غالب پر منٹو کی ایک خاص تحریر : قرض کی پیتے تھے…

’’حضرت، روپے کی ادائیگی، شاعری نہیں آپ تکلّف کو برطرف رکھیے۔ میں آپ کا مداح ہوں مجھے آج موقع دیجیے کہ آپ کی کوئی خدمت کرسکوں۔‘‘ غالبؔ بہت خفیف ہوئے؛’’لاحول ولا…آپ میرے بزرگ ہیں…مجھے کوئی سزا دے دیجیے کہ آپ صدرالصدور ہیں۔‘‘

’’حضرت، روپے کی ادائیگی، شاعری نہیں آپ تکلّف کو برطرف رکھیے۔ میں آپ کا مداح ہوں مجھے آج موقع دیجیے کہ آپ کی کوئی خدمت کرسکوں۔‘‘ غالبؔ بہت خفیف ہوئے؛’’لاحول ولا…آپ میرے بزرگ ہیں…مجھے کوئی سزا دے دیجیے کہ آپ صدرالصدور ہیں۔‘‘

GhalibTomb_DawnNews

یہ مضمون 27دسمبر 2017کو شائع کیا گیا تھا۔

ایک جگہ محفل جمی تھی۔ مرزا غالبؔ وہاں سے اُکتا کر اُٹھے۔ باہر ہوا دار موجود تھا۔ اس میں بیٹھے اور اپنے گھر کا رخ کیا۔ ہوادارسے اتر کر جب دیوان خانے میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ متھر ا داس مہاجن بیٹھا ہے۔

غالب نے اندر داخل ہوتے ہی کہا؛’’اخاہ! متھر ا داس ! بھئی تم آج بڑے وقت پر آئے…میں تمہیں بلوانے ہی والا تھا!‘‘

متھر ا داس نے ٹھیٹ مہاجنوں کے انداز میں کہا۔’’ حضور روپوں کو بہت دن ہوگئے۔ فقط دو قسط آپ نے بھجوائے تھے…اس کے بعد پانچ مہینے ہوگئے،ایک پیسہ بھی آپ نے نہ دیا۔‘‘

اسد اللہ خان غالبؔ مسکرائے’’بھئی متھر ا داس دینے کو میں سب دے دوں گا۔ گلے گلے پانی دوں گا…دو ایک جائیدادمیری باقی ہے۔‘‘

’’اجی سرکار! اس طرح بیوپار ہوچکا۔ نہ اصل میں سے نہ سود میں سے، پہلا ہی ڈھائی ہزار وصول نہیں ہوا۔ چھ سو چھپن سود کے ہوگئے۔‘‘

مرزا غالبؔ نے حقے کی نَے پکڑ کر ایک کش لیا۔’’ لالہ، جس درخت کا پھل کھانا منظور ہوتا ہے، اس کو پہلے پانی دیتے ہیں…میں تمہارا درخت ہوں پانی دو تو اناج پیدا ہو۔‘‘

متھر ا داس نے اپنی دھوتی کی لانگ ٹھیک کی۔’’ جی، دیوالی کو بارہ دن باقی رہ گئے ہیں۔ کھاتہ بند کیا جائے گا۔ آپ پہلے روپے کا اصل سُود ملا کر دستاویز بنا دیں تو آگے کا نام لیں۔‘‘

مرزا غالبؔ نے حقے کی نَے ایک طرف کی’’لوابھی دستاویز لکھے دیتا ہوں،شرط یہ ہے کہ دو ہزار ابھی ابھی مجھے اوردو۔‘‘

متھرا داس نے تھوڑی دیر غورکیا۔’’ اچھا، میں اشٹام منگواتا ہوں…بہی ساتھ لایا ہوں۔ آپ منشی غلام رسول عرضی نویس کو بلالیں۔ پر سود وہی سوا روپیہ سینکڑہ ہوگا۔‘‘

’’لالہ کچھ تو انصاف کرو۔ بارہ آنے سود لکھوائے دیتا ہوں۔‘‘

متھرا داس نے اپنی دھوتی کی لانگ دوسری بار دُرست کی۔’’سرکار بارہ آنے پر بارہ برس بھی کوئی مہاجن قرض نہیں دے گا…آج کل تو خود بادشاہ سلامت کو روپے کی ضرورت ہے۔‘‘

ان دنوں واقعی بہادر شاہ ظفر کی حالت بہت نازک تھی، اس کو اپنے اخراجات کے لیے روپے پیسے کی ہر وقت ضرورت رہتی تھی۔

بہادر شاہ تو خیر بادشاہ تھا لیکن مرزا غالب شاعر تھے۔ گو وہ اپنے شعروں میں اپنا رشتہ سپاہ گری سے جوڑتے تھے۔

یہ مرزا صاحب کی زندگی کے چالیسویں اور پینتالیسویں سال کی درمیانی عرصے کی بات ہےجب متھرا داس مہاجن نے ان پر عدم ادائیگی قرضہ کے باعث دیوانی عدالت میں دعویٰ دائر کیا،مقدمے کی سماعت مرزا صاحب کے مربی اور دوست مُفتی صدر الدین آزردہ کو کرنا تھی جو خود بہت اچھے شاعر اورغالبؔ کے مداح تھے۔

یہ بھی پڑھیں: علامہ اقبال:ایک دن دلّی میں

مُفتی صاحب کے مردھانے عدالت کے کمرے سے باہر نکل کر آواز دی۔’’ لالہ متھرا داس مہاجن اور مرزا اسد اللہ خان غالبؔ مدعاعلیہ حاضر ہیں۔‘‘

متھرا داس نے مرزا غالب کی طرف دیکھا اور مردھے سے کہا۔’’ابھی دونوں حاضر ہیں۔‘‘

مِردھے نے روکھے پن سے کہا۔‘‘ تو دونوں حاضرِ عدالت ہوں۔‘‘

مرزا غالب نے عدالت میں حاضر ہو کر مفتی صدر الدین آزردہ کو سلام کیا…مفتی صاحب مسکرائے۔

’’مرزا نوشہ، یہ آپ اس قدر قرض کیوں لیا کرتے ہیں آخر یہ معاملہ کیا ہے؟‘‘

غالب نے تھوڑے توقف کے بعد کہا؛’’ کیا عرض کروں، میری سمجھ میں بھی کچھ نہیں آتا۔‘‘

مفتی صدر الدین مسکرائے؛ ’’کچھ تو ہے،جس کی پردہ داری ہے‘‘

غالب نے برجستہ کہا۔’’ ایک شعر موزوں ہوگیا ہے مفتی صاحب،حکم ہو تو جواب میں عرض کروں۔‘‘

’’فرمائیے!‘‘

غالبؔ نے مفتی صاحب اور متھرا داس مہاجن کو ایک لحظے کے لیے دیکھا اور اپنے مخصوص انداز میں یہ شعرپڑھا؛

قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں

رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

مفتی صاحب بے اختیار ہنس پڑے۔ ’’خوب، خوب، کیوں صاحب! رسی جل گئی، پر بل نہ گیا۔ آپ کے اس شعر کی میں تو ضرور داد دوں گا۔ مگر چونکہ آپ کو اصل اور سود، سب سے اقرار ہے۔ عدالت مدعی کے حق میں فیصلہ دیے بغیر نہیں رہ سکتی۔‘‘

مرزا غالبؔ نے بڑی سنجیدگی سے کہا؛’’مدعی سچا ہے، تو کیوں فیصلہ اس کے حق میں نہ ہو اورمیں نے بھی سچی بات نثر میں نہ کہی، نظم میں کہہ دی‘‘

مفتی صدر الدین آزردہ نے کاغذات قانون ایک طرف رکھے اور مرزا غالب سے مخاطب ہوئے؛’’اچھا، تو زرِ ڈگری میں ادا کردوں گا کہ ہماری آپ کی دوستی کی لاج رہ جائے‘‘

مرزا غالبؔ بڑے خود دار تھے۔ انہوں نے مفتی صاحب سے کہا؛’’حضور ایسا نہیں ہوگا…مجھے متھرا داس کا روپیہ دینا ہے…میں بہت جلد ادا کردوں گا‘‘

مفتی صاحب مسکرائے؛’’حضرت، روپے کی ادائیگی، شاعری نہیں آپ تکلّف کو برطرف رکھیے۔ میں آپ کا مداح ہوں مجھے آج موقع دیجیے کہ آپ کی کوئی خدمت کرسکوں۔‘‘

غالبؔ بہت خفیف ہوئے؛’’لاحول ولا…آپ میرے بزرگ ہیں…مجھے کوئی سزا دے دیجیے کہ آپ صدرالصدور ہیں۔‘‘

’’دیکھو،تم ایسی باتیں مت کرو ‘‘

’’تو اور کیسی باتیں کروں‘‘

’’کوئی شعر سنائیے۔‘‘

’’سوچتا ہوں…ہاں ایک شعر رات کو ہوگیا تھا۔عرض کیے دیتا ہوں ‘‘

’’فرمائیے‘‘

’’ہم اور وہ سبب رنج آشنا دشمن‘‘

مُفتی صاحب نے اپنے قانونی قلم سے قانونی کاغذ پر یہ حروف لکھے

’’ہم اور وہ بے سبب رنج آشنا دشمن کہ رکھتا ہے‘‘

مفتی صاحب بہت محظوظ ہوئے۔ یہ شعر آسانی سے سمجھ آسکنے والا نہیں۔ لیکن وہ خود بہت بڑے شاعر تھے۔ اس لیے غالبؔ کی دقیقہ بیانی کو فوراً سمجھ گئے۔

مقدمے کی باقاعدہ سماعت ہوئی ۔مفتی صدرالدین آزردہ نے مرزا غالبؔ سے کہا؛آپ آئندہ قرض کی نہ پیاکریں۔

غالب جو شاید کسی شعر کی فکر کررہے تھے ۔کہا؛ایک شعر ہوگیا اگر آپ اجازت دیں تو عرض کروں ۔مفتی صاحب نے کہا ۔فرمائیے ۔فرمائیے۔

مرزا غالبؔ کچھ دیر خاموش رہے۔ غالباً ان کو اِس بات سےبہت کوفت ہوئی تھی کہ مفتی صاحب اُن پر ایک احسان کر رہے ہیں۔

مفتی صاحب نے ان سے پوچھا؛’’حضرت آپ خاموش کیوں ہو گئے؟‘‘

’’جی کوئی خاص بات نہیں؛

ہے کچھ ایسی ہی بات جو چُپ ہوں

ورنہ کیا بات کرنہیں آتی

’’آپ کو باتیں کرنا تو ماشاء اللہ آتی ہیں۔‘‘

غالبؔ نے جواب دیا؛’’جی ہاں…لیکن بنانا نہیں آتیں۔‘‘

مفتی صدر الدین مسکرائے؛’’اب آپ جاسکتے ہیں۔ زرِ ڈگری میں ادا کردوں گا۔‘‘

مرزا غالبؔ نے مفتی صاحب کا شکریہ ادا کیا؛’’ آج آپ نے دوستی کے تمسک پر مہر لگا دی… جب تک زندہ ہوں، بندہ ہوں۔‘‘

مفتی صدر الدین آزردہ نے ان سے کہا؛’’اب آپ تشریف لے جائیے پر خیال رہے کہ روز روز زر ڈگری میں ادا نہیں کرسکتا، آئندہ احتیاط رہے۔‘‘

مرزا غالبؔ تھوڑی دیر کے لیے سوچ میں غرق ہوگئے۔

مفتی صاحب نے اُن سے پوچھا؛’’کیا سوچ رہے ہیں آپ؟‘‘

مرزا غالبؔ چونک کربولے؛’’ جی!میں کچھ بھی نہیں سوچ رہا تھا۔ شاید کچھ سوچنے کی کوشش کررہا تھا۔

 کہ

موت کا ایک دن معین ہے

نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

مفتی صاحب نے ان سے پوچھا؛’’ کیا آپ کو رات بھر نیند نہیں آتی؟‘‘

مرزا غالبؔ نے مسکرا کر کہا؛’’ کسی خوش نصیب ہی کو آتی ہوگی۔‘‘

مفتی صاحب نے کہا۔’’ آپ شاعری چھوڑیئے…بس آئندہ احتیاط رہے۔‘‘

مرزا غالبؔ اپنے انگرکھے کی شکنیں درست کرتے ہوئے بولے’’ آپ کی نصیحت پر چل کر ثابت قدم رہنے کی خدا سے دعا کروں گا۔مفتی صاحب مفت کی زحمت آپ کو ہوئی۔ نقداً سوائے ’’شکر ہے‘‘اور کیا ادا کرسکتا ہوں۔ خیر خدا آپ کو دس گُنا دُنیا میں، اور ستّر گُنا آخرت میں دے گا۔‘‘

یہ سُن کر مفتی صدر الدین آزردہ زیر لب مسکرائے؛’’ آخرت والے میں تو آپ کو شریک کرنا محال ہے۔ دنیا کے دس گنے میں بھی آپ کو ایک کوڑی نہیں دوں گا کہ آپ مے خواری کیجیے۔‘‘

مرزا غالبؔ ہنسے…’’مے خواری کیسی مفتی صاحب!

