اب نفرت کا کاروبار اور فرقہ وارانہ ایجنڈہ چلانا ہی سنت – سادھوی ہونے کی اولین شرط ہے

پچھلی صدی کی آخری دو دہائیوں میں اس بات پر بحث ہوتی تھی کہ سادھوی اوما بھارتی زیادہ پرتشدد ہیں یا سادھوی رتمبھرا۔ ان دونوں کی روایت خوب پروان چڑھی۔ اس لیے سادھوی پراچی، سادھوی پرگیہ ٹھاکر جیسی شخصیات کے لیے صرف لوگوں کے دلوں میں ہی نہیں ، بلکہ قانون ساز اسمبلیوں اور پارلیامنٹ میں بھی جگہ بنی۔

پچھلی صدی کی آخری دو دہائیوں میں اس بات پر بحث ہوتی تھی کہ سادھوی اوما بھارتی زیادہ پرتشدد ہیں یا سادھوی رتمبھرا۔  ان دونوں کی روایت خوب پروان چڑھی۔ اس لیے سادھوی پراچی، سادھوی پرگیہ ٹھاکر جیسی شخصیات کے لیے صرف لوگوں کے دلوں میں ہی نہیں ، بلکہ قانون ساز اسمبلیوں اور پارلیامنٹ میں بھی جگہ بنی۔

سادھوی پرگیہ/ فوٹو: پی ٹی آئی

سادھوی پرگیہ/ فوٹو: پی ٹی آئی

باعث اطمینان ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکن پارلیامنٹ سادھوی پرگیہ ٹھاکر کے پرتشدد بیان سے کئی  لوگ کبیدہ خاطر ہوئے ۔ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں غیر جانبدار سمجھا جاتا ہے، یعنی جو فرقہ وارانہ اور غیر فرقہ وارانہ سیاست کو غیر جانبداری سے دیکھتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ سماج میں فرقہ وارانہ سیاست کو بھی موقع ملنا چاہیے۔

ہاں! جہاں وہ غلط کریں گے، وہ اس کی تنقید کریں گے۔ جو بھی ہو، سادھوی کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں صحیح اور غلط کا احساس ابھی زندہ  ہے۔ ابھی  بھی نفرت اور تشدد اس کو ملول کرتی ہے۔ معاشرے کے حسی نظام میں جان   ہے، اس سے مستقبل کے لیے امید پیدا ہوتی ہے۔

ایم پی کا نام لکھنے سے پہلے میں نے سوچا تھا کہ سادھوی کا خطاب چھوڑ کر صرف پرگیہ ٹھاکر لکھیں۔ پھر محسوس ہوا کہ جب ہمارے ہندو سماج کو ایسی سادھوی پر کوئی اعتراض نہیں ہے تو کیوں  ان سے یہ عہد چھین لیا جائے۔ آخر وہ ایسی پہلی سادھوی تونہیں ہیں۔ وہ سادھوی اوما بھارتی اور سادھوی رتمبھرا کی روایت کو پروان چڑھارہی ہیں۔

بابری مسجد کو گرانے کے لیے ایل کے اڈوانی کی جانب سے شروع کی گئی مہم کے دوران، سادھوی رتمبھرا کے پرتشدد خطبات سڑک پر بجلی کے کھمبوں سے بندھے لاؤڈ اسپیکروں سے سنے جا سکتے تھے۔ وہ اب ایک قابل احترام سادھوی ہیں اور امریکہ جیسے ملک میں اپنی جڑوں سے جڑے رہنے کے خواہشمند ہندو انہیں ‘پروچن’  کے لیے مدعو کرتے ہیں۔ انہوں  نے نہ تو موضوع بدلا ہے اور نہ انداز۔

پچھلی صدی کی آخری دو دہائیوں میں اس بات پر بحث ہوتی تھی کہ سادھوی اوما بھارتی زیادہ پرتشدد ہیں یا سادھوی رتمبھرا۔  ان دونوں کی روایت خوب پروان چڑھی۔ سادھوی پراچی، سادھوی پرگیہ ٹھاکر جیسی شخصیات کے لیےصرف لوگوں کے دلوں میں  ہی نہیں ،  بلکہ قانون ساز اسمبلیوں اور پارلیامنٹ میں بھی جگہ بنی۔

پہلے جو مستثنیٰ ہوا کرتا تھا وہ اب اصول ہے۔ اب نفرت کا ایجنڈہ چلانا  ہی ہندو سنت اور سادھوی ہونے کی بنیادی اہلیت یا شرط ہے۔ اس کے بغیر ہندوؤں کو خاطر خواہ روحانی تسکین حاصل نہیں ہوتی۔ اس لیے پرگیہ ٹھاکر کے ساتھ سادھوی ضرور لکھا جانا چاہیے۔ ہندوؤں کو یاد رہے کہ ان کے مذہبی گرو کون  ہیں۔

