چین-ہندوستان تنازعہ: چین کی ناراضگی کے چار اسباب

06:33 PM Jun 06, 2020 | افتخار گیلانی

چین کی ناراضگی کی چوتھی وجہ یہ ہے کہ حالیہ عرصے میں جو دستاویزات سامنے آئے ہیں، ان سے ثابت ہوتا ہے کہ ہندوستان-چین سرحدی تنازعہ بس ایک مفروضہ ہے، جس سے پچھلے 70سالوں سے ہندوستانی حکومت  عوام اور میڈیا کو بیوقوف بنارہی ہے۔

فوٹو: رائٹرس

لداخ کے لہیہ قصبہ کے مکین بزرگ نوانگ زیرنگ ایک چلتی پھرتی انسائیکلوپیڈیا تھے۔ دس سال قبل جب  لہیہ میں ان سے ملاقات ہوئی، تو وہ اپنی عمر نوے سال بتارہے تھے۔ چند برس قبل ان کا انتقال ہوا۔ اس پیرانہ سالی میں وہ 1962 کی ہندوستان-چین جنگ کے قصے کچھ  ایسے بیان کرتے تھے، جیسے کل کے واقعات ہوں۔ ان کی بات چیت تاریخ کے کچھ ایسے دریچے کھول دیتی تھی، جو صفحات پر آنے سے قاصر رہے ہیں۔

اس جنگ کے دوران انہوں نے دولت بیگ اولدائی کے مقام پر ہندوستانی فوج کے لیے پورٹر اور گائڈ کا کام کیا۔ ہمالیہ اور قراقرم کے بلند و بالا پہاڑی سلسلوں کے درمیان دولت بیگ اولدائی ایک وسیع و عریض بے آب و گیاہ سرد ریگستان ہے۔ موسم گرم کے بس چند ماہ اس میدان میں گھاس اور پھول دکھائی دیتے ہیں، ورنہ اس کی سطح کہرے اور برف سے ڈھکی رہتی ہے۔

سولہویں صدی میں جب کشمیر اور وسط ایشیاکے درمیان روابط عروج پر تھے، تو یارقند کے اولدائی قبیلہ کے ترک امیر سلطان سعید خان عرف دولت بیگ اور اس کا قافلہ  جب کشمیر اور لداخ پر فوج کشی کے بعد واپس جا رہا تھا کہ اس مقام پر برفانی طوفان نے ان کو آگھیرا۔ چار صدی بعد برطانوی سرویر جنرل والٹر لارنس پیمائش کے لیے اس علاقہ میں پہنچا تو وہاں انسانوں اور جانوروں کی ہڈیاں بکھری نظر آئی۔

مقامی افراد نے اس کو بتایا کہ یہ دولت بیگ اولدائی کے قافلہ کی باقیات ہیں۔ ان کو دفن کرنے کے بعد لارنس نے اس وسیع و عریض میدان اور اس کے اطراف کا نام دولت بیگ اولدائی رکھا۔ اس علاقہ میں جاڑوں میں درجہ حرارت منفی 55 ڈگری سیلسیس تک گر جاتا ہے۔ یہاں سے چینی سرحد بس آٹھ کیلومیٹر کی دوری پر ہے اور سب سے قریبی انسانی آبادی سوکلومیٹر دور مورگو گاؤں ہے، جہاں بلتی نسل کی آبادی ہے اور بھاری تعداد میں ہندوستانی فوج ہے۔

خیر زیرنگ کا کہنا تھا کہ کہ 1962میں وہ اس علاقہ میں 14جموں و کشمیر ملیشیا (اب اس کا نام جموں و کشمیر لائٹ انفینٹری ہے)اور پانچویں جاٹ ریجیمنٹ کے ساتھ بطور گائپڈ و پورٹر منسلک تھا۔ اس علاقہ میں ہندوستانی فوج کا بٹا لین ہیڈ کوارٹر بھی تھااور اس کے آس پاس 21فوجی چوکیاں قائم کی گئی تھیں۔ اکتوبر میں جنگ چھڑ چکی تھی، مگر دولت بیگ کا علاقہ ابھی تک محفوظ تھا۔ 20اکتوبر کے آس پاس دوری پر قزال، جلگا اور چاپ چپ وادی میں چینی فوج کے داخل ہونے کی خبریں موصول ہوئیں۔ ابھی تک دولت بیگ کی طرف  ان کے کوچ کی کوئی خبر نہیں تھی۔