مے سے غرض نشاط ہے کِس رو سیاہ کو

اک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے

اور یہ شعر سُنا کر مرزا غالبؔ ، عدالت کے کمرے سے باہر چلے گئے۔

(بہ شکریہ برقعے،مکتبہ شعر وادب ،سمن آباد،لاہور)

Next Article

موت کی کتاب: ایک حقیقی ادبی تخلیق

فرانسیسی نقاد پیترک ابراہم کا تبصرہ: خالد جاوید کا ناول ’موت کی کتاب‘ اپنی گہری تاریکی اور معنوی تہہ داری کے باعث ایک عظیم تخلیقی شہ پارہ ہے۔ یہ ہمیں ہماری اپنی داخلی تاریکیوں سے روشناس کراتا ہے اور ہمیں اس بات کے لیے مجبور کرتا ہے کہ اس کا مطالعہ بار بار کیا جائے۔

موت کی کتاب، فوٹو بہ شکریہ: متعلقہ پبلی کیشن

موت کی کتاب، فوٹو بہ شکریہ: متعلقہ پبلی کیشن


پیترک ابراہم کا یہ تبصرہ فرانسیسی زبان میں شائع ہوا ہے، محمد ریحان کے شکریے کے ساتھ یہاں اس کا اردو ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔(ادارہ)


یہ یقیناََ ایک خوش آئند خبر ہے کہ معاصر ہندوستانی ادیب پروفیسر خالد جاوید کا ناول ’موت کی کتاب‘ ایڈیشن بنیان کے زیرِ اہتمام شائع ہو کر منصۂ شہود پر آ گیا ہے، بالخصوص اس پس منظر میں کہ فرانسیسی زبان میں اردو ادب کے تراجم خال خال ہی نظر آتے ہیں۔

اردو ادب ہمارے لیے ایک غیر دریافت شدہ براعظم کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس شاندار اقدام کے لیے ڈیوڈ ایمے کو ہم مبارک باد دیتے ہیں اور روزن-آلس ویئے کو ان کے غیر معمولی اور معیاری ترجمے پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

’موت کی کتاب‘ مختصر ہونے کے باوجود اپنی گہری تاریکی اور معنوی تہہ داری کے باعث ایک عظیم تخلیقی شہ پارہ ہے۔

یہ ایک ایسا ناول  ہے جو پہلی ہی قرأت میں ذہن و روح پر نقش ہو جاتا ہے، ہمیں ہماری اپنی داخلی تاریکیوں سے روشناس کراتا ہے اور ہمیں اس بات کے لیے مجبور کرتا ہے کہ اس کا مطالعہ بار بار کیا جائے۔

والٹر شیلر نامی شخص، جو سیوکاریگ فورٹ یونیورسٹی کے شعبۂ آثارِ قدیمہ سے وابستہ ہے، اپنی ’تمہید‘ (صفحہ 1-6) 2211 میں قلمبند کرتا ہے۔ اس میں وہ ایک ایسے مخطوطے کی دریافت کا ذکر کرتا ہے، جو ایک فراموش شدہ زبان میں تحریر تھا اور جسے سمجھنے میں بے حد دشواری پیش آئی تھی۔

یہ تحریر ’گرگٹہ تل ماس‘ کے کھنڈرات میں ملی تھی، جہاں تقریباً دو صدی قبل، اس قصبے کو ہائیڈرو الکٹرک ڈیم کی تعمیر کے لیے غرق آب کیے جانے سے پہلے، ایک ’پاگل خانہ‘ قائم تھا۔

اس کے بعد مسودے کے مصنف کا درد میں ڈوبا ہوا مگر ظرافت سے بھرپور یکطرفہ مکالمہ شروع ہوتا ہے۔ ہمیں اس کے عہد کا سراغ ملتا ہے، نہ ہی اس سرزمین کا جہاں اس نے اپنی زندگی بسر کی، اگرچہ ہمارا قیاس یہی کہتا ہے کہ وہ شمالی ہند کا باسی ہے۔

اس کردار کا وجود ایک ایسی داخلی اجنبیت کے احساس پر مبنی ہے جو اسے دنیا سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت سے محروم رکھتا ہے۔

وہ موت کے خیال کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہےاور خودکشی کا آسیب کسی ناگزیر سائے کی مانند اس کے شعور پر سایہ فگن رہتا ہے۔ مگر اس کے لیے خودکشی محض ایک ترغیب، ایک خیال نہیں بلکہ ایک مجسم ہستی ہے، جو کبھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑتی ہے۔

483527155_9483265428385970_8536707087862918278_n

یہ خود کشی پالتو گلہری کی شکل میں اس کی پتلون کی جیب میں جا بیٹھتی ہے۔ جب وہ افسردگی کے عالم میں چہل قدمی کرتا ہوا ریلوے لائن کے قریب پہنچتا ہے (صفحہ 19-23)، تو یہی خود کشی اسے مشورہ دیتی ہے کہ وہ خود کو ٹرین کے حوالے کر دے۔

کئی اشارے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ وجودی اضطراب صرف بچپن کے دنوں تک محدود نہیں (صفحہ 43-46، 47-53، 54-59، 60-62)، بلکہ اس کی بازگشت پیدائش سے پہلے کی گھڑیوں میں بھی سنائی دیتی ہے (صفحہ 113-114)۔

تاہم، یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی ابتدائی دور کا صدمہ موجود ہے تو اس کی جڑیں کسی محض اتفاقی حادثے میں نہیں، بلکہ کسی گہری اور پیچیدہ حقیقت میں پیوست ہیں۔ اس پس منظر میں ’موت کی کتاب‘ کا علمی و فکری مطالعہ نہایت موزوں معلوم ہوتا ہے۔ میں اگلے صفحات پر اس پہلو پر مزید روشنی ڈالوں گا۔

راوی اپنی ماں کی موت کے بعد، جو مسلسل تشدد اور محرومیوں کے نتیجے میں واقع ہوتی ہے، شادی کر لیتا ہے، مگر اس کے دل میں باپ کے قتل کی خواہش اور دونوں کے مابین نفرت کی دیوار جوں کی توں قائم رہتی ہے۔

اس کی زندگی میں ایک معشوقہ بھی ہے، جس کی ہتھیلیاں زردی مائل اور آنکھیں ویران ہیں۔ وہ، اس کی بیوی کے برعکس، دل کی اتھاہ گہرائیوں سے اس سے محبت کرتی ہے، مگر اس کے ساتھ خوش نہیں ہے (صفحہ 16-18، 19-23، 24-25)۔

سنیما کی بات کو پس پشت ڈال دیں تو جدید ہندوستانی ادب عموماً جنسی موضوعات کے بیان میں جھجک کا مظاہرہ کرتا ہے، مگر خالد جاوید اپنے المناک کردار کے ازدواجی اور ناجائز تعلقات کو بڑی بے باکی کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔


یہ بھی پڑھیں: نعمت خانہ: سماجی مسائل کے بطن میں انسانی زندگی کے فلسفے کی تلاش …


ناول کا اختتام ایک جہنمی موسم (صفحہ 84-91، 92-103) پر ہوتا ہے، جہاں راوی خود کو ایک ایسی مایوسی میں قید کر لیتا ہے جس سے فرار ممکن نہیں، اور وہ نہایت منظم انداز میں اپنی ہی ذات سے گھن کھانے لگتا ہے۔ اس کے مکروہ اور بدنما خودبیانیہ پرغور کرنا دلچسپی سے خالی نہیں، جو اس کی گہری نفرت کی عکاسی کرتا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے لوترے آموں (Lautréamont) کے اسلوب میں دکھائی دیتا ہے۔ کیا روزن-آلس ویئے اور ڈیوڈ ایمے کو اس بات کا علم ہے کہ خالد جاوید نے Les Chants de Maldoror کا مطالعہ کیا ہے اور کیا وہ اس سے متاثر ہوئے ہیں؟

