اپنی قید تنہائی کا ذکرکرتے ہوئے اس فلسطینی قیدی نے کہا کہ ان کے خیال میں قید تنہائی شخصیت مٹانے کے لیے بنائی گئی ہے۔ قید تنہائی میں وہ سیل میں رینگتے ہوئے کاکروچ اور دیگر کیڑے مکوڑوں سے باتیں کرتے تھے۔ خوف تھا کہ کہیں وہ بولنا ہی بھول نہ جائیں۔

نائل البرغوثی، فوٹو: افتخار گیلانی
ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔
ہر کرسی پر ترجمے کے ہیڈ سیٹ ترتیب سے رکھے تھے۔ دنیا بھر سے سفارت کار، دانشور، سیاسی و سماجی کارکن اور صحافی ہال میں موجود تھے۔
اس کانفرنس کے ایک سیشن میں جب نائل البرغوثی نے بولنا شروع کیا، تو چند لمحوں میں ہی اوپر جھلملاتے فانوس غیر متعلق محسوس ہونے لگے۔
چند ہی لمحوں میں ہال کسی عالیشان مقام کے بجائے ایک بند، بھاری اور دم گھونٹ دینے والی جگہ بن گیا، جیسے دیواروں نے دہائیوں کا دکھ اپنے اندر جذب کر لیا ہو۔میرے پیچھے سسکیوں کی آوازیں آنے لگیں۔
چند قطار پیچھے بیٹھی ایک عورت نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا، اس کے کندھے ہچکیاں لے رہے تھے۔ دروازے کے قریب بیٹھا ایک بوڑھا شخص بار بار اپنی آنکھیں پونچھ رہا تھا، شاید ان آنسوؤں پر خود حیران اور شرمندہ جو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
ہال کے پچھلے حصے سے دبی دبی چیخیں سنائی دے رہی تھیں۔یہ بے اختیار آوازیں جو اُس وقت نکلتی ہیں جب غم وقار سے پہلے سطح پر آ جاتا ہے۔کوئی ایک چہرہ بھی بے اثر نہ تھا۔
برغوثی بغیر کسی نوٹس کے بول رہے تھے۔ ان کی آواز بلند نہیں تھی۔ نہ کوئی ڈرامہ، نہ الزام، نہ فریاد تھی۔وہ انتہائی سکون اور وضاحت کے ساتھ اسرائیلی جیل میں ان کے گزرے پینتالیس برسوں کی دردناک کہانی سنا رہے تھے۔
چار دہائیو ں کی تاریکی کے بعد البرغوثی نے روشنی میں قدم رکھا تھا۔جب وہ خاموش ہوئے تو پورا ہال ایک جسم بن کر کھڑا ہو گیا۔ فوراً تالیاں نہیں بجیں۔ پہلے گہری اور باوقار خاموشی آئی۔
پھر تالیوں کی آواز، ابتدا میں ہچکچاہٹ کے ساتھ، پھر بڑھتی ہوئی، پھیلتی ہوئی، پورے ہال کو بھر دینے والی جوش سے بھری آوازیں ابھریں۔ لوگ دیر تک کھڑے رہے۔
برغوثی کے اسٹیج سے نیچے اترتے ہی لوگ ان کو چھو کر جیسے یقین کر رہے تھے کہ کیا یہ شخص واقعی گوشت و پوست کا انسان ہے، جو اسرائیل کی جیل سے زندہ باہر نکل آیا ہے۔
ہال کے باہر صحافیوں کا ہجوم ان کی طرف مائک و کیمرے لےکر لپک رہے تھے۔ان پر عربی، ترکی اور انگریزی میں سوالوں کی بوچھار ہو رہی تھی۔
وہ سب کے جواب تحمل سے دے رہے تھے، نہ جھنجھلاہٹ، نہ عجلت، جیسے وقت، جس نے کبھی انہیں بے رحمی سے کچلا تھا، اب ان پر حکم نہیں رکھتا تھا۔
جب ہجوم کچھ کم ہوا تو میں نے آگے بڑھ کر اپنا تعارف کرایا۔ انہوں نے پوری توجہ سے سنا، ان کی نگاہ ٹھہری ہوئی تھی، ویسی ہی جیسی قیدی سیکھ لیتے ہیں۔
میں نے اپنے جیل کے چند واقعات بتائے۔ ان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ یوں ہماری گفتگو شروع ہوئی۔
قدآور اور دبلے پتلے نائل البرغوثی کی عمر 67 برس ہے۔ ان کا جسم محرومی کی طویل چھاپ اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ بال مکمل سفید ہو چکے ہیں، چہرے پر گہری لکیریں ہیں، جو صرف عمر کی نہیں بلکہ دہائیوں کی ضبط اور برداشت کی گواہ ہیں۔
ان کی آنکھیں تیز اور چوکنی ہیں، ان میں ایک پُرسکون شدت بے چین کر دیتی ہے۔ ان کا لباس سادہ تھا، جسم پر ڈھیلا لٹکتا ہوا، ایک ایسے وجود پر جو برسوں کی قید سے کمزور ہو چکا ہو۔ چہرہ لکیروں سے بھرا تھا۔ یہ لکیریں صرف عمر کی نہیں تھیں بلکہ برداشت، ضبط اور طویل خاموشیوں کی علامت تھیں۔
میں نے جب ان سے زندان میں گزری زندگی کے بار ے میں پوچھا،تو انہوں نے کہا ؛
اگر کوئی پینتالیس سال کی قید کے بارے میں بات کرنا چاہے تو ایک دو گھنٹے کافی نہیں۔ کتابیں بھی کافی نہیں ہوں گی۔
اسٹیج سے جب ان کا تعارف کرایا گیا تھا، تو ا ن کو فلسطینی قیدیوں کا ڈین یا عمید بتایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس لقب سے بے چین ہیں جو اکثر ان کے نام کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔مجھے اس پر فخر نہیں،انہوں نے مضبوط لہجے میں کہا۔
یہ مجھے عزت نہیں دیتا۔ کسی فلسطینی کو چند دن بھی جیل میں نہیں ہونا چاہیے تھا۔ پینتالیس سال؟ یہ لقب خود ایک الزام ہے۔
تھوڑی دیر رک کر انہوں نے کہا؛
میری پہچان سب سے پرانا قیدی نہیں ،میں ایک فلسطینی مجاہد ہوں۔ایک ایسا انسان جو اپنے حق کے لیے لڑا ہے۔
برغوثی 23 اکتوبر 1957 کو مغربی کنارہ کے فلسطینی شہر رملہ کے شمال میں واقع گاؤں کوبر میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان زراعت کے پیشے سے تعلق رکھتا تھا۔
زمین اور زیتون کے درختوں کے ساتھ ان کے خاندان کا گہرا تعلق تھا۔ جو روزی بھی تھے اور شناخت بھی۔ مزاحمت ان کے خاندانی ورثے میں شامل تھی۔ ان کے والد کو برطانوی دورِ انتداب میں حراست میں لیا گیا تھا۔
ایک چچا 1936 کی عظیم عرب مزاحمت میں مارے گئے۔وہ دس برس کے تھے جب جون 1967 میں اسرائیلی افواج نے مغربی کنارے پر قبضہ کیا۔
انہیں یاد ہے کہ کیسے فوجی کوبر میں داخل ہوئے۔ وہ دھماکے کر رہے تھے اور بچے ان پر پتھر پھینک رہے تھے۔ اس دن ان کے اندر کچھ بس گیا، جو پھر کبھی نہیں نکلا۔
جوانی میں انہوں نے اپنے بڑے بھائی عمر اور کزن فخری کے ساتھ مزاحمتی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ پہلی گرفتاری دسمبر 1977 میں ہوئی۔ تین ماہ قید کے بعد رہائی ملی۔
وہ گھر لوٹے، ہائی اسکول کے امتحانات کی تیاری کر رہے تھے کہ اسرائیلی افواج نے انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا۔اس بار جیل کا دروازہ دہائیوں کے لیے بند ہو گیا۔1978 میں برغوثی پر ایک اسرائیلی افسر کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا اور ان کو سرسری سماعت کے بعد عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ وہ بہ مشکل بیس برس کے تھے۔
میں لڑکا تھا جب جیل میں داخل ہوا، اپنے چہرہ پر ہاتھ پھیر کر انہوں نے کہا۔اب بوڑھا ہوگیا ہوں۔
اگلے ساڑھے چار عشروں میں انہیں تقریباً ہر اسرائیلی جیل میں منتقل کیا گیا۔
گلبوع، بیرشیبہ کے تمام حصے، رملہ، نفحہ، ریمون، اشکلون، نقب، یہ سبھی جیلیں میرا ٹھکانہ رہ چکی ہیں۔ اسرائیلی جبر دکھانے اور اذیتیں دینے میں تخلیق کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایک جبر ختم تو دوسرا طریقہ شروع۔
گیارہ برس انہوں نے ایک ہی جیل میں گزارے، جن میں سے آٹھ برس ایک ہی سیل کی دیوراوں کو تکتے ہوئے صرف ہوئے۔
نو قیدیوں کے لیے بنے سیل میں پندرہ افراد تھے۔ٹھنڈی کنکریٹ کی فرش پر جسم جسم سے جڑے ہوئے ہوتے تھے۔ نہ پھیلنے کی جگہ، نہ رازداری۔ جیل، ان کے مطابق، صرف قید کی جگہ نہیں تھی۔
یہ ایک ایسا نظام تھا جو انسانی روح کو آہستہ آہستہ، منصوبہ بند طریقے سے تھکانے کے لیے بنایا گیا تھا، بغیر ایسے نشانات چھوڑے جو باہر کی دنیا کو الرٹ کردیں۔
اشکلون جیل ان کی یاد میں سب سے زیادہ وحشیانہ جگہوں میں سے ایک کے طور پر نقش ہے۔ وہاں تشدد کوئی استثنا نہیں بلکہ معمول تھا۔
جب قیدی بنیادی حقوق کے لیے بھوک ہڑتال کرتے، تو جواب میں زبردستی خوراک دی جاتی۔ اس کو بھی اذیت کا ذریعہ بنایا جاتا تھا؛
ربڑ کی استعمال شدہ نالیاں منہ یا ناک میں زبردستی ڈالی جاتی تھیں، وہ نالی اتنی نیچے دھکیلتے کہ خون بہنے لگتا۔پھر انتہائی گرم دودھ، نمک ملا کر، پیٹ میں انڈیل دیتے تھے۔ قیدیوں کو باندھ دیا جاتا تھا تاکہ حرکت سے محروم ہوجانے پر وہ مزاحمت نہ کرسکیں۔ ایک قیدی کے منہ سے نالی نکالی جاتی اور دوسرے کے منہ میں ڈال دی جاتی تھی۔ اس طرح کچھ لوگوں کے پھیپھڑے بیکار ہوگئے، کیونکہ دودھ ان میں چلا گیا تھا۔
برغوثی جب یہ بیان کر رہے تھے، تو میں نے دیکھا کہ ان کی آنکھیں بند تھیں۔ شاید ا ن کا ذہن دوبارہ جیل میں پہنچ گیا تھا۔ وہ بتارہے تھے؛
مار پیٹ روز روز کی غذا تھی۔ نقاب پوش محافظ سیلوں پر دھاوا بولتے، ڈنڈوں، بوٹوں اور مکوں سے حملہ کرتے۔ بند جگہوں میں آنسو گیس چھوڑی جاتی تھی۔ سٹن گرنیڈ پھٹتے۔ قیدیوں پر خوفناک کتے چھوڑے جاتے تھے، جن کو ایسی ہی تربیت دی جاتی تھی۔“ اس کے ساتھ انہوں نے اپنی آستینیں اوپر کرکے بازو دکھائے، جن پر ان گنت نشانات پڑ ے ہوئے تھے۔ انکے بازو کو بھنبھوڑا گیا تھا۔