مگر 23اکتوبر کی ٹھنڈی صبح جب زیرنگ بیدا ہوا، تو دیکھا کہ پورا بٹالین ہیڈ کوارٹر ہی خالی ہے۔ کسی جنگ کے بغیر ہی لیفٹنٹ کرنل نہال سنگھ اور میجر ایس ایس رنڈھاوا کی قیادت میں فوج نے پسپائی اختیار کی تھی۔ ان کو اندازہ تھا کہ چپ چاپ وادی کے بعد چینی فوج دولت بیگ تک ضرور آجائےگی۔ تاہم وزارت دفاع کی ہسٹری ڈویژن میں 480صفحات پر مشتمل اس جنگ پر مبنی دستاویز (جس پر ابھی بھی محدود اور اسکرٹ کا ٹھپہ لگا ہوا ہے)میں لکھا ہے کہ اس علاقہ پر چینی فوجوں نے حملہ کیا اور کئی چوکیوں پر قبضہ بھی کیا۔ پھر ہندوستانی فوج کی بٹالین نے سبھی جنگی آپریٹنگ طریقہ کارں کو روبہ عمل لاتے ہوئے راشن، بھاری ہتھیار اور امیونیشن ڈپو کو تباہ کرتے ہوئے بہادری کے ساتھ 22  اکتوبر کی رات پسپائی اختیار کی۔

بزرگ زیرنگ کا کہنا تھا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔ پسپائی کی کچھ ایسی جلدی تھی، کہ کسی نے بھی اس پورٹر اور گائیڈ کو جگانے کی زحمت نہیں کی۔ اور تو اور جن ٹرکوں پر و ہ فرار ہورہے تھے، چند میل کے فاصلہ پر رات کے اندھیرے میں وہ ایک برفانی جیل میں پھنس گئے۔دن کا انتظار کرکے ان کو ٹھیک کرنے کے بجائے، فوج نے پیدل ہی مورگو کی طرف مارچ کیا، جہاں سے ان کو لہیہ لے جایا گیا۔ نہال سنگھ اور رنڈھاوا نے وہاں بیان درج کروایا کہ دولت بیگ پر چینی فوج کا قبضہ ہو چکا ہے۔ اگلے سات ماہ تک زیرنگ نے اس علاقہ میں اکیلے زندگی گزاری۔

چونکہ راشن اور ایندھن وافر مقدار میں تھا، اس لیے کھانے پینے کی کوئی دقت نہیں تھی۔ اکیلے پن اور کسی انسانی وجود کی عدم موجودگی کی وجہ سے وہ کسی وقت دعا مانگتا تھا کہ کاش چینی فوج آکر اس کو جنگی قیدی ہی بنا ڈالے۔ موسم بہار کی آمد تک جب کسی نے اس علاقہ کے سدھ بدھ نہیں لی، تو اس نے پیدل مارچ کرنا شروع کیا۔ شاید دو دن متواتر پیدل مارچ کرنے کے بعد نیچی پرواز کرتا ہوا ایک ہیلی کاپٹر نظر آیا، جس کو و ہ اپنی موجودگی کا احساس دلانے میں کامیاب ہوا۔ ہیلی کاپٹر میں موجود ہندوستانی فضائیہ اور خفیہ محکمہ کے افراد بھی اکتوبر 1962میں ہوئی جنگ میں چینی دراندازی اور علاقہ پر قبضہ کی نوعیت کا پتہ لگانے کے مشن پر تھے۔

زیرنگ کی اطلاع پر وہ بھی حیران تھے، کیونکہ سرکاری فائلوں میں دولت بیگ پر چینی قبضہ دکھایا گیا تھا، جبکہ پورٹر کے بیان کے مطابق اس علاقہ میں چینی فوج آئی ہی نہیں تھی۔ آخر چینی افواج نے دولت بیگ کو اپنے قبضہ میں کیوں نہیں لیا ہنوز ایک معمہ ہے۔ یہ وسیع و عریض میدان ایک طرح کا قدرتی ہوائی مستقر ہے۔ ہندوستان فوج اب اس کو ہوائی پٹی کے طور پر استعمال کرتا ہے۔

بہر حال آج کل ایک بار پھر ہندوستانی اور چینی افواج لداخ اور شمال مشرق میں سکم و اروناچل پردیش کے علاقوں میں آمنے سامنے ہیں۔2013کے دیپ سانگ واقعہ کے بعد اس طرح کے واقعات متواتر پیش آرہے ہیں۔ برف پگھلنے کے بعد دونوں ملکوں کی افواج پیٹرولنگ کے لیے نکلتی ہیں۔ چونکہ علاقے میں بارڈر کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے، اس لئے فوجیں متنازعہ علاقوں کی پیٹرولنگ کرکے اس پر علامتی حق جتاتی ہیں۔