لوترےآموں ’لے شوں‘ (IV, 5) میں لکھتا ہے؛

’میں غلیظ ہوں۔ جوئیں میرے جسم کو کھا رہی ہیں۔ سور مجھے دیکھ کر قے کر دیتے ہیں۔ کوڑھ کے زخموں کی پپڑیاں میری جلد سے اتر چکی ہیں، اور میرا جسم پیلے رنگ کے پیپ میں لت پت ہے۔‘

خالد جاوید اپنے ناول (صفحہ 87، 92) میں لکھتے ہیں؛

’میں نے جسم کا خیال رکھنا بالکل ہی چھوڑ دیا ۔ میں گندا اور غلیظ رہنے لگا۔ (…) زخم سے پیپ کی دوری ختم ہوتی جا رہی ہے۔ جلد ہی میں ایک قد آدم زخم کے اندر چلوں گا۔‘

راوی کا باپ اور اس کی بیوی اسے ایک پاگل خانے میں داخل کرانے کا فیصلہ کرتے ہیں (صفحہ 104-115)، ایک مشکل آزمائش، جس سے نجات اسے صرف اپنے والد کی موت کے بعد ہی ملتی ہے۔ رہائی کے بعد، وہ بارش میں اس پاگل خانے کی’سیاہ اور دیو ہیکل دیواروں‘ سے دور نکل جاتا ہے اور بالآخر بیکٹ کے کسی کردار کی مانند، کیچڑ سے بھرے ایک گڑھے میں پناہ لے لیتا ہے (صفحہ 118-124)۔

یہ کتاب ابواب کے بجائے’اوراق‘ میں منقسم ہے،کل انیس اوراق۔ بیسواں ورق(صفحہ 125) خالی رہتا ہے اور کتاب ایک پُراسرار جملے پر اس طرح ختم ہوتی ہے؛’لامحدود اور بیکراں زمانوں تک……‘ اور یہ جملہ، جیسا کہ خالد جاویدلکھتے ہیں (عرض مصنف، صفحہ i-ii) ، سنسکرت زبان کے ایک پراسرار حرف ’ری‘ (ऋ) کی جانب اشارہ کرتا ہے، جس کی دھاتو پر غور کریں تو اس کا مطلب ’پتھر پر خراشیں ڈالنا‘ یا ’مصنف اور اس کی تحریر کے درمیان کوئی دوئی یا دوری نہ باقی رہے‘ ہو سکتا ہے۔

اس میں نفسیاتی مریضوں کے ہسپتال، پاگل خانے کا ذکر ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں بیان کردہ واقعات پر کتنا اعتبار کرنا چاہیے۔ آخر ہم اس راوی کی باتوں پر کہاں تک یقین کریں؟ کیا یہ کسی کا ایک بے باک اعتراف ہے یا کسی دیوانے کی ڈائری؟

والٹر شیلر، جو خود کو تئیسویں صدی کا ماہرِ آثارِ قدیمہ ظاہر کرتا ہے، حقیقت میں وہی اس متن کا مصنف تو نہیں؟ کیا والٹر شیلر، اس کی ’سیوکاریگ فورٹ یونیورسٹی‘، اور اس کا دوست ’ژاں ہیوگو،جو ’گارساں دَ تاسی‘ کی نسل سے ہے اور اس مخطوطے کا مترجم بھی، کیاواقعی میں یہ سب کوئی حقیقی وجود رکھتے ہیں؟

یہ کوئی معنی نہیں رکھتا کہ اس میں کیا حقیقی ہے اور کیا نہیں۔ کیوں کہ یہ نہ تو کسی طبی معائنے کے لیے پیش کردہ’دستاویز‘ ہے، نہ ہی خودنوشت کہانی (جو ان دنوں فرانس میں بے حد مقبول ہے) اور نہ ہی کوئی ایسا سنسنی خیز افسانہ جس کی کہانی گھسے پٹے انداز میں بُنی گئی ہو۔ بلکہ یہ ایک حقیقی ادبی تخلیق ہے (یونانی مفہوم میں ایک نظم کے مترادف) جس کے سوالات کے جواب صرف اس کے بیانیے کے اندر ہی تلاش کیے جا سکتے ہیں۔


یہ بھی پڑھیں: ’میری ہر تحریر موت کی ایک کتاب ہے‘


اس ناول کا عنوان بھی اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس کی تعبیر کیسے کی جائے؟ اس حوالے سے کئی عبارتیں موجود ہیں جو اس کی تفہیم میں ہماری رہنمائی کرتی ہیں (صفحہ 89، 106، 115، 119)۔ ’موت کی کتاب‘شاید وہی کتاب ہے جس میں ’ہمارے گناہوں کا اندراج ہوگا‘ اور جو صرف اس وقت قابلِ مطالعہ ہوگی جب ہم خودفنا ہو چکے ہوں گے، یعنی اس وقت جب بہت دیر ہو چکی ہوگی۔

مگر اس سے بھی زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ اس کتاب کی ترتیب کئی جنم پہلے ہی مکمل ہو چکی تھی، کیونکہ اسے ’کرموں کے لگاتار بہتے ہوئے سنسکاروں نے گڑھا ہے‘، جن پر ہمارا ’کوئی اختیار‘ نہیں تھا۔’ (ہمارے) سارے اعمال اور (ہمارے) سارے گناہ (ہمارے) جنم لینے سے پہلے ہی(ہمارے) تعاقب میں ہیں۔‘

یہ مفروضہ اور بھی زیادہ حیرت انگیز ہو سکتا ہے جہاں غنوصی تعبیر از سر نو ابھر کر سامنے آتی ہے؛ کیا یہ کتاب خدا اور شیطان کی مشترکہ تخلیق نہیں،جس میں ’شیطان کے قلم کی سیاہی اڑنے والی نہیں‘ ہے؟ کیا خدااور شیطان (خدا اپنے ہی کھیل میں شیطان کی شمولیت قبول کرنے پر مجبور ہے) مل کر ہماری زندگیاں لکھ رہے ہیں، ہماری بدبختی کی، اور وہ بھی ہماری لاعلمی میں؟

مجھے امید ہے کہ میں یہ واضح کر نے میں کامیاب ہوں کہ خالد جاوید کا پہلا ناول (’موت کی کتاب‘ عربی میں لفظ ’کتاب‘ ’مقدس کتاب‘ کے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے) فکر و معنی کے بے شمار در وا کرتا ہے، کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچتا اور ناول کا یہی پہلو اسے مسحور کن بنا دیتا ہے۔