کئی قیدی تشدد میں مارے گئے۔ جوبچ گئے،وہ میری طرح مستقل زخموں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ کئی قیدی ٹوٹی پسلیوں، خراب اعضاء اور دائمی درد کے ساتھ پس زندان ہیں۔
اسرائیلی جیلوں میں کھانے کے نظم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا؛
کھانا بس اتنا دیا جا تا تھا کہ ان پرقیدیوں کو بھوک سے مارنے کا الزام نہ آئے۔ چائے کے کپ سے بھی چھوٹے برتن میں پتلا سا سوپ۔ نہ پھل، نہ گوشت۔ کیلوریز اس طرح ناپی جاتیں کہ قیدی بس زندہ رہیں۔یہ پیسہ بچانے کے لیے نہیں بلکہ کنٹرول کے لیے تھا۔
برغوثی کا وزن بیس کلو سے زیادہ کم ہو گیا تھا۔ دوسروں کا اس سے کہیں زیادہ، بعض کا ستر کلو تک وزن کم ہوگیا۔
دانتوں کے درد کا علاج ہی نہیں کیا جاتا۔ قیدی ہفتوں سوجھے چہروں کے ساتھ زندگی گذارتے تھے، نہ سو سکتے، نہ کھا سکتے، نہ سوچ سکتے تھے۔ کسی کو درد کی ایک گولی تک نہیں ملتی تھی۔
انہوں نے کہا؛
سوچیں، کسی کے ساتھ ایک کمرے میں ہفتوں رہنا، جب وہ ناقابلِ برداشت درد کی حالت میں ہو اور آپ کچھ نہ کر سکنے کی پوزیشن میں ہوں۔ بے بسی کی ایسی انتہا حالت میں بس مرنے کی ہی دعا کی جاسکتی ہے۔
اس تشدد کے خلاف اور حقوق کی آواز بلند کرنے جیسے اہل خانہ سے ملاقاتیں، قید تنہائی کا خاتمہ، بچے یا ماں سے ملاقات منوانے کے لیے قیدیوں کے پاس بس بھوک ہڑتاک کے سوا کوئی اور ہتھیار نہیں ہوتا تھا۔
اگر میں اپنی تمام بھوک ہڑتالیں گنوں،تو یہ تقریباً دو سال بغیر کھانے کے بنتی ہیں یعنی اس کا دورانیہ سات سو تیس دن کا ہے۔
جب ایک قیدی کو تنہائی میں ڈالا جاتا، تو دوسرے یکجہتی میں بھوک ہڑتال کرتے۔
برغوثی نے کہا کہ وہ ہمارے اندر کی انسانیت مارنا چاہتے تھے۔ہم نے بھوک بانٹ کر مزاحمت کی۔
اپنی قید تنہائی کا ذکرکرتے ہوئے اس فلسطینی قیدی نے کہا کہ ان کے خیال میں قید تنہائی شخصیت مٹانے کے لیے بنائی گئی ہے۔ قید تنہائی میں وہ سیل میں رینگتے ہوئے کاکروچ اور دیگر کیڑے مکوڑو ں سے باتیں کرتے تھے۔ خوف تھا کہ کہیں وہ بولنا ہی بھول نہ جائیں؛
مگر اس دوران میں نے دیکھا کہ اگر ایک کاکروچ کو نقصان پہنچتا تھا، تو دیگر اس کی مدد کرنے پہنچ جاتے تھے۔ اس کو دیوار پر چڑھنے میں مدد کرتے تھے۔ ایک فلسفی کے انداز میں برغوثی نے سوال کیا کہ انسان دیگر انسانوں کی مدد کیوں نہیں کرپاتا ہے؟
اپنے برادر اکبر عمر کے ساتھ رشتہ ان کی جیل کی زندگی کا بڑا حصہ رہا۔ عمر چار سال بڑے تھے، اور وہ بھی مزاحمت کے علمبردار تھے۔ 1985 میں جب قیدیوں کے تبادلے ہونے والے تھے، تو نائل کا نام فہرست میں تھا۔
“تین ماہ پہلے اسرائیلی حکام نے مجھے بتایا کہ میرا نام رہا ہونے والے فلسطینیوں میں شامل ہے، تو میں نے کہا کہ اگر سب کو رہا کیا جاتا ہے، تو ہی میں جیل سے باہر نکلوں گا۔ اگر صرف لسٹ میں شامل قیدیوں کی ہی رہائی ہونی ہے، تو میں اپنی جگہ عمر کو شامل کروانا چاہتا ہوں۔“
عمر رہا ہو گئے۔ نائل وہیں رہے۔بعد میں انتفاضہ کے دوران عمر کو دوبارہ قیدی بنایا گیا۔ بہت سے رہا شدہ قیدی دوبارہ واپس جیلوں کی زینت بن گئے۔
برغوثی نے والدین جیل میں رہتے ہوئے کھو دیے۔ انہیں الوداع کہنے کی اجازت نہیں ملی۔2004 میں قیدیوں نے انیس دن کی بھوک ہڑتال کی۔ ان کے والد باہر یکجہتی کے مظاہروں میں شامل ہوئے۔کچھ ہی عرصے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ماں کی موت بھی اسی طرح آئی۔
قیدیوں کے لیے فلسطینی حکام نے ایک ایف ایم ریڈیو اسٹیشن قائم کیا تھا۔ قیدی اس ایف ایم کے پروگراموں کو چھوٹے ٹرانسٹروں پر سنتے ہیں۔ اس پر رات گیارہ بجکر تین منٹ پر ان کی ماں کی آواز سنائی دی۔ اس نے کہا؛
”عزت کا گھر دولت کے گھر سے بہتر ہے۔“ پھر اسی رات دو بجے ان کا انتقال ہوگیا۔“دنیا دھند بن گئی،”انہوں نے کہا۔ ”والدین کو کھونا زندگی کا ایڈریس کھو دینے جیسا ہے۔میں اندر سے وہ ٹوٹ گیا تھا۔ مگر باہر سے خود کو سنبھالے رکھا۔“ میں اپنی کمزوری جوان قیدیوں پر ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔
اسی قید کے دوران برغوثی نے ایمان نافی سے شادی کی، جو خود ایک سابق قیدی رہ چکی تھی۔ یہ بھی مزاحمت کی ایک صورت تھی۔
ان کے درمیان کبھی ازدواجی تعلقات قائم نہیں ہوسکے۔ ایمان ان کو خطوط، تصویریں اور پیغامات بھیجتی تھی۔
میری بیوی مجھے ہر روز فلسطین کے گلی کوچوں کی تصویریں بھیجتی تھیں، تاکہ میں جڑا رہوں۔
ان کے نزدیک محبت جیل میں بقا ہے۔جیل میں قیدی کے پاس آیا خط چھوٹی چیز نہیں ہوتی ہے۔

نائل البرغوثی، فوٹو: افتخار گیلانی
انہوں نے درد کے ساتھ مرحوم فلسطینی ادیب ولید دقہ کا ذکر کیا، جنہیں اسرائیلی قید میں اپنی بیوی یا بیٹی کو گلے لگانے کا حق نہ ملا۔ہمیں جس چیز نے سنبھالا وہ تھی کہ باہر کوئی ہم سے محبت کرتا ہے اور ہمارے دکھوں کا ساتھی ہے۔ برغوثی نے کہا۔ ”ہمیں رومیو اور جولیٹ کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس ایسی ہزاروں کہانیاں ہیں۔“
برغوثی جب نو عمری میں جیل میں چلے گئے تو تعلیم کا سلسلہ چھوٹ گیا تھا۔مگر جب 2002میں فلسطینی لیڈر مروان برغوثی کو پابند سلاسل کرکے عمر قید کی سزا سنائی گئی، تو انہوں نے جیل میں بند دیگر فلسطینوں کو مطالعہ کی ترغیب دی۔