بہرحال! ہم سادھوی پرگیہ ٹھاکر کے اس’ پروچن’ پر واپس آتے ہیں، جس کے بارے میں  پڑھ کر بہت سے لوگ وزیر اعظم اور بی جے پی سے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ بھی مطالبہ کیا گیا  ہےکہ پولیس کم از کم اس پرتشدد بیان کے خلاف ایف آئی آر درج کرے۔

پولیس کی دلیل تھی کہ کوئی شکایت کرے تبھی  ہم کچھ کریں گے۔ ای میل کے ذریعے شکایت کی گئی تو پولیس نے کہا کہ یہ قابل قبول نہیں ہے۔ شکایت کے ساتھ جسمانی طور پر حاضر ہونا پڑے گا۔نمائندے سے بھی کام نہیں چلے گا۔ آخر کار جب شیوموگا کے ایک کانگریسی لیڈر نے خود پولیس اسٹیشن جاکر شکایت درج کروائی تو پولیس نے مہربانی کرکے ایف آئی آر درج کی۔

سادھوی نے کرناٹک کے شیوموگا میں ہندو جاگرن ویدیکے کے زیر اہتمام  منعقدہ ایک پروگرام میں کیاکہا؟ انہوں نے ہندوؤں سے کہا کہ وہ اپنے گھروں میں ہتھیار رکھیں اور اگر کچھ نہیں تو تیز دھار چاقو استعمال کریں تاکہ گھس پیٹھیے کی گردن کاٹی جا سکے۔جس چاقو سے سبزی کٹ سکتی ہے  اس سے دشمن کی گردن بھی کاٹی جاسکتی ہے۔

سادھوی نے کہا کہ ہر کسی کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ اگر کوئی ہمارے گھر میں گھس کر ہم پر حملہ کرے تو ہمیں اس کا منہ توڑ جواب دینے کا حق ہے۔ ہندوتوا کے لیے چونکہ بہت سارے ہندواپنی جانیں دے چکے ہیں، اس لیے ترک اور قربانی کا وقت گزر چکا ہے، اب انتقام کا وقت ہے۔

انہوں نے آج کل کے مقبول عام موضوع ‘لو جہاد’  پر بھی روشنی ڈالی۔ ہندوؤں سے کہا کہ اس کی ترکیبوں کی تعلیم  گھروں میں دیں۔ ہندو لڑکیوں کو انہوں نے’لو جہاد’ کی چال سے ہوشیار رہنے کو کہا۔

شیوموگا پولیس نے رپورٹ تو  درج کر لی ہے، لیکن اس سے مزید کارروائی کی توقع نہ کریں۔ اگر شیوموگا کی پولیس چاہتی تو اسی  سال دہلی میں اسی طرح کی تقریر پر دہلی پولیس کی دلیل کا سہارا لے سکتی تھی۔ دہلی میں بھی ہندو یوا واہنی کے ایک پروگرام میں ہندوؤں سے  ہتھیار رکھنے اور بدلہ لینے کی اپیل کی گئی تھی۔

جب کچھ لوگوں نے شور کیا، عدالت گئے تو دہلی پولیس نے وضاحت پیش کی کہ یہ تقریر ‘کمیونٹی کی اخلاقیات’ کی حفاظت کے لیے دی گئی تھی۔ اسے پرتشدد نہیں کہا جا سکتا۔ دہلی ہائی کورٹ نے بھی کہا کہ اگر اس طرح کی تقریریں خوش اسلوبی سے (ہنس کر) دی جاتی ہیں تو ان میں تشدد کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا۔ آج تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

یہ  دلیل تو ہے ہی  کہ اس تقریر میں کسی کمیونٹی کے خلاف تشدد کی بات نہیں کی گئی ہے۔ کیا اپنے دفاع کی بات کرنا غلط ہے؟ اگر کوئی آپ کے گھر میں گھس جائے تو کیا آپ کو اسے چھوڑ دینا چاہیے؟ اگر کوئی آپ کی بیٹی یا لڑکی پر بری نظر ڈالے تو آپ کو کچھ نہیں کرنا چاہیے؟

جب معاملہ آگے بڑھے گا تو پولیس خود سادھوی پرگیہ کے حق میں تمام دلیلیں دے گی۔ یا عدالت خود یہ دلائل دے گی۔ کم از کم اب تک جس طرح ہندوستان کی پولیس یا عدالتیں کام کر رہی ہیں، اس سے یہی  اندازہ گایا جا سکتا ہے۔

ہندوؤں کو ایسے بیانات پر کوئی اعتراض ہے، انہیں برا لگتا ہے، اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ایسے سادھوؤں، باباؤں اور سادھویوں کے ست سنگ میں لاکھوں لوگ جمع ہوتے ہیں۔ ان میں اب روحانی سکون کی اتنی بات نہیں ہوتی جتنی کہ ہندوؤں کے تحفظ کے لیے اقدامات بتائے جاتے ہیں۔ کچھ بابا بلڈوزر خریدنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں، کچھ مسلمان خواتین کی عصمت دری کی اپیل کرتے ہیں۔