سال 2025 کا Le Prix Médicis étranger انعام، جو غیرانگریزی ہندوستانی ادب کو عالمی توجہ دلانے کا مؤثر ذریعہ بھی بن سکتا ہے، اگر اس ناول کو دیا جائے تو کسی طور پر غیر مناسب نہ ہوگا۔

(پیترک ابراہم افرانسیسی تنقیدنگار، صحافی اور مصنف ہیں۔ وہ عصری ادب پر اپنے بصیرت افروز تبصرے اور مضامین کے لیےمعروف ہیں۔)

Next Article

ہندی کے نامور ادیب ونود کمار شکل کو اس سال کے گیان پیٹھ ایوارڈ سے نوازا جائے گا

گزشتہ چھ دہائیوں سے ادبی دنیا میں فعال ونود کمار شکل یکم جنوری 1937 کو راج ناندگاؤں میں پیدا ہوئے۔ وہ کئی دہائیوں سے رائے پور میں مقیم ہیں۔ ان کا شمار ان معدودے چند ادیبوں  میں ہوتا ہے، جنہوں نے زبان کے نئے محاورے وضع کیے ہیں۔

ونود کمار شکلا (تصویر بہ شکریہ: x/@vishnudsai)

ونود کمار شکلا (تصویر بہ شکریہ: x/@vishnudsai)

نئی دہلی:  ہندی کے معروف  شاعر اور ادیب ونود کمار شکل کو اس سال ملک کے سب سے بڑے ادبی اعزازگیان  پیٹھ ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔ اس کا اعلان سنیچر (22 مارچ) کو نئی دہلی میں گیان  پیٹھ کی کمیٹی نے کیا۔

قابل ذکر ہے کہ چھتیس گڑھ کے کسی ادیب  کو پہلی بارگیان  پیٹھ ایوارڈ دیا جائے گا۔ گزشتہ چھ دہائیوں سے ادبی دنیا میں فعال  ونود کمار شکل یکم جنوری 1937 کو راج ناندگاؤں میں پیدا ہوئے۔ وہ کئی دہائیوں سے رائے پور میں مقیم ہیں۔ وہ ان معدودے چند ادیبوں میں ہیں ،جنہوں نے زبان کے نئے محاورے وضع کیے ہیں۔

ان کے نام کے اعلان کے بعد چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ وشنو دیو سائی نے انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ چھتیس گڑھ کے لیے فخر کی بات ہے کہ ملک کے نامور ناول نگار اور شاعر ونود کمار شکل کو باوقار گیان  پیٹھ ایوارڈ ملا ہے۔ انہوں نے چھتیس گڑھ کو ایک بار پھر ہندوستان کے ادبی منظر نامے پر فخر محسوس کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

ونود کمار شکل کی تخلیقات

ونود کمار شکل کا پہلا شعری مجموعہ ‘لگ بھگ  جئے ہند’ 1971 میں شائع ہوا تھا اور اس کے بعد سے ان کی تحریروں نے ادبی دنیا میں اپنی جگہ بنا لی۔ ان کی تخلیقات عام لوگوں کی  زندگی کو غیر معمولی انداز میں پیش کرتی ہیں۔ اس منفرد اسلوب کی وجہ سے وہ ادبی دنیا میں ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔

انہوں نے ‘نوکر کی قمیص’، ‘کھلے گا تو دیکھیں گے’ اور ‘دیوار میں ایک کھڑکی رہتی تھی’ جیسے بہترین ناول لکھے، جنہیں پوری دنیا میں سراہا گیا۔ ان کی کہانیوں کے مجموعے ‘پیڑ پر کمرہ’، ‘آدمی  کی عورت’ اور ‘مہاودیالیہ’ بھی کافی مشہور ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی ان کی نظموں میں  ‘وہ آدمی چلا گیا نیا گرم کوٹ پہن کر’، ‘آکاش دھرتی کو کھٹکھٹاتا ہے’ اور ‘کویتا سے لمبی کویتا’ بہت مقبول ہیں۔

ونود کمار شکل نے بچوں کا ادب بھی لکھا ہے۔ بچوں کے لیے ان کی کتابوں میں ‘ہرے پتے کے رنگ کی  پترنگی’ اور ‘کہیں کھو گیا نام کا لڑکا’ شامل ہیں۔ ان کی کتابوں کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے اور ان کا ادب پوری دنیا میں پڑھا جاتا ہے۔

ونود کمار شکل کو کئی ایوارڈمل چکے  ہیں، مثلاً گجانن مادھو مکتی بودھ فیلوشپ، رضا ایوارڈ اور ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ناول ‘دیوار میں ایک کھڑ کی رہتی تھی’ کے لیے۔

اس کے علاوہ انہیں ماتر بھومی بک آف دی ایئرایوارڈ اور پین امریکہ نابوکاؤ ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ وہ اس ایوارڈ کو پانے والے ایشیا کے پہلے ادیب تھے ۔ ان کے ناول ‘نوکر کی قمیص’ پر مشہور فلمساز منی کول نے ایک  فلم  بھی بنائی تھی۔

غور طلب ہے کہ گزشتہ سال 2024 میں ساہتیہ اکادمی نے انہیں گریٹر ساہتیہ اکادمی کی رکنیت سے نوازا تھا۔

Next Article

پروپیگنڈہ نے ہمارے سنیما کو مسخ کر دیا ہے: اویناش داس

حال ہی میں آئی فلم ‘ان گلیوں میں’ کے ڈائریکٹر اویناش داس کے ساتھ دی وائر کی مدیر سیما چشتی کی بات چیت۔ لکھنؤ میں سیٹ یہ فلم ایک چھوٹے سے شہر میں بین المذاہب محبت کی باریکیوں کو تلاش کرتی ہے اور اس پر معاشرے کے ردعمل کے جوہر کو پیش کرتی ہے۔ فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے والی پروپیگنڈہ فلموں کے درمیان، داس کی یہ فلم تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح آئی ہے، جو ڈیجیٹل دور میں محبت، پہچان اور سماجی اصولوں پر ایک نقطہ نظر پیش کرتی ہے۔

Next Article

سنیما، کامیڈی، زندگی …

ورون گروور نغمہ  نگار، اسکرین رائٹر اور اسٹینڈ اپ کامک کے طور پر معروف ہیں۔ تاہم، گزشتہ دنوں انہوں نے ڈائریکٹر کے طور پر اپنی ایک نئی شناخت بنائی ہے۔ اس کے علاوہ وہ ادب اطفال بھی لکھتے ہیں۔ ان سے دی وائر ہندی کے مدیر آشوتوش بھاردواج کی بات چیت۔

Next Article

اورنگزیب: ایک شخص اور فرضی قصے

بک ریویو: آڈری ٹروشکی نے اپنی اس کتاب کے ذریعے ان کی درست تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ یہ کتاب ہمیں بہت سی ایسی باتیں بتاتی ہے، جو ملک کی بھگوا سیاست اور بھگوا تاریخ و صحافت ہم سے چھپاتی ہے ۔ مثلاً یہ تو بتایا جاتا ہے کہ اورنگزیب نے ہولی پر روک لگائی تھی مگر یہ چھپایا جاتا ہے کہ اورنگزیب نے عید اور بقرعید پر بھی روک لگائی تھی ۔

aaaaaa

مغل فرمانروا اورنگزیب نہ ولی تھے نہ صوفی ۔

اورنگزیب متعصب یا کٹّر مسلمان بھی نہیں تھے ۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ زیادہ تر مؤرخین نے اورنگزیب کی ذات، صفات اور خدمات کا مطالعہ ان ہی دو متضاد انتہاؤں سے کیا ہے ۔ یا اگر کچھ ہٹ کر کرنا چاہا تو ان دونوں انتہاؤں کے درمیان کی جگہ نکالی کہ اورنگزیب کو نہ قطعی متعصب قرار دیا اور نہ ہی ان کے صوفی ہونے سےکُلّی طور پر انکار کیا ۔ یہ ایک طرح سے اورنگزیب کا دفاع کرنے کی سعی ہے ۔

مگر کیا ان بنیادوں پر اورنگزیب کا درست اور صحیح مطالعہ ممکن ہے؟ امریکی خاتون مؤرخ آڈری ٹروشکی نے اپنی نئی انگریزی کتاب اورنگ زیب: دی مین اینڈ دی متھ میں ، جس کا  ’’اورنگزیب : ایک شخص اور فرضی قصے‘‘کے نام سے اردو زبان میں ، آزاد ریسرچر اقبال حسین اور دہلی یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر فہد ہاشمی نے خوبصورت ترجمہ کیا ہے، اورنگزیب کے مطالعے کا ایک جدید پیمانہ پیش کیا ہے ۔

وہ کہتی ہیں کہ ؛

ماضی کے تئیں ایماندار رہتے ہوئے ہمیں چاہیے کہ بحیثیت ایک شہزادہ اور بحیثیت ایک بادشاہ، ان کی مکمل تصویر پیش کریں۔

ایک جگہ وہ لکھتی ہیں کہ ان کی یہ کوشش رہی ہے کہ ’’اورنگزیب کی  زندگی اور دورِ حکومت کا ایک تاریخی خاکہ تیار کیا جائے، اور اس طرح غلط بیانیوں کے انبار تلے سے اورنگزیب بحیثیت ایک بادشاہ اور ایک انسان، کی بازیابی کو ممکن بنایا جا سکے جن کے بارے میں صدیوں سے ہم نے افواہوں کو من و عن قبول کرنے میں تجاہل عارفانہ سے کام لیا ہے۔‘‘

وہ کون سی غلط بیانیاں ہیں جن کے انبار تلے اورنگزیب دبے ہوئے ہیں؟ اس سوال کا جواب مشکل نہیں ہے ۔ آڈری نے آٹھ ابواب میں ، جو محض 128 صفحات پر مشتمل ہیں، اورنگزیب کی ایک انسان اور شہزادے و شہنشاہ کی حیثیت سے وہ تصویر پیش کر دی ہے جو ان کی خوبیوں اور خامیوں کو پوری طرح سے عیاں کردیتی ہے، اور یہ بھی صاف کر دیتی ہے کہ ان کے تعلق سے فرضی قصوں کا ایک ایسا جال بنا گیا ہے کہ لوگ اس میں پھنسے تو پھنستے ہی چلے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں بقول آڈری؛اکیسویں صدی کے جنوبی ایشیا میں اورنگزیب کی شبیہ غلط بیانی اور تردید کے بھنور میں پھنس کر رہ گئی ہے، اور اورنگزیب کی خود کی ذات ایک پہیلی بن گئی ہے ۔

اورنگزیب نے 49 سال تک 15 کروڑ انسانوں پر حکومت کی، ان کے دور میں مغلیہ سلطنت کی آبادی پورے یورپ کی آبادی سے زیادہ تھی اور وہ خود غالباً اپنے وقت کے سب سے امیرترین انسان تھے، جب 1707میں انہوں نے دنیا سے کوچ کیا تب ہندوستان جغرافیائی اور معاشی بنیاد پر دنیا کی سب سے بڑی حکومت بن چکی تھی، مگر اورنگزیب دنیا سے جاتے ہوئے خوش نہیں تھے، انہیں یہ لگ رہا تھا کہ ان کی زندگی ناکام رہی ہے ۔

بستر مرگ سے اپنے ایک خط میں انہوں نے لکھا ہے کہ ’’میں ایک اجنبی کی حیثیت سے آیا ہوں، اور ایک اجنبی ہی کی طرح چلا جاؤں گا۔‘‘انہیں یہ احساس تھا کہ ایک بادشاہ کے طور پر انہوں نے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کوتاہی برتی ہے ۔  ایک  خط میں انہوں نے یہ اعتراف کیا ہے کہ وہ حکمرانی کی ذمے داریوں اور عوام کے تحفظ کے لائق نہیں تھے ۔ دنیا اورنگزیب کو سخت مذہبی اور دیندار سمجھتی ہے، بلکہ اسے ان کا سب سے بڑا جرم قرار دیتی ہے، لیکن  انہوں نے ایک خط میں اپنی مذہبی کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ اس کی پاداش میں جلد ہی خدا کے عتاب کا سامنا کریں گے ۔

اپنے آخری خط میں دنیا سے کوچ کا جذباتی انداز میں بیان کرتے ہوئے انہوں نے تین بار خدا حافظ، خدا حافظ، خدا حافظ لکھا ہے ۔ مذکورہ خطوط سے اورنگزیب کی جو تصویر سامنے آتی ہے وہ اس تصویر سے بالکل الگ ہے جو ہم سب کو دکھائی جاتی ہے ۔ اورنگزیب  کو یہ قلق تھا کہ وہ عوام کی حفاظت نہیں کر سکے، ان سے حکمرانی کے فرائض ادا نہیں ہو سکے، اور یہ کہ وہ ساری زندگی خدا کو ایسے بھولے رہے کہ مذہبی تعلیمات پر عمل نہیں کرسکے ۔

 لیکن انہیں آج کٹّر مذہبی، ظالم، متعصب اور جبراً ہندوؤں کا مذہب تبدیل کرنے والے کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے ۔آڈری ٹروشکی نے اپنی اس کتاب کے ذریعے ان کی درست تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ یہ کتاب ہمیں بہت سی ایسی باتیں بتاتی ہے، جو ملک کی بھگوا سیاست اور بھگوا تاریخ و صحافت ہم سے چھپاتی ہے ۔ مثلاً یہ تو بتایا جاتا ہے کہ اورنگزیب نے ہولی پر روک لگائی تھی مگر یہ چھپایا جاتا ہے کہ اورنگزیب نے عید اور بقرعید پر بھی روک لگائی تھی ۔

آڈری ٹروشکی لکھتی ہیں ؛

اورنگزیب نے نوروز پر بھاری بھرکم تقریبات کے انعقاد کو محدود کیا، اور مسلمانوں کے بڑے تہواروں عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے موقعوں سے بڑے پیمانے پر جشن منا نے کو بھی منسوخ کر دیا تھا ۔ تقریباً اسی وقت انہوں نے ہندوؤں کے تہواروں ہولی اور دیوالی کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے محرم کے یادگاری جلوس سے متعلق ہنگامہ خیزی پر لگام کسنے کی کوشش کی تھی ۔

یہ احکامات ایک تو اس لیے تھے کہ انہیں رنگ رلیاں کرنے والوں کے جوش و خروش سے کسی قدر بیزاری تھی، اور دوسرا مقصد عوام کی حفاظت تھی کہ ایسے مواقع پر اکثر پرتشدد ہنگامے ہو جاتے تھے ۔ آڈری یہ بھی بتاتی ہیں کہ احکامات تو دیے گیے مگر ان پر کبھی عمل نہیں ہوا، یہاں تک کہ درباری اور شاہی خاندان کے افراد بھی دھوم دھام سے تہوار مناتے رہے ۔

پروپیگنڈہ مواد یہ تو بتاتا ہے کہ اورنگزیب نے بہت سارے لوگوں کو جبراً مسلمان بنایا تھا مگر یہ نہیں بتاتا کہ کچھ لوگوں نے مغلیہ سلسلہ مراتب میں ترقی کے لیے اسلام قبول کیا تو کچھ لوگوں نے دوسرے محرکات کی وجہ سے، اس میں بھی مقصود ترقی حاصل کرنا ہی تھا ۔ آڈری کے مطابق تبدیلی مذہب کرنے والے اورنگزیب کی تنقیدی نگاہ میں آجاتے تھے، اپنے ایک خط میں ایسے ہی دو لوگوں کی، جنہوں نے اپنے قبول اسلام کی فخریہ تشہیر کی تھی، اورنگزیب نے مذمت کی تھی اور انہیں قید کرنے کا حگم دیا تھا ۔

آڈری لکھتی ہیں ؛

مجموعی طور پر اورنگزیب کے ہندوستان میں نسبتاً ہندوؤں کی قلیل تعداد نے اسلام قبول کیا تھا ۔

یہ بات بھی سامنے نہیں لائی جاتی کہ اورنگزیب اپنی مسلمان رعایا کے تئیں اقدامی کارروائی میں پہل کیا کرتے تھے ۔ انہوں نے احمد سرہندی نقشبندی کی کچھ تحریروں پر پابندی عائد کر دی تھی، مہدویہ فرقے کے چند درجن افراد قتل کر دیے تھے، اپنی شہزادگی میں شیعہ اور اسماعیلی بوہرہ فرقے کو نشانہ بنایا تھا، بلکہ اسماعیلی بوہرہ فرقہ کے لیے یہ حکم تھا کہ وہ اپنی مساجد میں سنّی طریقہ سے نماز پڑھیں ۔

لیکن یہی اورنگزیب ہندو مذہبی برادری کے نگراں تھے ۔ آڈری ٹروشکی بتاتی ہیں کہ اورنگزیب کا یہ ماننا تھا کہ اسلامی تعلیمات اور مغلیہ روایات نے انہیں ہندو مندروں، زیارت گاہوں، اور مقدس شخصیتوں کی حفاظت کے لیے پابند کیا تھا ۔ ان پر ہندو مندروں کی مسماری کا الزام لگتا ہے لیکن آڈری لکھتی ہیں؛

 اورنگزیب کی سلطنت میں زمین کا پورا خطہ ہندو اور جین مندروں سے مزین تھا ۔ یہ مذہبی ادارے مغل حکومت سے محافظت کا استحقاق رکھتے تھے، اور اورنگزیب عموماً ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں رہتے تھے ۔ علیٰ ہذا القیاس، جب کبھی کوئی خاص مندر یا اس سے منسلک لوگ شاہی سلطنت کے مفاد کے خلاف کسی عمل میں شامل ہوتے، تب مغل نقطہ نظر کے تحت خیر سگالی کا یہ عمل منسوخ بھی کر دیا جاتا تھا ۔اسی اسکیم پر عمل پیرا ہوتے ہوئے شہنشاہ اورنگزیب نے کچھ مخصوص مندروں کے انہدام اور تقدس کی پامالی کا حکم صادر کیا تھا ۔

بنارس کے وشوناتھ مندر اور متھرا کے کیشو دیوا مندر کے انہدام کا الزام اورنگزیب پر لگتا ہے،  مگر یہ بات سامنے نہیں لائی جاتی کہ یہ سیاسی فیصلے تھے، اور مقصد کچھ لوگوں کو  ان کی سیاسی غلطیوں کی سزا دینا تھا ۔ ورنہ اورنگزیب  کے دور میں کثیر پیمانے پر مندر بنے، جاگیریں دی گئیں اور ان کی حفاظت کی گئی ۔ بنارس کے پنڈتوں کی حفاظت کا فرمان تک جاری کیا گیا ۔

شہنشاہ کے امراء میں 50 فیصد ہندو تھے جن میں مراٹھے سب سے زیادہ تھے ۔ مگر ایک سچ یہ بھی ہے کہ چھترپتی شیواجی مہاراج، جو مراٹھا تھے، آخر دم تک ان کے لیے سر درد بنے رہے ۔ اس کتاب میں اورنگزیب اور شیواجی کی ملاقات کا دلچسپ احوال شامل ہے، نیز شیواجی مہاراج کے تعلق سے دیگر اہم باتیں بھی ہیں ۔

یہ کہا جاتا ہے کہ اورنگزیب جزیہ لیتے تھے لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ برہمن پروہتوں، راجپوت اور مراٹھا درباریوں، اور ہندو منصب داروں سے جزیہ نہیں لیا جاتا تھا، جین، سکھ، اور دیگر غیر مسلم عوام پر جزیہ کی ادائیگی فرض تھی، لیکن ساتھ ہی ساتھ انہیں کچھ مخصوص حقوقِ فراہم کیے گئے تھے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا تھا ۔

آڈری بتاتی ہیں کہ علماء کی ایک بڑی تعداد کو بادشاہ کی مذہبی سنجیدگی پر شبہہ تھا، ان ہی علماء کو، اور جو مذہب تبدیل کرکے مسلمان بنے تھے انہیں، جزیہ کی وصولی میں لگایا گیا تھا ، اس طرح علماء کے حلقہ میں اورنگزیب کی ساکھ کچھ بحال ہوئی تھی، مگر بہت سے مسلم امراء اور شاہی خاندان کے افراد جیسے اورنگزیب کی بہن جہاں آراء جزیہ کے ناقص انتظامی فیصلے کا مذاق اڑاتے تھے ۔