اس کے نتیجے میں نائل برغوثی بھی خاصے وسیع المطالعہ ہیں۔ وہ عربی کے علاوہ عبرانی اور انگریزی روانی سے بولتے ہیں، اور عالمی تاریخ سے واقف ہیں۔
ہماری گفتگو میں انہوں نے برصغیر کی تاریخ کا ذکر کیا۔انہوں نے مہاتما گاندھی، محمد علی جناح، جواہر لعل نہرو، ابواکلام آزاد، مولانا محمد علی جوہر کو پڑھا ہے۔
حتیٰ کہ کشمیر کا جب ذکر آیا تو اس کی تاریخ کے ساتھ انہوں نے لیڈران جیسے شیخ عبداللہ اور سید علی شاہ گیلانی کا بھی ذکر کیا۔ جب میں نے پوچھا کہ یہ وسعت کیسے حاصل ہوئی، تو وہ مسکرائے۔”جیل نے ہمیں پڑھنے دیا،“ انہوں نے کہا۔
وہ اس کے لیے مروان برغوثی کو کریڈٹ دیتے ہیں کہ انہوں نے فلسطینی قیدیوں کو تعلیم کی طرف راغب کیا۔ ہمیں معلوم ہے کہ ہماری تعلیم معاشرے کو فائدہ نہیں دے سکے گی کیونکہ ہماری قسمت میں تو جیل میں ہی مر جانا لکھا ہے۔ مگر یہ یقین ہے کہ ہم اللہ کے پاس جاہل نہیں، باخبر ہو کر جائیں گے۔“
برغوثی کو فروری 2025 میں غزہ جنگ بندی سے منسلک قیدی تبادلے کے تحت رہا کردیا گیا۔
مگر جب فہرست میں ان کا نام آیا تو اسرائیل نے شرط رکھی کہ ان کو فلسطینی علاقوں میں رہنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ان کو جلا وطن کیا جائیگا۔“ ابتدا میں جب جیل میں ان کو بتایا گیا کہ رہا ہونے کے فوراً بعد ان کو مصر بھیجا جائیگا، تو انہوں نے رہا ہونے سے منع کر دیا۔
انہوں نے کہا۔ ”قید جلاوطنی سے کم تلخ ہے۔“ مگر ثالثوں کے دباؤمیں انہوں نے رہائی قبل کی، کیونکہ خدشہ تھا کہ اگر مذاکرات ٹوٹ گئے تو غزہ کی امداد یا دوسرے قیدیوں کی رہائی بھی متاثر ہوگی۔”یہ موت کے پروانے جیسا تھا، “انہوں نے کہا۔
انہیں اپنی زمین، اپنے گھر، اپنے زیتون کے درختوں سے جدا کر کے قاہرہ بھیج دیا گیا۔ دہائیوں کے تشدد سے تھکا ہوا جسم کئی بیماریوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے اب وہ ترکیہ میں علاج کرا رہے ہیں۔
دائمی درد، چوٹوں اور ان بیماریوں کے ساتھ جو جیل کی دیواروں کے اندر خاموشی سے جمع ہوتی رہیں، اب ان کوپریشان کر رہی ہیں، پھر بھی ان کا یقین قائم ہے۔وہ بتا رہے تھے کہ ان کی جدوجہد ختم نہیں ہوئی ہے اور وہ اب بھی مزاحمت کر رہے ہیں۔
ان سے بات چیت کرتے ہوئے وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چل سکا۔ کئی لوگ اردگرد جمع ہوگئے تھے جو ان کا ہاتھ چھونا چاہتے تھے۔نائل البرغوثی پینتالیس برس بعد جیل سے باہر آئے۔ مگر جیل، اس کی تاریکی، اس کی گواہی اور اس کے بے جواب سوال، سب ان کے ساتھ ہی باہر آئے۔وہ اقبال کے اس شعر کی ایک عملی تفسیر معلوم ہو رہے تھے؛
یقین محکم، عمل پیہم،محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں