ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں کی جانب سے ایک دوسرے کی نیوز ویب سائٹ کو اپنے ملک میں مسلسل بلاک کیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور ان سے ایک دوسرے کی نیوز ویب سائٹ پر سے یہ پابندی ہٹانے اور سرحد پار صحافت تک رسائی بحال کرنے کی اپیل کی ہے۔

علامتی تصویر(فوٹو: دی وائر)
نئی دہلی: ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں کی جانب سے ایک دوسرے کی نیوز ویب سائٹ کو مسلسل بلاک کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے ۔
بدھ (14 جنوری) کو جاری ایک بیان میں گلڈ نے کہا،’جنوبی ایشیا کے پڑوسی ممالک کے درمیان خبروں تک غیرمحدود رسائی خطے کے لوگوں اور ممالک کے درمیان یقین اور افہام و تفہیم کا ماحول بنانے کے لیے ایک بنیادی شرط ہے ۔ خبروں، نظریات، نقطہ نظر اور معلومات تک بلا روک ٹوک رسائی باخبر شہری پیدا کرے گی، مکالمے کو فروغ دے گی، اور خطے میں امن کے لیے راہ ہموار کرے گی۔’
گلڈ نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک میں میڈیا کے کچھ حصوں کے ذریعے غلط معلومات پھیلانے، فرضی خبریں چلانے اوردہشت پیدا کرنے کے واقعات سامنے آئے ہیں، لیکن اس نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی قسم کی پابندی ‘زمینی حقائق کو ختم نہیں کرتی’ اور یہ ‘جمہوریت اور آزادی اظہار کی روح’ کے خلاف ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ’ایسی پابندیوں اور غیر اخلاقی صحافت کے واقعات کو زیادہ ذمہ داری کے ساتھ حل کیا جانا چاہیے، رسائی کو روک دینا حل نہیں ہے۔ وسیع پابندیاں زمینی حقائق کو مٹاتی نہیں ہیں، بلکہ خوف اور عدم اعتماد کی فضا پیدا کرتی ہیں۔ اس طرح کی پابندیاں جمہوریت اور آزادی اظہار کی روح کے منافی ہیں۔’
گلڈ نے دونوں حکومتوں سے نیوز ویب سائٹ پر پابندی ہٹانے اور سرحد پار صحافت تک رسائی بحال کرنے کی اپیل کی ہے۔
غورطلب ہے کہ گزشتہ سال مئی میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان فوجی تصادم کے دوران مبینہ طور پر رافیل طیارے کے گرائے جانے سے متعلق سی این این کی رپورٹ شائع کرنے کے بعد دی وائر کی ویب سائٹ کو 12 سے 15 گھنٹے سے زیادہ کے لیے بلاک کر دیا گیا تھا۔
وزارت اطلاعات و نشریات کی شرائط کے مطابق، رپورٹ ہٹانے پر رضامندی کے بعد ویب سائٹ کو ان-بلاک کیا گیا تھا۔ تاہم، اس دوران سی این این کی رپورٹ دستیاب تھی۔
اس وقت کئی دیگر ہندوستانی میڈیا پلیٹ فارم بھی اس پابندی سےمتاثر ہوئے تھے۔ ان میں بی بی سی اردو، مکتوب میڈیا اور دیگر شامل تھے، جن کے سوشل میڈیا ہینڈل بلاک کیے گئے تھے۔
اس کے علاوہ، پہلگام حملے کے جواب میں ہندوستانی مسلح افواج کی جانب سے آپریشن سیندور شروع کرنے کے بعد، وزارت نے 1,400 یو آر ایل کو بلاک کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ ان میں ڈان نیوز، جیو نیوز، اے آر وائی نیوز، بول نیوز، اور سماء ٹی وی سمیت متعدد پاکستانی نیوز ویب سائٹس شامل تھیں، جن پر ہندوستان مخالف مواد کی تشہیر اور پروپیگنڈہ کرنے کا الزام لگایا گیاتھا۔
ان میں سے متعدد ویب سائٹ پر اب بھی پابندی جاری ہے۔