یہی نہیں جزیہ وصولی کے بعد بڑا حصہ محصلین ہڑپ لیتےتھے ، بادشاہ اس چوری کو روکنے میں بے بس تھے ۔ اورنگزیب نے ہندو مذہبی کتابوں کے تراجم پر بھی روک نہیں لگائی،بلکہ رامائن کے فارسی تراجم تحفتاً قبول کیے ۔ اورنگزیب کے دربار میں اخبار بھی تھا، جی ہاں انہیں اپنی حکومت کے ہر کونے کی خبر پڑھ کر سنائی جاتی تھی ۔

اورنگزیب کے ذریعے اپنے بھائیوں کو قتل کرنے کے واقعات پر آج سخت ردعمل ظاہر کیا جاتا ہے، لیکن بقول آڈری مغلوں میں سیاسی طاقت کے حصول پر خاندان کے تمام مردوں کا دعویٰ ہوتا تھا ، اکبر بادشاہ نے قانونی حق داروں کو کم کر کے اسے صرف بیٹوں تک محدود کر دیا تھا لہٰذا حکومت کے حصول کے لیے اورنگزیب نے اپنے بھائیوں کے ساتھ جو کچھ کیا وہی کارروائیاں ان کے بھائی بھی موقع پاتے تو اورنگزیب کے ساتھ کرتے ۔

لیکن اورنگزیب کے ذریعے والد شہنشاہ شاہجہاں کو بے دخل اور قید کرنا ایک قابل نفرت عمل سمجھا جاتا تھا اور مغل سلطنت کے قاضی القضاۃ نے اس پر برہمی جتائی تھی یہاں تک کہ انہیں برخاست کر دیا گیا تھا ۔ یہی نہیں بیرون ملک بھی ان کا یہ عمل ناپسندیدہ قرار پایا تھا اور شریف مکہ نے تو اورنگزیب کو ہندوستان کا جائز بادشاہ ماننے سے انکار کر دیا تھا ۔ اورنگزیب شریف مکہ کی رائے تبدیل کرانے کی اپنی خواہش سے کبھی باز نہیں آئے ۔

صفوی حکمراں شاہ سلیمان نے اس کی مذمت کی تھی ۔ اور سچ یہی ہے کہ اپنے والد سے برتاؤ میں غیر مصنفانہ رویے سے اورنگزیب کو کبھی بھی چھٹکارہ نہیں ملا ۔ کہا جاتا ہے کہ اورنگزیب نے موسیقی پر پابندی لگا دی تھی، لیکن سچ یہ ہے کہ انہوں نے کچھ مخصوص قسم کی موسیقی پر، وہ بھی صرف اپنے ایوان ہی  میں پابندی لگائی تھی ۔ اورنگزیب کے سب سے چھوٹے بیٹے کام بخش کی والدہ اودیپوری ایک مغنیہ تھیں جو علالت کے دنوں میں ان کے ساتھ رہیں ۔ ایک دلچسپ قصہ یہ بھی ہے کہ جوانی میں اورنگزیب کو ایک موسیقار اور رقاصہ ہیرا بائی سے عشق ہو گیا تھا، افوہ مشہور ہے کہ اس کے کہنے پر وہ شراب سے زندگی بھر اجتناب کے اپنے عہد کو توڑنے پر راضی ہو گیے تھے ۔

ایک دلچسپ بات آڈری بتاتی ہیں کہ اورنگزیب کو جب بھی لگا کہ ریاستی مفاد میں اسلامی اصولوں سے سمجھوتہ کیا جانا چاہیے،انہوں نے سمجھوتہ کیا،اسی لیے علماء دین بالخصوص قاضی سے ان کی پورے عہد حکومت میں نبھی نہیں، حالانکہ یہ بھی ایک رخ ہے کہ انہوں نے ’’ فتاویٰ عالمگیری‘‘ کو ترتیب دینے کے لیے بہت سارے قابل علمائے کرام کو معاوضہ بھی دیا ۔

اورنگزیب کی یہ تصویر، جو آڈری ٹروشکی نے دکھائی ہے ایک متشدد شہنشاہ کی نہیں ہے، لیکن قوم پرست ہندو نظریہ کی رو سے بابر اور اورنگزیب ظالم ہیں، سیکولر ذہن دانشوروں اور مؤرخین کی ایک اچھی خاصی تعداد بھی اورنگزیب کو متشدد مسلمان قرار دیتی ہے ۔

ملک کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب ’’ڈسکوری آف انڈیا ‘‘میں اورنگزیب کو ایک متعصب اور متشدد حد تک کٹّر مذہبی کہا اور مذمت کی ہے ۔ مؤرخ جادو ناتھ سرکار نے متعصب قرار دیا ہے ۔پاکستان میں تو ڈرامہ نگار شاہد ندیم نے یہ تک کہہ دیا ہے کہ اورنگزیب نے جب اپنے بھائی داراشکوہ پر فتح حاصل کی تو تقسیم کے بیج بودیے گیے تھے ۔

آڈری لکھتی ہیں کہ اورنگزیب بحیثیت ایک شر اور متعصب ہونے کے فرضی قصے کو بہت ہی کم تاریخی شہادتوں کی بنیاد پر پھیلایا گیا ۔ آج نتیجہ سامنے ہے، بی جے پی اور دیگر قوم پرست جماعتوں سے متفق نہ ہونے والے افراد بھی اورنگزیب کو شر قرار دیتے اور متعصب کہتے ہیں ۔ افسوس کہ اپنی وصیت کے مطابق خلد آباد میں کھلے آسمان تلے ایک معمولی سی قبر میں دفنائے گیے اورنگزیب تاریخ کا ایک ایسا زندہ تار بن گیے ہیں جس میں مسلسل برقی رو دوڑتی رہتی اور آگ کی چنگاریاں نکلتی رہتی ہیں ۔

ملک کی حالیہ سیاست ان کے نام کو مکمل مٹانے کے درپہ ہے، دہلی میں اسی لیے ان کے نام کی سڑک کو دوسرا نام دے دیا گیا ہے ۔ لیکن بقول آڈری اس طرح کی باتوں سے اورنگزیب کا نام مٹنے کی بجائے لوگوں کے ذہن پر مزید نقش ہو گیا ہے ۔ مسلمانوں کو اورنگزیب کی اولاد کہا جانے لگا ہے ، آڈری لکھتی ہیں کہ غالباً اورنگزیب اس بات سے مطمئن ہوتے کہ انہیں فراموش کر دیا گیا ہے لیکن  لوگ انہیں بھولنے کو تیار نہیں ہیں ۔ قصوروار بی جے پی اور سنگھ پریوار ہے جو بار بار ان کا نام لیتے رہتی ہے ۔

کتاب شاندار ہے، اس کا مطالعہ ضروری ہے ۔ مترجمین نے عمدہ ترجمہ اور ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس نے شاندار طباعت کی ہے ۔

یہ مضمون پہلی بار 29 نومبر 2020 کو شائع کیا گیا تھا۔