جموں و کشمیر: میر واعظ کی پارٹی پر پابندی، مقامی جماعتوں نے کہا – اختلاف رائے کو دبایا جا رہا ہے

مرکزی وزارت داخلہ نے یو اے پی اے کے تحت حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق کی قیادت والی عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی لگا دی ہے۔ میرواعظ نے اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اے اے سی بات چیت اور مشاورت کے توسط سے تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کا مطالبہ کرتی ہے۔

مرکزی وزارت داخلہ نے یو اے پی اے کے تحت حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق کی قیادت والی عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی لگا دی ہے۔ میرواعظ نے اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اے اے سی بات چیت اور مشاورت کے توسط سے تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کا مطالبہ کرتی ہے۔

میر واعظ عمر فاروق 7 مارچ کو سری نگر میں رمضان کے مقدس مہینے کے پہلے جمعہ کو جامع مسجد میں خطبہ دیتےہوئے۔ (تصویر بہ شکریہ: پی ٹی آئی)

میر واعظ عمر فاروق 7 مارچ کو سری نگر میں رمضان کے مقدس مہینے کے پہلے جمعہ کو جامع مسجد میں خطبہ دیتےہوئے۔ (تصویر بہ شکریہ: پی ٹی آئی)

سری نگر: حکمراں نیشنل کانفرنس (این سی ) اور اپوزیشن پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی ٌی) نے منگل (11 مارچ) کو مرکز کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے، جس میں اعتدال پسند حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق کی  قیادت  والی عوامی ایکشن کمیٹی (اے اے سی) پر غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت پابندی عائد کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، مرکزی وزارت داخلہ نے ایک نوٹیفکیشن میں اے اے سی پر پابندی لگا دی ہے۔ اے اے سی ایک سماجی-سیاسی-مذہبی تنظیم ہے جس کا صدر دفتر سری نگر میں ہے اور اس کی بنیاد 1964 میں موئے مقدّس تحریک کے عروج پر رکھی گئی تھی۔ اس پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ 1967 (یو اے پی اے) کے دفعات کے تحت پانچ سال کے لیے پابندی لگا دی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ اے اے سی ‘غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہے جو ملک کی سالمیت، خودمختاری اور سلامتی کے لیے نقصاندہ ہیں۔’ اس میں یہ بھی کہا گیا کہ اے اے سی کے ارکان ‘جموں و کشمیر میں علیحدگی پسندی کو فروغ دینے کے لیے دہشت گردانہ  سرگرمیوں اور ہندوستان  مخالف پروپیگنڈے کی حمایت میں ملوث تھے۔’

وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اے اے سی کے لیڈران اور ممبران ‘جموں و کشمیر میں علیحدگی پسنداور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی حمایت سمیت غیر قانونی سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے میں ملوث تھے۔’

میرواعظ کے خلاف جموں و کشمیر پولیس کی طرف سے درج چار معاملےاور ایک نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی طرف سے درج کیس، جس میں میرواعظ کے سابق ترجمان آفتاب احمد شاہ کو ملزم نامزد کیا گیا ہے، نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت ‘کی مستحکم  رائے ہے کہ… یہ ضروری ہے کہ اے اے سی کو فوری اثر سے غیر قانونی ایسوسی ایشن قرار دیا جائے۔’

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ‘غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ 1967 (1967 کا 37) کی ذیلی دفعہ (1) کے ذریعے حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے مرکزی حکومت عوامی ایکشن کمیٹی (اے اے سی) کو ایک غیر قانونی تنظیم قرار دیتی ہے۔’

کارروائی کی مذمت

ایکس  پر ایک پوسٹ میں میرواعظ، جو کشمیر کے ایک ممتاز مذہبی رہنما بھی ہیں، نے حکومت کے اس اقدام کی مذمت کی اور کہا کہ اے اے سی’جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ مکمل طور پر غیر متشدد اور جمہوری طریقوں سے ان کی عزائم  اور حقوق کی وکالت میں کھڑا ہے اور بات چیت اور مشاورت کے ذریعے تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کا مطالبہ کرتا ہے۔’

میرواعظ نےاس  فیصلے کو 2019 میں جموں و کشمیر کی تقسیم اور اسے یونین کے زیر انتظام علاقے میں تبدیل کرنے کے معاملے سے جوڑتے ہوئے کہا کہ اے اے سی کے اراکین نے ‘جیلوں اور قید اور یہاں تک کہ شہادت بھی پائی ہے۔’

‘یہ اقدام  اگست 2019 سے جموں و کشمیر کے معاملے میں اپنائے جا رہے ڈرانے دھمکانے اور بے اختیار کرنے کی پالیسی کے تسلسل کا حصہ معلوم ہوتا ہے ۔ حق کی آواز کو طاقت کے ذریعے دبایا جا سکتا ہے، لیکن اسے خاموش نہیں کیا جا سکتا،’ انہوں نے کہا۔

مقامی جماعتوں نے بھی تنقید کی

میرواعظ کی حمایت میں سامنے آتے ہوئے جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ یہ فیصلہ ‘کشمیر کے سماجی اور سیاسی منظر نامے کے لیے ایک اور دھچکا ہے۔’

مفتی نےایکس  پر لکھا: ‘اختلافات کو دبانے سے تناؤ حل ہونے کے  بجائے اوربڑھے گا۔ جموں و کشمیر حکومت کو ایسی کارروائیوں کو روکنے کے لیے مداخلت کرنی چاہیے۔ جمہوریت کا مطلب صرف انتخابات نہیں بلکہ اس کا مطلب شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہے۔ کشمیرکی آواز کو دبانا بھلے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے سیاسی ایجنڈے کو پورا کر تا ہو، لیکن یہ  آئین کو کمزور کرتا ہے، جو ان حقوق کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ مرکزی حکومت کو اپنے نقطہ نظر کا از سر نو جائزہ لینا چاہئے اور سخت ہتھکنڈوں سے دور رہنا چاہیے۔’

نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر علی محمد ساگر نے کہا کہ میرواعظ بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومت کی ’’آئرن فسٹ  پالیسی‘‘ کا ایک اور شکار بن گئے ہیں۔

انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ‘یہ جان کر بہت مایوسی ہوئی کہ اے اے سی (عوامی ایکشن کمیٹی) اور جے کے آئی ایم (جموں کشمیر اتحاد المسلمین) کو وزارت داخلہ نے یو اے پی اے کے تحت لایا ہے۔ میرواعظ خاندان امن، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی علامت رہا ہے اور اس نے جموں و کشمیر کو اپنی سیکولر ساکھ کو برقرار رکھنے میں مدد کی ہے۔ ایسے اقدامات سے جموں و کشمیر کے حالات میں بہتری نہیں آئے گی، ہندوستانی حکومت  کو علیحدگی کے بجائے مفاہمت کا راستہ اپنانا چاہیے…’

دریں اثنا، ایک دوسرے نوٹیفکیشن میں مرکزی وزارت داخلہ نے مسرور عباس انصاری کی زیر قیادت جموں و کشمیر اتحاد المسلمین (جے کے آئی ایم) پر بھی پانچ سال کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔

یہ تنظیم میر واعظ عمر فاروق کی سربراہی میں اعتدال پسند حریت کانفرنس کا حصہ رہی ہے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ جے کے آئی ایم کے ارکان ‘ملک کے آئینی اختیار اور آئینی نظام  کی عزت نہیں کرتے ہیں، ‘ملک دشمن اور تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہو کر جموں و کشمیر کی ہندوستان سے علیحدگی میں مدد کرتے ہیں؛ لوگوں میں عدم اطمینان کے بیج بوتے ہیں۔ لوگوں کو امن و امان کو غیر مستحکم کرنے پر اکساتے ہیں؛ جموں و کشمیر کو یونین آف انڈیا سے الگ کرنے کے لیے ہتھیاروں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں  اور حکومت کے خلاف نفرت کو فروغ دیتے ہیں ۔’

Next Article

کشمیری صحافی کا الزام – مظاہرہ کر رہے ڈاکٹروں نے کی بدسلوکی، میڈیا اداروں سے مداخلت کی اپیل

سری نگر کے ایک اسپتال کے باہر مظاہرہ کر رہے ڈاکٹروں نے کشمیر کی ایک خاتون صحافی اور چار دیگر صحافیوں کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی کی تھی۔ اس کے بعد متاثرہ صحافی صوفی ہدایت نے پی سی آئی، ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا سے جموں و کشمیر حکومت کے سامنے اس معاملے کو اٹھانے اور ملزم ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے۔

سری نگر کے ایس ایم ایچ ایس اسپتال میں  ڈاکٹروں کے درمیان صوفی ہدایت۔  (تصویر: سوشل میڈیا ویڈیو کا اسکرین شاٹ)

سری نگر: کشمیر کی ایک خاتون صحافی نے جمعرات (24 جولائی) کو پریس کونسل آف انڈیا (پی سی آئی) سمیت دیگرمیڈیا گروپ سے رابطہ کیا۔ اس سےایک دن پہلے سری نگر کے ایک اسپتال کے باہر مظاہرہ کر رہےڈاکٹروں نے مبینہ طور پر ان کے ساتھ اور کم از کم چار دیگر صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی کی تھی۔