یہ سب کچھ ہندوستان میں اس قدر عام ہو گیا ہے کہ سادھوی پرگیہ کے بیان کو مستثنیٰ سمجھنے پر  حیرانی  ہوتی  ہے۔ لیکن یہ دیکھ کر زیادہ حیرت ہوتی ہے کہ کچھ باشعور دانشور کہہ رہے ہیں کہ بیچارے وزیر اعظم نے پہلے بھی ان کےبیان پر افسوس کا اظہار کیا تھا لیکن انہوں نے ان کا احترام نہیں کیا۔ ان کے کہنے کے باوجود وہ مسلسل اس طرح کے بیانات دے رہی ہیں۔ کچھ لوگوں نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ سادھوی پرگیہ اپنی حرکات سے وزیر اعظم اور بی جے پی کو شرمندہ کر رہی ہیں۔

ایسے دانشوروں کو معصوم کہیں یا چالاک ؟ یا یہ کہ وہ اب بھی وکرمادتیہ کے سنگھاسن کے وقار کی امید رکھتے ہیں؟ کیا اسے مزید سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بی جے پی کی سیاست اور نفرت کی سیاست ایک دوسرےکے مترادف ہیں۔ اسے مسلم مخالف اور عیسائی مخالف نفرت پیدا کرتے رہنا ہے۔ ہندوؤں میں ان دونوں برادریوں کا خوف بھی پیدا کرتے رہنا ہے۔ اس کام میں تمام لیڈروں کا اپنا اپنا رول ہے اور وہ اس کام کو اپنے اپنے انداز میں کرتے رہتے ہیں۔

مسلم مخالف یا عیسائی مخالف نفرت پیدا کرنے میں وزیر اعظم کے رول کی کتنی ہی  مثالیں دی جا سکتی ہیں؟

گجرات سے دہلی تک ان کا سیاسی سفر نفرت کے پتھروں سے بنے راستے پر طے ہوا ہے۔ گجرات میں ‘ہم پانچ، ہمارے پچیس’ کا طنز ہو یا 2002 کے تشدد کا نشانہ بننے والے بے گھر مسلمانوں کے امدادی کیمپوں کو دہشت گرد پیدا کرنے کی فیکٹری  کہہ کر انہیں گروا دینا،پنک رولوشن ، وہائٹ رولوشن کے درمیان  کا فرق جو وزیر اعظم نے 2013 میں کیا تھا یا پھر قبرستان اور شمشان کا استعارہ پیش کیا یا ہر گھس پیٹھیے کو  بنگال  کی کھاڑی میں پھینکنے کا وعدہ کیا یا شہریت قانون کی مخالفت کرنے والوں کو کپڑوں سے پہچاننے کو کہا، کیا یہ نفرت اور تشدد کا پروپیگنڈہ  تھا یا نہیں؟ لگاتار اورنگ زیب، مغلوں کی بربریت کی یاد دلاتے رہنا بھی  کیا چالاکی سے نفرت انگیز پروپیگنڈہ نہیں ہے؟

مسلم مخالف نفرت اور تشدد کے بغیر بی جے پی اور آر ایس ایس کا تصور کرنا ناممکن ہے۔ سادھوی پرگیہ بھی اس سے الگ نہیں ہیں۔ ان کے کھلے اور بیہودہ  بیانات کا اپنا فائدہ ہے، وزیر اعظم کے استعاراتی اور ہوشیاری سے نفرت کی اشتعال انگیزی کا اپنا فائدہ ہے۔  ان دونوں کے بیچ حکومت کے وزیر، بی جے پی کے لیڈر، چیف منسٹر آتے ہیں۔ وہ کہاں نہیں ہیں؟

آسام کے وزیر اعلیٰ اور  سادھوی پرگیہ میں کون زیادہ خطرناک ہے؟ اس لیے سادھوی پرگیہ ٹھاکر کے تازہ پرتشدد بیان پر کوئی بھی غم و غصہ صرف اسی صورت میں ایماندارانہ ہوگا جب اس سمجھ کے ساتھ ظاہر کیا جائے کہ یہ نفرت اور تشدد بی جے پی کے وجود کے لیے لازم و ملزوم ہے، یہ صرف پرگیہ ٹھاکر جیسی شخصیت کی خصوصیت نہیں ہے۔ بی جے پی کا کام اس  نفرت  کے بغیر نہیں چل سکتا۔ اگر بی جے پی قابل قبول ہے تو سادھوی پرگیہ کو بھی بصد احترام قبول کرناہی ہوگا۔

(اپوروا نند دہلی یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔)