کرسمس سے ایک دن قبل چھتیس گڑھ کے معروف میگنیٹو مال میں توڑ پھوڑ کرنے والے بجرنگ دل کے چھ کارکنوں کو ضمانت مل گئی ہے۔ جیل سے رہائی کے بعد دائیں بازو کی تنظیم نے ان ملزمان کا استقبال ہارپہنا کرکیا اور ‘رگھوپتی راگھو راجہ رام’ کے نعرے لگائے۔

بجرنگ دل کے کارکنان۔ (علامتی تصویر: سوشل میڈیا)
نئی دہلی: چھتیس گڑھ کی راجدھانی رائے پور میں بجرنگ دل کے کارکنوں نے اپنے ان چھ ارکان کا ‘ہیرو کی طرح استقبال’ کیا، جنہیں شہر کے میگنیٹو مال میں کرسمس کی سجاوٹ میں توڑ پھوڑ کرنےکے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ضمانت ملنے کے بعد یہ چھ لوگ جمعرات (1 جنوری) کو رائے پور کی جیل سے باہر آئے۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، جیل سے رہائی کے بعد ان کا استقبال ہارپہنا کر کیا گیا اور ‘رگھوپتی راگھو راجہ رام’ کے نعرے لگائے گئے۔ اس کے بعد بجرنگ دل کے کارکنوں نے جلوس نکالا اور ملزموں کو کندھوں پرگھمایا۔
بجرنگ دل کے ریاستی کنوینر رشی مشرا نے اخبار کو بتایا، ‘ان کے خلاف نعرے لگانے میں کیا غلط ہے؟ یہ پورا معاملہ چھتیس گڑھ میں ان کی جانب سے کیے جا رہےتبدیلی مذہب سے متعلق ہے۔ تمام (دائیں بازو کی) تنظیموں نے بند کی کال دینے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن ایک سازش کے تحت ہمارے کارکنوں کو جیل بھیج دیا گیا ہے۔ اس لیےاس معاملے پر نعرے لگائے جائیں گے۔’
اس سے پہلے 29 دسمبر کو رائے پور کی ایک مجسٹریٹ عدالت نے ملزم کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا، لیکن بعد میں سیشن عدالت نے ضمانت دے دی۔
چھتیس گڑھ میں 24 دسمبر کو تبدیلی مذہب کے خلاف دائیں بازو کے گروپوں کی طرف سے بلائے گئے بند کے دوران لاٹھی ڈنڈوں سے لیس ایک ہجوم رائے پور کے مشہور میگنیٹو مال میں داخل ہوگیا تھا۔ اس ہجوم نے وہاں لگی کرسمس کی سجاوٹ میں توڑ پھوڑ کی تھی۔
مال کے سیکورٹی گارڈز نے ہجوم کو روکنے کی کوشش کی، لیکن وہ انہیں قابو نہ کر سکے۔
اس کے بعد تیلی باندھا پولیس اسٹیشن میں 30-40 نامعلوم افراد کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات 331(3)، 324(2)، 115(2)، 191(2) اور 190 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔ یہ دفعات تجاوزات (دراندازی)، املاک کو جان بوجھ کر تباہ کرنا، نقصان پہنچانا، فساد اور غیر قانونی اجتماع سے متعلق ہیں۔
تیلی باندھا پولیس کی جانب سے 27 دسمبر کو چھ لوگوں کی گرفتاری اور ایک نابالغ کو حراست میں لینے کے بعد یہ چھ ملزمان پانچ دنوں تک جیل میں رہے۔
گرفتاریوں کے خلاف احتجاج میں بجرنگ دل کے تقریباً 300 کارکنان تیلی باندھا پولیس اسٹیشن کے باہر مین روڈپر دھرنا دے کر تقریباً نو گھنٹے تک ٹریفک کو بلاک کیا۔ اس واقعہ کے سلسلے میں کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