اس واقعے کو میڈیا کے حقوق کی خلاف ورزی اور کشمیر میں صحافیوں کے وقار اور تحفظ کی ‘براہ راست توہین’ قرار دیتے ہوئے سری نگر میں واقع ایک مقامی نیوز پورٹل کے ساتھ کام کرنے والی صحافی صوفی ہدایت نے پی سی آئی، ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا اور نیٹ ورک آف ویمن ان میڈیا سے جموں و کشمیر حکومت کے سامنے اس معاملے کو اٹھانے اور ملزم ڈاکٹر کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے۔

اپنے خط میں انہوں نے لکھا،’ڈیوٹی پر ایک صحافی کے طور پر اپنی شناخت بتانےکے باوجود، میرے ساتھ معاندانہ اور جارحانہ سلوک کیا گیا، پریس کی آزادی یا میرے تحفظ کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا۔ اس سے بھی زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ یہ حملہ صنفی اور ٹارگٹیڈ لگ رہاتھا۔ نہ صرف میرے کام میں رکاوٹ  پیدا کی گئی گیا بلکہ سب کے سامنے میری توہین کی گئی اور مجھے دھمکایا بھی گیا۔’

کشمیر کے ایک سرکاری کالج سے ڈیجیٹل میڈیا کا کورس کر ری ہدایت نے پریس تنظیموں سے میڈیا اہلکاروں سے، خصوصی طور پر خواتین پر ایسے حملوں کی مذمت کرنے اور ایک آزادانہ تحقیقات کا حکم دینے کی گزارش کی۔

انہوں نے صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے – خاص طور پر ہائی اسٹیک کوریج کے دوران – اداروں کووسیع پیمانے پر توجہ مبذول کرانے کی اپیل کی۔

اپنے خط میں انہوں نے لکھا، ‘پریس ڈراور دھمکی کے سایے میں کام نہیں کر سکتا۔ میں کونسل سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ اس معاملے کو پوری سنجیدگی کے ساتھ لے اور اس بات کو یقینی بنانے میں مدد کرے کہ کوئی بھی صحافی خواہ وہ مرد ہو یا عورت، اپنے فرض کو انجام دیتے ہوئے اس طرح کے ناروا سلوک کا سامنا نہ کرے۔’

خط میں جن دیگر صحافیوں کا ذکر کیا گیا ہے ان کی شناخت فردوس قادری، منظور ڈار، جاوید پٹھان، رضوان حمید اور عارف کے طور پر کی گئی ہے، یہ سبھی مقامی اخبارات اور ڈیجیٹل میڈیا آؤٹ لیٹس کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

یہ واقعہ بدھ کو سری نگر کے شری مہاراجہ ہری سنگھ (ایس ایم ایچ ایس) اسپتال کے باہر پیش آیا، جہاں ڈاکٹروں کے ایک گروپ نے ایک مریض کے اٹینڈنٹ(تیماردار) کے ذریعہ اپنے ایک ساتھی پر حملے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ مذکورہ مریض کی گزشتہ رات اسپتال میں طبی غفلت کے الزامات کے درمیان موت ہوگئی تھی۔

حملہ سی سی ٹی وی کیمرے میں قید ہو گیا۔ فوٹیج میں، ملزم، عابد حسین بھٹ، جو سری نگر کا رہائشی ہے، مریضوں اور ان کے تیمارداروں سے بھرے ہسپتال کے وارڈ میں تیزی سے داخل ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

اس میں بھٹ، متوفی مریض کا رشتہ دار، سیدھے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال کے ایک ریزیڈنٹ ڈاکٹر ڈاکٹر شاہنواز کے پاس جاتا ہوا نظر آتا ہے، جو اتر پردیش سے تعلق رکھتے ہیں اور مبینہ طور پر جسمانی طور پر معذور ہیں۔ وہ ان کے بائیں گال پر زور سے تھپڑ مارتا ہے، جس سے ڈاکٹر زمین پر گر جاتے ہیں۔

بھٹ نے الزام لگایا کہ ڈاکٹر نے ان کے بہنوئی کا علاج اس مستعدی سےنہیں کیا جس مستعدی کی اس طرح کے معاملات میں ڈاکٹروں سے توقع کی جاتی ہے۔

بھٹ نے کہا، ‘میں نے ان سے دو تین بار دیکھنے کی درخواست کی۔ تاہم، انہوں نے صرف کچھ دوائیں لکھیں اور مجھے لانے کو کہا۔ میرے بہنوئی آکسیجن کے لیے درخواست کر رہے تھے کیونکہ وہ گھٹن محسوس کر رہے تھے، لیکن ڈاکٹر نے پرواہ نہیں کی۔ جب میں واپس آیا تو ان کی موت ہو چکی تھی۔

بدھ کے روز گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) سری نگر اور اس سے منسلک اسپتالوں کے ایس ایچ ایم ایس ڈاکٹروں، ٹرینی اور دیگر عملے کے ایک گروپ نے بھٹ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اسپتال کے احاطے کے باہر احتجاج کیا۔

دی وائر سے بات کرتے ہوئے ہدایت نے کہا کہ وہ احتجاج کی کوریج کر رہی تھیں اور اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھا رہی تھیں، اسی دوران احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کے ایک گروپ نے انہیں اسپتال کے باہر گھیر لیا اور انہیں وہاں سے جانے کو کہا۔

نئے قوانین کے تحت کام کی جگہ پر تعینات صحافیوں کے لیے طبی سہولیات تک رسائی محدود کردی گئی ہے تاہم یہ احتجاج ایس ایم ایچ ایس اسپتال کے لان میں ہورہا تھا۔

انہوں نے کہا، ‘میں نے انہیں بتایا کہ میں صرف اپنی ذمہ داری نبھا رہی ہوں، لیکن انہوں نے میرے کپڑے کھینچنے کی کوشش کی اور مجھے وہاں سے جانے پر مجبور کیا۔ ان میں سے ایک نے چیخ کر کہا کہ میڈیا کو یہاں سے چلا جانا چاہیے۔ انہوں نے ہمیں غیر پیشہ ور کہا اور مریضوں کو ہم سے بات کرنے سے بھی روکا۔’

ہدایت نے کہا کہ واقعے کے وقت ان کے پیچھے کھڑے ڈاکٹروں نے انہیں دھکا بھی دیا، جو کیمرے میں ریکارڈ نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا، ‘انہوں نے میرے ساتھ مار پیٹ کی، مجھے گالیاں دیں اور مجھے ہراساں کیا۔ اس واقعے نے مجھے ہلا کر رکھ دیا ہے۔’

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) سری نگر نے کہا کہ سری نگر پولیس نے بدھ کو ایک ایف آئی آر (نمبر 11/2025) درج کی ہے۔

پوسٹ میں کہا گیا، ‘پولیس معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔ مزید کارروائی کی جائے گی۔ جی ایم سی اور دیگر اسپتال مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے وقف پبلک پراپرٹی ہیں اور ہسپتالوں میں کام کرنے والا ہیلتھ عملہ مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے انتھک محنت کرتا ہے۔ ہم مریضوں اور اٹینڈنٹ سے صحت کے عملے کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔’

ڈاکٹروں کی جانب سے بدتمیزی کے الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب کشمیر کے سرکاری اسپتالوں میں مبینہ طبی لاپرواہی کی وجہ سے رواں ماہ کم از کم تین مریضوں کی موت ہوچکی ہے۔

پلواما سے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ایم ایل اے وحید پارا، جہاں تین میں سے دو اموات ہوئیں، نے ان اموات کے لیے حکومت کی ‘بدانتظامی’ اور ڈاکٹروں کی’غفلت’ کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

انہوں نے ایکس پر پوسٹ کیا، ‘ایک ہفتے کے اندر بدانتظامی اورڈاکٹروں کی لاپرواہی کی وجہ سے پلواما اسپتال میں دوسری موت ہوگئی ہے۔ یہ اسپتال جو کبھی جدید ترین سہولیات کا حامل تھا، اب غفلت، ناقص مشینری اور حکومت کی بے حسی کا شکار ہے۔’

مرکز کے زیر انتظام انتظامیہ اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت نے ان الزامات کا باضابطہ طور پر کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

(انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں ۔)

Next Article

اقلیتی طلبہ کے لیے نئی پریشانی: وزارت کو چاہیے اب پرانا انکم سرٹیفکیٹ

مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ پانے والے طلبہ کے مسائل ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ سرکاری محکمے نے اب ان طلبہ کے پرانے انکم سرٹیفکیٹ کی تصدیق کرنے کو کہا ہے۔ یہ دستاویز  پہلے کبھی نہیں مانگے گئے تھے،  لیکن اب مانگے جا رہے ہیں۔

پس منظر میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا گیٹ (تصویر: انکت راج/ دی وائر ) | سامنے این ایم ڈی ایف سی کی ہدایت ۔

نئی دہلی: مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ (ایم اے این ایف) کے اسکالروں کو ایک بار پھر انتظامی احکامات کی وجہ سے شدید تناؤ اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔

نیشنل مائنارٹی ڈیولپمنٹ اینڈ فنانس کارپوریشن (این ایم ڈی ایف سی)نے حال ہی میں تمام یونیورسٹیوں کو ایک نوٹس بھیجا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اس اسکالرشپ کو پانے والے موجودہ طلبہ کے’داخلے کے وقت جمع کرائے گئے انکم سرٹیفکیٹ’ کی تصدیق کی جائے اور ایک ہفتے کے اندر ان سرٹیفکیٹس کی کاپیاں جمع کرائی جائیں۔

