پونڈیچری سے آکسفورڈ تک کی یونیورسٹی میں جے این یو تشدد کے خلاف مظاہرہ

آکسفورڈ اور کولمبیا یونیورسٹی میں طالب علموں نے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مارچ کیا اور کیمپس میں طالبعلموں کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طالب علموں نے جے این یو میں ہوئے تشدد کی مخالفت کی۔

آکسفورڈ اور کولمبیا یونیورسٹی میں طالب علموں نے یکجہتی کا مظاہرہ  کرتے ہوئے مارچ کیا اور کیمپس  میں طالبعلموں کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طالب علموں نے جے این یو میں ہوئے تشدد کی مخالفت کی۔

جے این یو میں ہوئے تشدد کی مخالفت میں آکسفورڈیونیورسٹی کے طالبعلموں نے مظاہرہ کیا۔ (فوٹو بشکریہ: ٹوئٹر)

جے این یو میں ہوئے تشدد کی مخالفت میں آکسفورڈیونیورسٹی کے طالبعلموں نے مظاہرہ کیا۔ (فوٹو بشکریہ: ٹوئٹر)

نئی دہلی: ملک اور بیرون ملک کی  تمام یونیورسٹیوں میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی تشدد کے خلاف سوموار کو مظاہرہ کیا گیا۔ پونڈیچری یونیورسٹی، بنگلوریونیورسٹی، حیدرآبادیونیورسٹی، پنجاب یونیورسٹی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طالبعلموں نے مظاہرےکیے۔پونڈیچری یونیورسٹی کی ایک اسٹوڈنٹ رائجا نے کہا، ‘ آج وہ ہیں کل ہم ہو سکتے ہیں۔ تشدد کسی بھی صورت میں قابل مذمت ہے۔ ہم جے این یو میں اپنےدوستوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ‘

پنجاب یونیورسٹی میں طالب علموں نے ایک جلسہ کے دوران نعرے بازی کی۔پنجاب یونیورسٹی میں ہریانہ اسمبلی اسپیکر گیانی چند گپتا ایک جلسہ کے دوران لوگوں کو خطاب کر رہے تھے اور تبھی طالب علموں نے نعرےبازی کرنی شروع کر دی۔مظاہرین میں طلبہ وطالبات دونوں شامل تھے، جن کو سکیورٹی اہلکار نے سیمینار ہال سے باہر نکالا۔

مظاہرین میں سے ایک کنوپریا نے میڈیا سے بات چیت میں کہاکہ وہ جے این یو طلبہ یونین (جےاین یوایس یو) کی صدر آئشی گھوش پر ہوئے حملے کی سخت مذمت کرتی ہیں۔اسمبلی اسپیکر گیانی چند گپتا نے صحافیوں سے بات کرتےہوئے مظاہرہ کو طے شدہ اورمنصوبہ بند کارنامہ قرار دیا۔

آکسفورڈ اور کولمبیا یونیورسٹی میں بھی طالب علموں نےیکجہتی دکھاتے ہوئے مارچ کیا اور طالب علموں کے تحفظ کی مانگ کی۔

غور طلب ہے کہ جے این یو میں اتوارکی رات اس وقت تشدد بھڑک گیا تھا جب لاٹھیوں سے لیس کچھ نقاب پوش لوگوں نے طالب علموں اور اساتذہ پر حملہ کر دیا تھا اور املاک کو نقصان پہنچایا تھا جس کے بعدانتظامیہ کو پولیس کو بلانا پڑاتھا۔

بڑی تعداد میں چہرہ ڈھکے اور ہاتھوں میں ڈنڈے لئے نوجوان اورلڑکیاں لوگوں کو پیٹتے اور گاڑیوں کو توڑتے نظرآئے۔ سابرمتی ہاسٹل سمیت کئی عمارت میں جم کر توڑپھوڑ کی گئی۔ حملہ آوروں نے اساتذہ کو بھی نہیں چھوڑا۔ اس مارپیٹ میں طلبہ یونین کی صدر آئشی گھوش کو کافی چوٹیں آئی ہیں اور کم سے کم 30لوگ زخمی ہوئے ہیں جن کو نئی دہلی کے ایمس کے ٹراما سینٹر میں بھرتی کرایا گیاتھا۔ حالانکہ تمام 34 طالب علموں کو سوموار کی صبح ہاسپٹل سے چھٹی دے دی گئی۔

مارپیٹ میں پروفیسر سچترا سین کے سر پر بھی شدید چوٹ لگی ہیں۔

مظاہرین  نے الزام لگایا کہ حملہ آورتین ہاسٹلوں میں بھی گھسے۔ کچھ ٹی وی چینلوں پر دکھائی جا رہی فوٹیج میں لڑکوں  کاایک گروہ ہاتھ میں ہاکی اور لوہے کی چھڑ لئے ایک عمارت کے پاس نظر آ رہا ہے۔شام کو ہوئے اس تشدد کے بعد جے این یو، ایمس، دہلی پولیس صدر دفتر کے باہر رات بھر مظاہرہ ہوا۔ یہی نہیں ممبئی سمیت ملک کے کئی حصوں میں بڑی تعداد میں لوگ جے این یو میں ہوئے تشدد کے خلاف سڑکوں پر اتر آئے۔