چند برسوں سے جیسے 2014میں چمور اور 2017 میں ڈوکلام کے مقام پر چینی افواج نے صرف پیٹرولنگ کے بجائے باضابطہ ڈیرا ڈال کر چوکیاں بنائی۔ ہندوستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بار بھی چینی دراندازی کا انداز بالکل مختلف ہے اور وہ کسی بھی صورت میں واپس جانے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ 2013کے بعد سے چینی برتاؤ میں تبدیلی کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ ہے کہ چالیس سال سے جاری مذاکرات کا کوئی سرا نظر نہیں آتا ہے، اور اس سے بھی بڑی وجہ جولائی 2011میں کاشغر میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکے ہیں، جن کے تار ہندوستان میں پائے گئے۔

ہندوستانی کابینہ میں موجودہ وزیرجنرل(ریٹائرڈ) وی کے سنگھ جب 2010میں من موہن سنگھ کی وزارت اعظمیٰ کے دور میں فوجی سربراہ مقرر ہوئے، تو انہوں نے ایک  انتہائی خفیہ یونٹ ’ٹیکنیکل سروسز ڈویڑن‘(ٹی ایس ڈی) تشکیل دیا۔ مئی 2012 میں وی کے سنگھ کی سبکدوشی کے فوراً بعد جب  نئے آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ نے ٹی ایس ڈی کو تحلیل کرکے اس یونٹ کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک محکمہ جاتی انکوائری کا حکم دیا، تو حکومت کے ہوش اڑ گئے۔

ملٹری آپریشن کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل ونود بھاٹیہ کی قیادت میں تقریباً ایک سال کی عرق ریزی کے بعدانکوائری کمیٹی نے ہوش رْبا انکشافات پر مشتمل ایک رپورٹ جولائی میں آرمی چیف کے سپرد کی اور اسے انتہائی خفیہ رکھنے کی تاکید کی۔ سابق آرمی چیف نے ریٹائر ہونے کے بعد حکمران کانگریس کے خلاف سیاسی محاذکھولا تھا، حتیٰ کہ انہوں نے  بھارتیہ جنتا پارٹی کی ٹکٹ پر الیکشن بھی لڑا۔اس وجہ سے کانگریسی زعما کا خیال تھا کہ اس رپورٹ کے کچھ اقتباسات افشا کرکے جنرل سنگھ کو ٹھکانے لگایا جاسکتا ہے۔

شاید کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ پرت در پرت ظاہر ہونے والی ٹی ایس ڈی کی سرگرمیاں فارن آفس کے ہوش اڑا دیں گی اور ہمسایہ ممالک کے بارے میں ہندوستان کی فوجی اور خارجہ پالیسی کے تضاد کو بے نقاب کردیں گی۔ رپورٹ کے افشا کے فوراً بعد حکومتی حلقوں نے خم ٹھونک کر اعلان کیا  تھاکہ جنرل سنگھ اور ان کے قائم کردہ خفیہ یونٹ کی سرگرمیوں کی مزید جانچ مرکزی تفتیشی ایجنسی(سی بی آئی) سے کروائی جائے گی اور تفتیش کے اختتام پر ایک چارج شیٹ بھی کورٹ میں پیش کی جائے گی۔

تب تک جنرل سنگھ کے خلاف الزامات کا دائرہ کشمیر میں سیاستدانوں کو رقوم کی فراہمی اور وزارت دفاع کے افسروں اور فوج میں اپنے مخالفین کی فون کالزٹیپ کرنے تک محدود تھا،مگر جب یہ رپورٹ وزیراعظم کے دفتر پہنچی تویہ ہوش رْبا انکشاف ہوا کہ نہ صرف اس فوجی یونٹ نے پاکستان کے اندر آپریشن ’ڈیپ اسٹرائیک‘ کے کوڈ نام کے تحت کارروائیاں کی ہیں بلکہ چینی صوبہ سنکیانگ تک بھی رسائی حاصل کر لی ہے۔کاشغر میں ہوئے دھماکے اور چین کے دیگر علاقوں میں افراتفری کے لیے بھی اسی یونٹ کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ تو اعلیٰ سطح پر فیصلہ کیا گیا کہ جامع تحقیقات سی بی آئی  کے بجائے انٹلی جنس ایجنسی (آئی بی) کے سپر د کی جائے تاکہ تحقیقات خفیہ رہے۔

جنرل بھاٹیہ کمیٹی کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اس خفیہ یونٹ نے ایک ہمسایہ ملک میں آٹھ بم دھماکے کرنے کے لیے وسائل فراہم کیے اور ایک دوسرے ہمسایہ ملک میں سیاسی اور مذہبی بے چینی کو ہوا دی۔ اس یونٹ نے ہمسایہ ملک میں سرگرم علیحدگی پسندوں کو نہ صرف وسائل فراہم کیے بلکہ انہیں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی تحریک بھی دی۔ دراصل جنرل سنگھ کے پیش روجنرل دیپک کپور نے اس طرح کاایک ڈویڑن قائم کرنے کی تجویز اس وقت کے وزیر دفاع اے کے انٹونی کو پیش کی تھی جس پر کابینہ کی سلامتی سے متعلق کمیٹی میں بحث بھی ہوئی۔