ایسا نہ کرنے کی صورت میں، فیلو شپ کی اگلی قسط روکی جا سکتی ہے۔

اقلیتی امور کی وزارت کے دائرہ اختیار میں آنے والے’مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ’ کی نوڈل ایجنسی این ایم ڈی ایف سی ہی ہے ۔ اکتوبر 2022 سے یہی زیر التواء ادائیگیوں اور انتظامی معاملات کو دیکھتی ہے۔ پہلے یہ ذمہ داری یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے پاس تھی۔

بتا دیں کہ طلبہ کی طویل جدوجہد کے بعد 17 جولائی کو مرکزی وزارت اقلیتی امور نے مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ کو جاری کرنے کا اعلان کیا تھا جو کئی مہینوں سے زیر التوا تھا۔

نئی ہدایات کیا ہیں؟

گزشتہ21جولائی 2025 کو جاری کیے گئے ایک خط میں این ایم ڈی ایف سی نے یونیورسٹیوں سے کہا ہے کہ وزارت نے ہدایت کی ہے کہ مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ اسکیم کے تحت مستفید ہونے والوں کی شناخت اور ان کے دستاویزوں کی ٹھیک سے جانچ کو یقینی بنایا جائے۔

این ایم ڈی ایف سی کے مطابق، وزارت نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہا ہے کہ مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ، 2020 کی اپڈیٹیڈ گائیڈ لائن میں بیان کردہ آمدنی کے معیار کو طلبہ کے داخلے کے وقت اداروں کے ذریعہ فالو کیا گیا تھا یا نہیں۔

این ایم ڈی ایف سی نے ہر موجودہ ایم اے این ایف اسکالر کے انکم سرٹیفکیٹ کے بارے میں چار نکات پر مشتمل جانکاری طلب کی ہے؛

اسٹوڈنٹ کی آئی ڈی  کیا ہے؟

اسٹوڈنٹ کا نام کیا ہے؟

کیا داخلہ کے وقت اسکالر کی آمدنی کی اہلیت کی تصدیق کی گئی تھی؟

کیا اسکالر نے داخلہ کے وقت انکم سرٹیفکیٹ جمع کرایا تھا؟

یہ بھی واضح طور پر تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر مذکورہ بالا معلومات بشمول انکم سرٹیفکیٹ کی کاپی ایک ہفتے کے اندر فراہم نہ کی گئی تو متعلقہ اسکالروں کی فیلوشپ کی اگلی قسط جاری کرنے میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

طلبہ کیا کہتے ہیں؟

طلبہ کا خیال ہے کہ این ایم ڈی ایف سی کی ہدایت میں کئی خامیاں ہیں، مثلاً؛

داخلہ کے وقت اورایم اے این ایف کی تصدیق کے لیے جوائننگ فارم بھرنے کے دوران  نہ ہی این ایم ڈی ایف سی اور نہ ہی یونیورسٹیوں کے نوڈل افسروں نے طلبہ سے آمدنی کے سرٹیفکیٹ طلب کیے تھے۔ زیادہ تر یونیورسٹیوں نے صرف اقلیتی حیثیت کا سیلف ڈیکلریشن مانگا تھا۔

اب، جب سات ماہ سے فیلوشپ نہیں ملی ہے، این ایم ڈی ایف سی طلبہ سے ان کےداخلے کے وقت کا انکم سرٹیفکیٹ پیش کرنے کو کہہ رہا ہے۔ یہ مطالبہ غیر معمولی ہے۔ دستاویز کئی سال پرانے ہیں؛ انہیں حاصل کرنا نہ صرف دشوار ہے  بلکہ بعض اوقات محال بھی ہے۔

یہ نیا مطالبہ نہ صرف فیلوشپ میں تاخیر کا باعث بن رہا ہے بلکہ مستحق اسکالروں  کو ڈسکوالیفائی کیے جانے کا خطرہ بھی ہے۔

طلبہ پوچھ رہے ہیں کہ؛

داخلہ یا جوائننگ کے وقت انکم سرٹیفکیٹ کا مطالبہ اور تصدیق کیوں نہیں کی گئی؟

طلبہ اب اتنے کم وقت میں پچھلے سالوں کے انکم سرٹیفکیٹ کیسے لائیں؟

اگر یہ کوتاہی این ایم ڈی ایف سی، اقلیتی امور کی وزارت یا یونیورسٹی حکام کی طرف سے ہوئی ہے، تو اس کی سزا طلبہ کو کیوں دی جا رہی ہے؟

بند ہوچکی اسکیم کے لیے اب  جانچ پڑتال کیوں؟

مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ، جو 2009 میں شروع ہوئی تھی، حکومت ہند نے دسمبر 2022 میں بند کر دی تھی۔ لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں، اقلیتی امور کی وزارت نے کہا تھا؛


چونکہ مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ (ایم اے این ایف) اسکیم اعلیٰ تعلیم کے لیے کئی دیگر فیلوشپ اسکیموں کے ساتھ اوورلیپ ہے، اس لیے حکومت نے اسے 2022-23 سے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔


اقلیتی طلبہ اس فیلو شپ کے بند ہونے سے مایوس ہوئے تھے۔ تاہم، اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے یقین دہانی کرائی تھی کہ ‘جو طلبہ پہلے سے ہی یہ فیلو شپ حاصل کر رہے ہیں وہ اپنی مقررہ مدت تک یہ حاصل کرتے رہیں گے۔’

لیکن پچھلے سات آٹھ ماہ سے یہ وظیفہ روک دیا گیاتھا۔ اس مہینے کے شروع میں جب انڈین ایکسپریس نے اسکالرشپ میں تاخیر کے بارے میں پوچھا توکرن رجیجو نے کہا تھا؛


ہم اس کا جائزہ لے رہے ہیں… تقریباً تین چار سال پہلے فنڈ کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال ہوا تھا۔ اقلیتی اداروں میں ہزاروں فرضی نام بھیجے گئے تھے اور اسکالرشپ کے نام پرپیسے لیے گئے…


اس کے بعد دی وائر کو بھیجے گئے ایک بیان میں اسکالروں نے واضح طور پر کہا تھا کہ وزیر کی جانب سے لگائے گئے الزامات نہ صرف گمراہ کن ہیں بلکہ زمینی حقیقت سے بھی میل نہیں کھاتے۔ اسکالروں نے الزام لگایا تھا کہ مرکزی حکومت جان بوجھ کر تاخیر کر رہی ہے۔

حالیہ ہدایت کے بعدطلبہ  نے کہاہے؛


ایسا لگتاہے کہ جب فیلو شپ بند کر دی گئی ہیں، تو اب تکنیکی طریقہ کار کا سہارا لے کر موجودہ طلبہ کی تعداد کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ ان طلبہ کے لیے انتہائی غیر منصفانہ اور حوصلہ شکن ہے جو مشکل سماجی و اقتصادی حالات میں ریسرچ کر رہے ہیں۔


اسکالروں نے این ایم ڈی ایف سی اور اقلیتی امور کی وزارت سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ہدایت کو فوری طور پر واپس لیں اور موجودہ ایم اے این ایف فیلوز کو ان کی میعاد کے اختتام تک فیلوشپ جاری رکھیں – تاکہ انہیں انتظامی غفلت کا خمیازہ نہ بھگتنا پڑے۔

Next Article

کانگریس ہاؤس: جمہوری سیاست کی ہوسناکی کا بیانیہ

اشعر نجمی کا ناول ‘کانگریس ہاؤس’ ایک بڑے سیاسی کھیل کو موضوع بناتے ہوئے جمہوریت کی ہوشیاری، ہوسناکی اور اس کی آمریت کے سارے بھید کھول دیتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ ناول ہماری مٹی کا ہمزاد ہے، ہمارا ہمزاد ہے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ہمارے دکھوں کا اور ہمارے نفسی وجود کا ہمزاد ہے۔

تصویر بہ شکریہ: فیس بک

حال ہی میں ممبئی ٹرین بلاسٹ (2006) کے تمام ملزمین کو عدالت  نےرہا کر دیا۔یہ 19 سال سے قید وبند کی صعوبتیں برداشت کر رہے تھے۔انہیں کس بات کی سزا دی گئی؟ کیاان کی  مذہبی پہچان ان کی پیشانی پر گناہ کی صورت  لکھ دی گئی ؟

شاید آپ سوچیں کہ ناول پربات کرنے کے بجائے میں یہ کون سا قصہ لے کر بیٹھ گئی۔لیکن یہ قصہ نہیں ، ایک پوری قوم کا اجتماعی بین ہے۔

اس’ سیاست‘ کی تفہیم آسان ہے اور مشکل بھی؟آسان یو ں کہ مسلمانوں کی پیشانی پر ان کا گناہ لکھ دیا گیا ہے، اورمشکل اس لیے کہ آخر مسلمان ہونا  جرم کیوں ہے؟

اس کیوں کی تلاش تاریخ میں کی جا سکتی ہے، سیاست میں کی جاسکتی ہے اور عدالتوں کے ساتھ ساتھ اپنی ہر سانس میں گھلتی اجنبیت اور اس بیگانگی کے لمبے ہوتے سایے میں بھی کی جا سکتی ہے۔

یہ سب کئی طرح سے ہم سب کا انفرادی مشاہدہ /تجربہ ہو سکتا ہے، لیکن ہےاجتماعی دکھ۔ خبروں میں ہمارے اسی دکھ کی سیاہی پر سیاست کی منھ لگی سرخی پھیلا دی گئی ہے۔  ہمارے خون کی چاٹ سے سیاست کی زبان موٹی ہو چکی ہے اور اسی طرح کی’سیاست‘کا تخلیقی ، تجمیلی اور توسیعی بیانیہ اشعر نجمی کا ناول ’کانگریس ہاؤس‘ہے۔

