بی جے پی لیڈر نے جموں کو علیحدہ ریاست بنانے کا مطالبہ کیا، کہا – کشمیری ملک کے تئیں وفادار نہیں

بی جے پی کے سینئر لیڈر شیام لال شرما نے جموں کو علیحدہ ریاست بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جموں کوکشمیر سے الگ کر دیا جاتا ہے تو یہ خطہ معاشی، سماجی اور انتظامی طور پر خوشحال ہوگا۔ اس بیان پر ریاست کی سیاسی جماعتوں کی طرف سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ بی جے پی نے شرما کے بیان سے خود کو الگ کرلیا ہے۔

بی جے پی کے سینئر لیڈر شیام لال شرما نے جموں کو علیحدہ ریاست بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جموں کوکشمیر سے الگ کر دیا جاتا ہے تو یہ خطہ معاشی، سماجی اور انتظامی طور پر خوشحال ہوگا۔ اس بیان پر ریاست کی سیاسی جماعتوں کی طرف سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ بی جے پی نے شرما کے بیان سے خود کو الگ کرلیا ہے۔

گزشتہ سال جموں و کشمیر اسمبلی سے بجٹ اجلاس کے دوران ایوان سے واک آؤٹ کر تے ہوئے بی جے پی ایم ایل اے شیام لال شرما۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: جموں و کشمیر کے سابق وزیر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر شیام لال شرما نے جموں کو الگ ریاست بنانے کے حق میں بیان دیا ہے، جس کی ریاست کی سیاسی جماعتوں نے سخت تنقید کی ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ کشمیر کے لوگ ‘ملک کے  تئیں وفادار نہیں ہیں۔’

دکن کرونیکل  کی رپورٹ کے مطابق، شیام لال شرما نے سوموار (19 جنوری) کو کہا کہ وادی کشمیر میں جاری بدامنی نے جموں کے ‘قدرتی طور پر پرامن’ ماحول کومسلسل متاثر کیا ہے ۔

بی جے پی کےموجودہ ایم ایل اے شرما نے جموں کو الگ ریاست بنانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر جموں کو کشمیر سے الگ کیا جاتا ہے تو یہ خطہ معاشی، سماجی اور انتظامی طور پر خوشحال ہوگا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ قدرتی اور اقتصادی وسائل میں جموں کا حصہ کشمیر سے کہیں زیادہ ہے اور مرکز کے زیر انتظام علاقے میں پیدا ہونے والی بجلی کا تقریباً 80 فیصد جموں سے آتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جموں و کشمیر بینک میں جمع رقم کا 80 فیصد جموں سے آتا ہے۔ شرما نے مزید کہا کہ جموں کو کئی دہائیوں سے امتیازی سلوک کا سامنا  کرنا پڑ رہاہے۔

تنقید

جہاں شرما نے اپنے بیان کو ان کی ذاتی رائے قرار دیا،  وہیں بی جے پی قیادت نے خود کو ان کے بیان سے الگ کرتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی کی سرکاری حیثیت کی نمائندگی نہیں کرتے ہیں۔

تاہم، شرما کے تبصروں نے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں سیاسی کشیدگی کو جنم دیا ہے، ریاست کی سیاسی جماعتوں نے ان کے بیان پر سخت تنقید کی ہے۔

حکمراں نیشنل کانفرنس (این سی) کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے جموں کی علیحدگی کے خیال کو ‘مضحکہ خیز’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر تاریخی اور ثقافتی طور پر لازم و ملزوم ہیں۔

دریں اثنا، وزیر اعلی عمر عبداللہ نے بی جے پی پر لداخ کی تقسیم کے بعداسے ‘برباد’ کرنے کا الزام لگایا اور متنبہ کیا کہ جموں کی تقسیم انہی غلطیوں کو دہرائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ شرما کی تجویز سے فرقہ وارانہ تقسیم کے گہرا ہونے کا خطرہ ہے۔

سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی شرما کی تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ جموں کی ہندو اکثریتی نوعیت سے متعلق مذہبی جذبات پر مبنی ہے۔

انہوں نے یہ بھی متنبہ کیا کہ خطے کو فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کرنے سے ان سیکولر بنیادوں کو نقصان پہنچے گا جن پر جموں و کشمیر نے 1947 میں محمد علی جناح کے دو قومی نظریہ کو مسترد کرنے کے بعد ہندوستان میں شمولیت اختیار کی تھی۔

مفتی نے کہا کہ ایسا اقدام اس خیال کو جائز قرار دے گا کہ ہندو اور مسلمان ایک ہی سیاسی اکائی کے اندر  ساتھ  میں نہیں رہ سکتے۔

سابق وزیر اعلیٰ نے بی جے پی، آر ایس ایس اور بجرنگ دل پر جموں و کشمیر کو تقسیم کرنے والے تجربات کے لیے ‘لیبارٹری’ کے طور پر استعمال کرنے کا الزام بھی لگایا، جسے بعد میں ملک کے دیگر حصوں میں بھی نقل کیا جا سکتا ہے۔