فوج کے ایک حلقے کاکہنا ہے کہ انٹونی نے جنرل سنگھ سے پہلے ہی اس یونٹ کے قیام پر اپنی مہر ثبت کردی تھی، مگر انٹونی کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ یونٹ سیاسی منظوری کے بغیر قائم کی گئی تھا۔ حقائق جو بھی ہوں،اس یونٹ نے اپنا کام باضابطہ طور پرجنرل سنگھ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد مئی2010 سے  شروع کیا اور40 افراد،جن میں آٹھ افسران اور32 دوسرے رینکس کے اہلکارتھے،کو اس کے کورگروپ میں شامل کیا گیا۔ یہ افراد براہ راست آرمی چیف کو رپورٹ کرتے تھے جبکہ انتظامی طور پر ان کو ملٹری انٹلی جنس کے ایم ون 25  یونٹ کے ماتحت رکھا گیا۔

اس مدت کے دوران کئی مقامات،خصوصاً جموں، سرینگر، احمدآباد، گوھاٹی اور ممبئی میں اس یونٹ نے کئی خفیہ ٹھکانے بنائے اور انتہائی جدید ٹیلی فون ریکارڈنگ مشینیں درآمد کیں۔اس پیش رفت کے بعد انٹلی جنس بیورو کا ماتھا ٹھنکا اور انہوں نے سویلین انتظامیہ کو متنبہ کیاکہ فوج غیرقانونی طور پر افسروں اور سیاسی قیادت کے فون ٹیپ کررہی ہے۔

چند مشینوں کے سوا،جنہیں لائن آف کنٹرول اور چینی سرحد پر متعین کیا گیا تھا، باقی مشینوں کو آئی بی نے 2013 میں ناکارہ بنادیا اور ان میں سے ایک کو دریائے چناب کی نذر کردیاگیا۔ اس یونٹ کا ہیڈکوارٹر دہلی کی فوجی چھاؤنی کے اندردومنزلہ عمارت میں بنایاگیا تھا جو جلد ہی فوجیوں میں Butchery یعنی ’قصاب خانہ‘کہلانے لگا۔ڈویڑن کی کمان جنرل سنگھ نے اپنے ایک دیرینہ رفیق کار کرنل مہیشور ناتھ بخشی المعروف ہنی بخشی کے سپرد کی تھی۔ مینڈیٹ کے بارے میں آرمی افسروں کا کہنا ہے کہ اس کا ہدف ہندوستان کی سکیورٹی پر اثر انداز ملکوں کے اندر آپریشن کرنا، عسکریت کے منبع کا قلع قمع کرنااور اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے ہوئے ان ملکوں میں علیحدگی پسندعناصرکو وسائل فراہم کرنا اور ملک میں جاری شورش ختم کرنا تھا۔

فوجی افسروں کے مطابق یہ سارے اہداف صرف 20سے30کروڑ روپے سالانہ خرچ کرکے حاصل کئے گئے تھے۔ 2012میں اس پوری یونٹ کو تحلیل کرنے کے بعد کرنل ہنی بخشی کو ملٹری پولیس نے حراست میں لےکر اس کے کورٹ مارشل کے احکامات صادر کئے۔ دہلی چھاونی میں اسی قصاب خانہ میں ہی ان کو زیر حراست رکھا گیا۔ مگر مئی 2014میں نریندر مودی کے برسراقتدار آتے ہی، کورٹ مارشل کی کارروائی ختم کر دی گئی۔ جنرل وی کے سنگھ کو وزارت میں شامل کرکے وزیر مملکت برائے امور خارجہ بنایا گیا۔ فی الوقت و ہ زمینی ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے وزیر ہیں۔

کرنل ہنی بخشی کی مراعات بحال کرکے ان کو بریگیڈیر کا درجہ دےکر ریٹائرڈ کر کے پوری تحقیقات ہی داخل دفترکی گئی۔ گو کہ من موہن سنگھ حکومت چینی ہم منصبوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہی تھی، کہ اس یونٹ کی سرگرمیوں کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں تھا اور کورٹ مارشل کی کاروائی کرکے اس نے چینی حکومت کو کسی طرح قائل بھی کردیا تھا۔ مگر مودی نے آتے ہی جس طرح اس یونٹ کی کاروائیوں کو سراہا ہے، ظاہر ہے کہ بیجنگ میں اس سے خاصی بےچینی پائی جاتی ہے۔ شاید چین کسی اور ایشو کو صرف نظر بھی کرتا، مگر کاشغر میں ہوئے بم دھماکوں اور کئی دیگر علاقوں میں ہوئی تخریبی کارروائیوں کے لیے وہ خاطیوں کو بخشنے کے موڈ میں نہیں ہے۔