میں اس ناول کو  کمزوراورمحکوموں کا بیانیہ بھی کہہ سکتی ہوں، یہ ہے بھی ،لیکن اس کی تخلیقی تہیں کسی اکہری ساخت پر دیر تک ٹھہرنے نہیں دیتیں۔ وہ تاریخ کے ورق کھولتی ہے مگر تاریخ  کا ہندسہ نہیں لکھتی ، دراصل وہ وقت کے تسلسل میں بنتی بگڑتی ہے اوراس کے پڑاؤ  سےتخلیقی معنی کشید کرتی ہے۔

اس طرح کے تخلیقی عمل میں ہمارے دیکھے بھالے بلکہ ہماری جان پر گزرے صدمات کو اشعر نجمی نے بڑی خوبی سے فکشن بنا کر پیش کیا ہے۔ ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ ارے اس واقعہ کا تو مجھے پہلے سے علم  ہے، ہاں یہ ضرور لگتا ہے ایک مانوس بلکہ اخبار کی خبروں کو تخلیقی سطح پر  اس طرح بھی ترتیب دیا جا سکتا ہے۔ میرے خیال میں یہ اشعر نجمی کا تخلیقی صدمہ ہی ہے جو ناول کے بیانیہ کو اس کی فطری افسانویت سے ہمکنار کرتا ہے۔

پتہ نہیں ، میں جو کہنا چاہ رہی ہوں ، وہ کہہ پا رہی ہوں یا نہیں، لیکن ان باتوں کے پس پردہ یہ ضرور کہنا چاہتی ہوں کہ ناول میں یہ وہ مقام ہیں جہاں بیانیہ میں افسانویت کے بجائے صحافتی جوہر نمایاں ہونے کا خطرہ ہوتا ہے، لیکن اشعر نجمی نے ہمارے عہد کی سیاسی کروٹوں کو اپنے کرداروں کی گھلتی سانسوں کے ساتھ لکھنے میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔

ایسے میں ناول کی کیسی بھی تشریح کر لی جائے، بنیادی بات یہی ہے کہ یہ ناول ہماری مٹی کا ہمزاد ہے، ہمارا ہمزاد ہے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ہمارے دکھوں کا اور ہمارے نفسی وجود کاہمزاد ہے۔

یہاں میں یہ بھی کہنا چاہتی ہوں کہ کسی قوم کی سائیکی اور اس کی نفسیات پر اس طرح کا ناول میں نے نہیں پڑھا۔ دراصل، کئی جگہوں پر لگتا ہے کہ اشعر نجمی نے ہماری سائیکی کے تمام احوال رقم کر دیے ہیں۔

یوں دیکھیں تو اشعر نجمی کا یہ ناول ایک ایسے ملک کی علامت ہے، جو تیزی سے جنگل میں تبدیل ہو رہاہے۔اور اس میں وہ  تمام حوالے ہیں جس کی وجہ سے اس کو کانگریس پارٹی اور اس کی مکروہ سیاست کا بیانیہ سمجھا جا سکتا ہےاور اگر اس میں انگریزوں کی سیاست کو بھی شامل کرلیں تویہ ناول ایک بڑے  سیاسی کھیل کو موضوع بناتے ہوئے جمہوریت کی ہوشیاری، ہوسناکی اور اس کی آمریت کے سارے بھید کھول دیتا ہے ۔

اپنی آسانی کے لیے کہنا چاہتی ہوں کہ کہانی در کہانی کی تکنیک میں لکھا گیا یہ ناول اپنے اندر جہان معنی کو آباد کرتاہے۔کہیں ہندو مسلمان کے درمیان بڑھتی کشیدگی ہے تو کہیں ذات-پات کا بیانیہ۔کہیں عورت کا وجودی کرب ہے تو کہیں بے غرض، بے لوث دوستی کا بیانیہ۔

اور یقین کیجیے یہ کہانیاں ہمیں بے چین کر تی  ہیں، راتوں کو سونے نہیں دیتیں اور ناول ختم کرنے کے بعد بھی اس کی گفت و شنید جاری رہتی ہے۔اصل میں تخیل اور حقیقت اس ناول میں ایک خواب کے سایے کی طرح حل ہو گئے ہیں، مطلب ہم نیند سے بیدار ہونے کے بعد بھی خواب میں ہیں ۔

سچ پوچھیے تو اس ناول کو خواب کی زبان میں لکھا گیا ناول کہنا چاہیے، بات کو اور واضح کروں تو اس کے کردار بھی ہم  ہیں اور اس میں جاری رات بھی ہمارے ہی خون کی سیاہی سے لپٹی ہے۔

بہرحال ، ناول کا پس منظر ممبئی ہے ،جہاں پورے ملک سے لوگ روزی روٹی کی تلاش میں آتے ہیں اور کچھ راجن جیسے بھی ہیں جو ذات -پات کے  جابرانہ نظام سے نکلنے کی کوشش میں یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ اس نظام نےانسان سے انسان ہونے کا حق بھی چھین لیا ہے۔

ایک ایسا نظام جہاں کبھی  ایک بچے کوچپل پہن لینے کی وجہ سےتشددکا نشانہ بنایا جاتا ہے تو کبھی سرکاری اسکول کے گھڑے سے پانی پی لینے پر زدوکوب کیا جاتاہے۔

اس طرح  ہرکردار سہانی، راجیش،نسرین،سیما اور  راجن کی اپنی اپنی کہانی ہے۔لیکن یہ ساری کہانی ایک بڑے بیانیہ کی ذیلی کہانی ہے، یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ کئی کہانیوں کو ایک مرکزی کہانی میں تبدیل کرتے ہوئے اشعر نجمی نے  ہندوستان کے حوالے سے ایک اہم  ناول ہمیں دیا ہے۔

ان کرداروں کا مخصوص علامتی مطلب بھی ہےاور ان پر بات کی جا سکتی ہے۔ لیکن ‘سہانی’ جو ناول  کامرکزی کردار کہی جا سکتی ہےاورجس کی زندگی کا بیانیہ یہ ناول ہےاور اس  کی پیدائش اس ملک کی تاریخ کا ایک شرمناک باب ہے، ہم اس کی تخلیقی سائیکی سے یوں ہی نہیں گزر سکتے کہ؛

میں1992 -93میں ہونے والےممبئی دنگوں کا نتیجہ ہوں…میں مسلمانوں سے لیا گیا انتقام ہوں۔ص: 66

یہاں ایک ایک لفظ میں عجیب سی کرید ہے جس میں عورت کا وجودی کرب بھی ہے اور سیاست کی کریہہ صورت بھی۔ عورت اور وہ بھی سیکس ورکر ،ایک مرد کو مارے گئے اس کےتھپڑ کا بدلہ تو ریپ ہی ہو سکتا تھا؟ اور اس ریپ میں جنسی آلودگی سے زیادہ سیاست کی ہوسناکی ہے۔ شاید یہی بات یہاں کہی گئی ہے کہ عورت کے ساتھ ہونے والا ریپ کئی بار جنسی استحصال ہوتا ہی نہیں اس کی کئی پرتیں ہوتی ہیں۔

اقتدار کا نشہ اور تشدد کا یہ تماشا  ناول میں اس مکار سیاست کی شرمگاہ  کو کھول  کر دکھاتا ہے۔  بار ڈانسر سے جسم فروشی تک کے سفر میں سہانی کے کردار کا تجزیہ کیا جاسکتا ہے ، اس کے حوصلے کی داد دی جا سکتی ہے، لیکن یہاں سماج کی ہوسناکی اور اس کی سیاست کی تفہیم ضروری ہے۔

سہانی کی طرح ہی نسرین اور سیما کا کردار بھی پدری جبر کی ترجمانی کرتے ہیں۔اس ناسور زدہ پدری سماج میں ان کی کوئی حیثیت  کوئی ،وقعت نہیں۔ناول کے بیانیہ سے ایک مثال دیکھیے؛

ناصر کی پندرہ سالہ بیٹی نسرین نے بھاگنے کی کوشش کی،وہاں کھڑے ایک پولیس کانسٹبل نے اسے راستے میں ہی دبوچ لیا اور بھیڑ کی طرف دھکیل دیا۔بھیڑ نے اسے بھی ہوا میں اچھال کرآگ کی نذر کرنا چاہالیکن راجیش مہاترےنےبڑی پھرتی سے اسے درمیان میں ہی دبوچ لیا…

”یہ میرا بدلہ ہے۔“راجیش مسکرایا۔اس مسکراہٹ میں وحشت بھری طمانیت تھی……اس وقت وہ عجیب قسم کی مسرت سے سرشارتھا۔ اس نے سیما کا انتقام لے لیا تھا۔اس نے اپنی مردانگی ثابت کر دی تھی۔

”آئی!یہ تیری بیٹی نہیں…تیری بیٹی کا بدلہ ہے…میں نپنسک نہیں ہوں۔“ص:85-86

راجیش کے بدلے کی آگ نسرین کے گھر والوں کو آگ میں زندہ جلانے کے بعدبھی شانت نہیں ہوئی، وہ شانت ہوئی نسرین کے ریپ سے،اس پر مسلسل تشدد سے۔ مرد کی مردانگی کا ثبوت اس کے علاوہ بھلا اور کیا ہو سکتا ہے؟عورت بہن ہے، بیوی ہے، ماں ہے لیکن اس کی اپنی کوئی شناخت نہیں ۔اور محبت !محبت کرنے کا حق ؟وہ بھی غیر مذہب سے ،یہ تو موت کی حد تک ناقابل قبول ہے کہ مردوں کی عزت کا بار بھی عورت کے کاندھوں پرہی ہے۔