لیفٹ اکثریت والے جے این یو ایس یو اور آر ایس ایس سے وابستہ اے بی وی پی اس تشدد کے لئے ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ جے این یو ایس یوکا دعویٰ ہے کہ ان کی صدر آئشی گھوش اور کئی دیگر اسٹوڈنٹس کو اے بی وی پی کےممبروں نے پیٹا ہے۔ وہیں، اے بی وی پی نے لیفٹ طلبہ تنظیموں  ایس ایف آئی، آئیسااور ڈی ایس ایف پر حملے کا الزام لگایا ہے۔

جے این یو کے واقعہ کو لےکر اے ایم یو میں نکالا گیا مارچ

دہلی واقع جواہرلال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں اتوارکی رات تشدد  کی خبروں کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں طالب علموں نے اس کی مخالفت کی۔اے ایم یو میں مظاہر ہ کرنے والے طالب علموں کے ترجمان نے بتایا کہ جے این یو میں نقاب پوش ہتھیاربند بدمعاش کے ذریعے طالب علموں کے ساتھ مارپیٹ کئےجانے کے معاملے میں متاثر طالب علموں کے ساتھ ہمدردی جتانے کے لئے اے ایم یو میں مارچ نکالا گیا۔

اس بیچ، اے ایم یو ٹیچرس ایسوسی ایشن نے جے این یو میں ہوئے تشدد کی سخت مذمت کی۔ایسوسی ایشن کے سکریٹری نجم الاسلام نے ایک بیان جاری کر کے ملک کے چیف جسٹس سے جے این یو میں اتوار کو طالب علموں پر ہوئے حملے کے بعدبنی غیر متوقع حالت کا ازخودنوٹس لینے کی گزارش کی۔

ایس ایس پی آکاش کلہری نے بتایا کہ اے ایم یو کے چاروں طرف حساس مقامات پر احتیاطاً پولیس فورسز کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ادھر، اے ایم یو اسٹوڈنٹس یونین کے سابق صدر فیض الحسن نے کہا کہ شہریت قانون کےخلاف پر امن مظاہرہ کر رہے لوگوں کے تئیں یکجہتی دکھانے کے لئے سوموار کو اے ایم یو میں پرامن ترنگا یاترا نکالی جائے‌گی۔

واضح  ہو کہ اس سے پہلے گزشتہ 15 دسمبر کو جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کر رہے طالب علموں کے خلاف پولیس کارروائی کی مخالفت میں اے ایم یو میں تشدد بھڑک اٹھا تھا۔

ممبئی میں گیٹ وے آف انڈیا پر مظاہرہ

ممبئی میں مختلف کالجوں کے طالب علم جواہر لال نہرو (جےاین یو)میں ہوئے تشدد کی مخالفت میں سوموار کی صبح گیٹ وے آف انڈیا پر جمع ہوئے۔طالب علموں نے تشدد کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔اس سے پہلے اتوار کی رات بھی جے این یو کے طالب علموں کےساتھ یکجہتی دکھانے کے لئے طالب علموں نے موم بتی جلائی تھیں۔ممبئی کے مختلف کالجوں کے زیادہ تر طالب علم تاج محل پیلیس ہوٹل کے پاس جمع ہوئے۔

کولکاتہ میں کئی سیاسی جماعت، شہری تنظیم اور طالب علم سڑکوں پر اتریں‌گے

جے این یو میں ہوئے حملے کی مخالفت میں سوموار کودوپہر بعد کولکاتہ میں کئی سیاسی جماعت، شہری تنظیم اور طالب علم سڑکوں پر اتریں‌گے۔پولیس نے بتایا کہ جادھو پور یونیورسٹی کی آئیسا اور ایس ایف آئی سے وابستہ طلبہ یونین سوموار کو کولکاتہ کے مانکتلا علاقے میں واقع اے بی وی پی کے ریاستی دفتر کی طرف مارچ نکالیں‌گے۔

ایک پولیس افسر نے بتایا کہ پریسیڈینسی یونیورسٹی کےطالب علم کولکاتہ واقع اپنے احاطے سے جوراسانکو تک جلوس نکالیں‌گے۔حکمراں ترنمول کانگریس شمالی کولکاتہ میں جے این یو میں حملے کی مخالفت میں ایک ریلی نکالے‌گی۔ کانگریس سے وابستہ این ایس یو وائی شہر کےبیچ میں واقع کالج اسٹریٹ میں ریلی نکالے‌گی۔

(خبررساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)