سی جے پی کی جانب سے پارلیامنٹ مارچ کی اپیل کے درمیان جنتر منتر پر ہزاروں مظاہرین جمع ہو گئے ہیں۔ دہلی پولیس نے دفعہ 163 کے تحت امتناعی احکامات نافذ کر دیے ہیں، کئی میٹرو اسٹیشن بھی بند کر دیے گئے ہیں۔ دریں اثنا، جنتر منتر پر بھوک ہڑتال پر بیٹھے آئیسا کے طلبہ اسٹوڈنٹ لیڈرنے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔ وہیں، مانسون اجلاس کی شروعات کرتے ہوئےوزیر اعظم نریندر مودی نے اس احتجاجی مظاہرے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

تصویر: پی ٹی آئی
نئی دہلی:پارلیامنٹ کا مانسون اجلاس سوموارسے شروع ہو چکا ہے۔ اس بیچ نئی دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی تحریک اپنے عروج پر ہے۔
آج پارلیامنٹ تک مارچ کے اعلان کے بعد دہلی پولیس نے بی این ایس ایس کی دفعہ 163 کے تحت امتناعی احکامات نافذ کر دیے ہیں۔
موقع پر موجود دی وائر کے نامہ نگاروں کے مطابق، جنتر منتر پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اور پورے علاقے میں بیریکیڈنگ کی گئی ہے۔ اس کے باوجود سیکڑوں مظاہرین بیریکیڈ کے باہر اکٹھے ہو کر پارلیامنٹ کی جانب مارچ کی تیاری میں ہیں۔ جنتر منتر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں مظاہرین کی بڑی تعداد موجود ہے۔
ادھر، دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) نے سکیورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے اگلے حکم تک جن پتھ، راجیو چوک، پٹیل چوک، سینٹرل سیکریٹریٹ اور سیوا تیرتھ (اُدیوگ بھون) میٹرو اسٹیشن بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
وہیں،پارلیامنٹ کے مانسون اجلاس کی شروعات سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی نے میڈیا سے خطاب کیا، تاہم انہوں نے دہلی میں طلبہ کی خودکشی کے معاملوں اور قومی سطح کے امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے خلاف ہزاروں افراد کے احتجاج کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں یہ احتجاج پارلیامنٹ سے تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر جاری ہے۔
جنتر منتر پر کیا ہیں زمینی حالات؟
دی وائر کے نامہ نگاروں اور معاونین کے مطابق، صرف جنتر منتر کے آس پاس ہی تقریباً 50 ہزار افراد جمع ہو چکے ہیں۔
موقع پر دہلی پولیس نے کئی سطحوں پر بیریکیڈنگ کی ہے، لیکن اس کے باوجود مظاہرین کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ نامہ نگاروں کے مطابق یہ ہجوم جنتر منتر سے کئی کلومیٹر آگے تک پھیل چکا ہے۔
سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال فیصلہ کن موڑ پر
ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال اب ایک اہم مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ان کی اہلیہ گیتانجلی آنگمو نے کہا ہے کہ اگر سیاسی رہنما اسپتال جا کر ان سے ملاقات کریں اور یہ یقین دہانی کرائیں کہ وہ پارلیامنٹ کے مانسون اجلاس میں تعلیمی نظام میں جوابدہی کا معاملہ اٹھائیں گے، تو وانگچک اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے لکھا،’میری صحت کی پروا کیے بغیر میری بھوک ہڑتال ’سنسد چلو‘مارچ کے بعد تک جاری رہے گی اور صرف درج ذیل حالات میں ہی ختم ہوگی۔‘
اس کے بعد وانگچک نے سوشل میڈیا پر اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کی شرائط بھی شیئر کیں۔
ایکس پر شیئر کیے گئے ایک ٹشو پیپر پر ہاتھ سے لکھے گئے پیغام میں وانگچک نے کہا کہ اگر حکومت تعلیمی نظام کی’ناکامیوں‘، خصوصی طور پر حالیہ نیٹ پرچہ لیک معاملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے، تو وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دیں گے۔
دوسری شرط کے طور پر انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں یہ یقین دہانی کرائیں کہ پرچہ لیک کا معاملہ پارلیامنٹ میں اٹھایا جائے گا۔
تیسری شرط یہ ہے کہ اعلیٰ سیاسی رہنما اسپتال میں ان سے ملاقات کریں اور پہلی دو شرائط پر یقین دہانی کرائیں۔
WHEN WILL I END THE FAST….!