تصویر بہ شکریہ: فیس بک

جس طرح ایک طوائف کو اس سماج نے کبھی  قبول نہیں کیا، اسے انسان نہیں سمجھا ، اس لیے اس کے ساتھ ہوا ریپ بھی سیکس میں شمار کیا جاتا ہے۔ شاید یہی ’دوجی حیثیت‘ آج ہندوستان کے مسلمانوں کی بھی ہے۔ چند مثالیں دیکھیے؛

”جب پوری دنیا پاگل ہو جائے تو پاگل پن قانون بن جاتا ہے…پھر کسی قوم کی اجتماعی یادداشت کا ریپ بھی صرف سیکس کہلاتا ہے…باہمی رضامندی والا سیکس…بابری مسجد کی مسماری،گجرات کا قتل عام،ممبئی کے فسادات،کشمیریوں کا استحصال،لنچنگ کے واقعات،وقف کی زمین پر قبضہ…یہ سب سیکس ہیں۔ریپ تھوڑی ہیں…“

”یہاں بلڈوزر بھی ریپ نہیں کرتا،سیکس کرتا ہےمائی لارڈ…وہ مکانوں،دکانوں،مدرسوں،مقبروں،عبادت گاہوں کا پہلے بڑے پیار سے بوسہ لیتا ہے…پھر ان کی سرین دباتا ہے…پھران کےکپڑے پھاڑتا ہے…پھر ان میں اپنا لوہے کا عضو تناسل زور سے گھسیڑ دیتا ہے…“

”قانون بنانے اورچلانے والے منتری اور سنتری لوگوں سے کاغذ مانگتے ہیں…ان کی اصل کا…ان کی شناخت کا…وہ انھیں گھس پیٹھیاکہتے ہیں…منگل سوتر اور بھینس چرانے والا کہتے ہیں…غدار اور پاکستانی کہتے ہیں…کچھ خاموش بھی ہیں…کچھ منمنا بھی رہے ہیں…ان کی خاموشی اورمنمناہٹ میں ایک خوف چھپا ہے…ایک دور اندیشی چھپی ہے…وہ اپنے سامنے ہونے والے ریپ کے گواہ ہیں لیکن وہ اس کے خلاف گواہ نہیں بننا چاہتے…انھیں ڈر ہےکہ ریپ کرنے والوں کی بھیڑ ان کی لنچنگ نہ کر دے…ان کا وجود جنگل کی سیاست سے ناپیدنہ ہو جائے…“ص:147-148

یہ عجیب طرح کا بیانیہ ہے جو ناول میں منقلب ہوتا رہتاہے، ریپ اور سیکس کے اس بُعد میں ہی ہندوستان کی ساری سیاست کا استعارہ موجود ہے، ایسے میں یہ کسی کردار کی کہانی کہاں ہے یہ تو آوازوں کا جنگل ہے، جہاں ساری آوازیں گڈمڈ ہو گئی ہیں ، ہر آواز چھلنی ہے، جانے کون کس کا دکھ اٹھائے پھر رہا ہے۔

کیا ریپ اور لنچنگ دو الگ باتیں ہیں کیا عورتیں اور ہماری عبادت گاہیں یا مذہبی تشخص دو چیزیں ہیں؟ بالکل نہیں سیاست کی ہوسناکی ان سب کو نگل لینا چاہتی ہے۔ اشعر نجمی نے اسی ہوسناکی کا ناول لکھا ہے۔

اس طرح دیکھا جائے توسہانی کی کہانی کے درمیان میں ہمیں کئی اور کہانیاں  ملتی ہیں۔ دھرم کے نشے میں راجیش کے انسان سے حیوان بننے کی کہانی، شاکھا پرمکھ سنیل مورے کا راجیش کو استعمال کرکے پھینک دینے کی کہانی۔بلکہ یوں کہا جائے کہ سہانی  کی کہانی کے ساتھ ساتھ زیر بیانیہ ایسی کئی کہانیاں ہیں جو موجودہ بدلتے ہندوستان کی تصویریں پیش کرتی ہیں۔

شاکھا کی بڑھتی طاقت، اپنے مطلب کے لیے معصوم، غریب شہریوں کا استعمال ،بابری مسجد انہدام،ممبئی کے فرقہ وارانہ فسادات ، ڈانس بار کا بند ہونا، جسم فروشی کا بڑھ جانا، سیکس ورکرز اور طوائف کی زندگی، مذہب کا نشہ،سیاست کا مکروہ چہرہ، ذات -پات کا زہر ،مسلمانوں کی دوجی حیثیت،ماب لنچنگ، پدری جبر،آئے دن ہونے والے ریپ، عورت کی دوجی حیثیت وغیرہ۔

یہ وہ کہانیاں ہیں جس کو ہم اور آپ اس ملک میں دیکھتے، پڑھتے، سنتے آ رہے ہیں، البتہ اشعر نجمی نے ان کہانیوں کے بطن میں سیاست کی ہوسناکی کو کمال فن کے ساتھ پیش کرنے کی جسارت کی ہے۔

ممبئی فسادات کی جو تصویر ناول کے بیانیہ میں کھینچی گئی ہے وہ کم وبیش پورے ہندوستان کی حقیقت ہے۔ ممبئی ،گجرات،سنبھل،ناگپور، مرشد آباد،مظفر نگر، اورنگ آباد، نالندہ ،مونگیر، اس طویل لسٹ میں  بس  شہر کے نام بدلتے جائیں گے، سیاست کی ہوسناکی ہر جگہ ایک سی ہی ہے۔

پولیس کی تماشائی حیثیت بھی اسی سیاست کی ہوسناکی ہے جو ان فسادات کے دوران  آگ میں گھی کا کام کرتی ہے، بعد میں قانون کی پر اسرار مسکراہٹ بھی اسی سیاست کو مستحکم کرتی ہے کہ؛

اجنبیت کی یہ دیوار اتنی اونچی ہو گئی تھی کہ ان کی آنکھوں سے اپنی ساجھی وراثت اور مشترکہ روایت تک اوجھل ہو گئیں۔اس کے بعد کچھ نہیں بچا…سوائے  ایک دبیز اندھیرے کے۔چیخوں ،کراہوں اور مدد کی پکار کے درمیان قانون کی پر اسرار مسکراہٹ اس اندھیرے کو مزید دبیز کرتی چلی گئی۔ص: 82

مذہب ایک ایسا نشہ ہے جس میں سارے رشتے چتا کی نذر ہو جاتے ہیں۔راجیش مہاترے کا کردار اس کی زندہ مثال کہی جا سکتی ہے۔بھائی سے کب وہ دھرم کا رکشک اورتلک نگر کا کنگ بنا دیا گیا۔ا س کے پیچھے کی سیاست کو بھی ناول میں پیش کیا گیا ہے۔ نہ جانے ایسے کتنے راجیش ہمارے آس پاس موجود ہیں جنھیں شاکھا میں مذہب کا نشہ دے کر جانور میں تبدیل کیا جارہا ہے۔

سیما بیچ بچاؤ کرنے آئی تو راجیش نے سب کے سامنے اسے بھی دو ہاتھ جڑ دیے۔بہن نے غور سے بھائی کو دیکھا۔بھائی بڑا ہو چکا تھا۔ اس کی سوئی ہوئی مردانگی اس کی طرح جوان ہو چکی تھی۔وہ اس کا رکشک بن چکا تھا۔رکشک نے فرمان سنایاکہ گھر سے باہر نکلنا بند۔جب ماں نے اسے گالی دیتے ہوئےپوچھا کہ تیرا پیٹ کون بھرے گا؟تو رکشک نے ماں کو بھی دوتھپڑ رسید کر کے اس کے دودھ کا قرض وہیں ادا کر دیا۔ص:60

یوں تو یہ سہانی، راجیش، راجن ،سیما،نسرین کی کہانی ہے، لیکن  ناول نگار نے جنگل میں تبدیل ہوتےاس ملک کے تقریباًسبھی مسائل کو ناول کے بیانیہ میں سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔ ان کرداروں کی کہانی کے درمیان میں آنے والی یہ تحریریں با معنی بھی ہیں اور موجودہ  ہندوستان،خصوصی طور پر مسلمان آج جن مسائل سے دوچار ہیں، ان کا بیانیہ ہے۔

چاہے وہ  شناخت کا مسئلہ ہو، شہریت قانون ہو، ہندو مسلم فسادات ہوں،وقف کی زمین پر قبضہ ہو، ان کے گھروں پربلڈوزر چلانا ہویااپنے وجود کی لڑائی، وہ اپنے ہی ملک میں کسی دوئم درجے کے شہری کی طرح زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

خوف کے سائے اورنفرت کا اندھیرا اتنا دبیز ہے کہ اس کے پرے دیکھنا بہت مشکل ہے۔ رہی سہی کسر ’گودی میڈیا‘ نے پوری کر دی ہے۔ناول میں ایسے کئی موضوع /مسائل سے سابقہ پڑتا ہے؛

بات کسی مسجد کے ٹوٹنے کی نہیں تھی،ان میں سے بیشتر تو اپنے محلے کی مسجد میں بھی شاذ ہی جاتے تھے۔ان کی مغلوں سے رشتہ داری بھی نہ تھی لیکن ’شناخت‘ایک ایسا زہر بجھا ہوا تیر تھا،جو ان کے دلوں میں اتر کت ترازو ہو گیا تھا۔ انھیں لگا جیسے ان کی ماں ہی انھیں ماں کی گالی دے رہی ہو…انھیں اپنی ناجائز اولاد بتا رہی ہو…ص:81-82

ناول نگار نےتاریخی واقعات سے ماضی کی جھلکیاں اور سیاست کا مکروہ چہرہ دونوں کو بیانیہ کا حصہ بنایاہے۔کانگریس ہاؤس اور این بی کمپاؤنڈ کے ذریعےماضی اور حال کا تصادم پیش کرنے کی کوشش  کی ہے۔ کہیں علامتی طور پر تو کہیں براہ راست؛

اس کا مقدمہ میرے لیے یوں بھی اہم تھا کہ یہ کانگریس ہاؤس اور اس سے ملحق این بی کمپاؤنڈ سے جڑا تھا۔یہ صرف دو عمارتیں ہی نہیں بلکہ ان سے وابستہ ان کا تاریخی کردار بھی تھا جس میں چمک بھی تھی اور سیاہ دھبے بھی۔ ص: 52

 کانگریس پارٹی کی تاریخ، جنگ آزادی میں اس کا رول، ملک کی تقسیم ، تقسیم کے بعد شروع ہونے والی اس کی سیاست اور کئی سیاست دانوں کا ذکر ناول میں موجود ہے۔ناول کے بیانیہ میں اس ملک کی تاریخ مختلف علامتوں ،شخصیتوں کے ساتھ پیش کی گئی ہے، اور  اشعر نجمی کے اس ناول میں ہمارا ملک جس جنگل میں تبدیل ہوتا نظر آ رہا ہے وہاں شاید کوئی قانون/دستور نہیں ہے۔ ایک عجیب سی بے ہنگم دنیا کی تصویر کشی ہے۔

دوسرےلفظوں میں کہوں تو’کانگریس ہاؤس‘ہمارےملک کا بیانیہ ہے اورہماری زندگی کابھی۔وہ زندگی/سماج جو رنگ،نسل،ذات-پات،مذہب،جنس،کمزور-طاقتور ،حاکم -محکوم نہ جانے کتنے خانوں میں تقسیم ہے۔یہ ناول زندگی کی تمام تر الجھنوں کی طرح ہمارے سامنے کئی سوال چھوڑ جاتا ہے۔

یہ کانگریس ہاؤس کیا ہے؟ راجیش کون ہے؟انھیں کون پیدا کر رہا ہے؟ سیما، نسرین، سہانی کون ہیں؟یہ کون سا جنگل ہے جہاں لکڑ بگھے تعداد میں زیادہ ہو گئے ہیں؟کیا اس جنگل کی سیاست سے آپ واقف نہیں؟ اور کیا آپ نہیں جانتے کہ اگرآپ کے پاس دیکھنے والی نظریں اور بولنے والی زبان موجود ہے، تو آپ کا  انجام’ کانگریس ہاؤس ‘کےراوی(وکیل) سے بہت زیادہ مختلف نہیں ہوگا۔

بہرحال، سیاست کی ہوسناکی پر اشعر نجمی کا یہ ناول جہاں ہمارے تجربے اور احساس کی روداد ہے وہیں ان کے غیرمعمولی تخلیقی مشاہدے کی مثال بھی ہے۔

آخر میں جملہ معترضہ کے طور پر کہنا چاہتی ہوں کہ ناول کی صورت گری میں یا ٹیگ لائن میں یہ جو کہنے کی کوشش کی گئی ہے کہ’ایک سیاست دان پر بھروسہ کرنا طوائف کے ساتھ محبت کرنے جیسا ہے‘ تو اس کو پڑھتے ہوئے لگتا ہے کہ یہاں وہ اسی طوائف کے خلاف چلے گئے ہیں جو ان کے ناول میں موجود ہے اور شاید طوائف  سے محبت کے جذبےکو اس طرح نہیں دیکھا جا نا چاہیے۔

Next Article

ممبئی ٹرین بلاسٹ کیس میں ملزمین کو بری کرنے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو مثال نہیں مانا جائے گا: سپریم کورٹ

جولائی 2006 کےممبئی سلسلہ وار ٹرین دھماکوں کے معاملے میں ممبئی ہائی کورٹ کی جانب سے نچلی عدالت کے ذریعے قصوروار ٹھہرائے گئے تمام 12 لوگوں کو بری کیے جانے کے بعد سپریم کورٹ نے جزوی طور پر فیصلے پر روک لگاتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو مکوکا کے دیگر معاملوں میں مثال نہیں مانا جائے گا۔

سپریم کورٹ۔شیخ محمد علی عالم شیخ (درمیان میں)، جوممبئی ہائی کورٹ کی طرف سے 7/11 کے ممبئی ٹرین دھماکوں کے کیس میں بری کیے گئے افراد میں سے ایک ہیں۔ منگل 22 جولائی 2025 کو ممبئی  ہوائی اڈے پر پہنچنے پر ان کے اہل خانہ اور دوست  ان کا استقبال کر رہے ہیں۔ (تصویریں: فائل اور پی ٹی آئی)

ممبئی: ممبئی ہائی کورٹ کی جانب سے 11 جولائی 2006 کے ممبئی سلسلہ وار ٹرین دھماکوں کے معاملے میں قصوروار ٹھہرائے گئے تمام 12 لوگوں کو بری کیے جانے کے تین دن بعد  سپریم کورٹ نے جمعرات، 24 جولائی کو فیصلے پر جزوی طور پر روک لگاتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو  مہاراشٹر کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ (مکوکا) کے دیگر معاملوں میں مثال کے طور پر نہیں مانا جائے گا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے اس نتیجے میں کوئی مداخلت نہیں کی ہے کہ یہ لوگ بے قصور ہیں۔

مہاراشٹر کی طرف سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل آف انڈیا تشار مہتہ کے دلائل کے بعد یہ حکم امتناعی جاری کیا گیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے کچھ حصوں کا اثرمکوکا کے دیگر زیر التواء معاملوں پر پڑے گا۔

ہائی کورٹ کی طرف سے فیصلہ سنائے جانے کے فوراً بعد 21 جولائی کو  11 زندہ بچے مدعا علیہان (ایک ملزم کی موت 2021 میں جیل میں ہوئی تھی) کو رہا کر دیا گیا۔ فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئےمہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے کہا کہ یہ ‘حیران کن’ ہے اور ایک دن کے اندر سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی گئی۔

اپنی دلیل میں مہتہ نے جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس این کے سنگھ کی سپریم کورٹ بنچ سے کہا کہ وہ یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ مدعا علیہان کو واپس جیل بھیج دیا جائے، بلکہ  وہ یہ  چاہتے ہیں کہ فیصلے پر روک لگائی جائے۔

عدالت نے پہلے کہا کہ اس فیصلے کو دیگر معاملات میں ‘نظیر’ کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن جب مہتہ نے فیصلے پر روک لگانے کے لیے مزید اصرار کیا تو جسٹس سندریش نے کہا، ‘فیصلہ اس حد تک روک لگائی جاتی  ہے۔’

عدالت نے فیصلے میں کہا، ‘ہمیں مطلع کیا گیا ہے کہ تمام ملزمان کو رہا کر دیا گیا ہے اور انہیں واپس جیل بھیجنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ تاہم، قانونی سوال پر اسپیشل سالیسٹر جنرل (مہتہ) کے پیش کردہ دلائل کو ذہن میں رکھتے ہوئے، ہم یہ ماننے کے لیے تیار ہیں کہ متنازعہ فیصلے کو نظیر کے طور پر نہیں مانا جائے گا۔ اس حد تک، متنازعہ  فیصلے پر روک لگا ئی جاتی ہے۔’

یہ تمام افراد 19 سال کی طویل قید کے بعد بری ہوئے ہیں۔ 2015 میں خصوصی مکوکا عدالت نے سلسلہ وار ٹرین دھماکوں کے کیس میں 12 افراد کو ان کے مبینہ کردار کے لیے قصوروارٹھہرایا تھا۔ اس دھماکے میں 189 افراد ہلاک اور 400 سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے تھے۔ ہائی کورٹ کی جانب سے بری کیے گئے پانچ افراد میں سے کمال انصاری، محمد فیصل عطا الرحمان شیخ، احتشام قطب الدین صدیقی، نوید حسین خان اور آصف خان کو مکوکا عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی۔

مکوکا عدالت نے جن سات دیگر افراد کو عمر قید (موت تک) کی سزا سنائی  تھی، ان کے نام ہیں- تنویر احمد محمد ابراہیم انصاری، محمد ماجد محمد شفیع، شیخ محمد علی عالم شیخ، محمد ساجد مرغوب انصاری، مزمل عطا الرحمن شیخ، سہیل محمود شیخ اور ضمیر احمد لطیع الرحمن شیخ شامل ہیں۔ کمال انصاری کا انتقال 2021 میں ہوگیا تھا۔

عبدالواحد شیخ نامی شخص کو بھی 12 افراد کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا اور بالآخر مکوکا عدالت نے نو سال قید کے بعد 2015 میں بری کر دیا تھا۔ ریاستی حکومت نے اس وقت ان کی رہائی  کے خلاف اپیل دائر نہیں کی تھی۔

