ضمانت پر باہر، گوڈسے کی تعریف و توصیف کرنے والی ملزمہ این آئی ٹی پروفیسر ڈین بنائی گئی

این آئی ٹی میں مکینیکل انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کی سینئر فیکلٹی شیجا انداون نے گزشتہ سال فیس بک پر گاندھی کے قاتل ناتھورام گوڈسے کی تعریف و توصیف کی تھی۔ اس سلسلے میں مختلف طلبہ تنظیموں کی جانب سے شہر کے کئی تھانوں میں شکایتیں درج کرائی گئی تھیں ۔ اب انہیں ڈین بنایا گیا ہے۔

این آئی ٹی میں مکینیکل انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کی سینئر فیکلٹی شیجا انداون نے گزشتہ سال فیس بک پر گاندھی کے قاتل ناتھورام گوڈسے کی تعریف و توصیف کی تھی۔ اس سلسلے میں مختلف طلبہ تنظیموں کی جانب سے شہر کے کئی تھانوں میں شکایتیں درج کرائی گئی تھیں ۔ اب انہیں ڈین بنایا گیا ہے۔

پروفیسر شیجا۔ (تصویر بہ شکریہ: این آئی ٹی کی آفیشل ویب سائٹ)

پروفیسر شیجا۔ (تصویر بہ شکریہ: این آئی ٹی کی آفیشل ویب سائٹ)

نئی دہلی: کیرالہ میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (این آئی ٹی) کالیکٹ کی  پروفیسر شیجا انداون کو مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھورام گوڈسے کی تعریف کرنے والے متنازعہ سوشل میڈیا تبصرہ کے معاملے میں ضمانت پر رہا ہونے کے باوجود سینٹرل انسٹی ٹیوٹ کا ڈین (پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ) مقرر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کے انتخاب میں سنیارٹی کے ضابطہ  کو نظرانداز کیا گیا۔

ساؤتھ فرسٹ کے مطابق، این آئی ٹی میں مکینیکل انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کی سینئر فیکلٹی ممبر شیجا انڈاوان نے 30 جنوری 2024 کو یوم شہادت کے موقع پر فیس بک پر ایک تبصرہ پوسٹ کیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ‘ہندوستان کو بچانے کے لیے انہیں گوڈسے پر فخر ہے۔’

اس کے بعد، اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی )، ڈیموکریٹک یوتھ فیڈریشن آف انڈیا (ڈی وائی ایف آئی)، یوتھ کانگریس اور مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن (ایم ایس ایف ) سمیت مختلف طلبہ تنظیموں کی جانب سے شہر کے کئی پولیس اسٹیشنوں میں ان کے خلاف  شکایتیں درج کروائی گئی تھیں۔

انداوان کے خلاف مقدمہ

تمام  شکایتوں  کے بعد کنمنگلم پولیس نے تشدد کے ارادے سے اکسانے کے لیے تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 153 کے تحت انداون کے خلاف مقدمہ درج کیا۔

واضح ہو کہ گزشتہ سال 20 فروری کو کنمنگلم عدالت سے ضمانت ملنے سے پہلےشیجا انداوان سے ان کی رہائش گاہ اور پولیس اسٹیشن میں پوچھ گچھ کی گئی تھی۔

اگرچہ انہوں نے تنازعہ کے بعد اس کمنٹ کو ڈیلیٹ کر دیا تھا، لیکن اس کے اسکرین شاٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے تھے۔

این آئی ٹی نے  بھی اس معاملے میں انداون کے ریمارکس کی تحقیقات کے لیے ایک پینل  تشکیل دیا تھا۔ 10 فروری 2024 کو ایک بیان میں ادارے نے پینل کے نتائج کی بنیاد پر مناسب کارروائی کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔

انسٹی ٹیوٹ کے عہدیداروں نے واضح کیا تھا کہ ادارہ ایسے کسی بھی تبصرے کی حمایت نہیں کرتا جو مہاتما گاندھی کے اختیار کردہ اصولوں اور اقدار کے خلاف ہو۔

‘گوڈسے مجاہد آزادی تھے’

تنازعہ کے آغاز میں انداون نے کہا تھا کہ ان کے تبصرے غلط نہیں تھے۔

انہوں نے نامہ نگاروں سے کہا تھا، ‘میرے تبصرے کا مقصد گاندھی جی کے قتل کی تعریف کرنا نہیں تھا۔ میں ایسا کبھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ میں نے گوڈسے کی کتاب ‘وہائی آئی کلڈ گاندھی’ پڑھی تھی۔ گوڈسے بھی مجاہد آزادی  تھے۔’

انہوں نے مزید کہا، ‘گوڈسے کی کتاب میں بہت سی معلومات اور انکشافات ہیں جن سے عام آدمی واقف نہیں ہے۔ میں نے گوڈسے کی کتاب کے پس منظر میں وکیل کی فیس بک پوسٹ پر تبصرہ کیا تھا۔ جب میں نے محسوس کیا کہ لوگوں نے میرے تبصرے کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا شروع کر دیا ہے تو میں نے اسے ہٹا دیا۔’

گزشتہ 25 سالوں سے این آئی ٹی، کالی کٹ میں فیکلٹی ممبر انداون نے کہا تھا کہ ان کے پوسٹ پر ہنگامہ آرائی کا تعلق ایک دلت طالبعلم کی معطلی سے متعلق کیمپس میں حالیہ بدامنی سے تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے ابھی تک کسی نے ان سے وضاحت نہیں مانگی ہے۔

انہوں نے کہا، ‘میں کسی سیاسی جماعت کی  حمایتی نہیں ہوں۔ میں ایک ماہر تعلیم ہوں۔’