدے کی تصدیق کی، لیکن کہا کہ ایران جمعہ کو دستخط ہونے تک اس پر عملدرآمد شروع نہیں کرے گا۔
انہوں نے بتایا کہ یہ معاہدہ ایک اور ثالث، قطر کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد طے پایا ہے۔
وہیں،اسرائیل نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائی کرنے کی مکمل آزادی دی جائے۔ اس نے ان علاقوں میں بھی اپنا ملٹری آپریشن بڑھا دیا ہے جہاں اس کی فوج گزشتہ 25 سالوں سے نہیں گئی تھی۔
اس معاہدے پر اسرائیل نے فوراً کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ معلوم ہو کہ اسرائیل 28 فروری کو جنگ شروع کرنے میں امریکہ کے ساتھ شامل ہوا تھا۔
اس خبر کے بعد بینچ مارک برینٹ خام تیل کی عالمی قیمت میں فی بیرل 3 ڈالر سے زیادہ کی کمی آئی، جبکہ ایشیائی شیئر بازاروں میں تیزی دیکھی گئی۔
معاہدے پر دستخط کون کرے گا؟
ایرانی سرکاری ٹیلی وژن نے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹریٹ کے حوالے سے بتایا کہ تمام محاذوں پر جنگ’ آج رات سے فوراًاور مستقل طور پر ختم ہو جائے گی‘،لیکن- امریکی ناکہ بندی’فوراً اور مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔‘
مذاکرات کی حساسیت کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک عہدیدار نے بتایا کہ 17 گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد قطری ثالث تہران سے روانہ ہو گئے۔ ان کے مطابق، اس ہفتے دوحہ میں دونوں فریقوں کے ساتھ الگ الگ شروعاتی ملاقاتیں ہوں گی۔
تاہم، یہ واضح نہیں ہے کہ جمعہ کو ایران کی جانب سے معاہدے پر کون دستخط کرے گا۔ وہیں،امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے فاکس نیوز کو بتایا کہ وہائٹ ہاؤس ابھی اس یہ طےکر رہا ہے کہ کون اس میں شرکت کرے گا۔
انہوں نے کہا،’میرا وہاں جانے کا مصمم ارادہ ہے، لیکن ہو سکتا ہے کہ صدر خود وہاں موجود ہوں۔‘
لیکن امریکہ میں ریپبلکن کے درمیان پہلے ہی تشویش دیکھی جا رہی ہے۔ ان میں جنوبی کیرولینا سے تعلق رکھنے والے امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم بھی شامل ہیں، جنہوں نے وینس کو’اس ڈیل کا معمار‘قرار دیا۔
گراہم نے آن لائن لکھا،’مجھے ذرا سی تشویش ہے کہ معاہدے کے بارے میں ایران کا نقطہ نظر امریکی مذاکراتی ٹیم کے دعووں سے مختلف لگ رہا ہے۔‘
نیویارک کے امریکی نمائندے گریگوری میکس، جو ہاؤس فارن افیئرز کمیٹی میں اعلیٰ ڈیموکریٹ ہیں، نے کہا کہ کانگریس ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے پر نگرانی رکھے گی۔
انہوں نے کہا،’ہم باربار دیکھ چکے ہیں؛ جنگ ایرانی حکومت کو تبدیل نہیں کر سکتی۔‘
عبوری معاہدے کی کڑی جانچ پڑتال
جنگ کے دوران امریکہ اور اسرائیل کے پہلے حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای مارے گئے تھے، اور اب ان کے بیٹے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سپریم لیڈر ہیں۔ جنگ شروع ہونے کے بعد سے وہ عوامی طور پردیکھے نہیں گئے، لیکن ایران کی جانب سے معاہدے پر دستخط کے لیے ان کی منظوری ضروری ہے۔
اس معاہدے کے اعلان سے چند گھنٹے قبل ایران کے اندر واضح اختلافات سامنے آئے تھے، کیونکہ حکومت نے خبردار کیا تھا کہ معاہدے کے بارے میں اندرونی تقسیم مذاکرات میں اس کی پوزیشن کو کمزور کر رہی ہے۔
اس معاہدے کے نتیجے میں خطے کے حالات ممکنہ طور پر جنگ سے پہلے والی صورتحال کی طرف لوٹ سکتے ہیں، لیکن ایران نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ تیل، قدرتی گیس اور کھاد جیسے متعلقہ مصنوعات کی بڑی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے، اور اس کے مؤثر طور پر بند ہونے سے عالمی معیشت شدید طور پر متاثر ہوئی ہے۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ معاہدے کے بعد بھی دنیا کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تیل اور گیس کی فراہمی کو مکمل طور پر معمول پر آنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں، کیونکہ شپنگ اور انشورنس کمپنیاں یہ یقینی بنانا چاہتی ہیں کہ یہ معاہدہ طویل مدت تک برقرار رہے۔