Not withstanding my health my fast continues till after the Sansad Chalo March, and will be broken only under the following circumstances… pic.twitter.com/kaOGx2Nk4T— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 20, 2026
آئیسا کے طلبہ نے بھوک ہڑتال ختم کی
جنتر منتر پر بھوک ہڑتال پر بیٹھے آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کے طلبہ نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔
AISA’s Neha, Manish and Aameen ended their 23-day indefinite hunger strike at Jantar Mantar after a delegation of Opposition parliamentarians, civil society members and eminent personalities appealed to them pic.twitter.com/2omYX5oNmy
— Anjali Ojha (@ojhaanjali) July 20, 2026
بھوک ہڑتال ختم کرنے سے قبل ان سے ارکان پارلیامنٹ اور ممتاز شہریوں کے ایک وفد نے ملاقات کی۔ اس وفد میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے ایم پی منوج جھا، سی پی آئی (ایم) کے ایم پی امرا رام، اداکار پرکاش راج اور شبانہ اعظمی، سینئر وکیل پرشانت بھوشن اور سماجی کارکن یوگیندر یادو شامل تھے۔
وفد نے کیا کہا؟
گزشتہ 22 دنوں سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے آئیسا کے تین طلبہ رہنما، نہا، منیش اور آمین کی ہڑتال ختم ہونے پر یوگیندر یادو نے کہا،’یہ بھوک ہڑتال کا اختتام نہیں بلکہ جدوجہد کے اس مرحلے کا اختتام ہے۔‘
راجیہ سبھا ایم پی منوج جھا نے کہا،’آپ لوگوں نے بہت بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ اس حکومت کی حقیقت ہر محاذ پر بے نقاب ہو چکی ہے۔‘
اداکارہ شبانہ اعظمی نے کہا،’ہماری نسل اپنے جین-زی کے لیے بہتر حالات پیدا نہیں کر سکی، لیکن آپ لوگوں نے ہمیں آگے بڑھنے کا راستہ دکھایا ہے۔‘
سی پی آئی (ایم ایل) لبریشن کے رہنما راجا رام سنگھ نے کہا،’آج سے آپ کی جدوجہد کی گونج جمہوریت کے ایوان میں بھی سنائی دے گی۔ آپ نے پورے اپوزیشن کو جدوجہد کا راستہ دکھایا ہے۔‘
آئیسا نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ طلبہ رہنماؤں کے جسمانی وزن میں 12 فیصد سے زیادہ کمی آ چکی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے خون میں شوگر کی سطح خطرناک حد تک گر گئی ہے، جس کے باعث جسم کے کئی اعضا پر سنگین اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
سی جے پی کا دعویٰ: احتجاجی مظاہرے کو خراب کرنے کی سازش
سی جے پی کے ابھیجیت دیپکے نے اس سے قبل سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا تھا کہ تنظیم کو اطلاع ملی ہے کہ انتظامیہ’کسی سنگین سازش‘کی تیاری کر رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ حکام کا منصوبہ’شر پسند عناصر کو احتجاج میں خلل ڈالنے کی اجازت دینا اور بعد میں اس کا الزام پُرامن سی جے پی مظاہرین پر ڈالنا‘ہے۔
We have received input that the authorities are planning something heinous where they will allow goons to disrupt the protest and then blame it on the peaceful CJP protesters.
— Abhijeet Dipke (@abhijeet_dipke) July 20, 2026
دہلی پولیس نے اضافی فورس بلایا
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، دہلی پولیس نے اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کرنے کے لیے تمام 14 پولیس اضلاع کو ہدایت دی ہے کہ وہ فوری طور پر اے سی پی رینک کے ایک افسر اور 100 پولیس اہلکار نئی دہلی ضلع بھیجیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ قدم اس وقت اٹھایاگیا ہے جب وہاں پہلے ہی نیم فوجی دستوں کی 32 کمپنیاں تعینات ہیں۔ اس کے علاوہ پارلیامنٹ جانے والے راستے بند کر دیے گئے ہیں، دفعہ 163 کے تحت پابندیاں نافذ ہیں اور سی سی ٹی وی نگرانی بھی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
لاٹھی چارج کی خبروں کو پولیس نے افواہ بتایا
دہلی پولیس نے کہا ہے کہ جنتر منتر پر تشدد یا مظاہرین کو حراست میں لینے کی خبریں محض افواہیں ہیں۔
آج صبح 10:43 بجے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے ایک بیان میں پولیس نے کہا،’میڈیا کے بعض حلقوں میں یہ خبریں شائع کی گئی ہیں کہ جنتر منتر پر دہلی پولیس نے تشدد کیا ہے یا لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔‘
پولیس نے مزید کہا،’واضح کیا جاتا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اور احتجاجی مظاہرے کو پیشہ ورانہ انداز میں سنبھالا جا رہا ہے۔ تمام شہریوں سے درخواست ہے کہ کسی بھی افواہ یا غلط فہمی پر یقین نہ کریں اور جنتر منتر اور اس کے اطراف میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے دہلی پولیس سے تعاون کریں۔‘
Some segments from media have mentioned sporadic use of violence/detentions at Jantar Mantar by Delhi Police.
It is informed that no such incident has taken place and protest is being handled professionally. All are requested not to fall pray to any rumour/ misgivings, and, to…— Delhi Police (@DelhiPolice) July 20, 2026
سنسد مارگ سے
CJP Protest | “हार नहीं मानेंगे, जब तक न्याय नहीं मिलेगा”
संसद की ओर बढ़ते शांतिपूर्ण मार्च की ताज़ा तस्वीरें। हाथों में तिरंगा और बुलंद नारों के साथ प्रदर्शनकारी अपनी मांगों को लेकर आगे बढ़ रहे हैं।
— संसद मार्ग, नई दिल्ली pic.twitter.com/uAL4TgZHyi
— The Wire हिंदी (@thewirehindi) July 20, 2026