چینیوں کی ناراضگی کی ایک دوسری وجہ سرحدی علاقوں میں ہندوستانی فوجیوں کی بڑھتی ہوئی نقل و حرکت ہے۔ چندسال قبل ہندوستانی کابینہ کی سلامتی سے متعلق امورکی کمیٹی نے چین کو سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے مشرقی سرحدوں کی حفاظت کے لیے پانچ سو ارب روپے کی منظوری دی جس کے تحت اس خطے میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور ایک نئی فوجی اسٹرائیک کور کا قیام شامل ہے۔پچھلے سال 66روڈ پروجیکٹوں کو منظوری دی گئی۔ جس میں ایک نیپال کی سرحد سے ملحق تبت میں موجود ہندو تیرتھ استھان کیلاش مانسرور جانے کا راستہ بھی شامل ہے۔  اسی طرح ہندوستان‘ شمالی صوبہ ہماچل پردیش کو لداخ سے ایک ٹنل کے ذریع جوڑنے کے لیے ایک خطیر رقم بھی مختص کر چکا ہے۔ ان اقدامات کے بعد چین کا رد عمل لازمی تھا۔

تیسری وجہ ہے کہ سفارتی سطح پر ہندوستان کسی بھی طرح سے سرحدی تنازعات کو سلجھانے میں دلچسپی نہیں لے رہا ہے۔ ہندوستان جوں کی توں پوزیشن برقرار رکھنے میں بضد ہے، اس لیے مذاکرات کو طول دے رہا ہے۔ 1988میں راجیو گاندھی نے بیجنگ جاکر نئے تعلقات کی داغ بیل ڈالی تھی۔ چینی رہنما صدر یانگ شانگ کن، وزیر اعظم لی پنگ اور ملٹری کمیشن کے سربراہ دنگ زیاو پنگ اس وقت چین کو ایک تجارتی اور مینوفیکچرنگ مرکز بنانے پر توجہ مرکوز کئے ہوتے تھے۔ اپنے اردگرد 14میں سے 13ممالک کے ساتھ چین سرحدی تنازعہ سلجھانے کی تگ و دو کررہا تھا، تاکہ اس کی پوری توجہ معاشی ایشوز کی طرف مرکوزرہے۔ صرف ہندوستان واحد ملک تھا، جس کے ساتھ سرحدی تنازعات کے سلسلے میں کوئی میکانزم موجود نہیں تھا۔

راجیو گاندھی کے دورہ کے دوران سرحدی تنازعات کو سلجھانے کے لیے دونوں ملکوں کے فارن دفاتر میں مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دئے گئے۔ 1993میں وزیر اعظم نرسہما راؤنے اس سعی کو اورآگے لےجاکر سرحدوں کو پرامن رکھنے کے ایک معاہدہ پر دستخط کئے۔ اس کے مطابق دونوں ملکوں کی فوجی پارٹیاں ہتھیاروں کے بغیر پٹرولنگ کرکے واپس اپنے کیمپوں میں چلی  جائےگی اور متنازعہ علاقوں میں جانے سے قبل ایک دوسر ے کو مطلع کریں گی۔اس کے علاوہ ان علاقوں میں کوئی انفراسٹرکچر کھڑا نہیں کیا جائےگا۔ 2003میں چین نے شکایت کی کہ فارن دفاتر کے ورکنگ گروپ تنازعہ کو سلجھانے کے سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی بیجنگ آمد پر دونوں ملکوں نے اتفاق کیا کہ اس مسئلہ کو فارن آفس سے لےکر ہندوستانی وزیر اعظم اور چینی صدر کے قریبی معتمدوں کے حوالے کیا جائے۔ اس طرح خصوصی نمائندو ں کا تقرر ہوا۔ ہندوستان کی طرف سے طے ہوا کہ قومی سلامتی مشیر، چونکہ ہمہ وقت وزیر اعظم کے رابطہ میں رہتا ہے، وہ چینی ہم منصبوں کے ساتھ گفت وشنید کرےگا۔ پچھلے سال تک دونوں ملکوں کے خصوصی نمائندوں نے 22ادوار کے مذاکرات کئے ہیں۔

دو سال قبل سابق قومی سلامتی مشیر شیو شنکر مینن نے راقم کو بتایا کہ خصوصی نمائندو ں کا رول اب ختم ہو چکا ہے۔ مینن، جنہوں نے پانچ سال تک یہ فریضہ انجام دیا کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے چینی ہم منصب  دائی بنگو کے ساتھ مل کر لو اور دو کے فارمولہ کے تحت ایک حل ترتیب دیا ہے۔ اور اب اعلیٰ سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ اس کو باضابطہ میز پر لائے، جو وہ کرنے سے کترارہی ہے۔

دائی بنگو نے اپنے منصب سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد ایک چینی جرنل میں لکھا تھا کہ انہوں نے ہندوستان کو تجویز دی تھی کہ گراؤنڈ پوزیشن کا احترام کرتے ہوئے، دونوں ممالک یعنی ہندوستان لداخ میں اکسائی چن پر اور چین شمال مشرق میں اروناچل پردیش پر دعویٰ واپس لے لیں اور پھر باقی سیکٹرز میں جو بارڈر پر تقریباً پانچ کیلومیٹر کا تفاوت ہے اس کو بھی مختلف سیکٹرز میں لو اور دو کے اصول کے تحت حل کرلیں۔

مگر ہندوستان کی طرف سے اس تجویز کا کوئی جواب نہیں آیا اور وہ ہر سال خصوصی نمائندوں کی میٹنگ کبھی بیجنگ اور کبھی دہلی میں طلب کرتا ہے۔ 2016میں چینی فارن آفس کی دعوت پر دہلی میں کام کرنے والے تین صحافیوں نے تبت کا ایک تفصیلی دورہ کیا۔ میں بھی اس وفد میں شامل تھا۔ تبت اور یننان صوبہ کے شنگریلا علاقے  سے واپسی پر بیجنگ میں چینی وزارت خارجہ کے سینئر افسران نے ہمیں بریفنگ میں بتایا کہ ان کا ملک مذاکرات برائے مذاکرات کا قائل نہیں ہے۔ اگر مذاکرات حل کی طرف گامزن نہ ہوں، تو وہ وقت اور قومی وسائل برباد نہیں کرسکتے ہیں۔ یعنی ہمارے ذریعے  ایک براہ راست وارننگ پہنچائی جا ررہی تھی کہ مذاکرات کے سلسلے میں چین کی قوت برداشت جواب دے رہی ہے۔

چین کی ناراضگی کی چوتھی وجہ یہ ہے کہ حالیہ عرصے میں جو دستاویزات سامنے آئے ہیں، ان سے ثابت ہوتا ہے کہ ہندوستان-چین سرحدی تنازعہ بس ایک مفروضہ ہے، جس سے پچھلے 70سالوں سے ہندوستانی حکومت  عوام اور میڈیا کو بیوقوف بنارہی ہے۔ اسی وجہ سے 58سال گزرنے کے باوجود 1962کی جنگ پر مبنی جنرل ہینڈرسن بروکس اور بریگیڈیر پریم بھگت کی تصنیف شدہ رپورٹ منظر عام پر نہیں لائی جا رہی ہے۔

معروف صحافی کلدیپ نیرنے اس رپورٹ کو منظر عام پر لانے کے لیے کئی بار پارلیامنٹ میں معاملہ اٹھایا۔ بعد میں حق اطلاعات قانون کا استعمال کرتے ہوئے انہوں نے ایک عرضی دائر کی۔ جس کو اس وقت کے چیف انفارمیشن کمشنر وجاہت حبیب اللہ نے کئی پیشیوں کے بعد خارج کردیا۔  اس دوران میں نے کئی بار انفارمیشن کمیشن کی کارروائی کو کور کیا۔ حبیب اللہ نے فیصلہ صادر کرنے سے قبل وزارت دفاع سے رپورٹ منگوا کر اس کا مطالعہ کیا تھا۔ معلوم ہوا کہ اس کی بس ایک ہی کاپی ہے اور و ہ سکریٹری دفاع کے کمرے میں ایک تجوری میں بند رہتی ہے اور اس کی کنجی صرف سکریٹری کے پاس ہی ہوتی ہے۔

حال ہی میں حبیب اللہ نے راقم کو بتایا کہ وہ اس رپورٹ کو منظر عام پر نہ لانے  اور کلدیپ نیر کی عرضی کو خارج کرنے کے اپنے فیصلہ پر قائم ہیں، کیونکہ اس رپورٹ میں ہندوستانی فوج پر خاصے بھدے کمنٹ کئے گئے ہیں اور  وہ ابھی بھی ان کے مورال کو ڈاؤن کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا کہنا ہے کہ وزارت دفاع اور وزارت خارجہ کے نقشوں میں اس قدر تفاوت ہے کہ چین اس کو ایشو بنا کر بارڈر مذاکرات میں برتری حاصل کر سکتا ہے۔

ہندوستان کے ایک معروف قانون دان اور مصنف اے جی نورانی کا بھی یہی کہنا ہے کہ یہ سرحدی تنازعہ ایک مفروضے کے سوا کچھ نہیں، جس کو ہندوستانی سفارت کاری نے گزشتہ تین دہائیوں سے فریب اور دھوکہ دہی کے ذریعے  بڑی کامیابی سے دنیا کے سامنے پیش کررکھا ہے۔ اس جھوٹے پروپیگنڈہ کا آغاز کسی اور نے نہیں بلکہ ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے خود کیا تھا۔ لیکن اب دستاویزی ثبوتوں اور تاریخی حقائق سے یہ بات سامنے آچکی ہے کہ یہ تنازعہ دنیا کے سامنے تاریخ  اور پھر سرحدی نقشوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرے کے پیش کیا گیا ہے۔

جو حقائق سامنے آئے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح ہندوستانی رہنماؤں اور سفارت کاروں نے 1959 میں تاریخی حقائق کو میڈیا اورتحقیقی اداروں سے دور رکھا‘ جس کے انتہائی نقصان دہ اور دوررس مضمرات رونما ہوئے۔ حد یہ ہے کہ کشمیر میں آزادی پسند رہنما بھی اس پروپیگنڈے کا شکار ہوکر ہندوستان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے چین‘ پاکستان سرحدی معاہدے پر انگلیاں اٹھاتے رہے۔ہندوستان کے سیاسی لیڈراکثر اس الزام کو دہراتے رہتے ہیں اور میڈیا ان بیانات کو آسمانی فرمان سمجھ کرقبول کرلیتا ہے۔27اکتوبر1947ء کو جس وقت ہندوستانی فوجیں کشمیر میں داخل ہوئی، تو ریاست جموں و کشمیر کا رقبہ 82258 مربع میل دکھایا گیا۔

ہندوستانی وزیر داخلہ سردار پٹیل نے جب ریاستوں سے متعلق ایک وہائٹ پیپر جاری کیا، تو اس میں بھی یہی رقبہ دکھایا گیا۔ 1891میں پہلی مردم شماری کے وقت ریاست کا رقبہ 80900 مربع میل دکھایا گیا تھا۔مگر 1911کی مردم شماری میں رقبہ بڑھا کر 84258مربع ریکارڈ کیا گیا۔مردم شماری کے کمشنر کی رائے پر 1941میں اس رقبہ کو گھٹا کر 82258مربع میل کردیا گیا۔1951میں پہلی مردم شماری کے وقت اسی کو دوہرایا گیا۔ البتہ 1961 کی مردم شماری میں ریاست کے رقبہ کو بڑھا کر 86024 مربع میل دکھایا گیا۔یہ جغرافیہ کہاں سے حاصل ہوا، ایک سسپنس ہے۔

اس دوران کوئی جنگ بھی نہیں ہوئی تھی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہندوستان نے جموں و کشمیر کے رقبہ میں 3766مربع میل کا اضافہ 1960 میں پاکستان کے صدر ایوب خان کے ساتھ کراچی میں تاریخی سندھ طاس آبی معاہدہ پر دستخط کرکے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے وطن لوٹنے کے فوراََ بعد کیا۔

ایوب خان کے پرنسپل سکریٹری قدرت اللہ شہاب نے اپنی خودنوشت میں لکھا ہے کہ مری کے مرغزاروں میں ایک غیررسمی بات چیت کے دوران وزیر اعظم نہرو نے معلوم کیا کہ کیا پاکستان چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ کے سلسلے میں کسی طرح کی بات چیت کررہا ہے۔ جب ایوب خان نے اثبات میں جواب دیا تو انہوں نے اس کے نقشے کوایک نظر دیکھنے کی درخواست کی۔قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں کہ یہ ایک بالکل ہی غیررسمی ملاقات تھی۔ ایوب خان نقشے کی ایک نقل بھیجنے کے لیے راضی ہوگئے لیکن پنڈت نہرو نے دہلی لوٹتے ہی اس پر سفارتی ہنگامہ مچا دیا۔ انہوں نے ایک سفارتی نوٹس جاری کرتے ہوئے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ آفیشیل چینل کے ذریعے مذکورہ نقشہ ہندوستان کے حوالے کرے۔ نہرونے اسے پاکستان اور چین کی تیار کردہ سازش تک قرار دے دیا۔

قدرت اللہ شہاب کی تقریباََ انہی باتوں کی تصدیق کرتے ہوئے  اے جی نورانی نے اپنی  کتابIndia-China Boundry Problem-1846-1947: History and Diplomacy میں لکھا ہے کہ وزارت خارجہ نے کس طرح پرانے نقشوں کو جلا دیا اور یک طرفہ طور پر ایک نیا موقف اپنایا۔ ہندوستانی وزارت خارجہ کے صدر دفتر ساؤتھ بلاک میں رات بھر چلے ایک آپریشن میں تمام نقشے جلائے گئے اور نئے نقشے ترتیب دئے گئے۔

وزیراعظم جواہر لال نہرو کی طرف سے سترہ پیراگراف پر مشتمل ایک میمورنڈم جاری کیا گیا جس میں تمام پرانے نقشوں کی نفی کرنے کی ہدایت دی گئی۔ دستاویزی ثبوتوں سے پتہ چلتا ہے کہ جو نئے نقشے تیار کئے گئے ان میں شمالی اورشمال مشرقی سرحدوں کوکسی لائن کے حوالے کے بغیر دکھایا گیا۔ پنڈت نہرو نے ان نقشوں کوبیرونی ملکوں میں تمام سفارت خانوں کو بھیجنے کا بھی حکم دیا اور مشورہ دیا کہ انہیں عوامی طور پر شائع کیا جائے اور اسکولوں اور کالجوں میں استعمال کیا جائے۔

انہوں نے حکام کو یہ مشورہ بھی دیا کہ ان سرحدوں کو ٹھوس اور حتمی سمجھا جائے اورکسی کو ان پر بحث کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ اس میمورنڈم میں مزید کہا گیا ہے کہ؛کچھ معمولی نکات پر بات چیت ہوسکتی ہے لیکن ہم اسے اپنی طرف سے نہیں اٹھائیں گے۔ یہ ضروری ہے کہ پورے سرحدی علاقوں پر چیک پوسٹ کا سسٹم پھیلا دیا جائے خاص طور پرا ن علاقوں میں جنہیں متنازعہ علاقہ سمجھا جاتا ہے۔وزیر اعظم نہرو کے اس ہدایت نامہ نے سرحد کے متعلق بات چیت کے دروازے ہی بند کردیے۔ مغربی(کشمیر) اور وسطی سیکٹر(اترپردیش) میں ’غیر واضح سرحد‘ کا جو نشان 1948اور 1950کے سرکاری نقشے میں تھا اسے 1954 کے نئے نقشے میں ختم کردیا گیا۔مزید برآں حکومت  نے یہ تاثر بھی پیش کیا‘ جسے کشمیری لیڈروں نے بھی بڑی حد تسلیم کرلیا‘کہ پاکستان نے کچھ علاقہ چین کے حوالے کردیا ہے۔ تاہم دستاویزی ثبوتوں سے پتہ چلتا ہے کہ حقیقت اس کے برعکس تھی۔

دراصل 3مارچ1963 کو پاک‘ چین معاہدہ کے تحت چین نے ا پنا 750مربع میل کا علاقہ پاکستان کے حوالے کیا تھا۔ تھا۔یونیورسٹی آف کلکتہ اینڈ نارتھ بردوان کے ڈاکٹر بی این گوسوامی کا بھی یہی خیال ہے کہ ”محدود ہی سہی لیکن عوام کا ایک قابل ذکر طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ معاہدہ مناسب اور درست تھا“۔ بیرون ملک کے غیر جانبدار مبصرین اوراس موضوع کے ماہرین کا بھی یہی خیال ہے کہ ہندوستان کے اس دعوے میں کوئی زیادہ زور نہیں ہے کہ پاکستان نے اپنا علاقہ چین کے حوالے کردیا ہے۔  نورانی ایک منقسم کابینہ‘ غیر ذمہ دار اپوزیشن‘لاعلم پریس اور غیر مستحکم پارلیمنٹ کو سرحد کے مسئلہ کو پیچیدہ بنانے کے لیے ذمہ دار گردانتے ہیں۔

وہ مزید انکشاف کرتے ہیں کہ وزارت خارجہ میں شعبہ تاریخ کے ڈائریکٹر کے زکریا نے 1953 میں جو جامع اور معروضی مطالعہ پیش کیا تھااس پر اب تک رازداری کا پردہ پڑا ہوا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ تاریخی حقائق اور سرحدی تنازعہ سے متعلق ہندوستانی پالیسی میں کوئی میل دکھائی نہیں دیتااور سفارت کاری نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنادیاہے۔چینی وزیر اعظم چو این لائی بھی 1960ء میں نئی دہلی کے دورہ کے دوران مسئلے کے کسی حل کو تسلیم کرنے کے لیے تیار تھے جب کہ چینی رہنما دنگ زیاؤ پینگ نے بھی  1978چین کے دورے پر گئے اس وقت کے وزیر خارجہ اٹل بہاری واجپائی سے سرحدی تنازعہ کو حل کرنے کی بات کہی تھی۔ نورانی کا خیال ہے کہ ہندوستان اور چین کے درمیان گہرے ہوتے اختلافات کے سفارتی نقصانات لامحدود ہیں بالخصوص ایسی صورت حال میں جب کہ ہندوستان کے اپنے پڑوسیوں اور خاص طور پر پاکستا ن کے ساتھ تعلقات خوشگوار نہیں ہیں۔