اسلام آباد: ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا-ہر فرد کے آئینی حقوق کا تحفظ کیا جائے گا؛ یہ پاکستان ہے، ہندوستان نہیں

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سیڈیشن اور دہشت گردی کے الزامات سے متعلق معاملے کی سماعت کے دوران یہ تبصرہ کیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سیڈیشن اور دہشت گردی کے الزامات سے متعلق معاملے کی سماعت کے دوران  یہ تبصرہ کیا۔

Islamabad high court Chief Justice Athar Minallah. Photo: Flickr/Heinrich-Böll-Stiftung CC BY SA 2.0

Islamabad high court Chief Justice Athar Minallah. Photo: Flickr/Heinrich-Böll-Stiftung CC BY SA 2.0

نئی دہلی: اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سوموار کوسیڈیشن اور دہشت گردی کے الزامات سے متعلق معاملے کی سماعت کے دوران  ہندوستان کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر اصرار کیا کہ اس ملک نے جمہوریت ہونے کے باوجود مظاہرین کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔جسٹس اطہر نے عدالت میں مبینہ طور پر کہاکہ،ہر فرد کے آئینی حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔ یہ پاکستان ہے ، ہندوستان نہیں۔

قابل ذکر ہے کہ  وہ عوامی ورکرز پارٹی(اے ڈبلیو پی)اور پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم)کے 23 کارکنوں کی ضمانت کی عرضیوں  پرشنوائی کر رہے تھے ۔غور طلب ہے کہ ان کارکنوں کو28 جنوری کو اسلام آباد پولیس نے پی ٹی ایم کے سربراہ اور ہیومن رائٹس کے کارکن منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے پر گرفتار کیا تھا۔الجزیرہ کی 28 جنوری کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا ،کہ پشتین کی گرفتاری کے خلاف ہزاروں افراد دارالحکومت اسلام آباد اور ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی سمیت پاکستان بھر میں سڑکوں پر نکل آئے۔ انہیں 27 جنوری کو پشاور میں حراست میں لیا گیا تھا۔

پشتین نے جنوری کے شروع میں ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک تقریر میں ملک کی فوج پر انسانی حقوق کی پامالی کا الزام لگایا تھا ، جس کے لئے حکومت نے ان کے خلاف سیڈیشن اور’مجرمانہ سازش’ کے الزامات  کے تحت معاملہ درج کیا تھا۔ اس کے بعد ، انہیں مقامی عدالت نے ضمانت دینے سے انکار کردیا تھا اور ان کو حراست میں رکھا گیا۔28 جنوری کو ، اسلام آباد پولیس نے مظاہرین کو گرفتار کیا اور مجمع میں شامل دو اہم  چہروں – شمالی وزیرستان سے ایوان زیریں کے ممبر پارلیامنٹ محسن ڈاور اور اے ڈبلیو پی کے عمار راشد پرسیڈیشن  کا الزام عائد کیا۔حالاں کہ 2 فروری کو حکومت نے عدالت کو بتایا کہ ان کے خلاف سیڈیشن  کا الزام خارج کردیا گیا ہے ، لیکن انسداد دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے)1997 کی دفعہ 7 ایف آئی آر میں درج کردی گئی ہے۔ اس کے بعد جسٹس من اللہ نے مجسٹریٹ سے وضاحت طلب کی کہ مظاہرین کے خلاف یہ الزامات کس بنیاد پر لگائےگئے۔

ڈان کی  ایک خبر کے مطابق ، پیر کی صبح ، جب ہائی کورٹ میں ضمانت کی عرضی پر سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر ، ہمزہ شفقت نے چیف جسٹس کو آگاہ کیا کہ حکومت نے مظاہرین کے خلاف تمام الزامات ختم کردیے ہیں۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مظاہرین کو ضمانت دیتے ہوئے جسٹس اطہر نے کہا ،ہمیں امید نہیں ہے کہ جمہوری حکومت اظہار رائے کی آزادی پر پابندی لگائے گی۔ ایک منتخب جمہوری حکومت اظہار رائے کی آزادی پر پابندی نہیں لگاسکتی ہے۔ (ہمیں) تنقید سے نہیں ڈرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا ،آئینی عدالتیں لوگوں کے آئینی حقوق کا تحفظ کریں گی۔ ہر ایک کے آئینی حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔ یہ پاکستان ہے ہندوستان نہیں۔

اگرچہ جسٹس نے واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ اس  تبصرے سے ان کی کیا مراد ہے ، لیکن یہ ممکنہ طور پر ہندوستان کے  نوجوان رہنماؤں کے خلاف سیڈیشن  کے بڑھتے ہوئےاستعمال کا حوالہ ہے جو حکومت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔جسٹس نے مزید کہا ،اگر آپ احتجاج کرنا چاہتے ہیں تو (پولیس کی)اجازت حاصل کریں۔ اگر آپ کو اجازت نہیں ملتی ہے تو ، عدالت یہاں ہے۔

مظاہرین پر دہشت گردی کے الزامات لگانے کے لئے دلائل دیتے ہوئے اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل طارق محمود جہانگیر نے کہا تھا کہ پاکستان دو دہائیوں سے دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے اور مظاہرین کا ‘خفیہ ایجنڈہ’ تشویش ناک ہے۔ اس خبر میں جہانگیر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ،کسی کو بھی ملک  کے خلاف کچھ نہیں کہنا چاہیے۔ اور ان لوگوں کے خلاف تحریری حکم نامہ جاری کیاجائے جو عدم اتفاق  کا اظہار کرتے ہیں یا’نفرت انگیز تقاریر کرتے ہیں’۔

اس کے جواب میں چیف جسٹس نے کہا کہ ملک  اور نہ ہی اس کے ادارے ‘اتنے کمزور’ تھے کہ محض الفاظ کا کوئی اثر پڑے گا۔اے ڈبلیو پی  کے عمار راشد ، ان دو مظاہرین میں سے ایک ، جنہیں حراست  میں لیا گیا ،انہوں نے بعد میں ٹوئٹ کیا ،امید ہے کہ اس سے ہمارے ملک (پاکستان) میں اختلاف رائے ، پرامن احتجاج اور اظہار رائے کی آزادی کو  مجرمانہ بنانے کے خلاف ایک پائیدار مثال قائم ہوگی۔