جمعرات کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے پوچھا کہ کیا بری کیے جانے والوں میں سے کوئی پاکستانی شہری تھا۔ عدالت نے پوچھا ،’آپ نے اپنی اپیل میں ذکر کیا ہے کہ اس کیس میں پاکستانی ملزم  بھی ہیں۔’

اس پر نچلی عدالت میں کیس کی سماعت کرنے والے خصوصی سرکاری وکیل راجہ ٹھاکرے نے کہا کہ پاکستانی شہریوں کو اس معاملے میں مفرور ملزم دکھایا گیا ہے اور بری کیے گئے تمام 12 افراد ہندوستانی تھے۔

(انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں ۔)

Next Article

ممبئی ٹرین بلاسٹ: 12 لوگوں کو بری کرنے والا فیصلہ پولیس کے حراستی تشدد اور عدالتی ناکامی کی پرتوں کو اجاگر کرتا ہے

بامبے ہائی کورٹ نے 2006 کے ٹرین دھماکہ کیس میں 12 ملزمان کو 19 سال بعد بری کر دیا۔ فیصلے نے دکھایا کہ کس طرح پولیس نے تشدد کے سہارے اقبال جرم کروائے، جانچ میں خامیاں  رہیں اور ٹرائل کورٹ نے اسے نظر انداز کیا۔ ہائی کورٹ نے سخت تبصرے کیے، لیکن تشدد کے لیے قصوروار اہلکاروں کو جوابدہ نہیں ٹھہرایا۔

ممبئی (مہاراشٹر)میں سوموار، 21 جولائی 2025 کو 7/11 ممبئی ٹرین بلاسٹ معاملے میں بامبے ہائی کورٹ سےبری ہونے والے 12 ملزمان کے اہل خانہ جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ مولانا حلیم اللہ قاسمی کو مٹھائی کھلاتے ہوئے، جنہوں نے متاثرین کی قانونی مدد کی۔(فوٹو: پی ٹی آئی)

ممبئی: 21 جولائی کو عدالتوں نے حراستی تشدد سے متعلق دو اہم مقدمات میں الگ الگ فیصلے سنائے۔ ایک معاملے میں سپریم کورٹ نے تشدد کے مرتکب پولیس اہلکاروں کی فوری گرفتاری، کشمیری پولیس کانسٹبل (جو تشدد کا شکار ہوا) کو معاوضہ دینے اور معاملے کی سی بی آئی انکوائری کا حکم دیا ۔

دوسرے معاملے میں بامبے ہائی کورٹ نے 2006 کے ممبئی سیریل  ٹرین بلاسٹ کیس میں 12 لوگوں کو بری کر دیا – جن میں سے پانچ کو پہلے پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی اور سات عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔ ان سب کو 19 سال جیل میں گزارنے پڑے۔ ہائی کورٹ نے حراستی تشدد کا باریک بینی سے جائزہ لیا، طبی شواہد اور جبر اور غیر انسانی سلوک کی تفصیلات کو نوٹس میں لیا۔

جن پانچ افراد کو پہلے سزائے موت سنائی گئی تھی، وہ ہیں؛ کمال انصاری، محمد فیصل عطا الرحمان شیخ، احتشام قطب الدین صدیقی، نوید حسین خان اور آصف خان۔ انہیں مکوکا کی خصوصی عدالت نے 2015 میں بم نصب کرنے، دہشت گردی کی تربیت حاصل کرنے اور سازش کرنے کے الزام میں مجرم قرار دیا تھا۔

باقی جن  7 افراد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان کے نام یہ ہیں؛ تنویر احمد محمد ابراہیم انصاری، محمد ماجد محمد شفیع، شیخ محمد علی عالم شیخ، محمد ساجد مرغوب انصاری، مزمل عطاء الرحمن شیخ، سہیل محمود شیخ اور ضمیر احمد لطیع الرحمن شیخ۔ ان میں سے کمال انصاری کا انتقال 2021 میں ہو گیا تھا۔

اگرچہ ہائی کورٹ نے اپنے 667 صفحات پر مشتمل فیصلے میں بتایا کہ تشدد کیسے ہوا، لیکن اس نے اس بات کو واضح طور پر نظر انداز کر دیا کہ یہ ظلم کس نے کیا۔ یعنی تشدد کے ذمہ دار افراد کی شناخت نہیں کی گئی – یہ ایک اہم سوال ہے، جس کا  جواب نہیں دیا گیا ۔

پوچھ گچھ  کا عام ‘ہتھیار’  ہےتشدد

تشدد (ٹارچر)ایک عام طریقہ ہے جسے پولیس تفتیش کے دوران استعمال کرتی ہے، اور اکثر یہ کہہ کر جواز پیش کیا جاتا ہے کہ جب کوئی مشتبہ ضدی ہو اور تفتیش میں تعاون نہ کر رہا ہو تو یہی واحد آپشن رہ جاتا ہے۔ چونکہ ریاستی حکومت اور پولیس پہلے ہی اس معاملے میں اپنے اقدامات کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اس لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہائی کورٹ نے اس فیصلے کی حدود پر بحث کرنے سے پہلے 12 زیر حراست افراد کے معاملات کو کس طرح دیکھا۔

گیارہ جولائی 2006 کو ممبئی سلسلہ وار ٹرین دھماکہ کیس میں جسٹس شیام سی چانڈک اور جسٹس انل ایس کلور کے مشترکہ طور پر لکھے گئے فیصلے میں شروع سے ہی واضح پیغام دیا گیا؛


اصل مجرم کو سزا دینا جرائم کی روک تھام، قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک ٹھوس اور ضروری قدم ہوتا ہے۔ لیکن اگر کسی کیس کو سلجھا ہوا دکھانے کے لیے صرف دکھاوے کے طور پرکچھ لوگوں کو مجرم ٹھہرا کر پیش کیا جائے، تو یہ ایک خیالی حل ہوتاہے۔ ایسا کرنے سے معاشرے کو جھوٹی تسلی ملتی ہے اور عوامی بھروسہ مجروح ہوتا ہے، جبکہ حقیقت میں اصل خطرہ اب بھی آزاد گھوم رہا ہے۔ بنیادی طور پر یہی بات اس کیس سے ظاہر ہوتی ہے۔


اگرچہ ہائی کورٹ نے تمام 12 ملزمان کو براہ راست’بے گناہ’ قرار نہیں دیا، لیکن فیصلے کے ابتدائی ریمارکس ان کی بے گناہی کی بہت سختی سے نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ استغاثہ کے کیس کو ایک ایک کر کے خارج کرتا ہے اور خاص طور پر ان 12 افراد سے قبولنامے حاصل کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے تشدد کے طریقوں کو بھی نمایاں کرتا ہے۔

استغاثہ نے دعویٰ کیا کہ ملزم ایران کے راستے پاکستان گئے تھے، وہاں اسلحہ اور بم بنانے کی تربیت حاصل کی تھی، ان کے پاس پاکستانی ‘ہینڈلر’ تھے، انہوں نے ممبئی کے لوکل ٹرین نیٹ ورک کی ریکی کی تھی اور پھر ویسٹرن لائن پر سات لوکل ٹرینوں پر منصوبہ بند حملہ کیا تھا۔

یہ پورا کیس بنیادی طور پر گرفتاری کے فوراً بعد پولیس کی طرف سے لیے گئے قبولنامے پر مبنی تھا۔

پوری پیش رفت کے دوران، ملزمان، ان کے وکلاء اور طبی شواہد نے مسلسل بتایا کہ انہیں طویل عرصے تک پولیس کی حراست میں اور بعد میں جیل میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان شکایات اور شواہد کو طویل عرصے تک نہ تو ٹرائل کورٹ اور نہ ہی ریاستی مشینری نے سنجیدگی سے لیا۔

جب معاملہ بالآخر ہائی کورٹ پہنچا، تو اس  کے پاس موقع تھا کہ وہ تشدد کے اس معاملے کو سامنے لائے اور قصوروار اہلکاروں کو جوابدہ ٹھہرائے – صرف نچلی سطح کے پولیس اہلکاروں کو ہی نہیں، بلکہ ان سینئر افسران کوبھی، جن میں کچھ آئی پی ایس افسران سمیت اعلیٰ افسران بھی شامل تھے۔

سال 2015 میں بری ہونے والے شخص نے تقریباً 100 پولیس اہلکاروں اور میڈیکل افسران کے نام لیے

عبدالواحد شیخ، جو 2015 میں مہاراشٹر کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ (مکوکا) کی عدالت سے بری ہونے والے اولین افراد میں سے ایک تھے، انہوں نے تقریباً 100 پولیس اہلکاروں اور میڈیکل افسران کے نام لیے ہیں جنہوں نے ان کے ساتھ اور 12 دیگر زیر حراست افراد کے ساتھ نا انصافی کی۔ اپنی کتاب ‘بے گناہ قیدی’ میں انہوں نے اس بربریت کو تفصیل سے بیان کیا ہے اور اس بات کا پردہ فاش کیا ہے کہ کس طرح اکثر اذیت دے کر اقبال جرم لیے جاتے  رہے ہیں۔

مکوکا، جسے ایک جابرانہ قانون سمجھا جاتا ہے، میں 30 دن تک پولیس کی تحویل اور 180 دنوں میں چارج شیٹ داخل کرنے کی چھوٹ شامل ہے۔ اس قانون کے تحت ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) کے سامنے دیے گئے بیان عدالت میں قابل قبول سمجھے جاتے ہیں۔

قانون یہ بھی لازمی قرار دیتا ہے کہ بیان ریکارڈ کرنے والا ڈی سی پی اس بات کو یقینی بنائے کہ بیان رضاکارانہ طور پر اوربغیر کسی دباؤ یا جبر کے دیا گیا ہے۔ لیکن ٹرین دھماکہ کیس میں ہراس  ڈی سی پی جس نے بیان ریکارڈ کیا، کسی نے تصدیق نہیں کی کہ قبولنامہ رضاکارانہ طور پر دیا گیا تھا یا نہیں۔

ججوں نے دفاع کے دلائل کو قبول کرتے ہوئے کہا؛


یہ معلوم کرنا ضروری تھا کہ اس کیس میں کولنگ آف پیریڈ(سوچنے کے لیےضروری وقت) کتنا ہونا چاہیے، ملزمان میں جو خوف پیدا ہو چکا تھا اس پر قابو پانے کے لیے کتنی کوشش کی ضرورت تھی، بیانات رضاکارانہ ہونے کو یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے، اور کیا ملزمان کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اگر یہ معلومات اکٹھی نہیں کی گئیں تو ڈی سی پی یہ  نتیجہ کیسے اخذ کر سکتا ہے کہ بیانات رضاکارانہ تھے؟


عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ملزمان کے اعترافی بیانات ریکارڈ کرتے وقت ان کے جسموں پر نظر آنے والے زخموں کو متعلقہ ڈی سی پی نے نظر انداز کر دیا۔ انہوں نے ان سے متعلق میڈیکل رپورٹس کا بھی جائزہ نہیں لیا۔

عدالت کے فیصلے میں ان پولیس افسران کے نام درج ہیں جنہوں نے بیانات ریکارڈ کرنے کے دوران مقررہ اصولوں پر عمل نہیں کیا۔ ان میں ڈی سی پی برجیش سنگھ، نیول بجاج اور ڈی ایم پھڈترے، پولیس سپرنٹنڈنٹ سنجے ولاس راؤ موہتے اور دتاتریہ راجا رام کرالے جیسے افسران شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ ڈی سی پی، جو کہ آئی پی ایس افسران تھے، نے ٹرائل کورٹ میں ایک جیسے ٹائپ شدہ قبولنامے جمع کرائے جو مقدمے کی سماعت کے دوران قبول کیے گئے۔

فیصلے میں آرتھر روڈ جیل کی اس وقت کی سپرنٹنڈنٹ سواتی ساٹھے کے کردار پر بھی غور کیا گیا، جن پر الزام تھا کہ انہوں نے ملزمان کو سرکاری گواہ بننے کے لیے لالچ دینے کی کوشش کی، اور جب انہوں نے انکار کیا تو 28 جون 2008 کو انہیں زدوکوب کیا گیا۔

ممبئی کے اس وقت کے پولیس کمشنر اے این رائے اور اے ٹی ایس کے سربراہ کے پی رگھوونشی پر بھی تشدد کا الزام تھا۔ یہ الزامات من گھڑت یا کسی مقدمے کی حکمت عملی کا حصہ نہیں تھے بلکہ طبی شواہد سے ان کی تائید کی گئی تھی۔

فیصلے میں دفاع کی طرف سے اپنی اپیل میں جمع کرائے گئے کئی چارٹ بھی شامل ہیں، جن میں زیر حراست افراد کے قبولنامے واپس لینے کی ٹائم لائن بھی شامل ہے۔ 12 میں سے 11 ملزمان نے اسی دن اپنے بیانات واپس لے لیے جب انہیں پولیس حراست سے عدالتی حراست میں بھیجا گیا تھا، جبکہ 12 ویں نے بھی چند دنوں میں اپنا بیان واپس لے لیا تھا۔

ہائی کورٹ نے تبصرہ کیا؛


اگر جلد سے جلد دستیاب موقع پر کوئی قبولنامہ واپس لے لیا جاتا ہے، تو اس پر اس سے زیادہ بھروسہ کیا جا سکتا ہے جب ملزم سیشن ٹرائل تک انتظار کرے… عدالتیں ایسے قبولنامے پر تب تک بھروسہ نہیں کرتی جب تک کہ دوسرے ذرائع سے اس بات کی تصدیق نہ ہو جائے کہ ملزم مجرم ہے۔ یہ کوئی قانونی قاعدہ نہیں بلکہ صوابدید کا اصول ہے۔


یہاں جس ‘صوابدید’ کا حوالہ دیا گیا ہے وہ ان ملزم کی طرف سے لگائے گئے تشدد کے متعدد الزامات سے منسلک ہے۔

عدالت نے یہ بھی بتایا کہ ٹرائل جج وائی ڈی شندے کو تشدد کے بارے میں بار بار مطلع کیا گیا، لیکن انہوں نے ان سنگین الزامات پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ تاہم، ہائی کورٹ کے فیصلے میں ٹرائل کورٹ کی اس بے عملی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔

تشدد کی نوعیت پورے مقدمے کے دوران واضح طور پر سامنے آتی رہی،جس میں ‘313 بیان’ کی ریکارڈنگ کے دوران بھی یہی ظاہر ہوا — یہ وہ عمل ہوتا ہےجس میں مقدمے کے اختتام پر ملزم کا بیان ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود، مکوکا عدالت کے جج نے شکایات یا ان کی حمایت کرنے والے طبی ثبوت پر کوئی توجہ نہیں دی۔

ہائی کورٹ کے فیصلے میں بھی اس کوتاہی پر کوئی بحث نہیں کی گئی ہے۔

عدالتی ناکامی کے باعث  انصاف کی شدید خلاف ورزی ہوئی

پولیس اور جیل کی حراست دونوں میں تشددہندوستان کے فوجداری نظام انصاف کی ایک تلخ حقیقت ہے۔ جہاں حراست میں موت واقع ہونے پر عدالتی تحقیقات لازمی ہوتی ہیں، لیکن غیر مہلک تشدد کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے۔

حراستی تشدد کے حوالے سے ہندوستان کا ریکارڈ انتہائی خراب  رہاہے۔ ہندوستان نے طویل عرصے سے اپنی ذمہ داری سے کنارہ کشی کی ہوئی ہے اور ابھی تک اقوام متحدہ کے کنونشن اگینسٹ ٹارچر (یو این سی اے ٹی) کی توثیق نہیں کی ہے۔

دفاعی وکلاء نے بار بار تفتیش میں متعدد خامیوں کی طرف اشارہ کیا، اس بات پر اصرار کیا کہ قید کیے گئے 12 افراد کی زندگی کے سب سے قیمتی سال ضائع ہو گئے، انہیں بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا – جن میں خاندان کے افراد کی موت بھی شامل ہے – اور جیل میں رہتے ہوئے ان کے تعلقات بھی شدید طور پر متاثر ہوئے۔

لیکن ان دلائل کے باوجود ہائی کورٹ نے کسی قسم کے احتساب کو یقینی نہیں بنایا۔ جبکہ عدالت کو قصوروار پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت ریمارکس دینے، انہیں سزا دینے اور ان متاثرین کو تشدد اور وقت کے ضائع ہونے پر مناسب معاوضہ دینے کا پورا اختیار تھا، لیکن فیصلے میں ان اہم پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا۔

اپنے 2015 کے فیصلے میں، مکوکا عدالت نے نہ صرف تفتیش میں کئی سنگین بے ضابطگیوں اور تشدد اور ناروا سلوک کے سنگین الزامات کو نظر انداز کیا، بلکہ ایک اہم گواہ، صادق اسرار شیخ کے دھماکہ خیز دعووں کو بھی نظر انداز کر دیا۔

صادق اسرار شیخ، جنہیں انڈین مجاہدین ماڈیول سے متعلق ایک الگ کیس میں گرفتار کیا گیا تھا، نے 2008 میں اسی مکوکا جج کے سامنے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے اور اس کی کالعدم تنظیم نے شہر میں دہشت گردانہ دھماکوں کو انجام دینے کی سازش کی تھی۔ یہ دعویٰ ان 12 افراد کی سزاؤں پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے جنہیں سزا سنائی گئی تھی۔

اسی طرح اے ٹی ایس کی ’پریشر ککر تھیوری‘ – جس میں کہا گیا تھا کہ پریشر ککر میں بم نصب کیے گئے تھے – اب مکمل طور پر منہدم ہو چکا ہے، اور دھماکے کی اصل نوعیت دو دہائیوں کے بعد بھی واضح نہیں ہے۔

مکوکا عدالت نے اس وقت اس اہم معلومات پر کوئی کارروائی نہیں کی تھی اور اب ہائی کورٹ نے حملے کی دوبارہ تحقیقات کا حکم نہ دے کر وہی غلطی دہرائی ہے۔

اس عدالتی ناکامی کے نتیجے میں ایک گہری اور سنگین عدالتی ناانصافی ہوئی ہے – نہ صرف عبدالواحد سمیت 13 قید کیے لوگوں  اور ان کے اہل خانہ کے لیے، جنہوں نے برسوں تک درد و غم برداشر کیا، بلکہ ان 189 خاندانوں کے لیے بھی جنہوں نے اس گھناؤنے حملے میں اپنے عزیزوں کو کھو دیا ہے اور آج تک حقیقی مجرموں کو سزا ملنے کی امید کر رہے ہیں۔

(انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں ۔ )