ہندوستان اب بھی ایک انتخابی آمریت ہے، لبرل ڈیموکریسی انڈیکس میں پانچ درجہ نیچے گرا: وی-ڈیم رپورٹ

وی-ڈیم کی سالانہ رپورٹ کے مطابق، 2025 کے اختتام تک دنیا میں 92 آمریت والے ممالک اور 87 جمہوری ممالک موجود تھے۔ ہندوستان ابھی بھی ایک ’انتخابی آمریت‘ یعنی الیکٹورل آٹو کریسی بنا ہوا ہے، اس زمرے میں وہ 2017 میں شامل ہوا تھا۔ 179 ممالک میں ہندوستان لبرل ڈیموکریسی انڈیکس میں 105ویں مقام پر ہے، جبکہ پچھلے سال یہ 100 ویں مقام پر تھا۔

وی-ڈیم کی سالانہ رپورٹ کے مطابق، 2025 کے اختتام تک دنیا میں 92 آمریت والے ممالک اور 87 جمہوری ممالک موجود تھے۔ ہندوستان ابھی بھی ایک ’انتخابی آمریت‘ یعنی الیکٹورل آٹو کریسی بنا ہوا ہے، اس زمرے میں وہ 2017 میں شامل ہوا تھا۔ 179 ممالک میں ہندوستان لبرل ڈیموکریسی انڈیکس میں 105ویں مقام پر ہے، جبکہ پچھلے سال یہ 100 ویں مقام پر تھا۔

علامتی تصویر: پی ٹی آئی

نئی دہلی: آج دنیا میں جمہوریت کے مقابلے میں آمریت والے ممالک کی تعداد زیادہ ہے۔ وی-ڈیم کی سالانہ رپورٹ کے مطابق، 2025 کے آخر تک دنیا میں 92 آمریت والے (آٹوکریسی) اور 87 جمہوری ممالک موجود تھے۔ ہندوستان دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ’انتخابی آمریت‘ یعنی الیکٹورل آٹوکریسی ممالک میں شامل ہے۔

یہ ڈیموکریسی رپورٹ دنیا بھر میں سب سے زیادہ حوالے میں آنے والی رپورٹس میں سے ایک ہے اور اسے سویڈن کی گوتھن برگ یونیورسٹی کے وی-ڈیم انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے شائع کیا جاتا ہے۔ 2026 کی رپورٹ کا عنوان ہے- ’ڈیموکریسی رپورٹ 2026: ان ریویلنگ دی ڈیموکریٹک ایرا۔‘

رپورٹ کے مطابق، دنیا کے ایک اوسط شہری کے لیے جمہوریت کی سطح واپس 1978 کے درجے پر پہنچ گئی ہے۔ 1974 میں پرتگال سے شروع ہونے والی ’جمہوریت کی تیسری لہر‘ سے حاصل ہونے والی پیش رفت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

گزشتہ 50 برسوں میں پہلی بار امریکہ اب ’لبرل جمہوریت‘ نہیں رہا۔ رپورٹ کے مطابق، اب دنیا کی 74 فیصد آبادی آمریت کے زیر اقتدار رہتی ہے۔

سال2025کے آخر تک دنیا کے پانچ سب سے زیادہ آبادی والے ممالک میں سے چار-ہندوستان، چین، انڈونیشیا اور پاکستان-آمریت والے ممالک ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ بھی تیزی سے آمریت کی جانب بڑھ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، 2025 میں ’انتخابی آمریت‘ سب سے زیادہ آبادی والا طرز حکومت بن گیا ہے، جس کے تحت دنیا کی تقریباً نصف آبادی-46 فیصد (3.8 ارب افراد)—آتی ہے۔ ہندوستان، پاکستان اور حال ہی میں انڈونیشیا اس زمرے کے بڑے ممالک میں شامل ہیں۔

ہندوستان ابھی بھی ’انتخابی آمریت‘ ہے، اور اس زمرے میں وہ 2017 میں شامل ہوا تھا۔ 179 ممالک میں ہندوستان لبرل ڈیموکریسی انڈیکس میں 105ویں مقام پر ہے، جو پچھلے سال 100ویں پر تھا۔

الیکٹورل ڈیموکریسی انڈیکس میں ہندوستان 106ویں مقام پر پے، لبرل کمپوننٹ انڈیکس میں 99ویں مقام پر، اور ایگیلیٹیرین کمپوننٹ انڈیکس میں 138ویں مقام پر ہے۔ پارٹیسپیٹری کمپوننٹ انڈیکس میں ہندوستان 83ویں جبکہ ڈیلیبریٹو کمپوننٹ میں 100ویں مقام پر ہے۔

رپورٹ کے مطابق، جنوبی اور وسطی ایشیا میں رجحانات مختلف ہیں، لیکن اوسطاً اس خطے میں جمہوریت کی سطح دنیا کے زیادہ تر حصوں سے کافی نیچے ہے اور نسبتاً مستحکم ہے۔ تاہم، یہاں کے عام شہری سب سے زیادہ آمریت کا سامنا کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، 2025 کے اعداد و شمار 1976 کی سطح پر واپس آ گئے ہیں۔ دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہونے کے باعث ہندوستان اس گراوٹ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

تاہم، افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان میں آمریت کی طرف جھکاؤ بھی اس میں بڑا حصہ ڈال رہا ہے۔ یہ رپورٹ بنگلہ دیش میں ہونے والے انتخابات سے پہلے شائع کی گئی تھی، جس میں اس سال طارق رحمان وزیر اعظم منتخب ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق، جنوبی اور وسطی ایشیا میں صرف 2 فیصد لوگ (انتخابی) جمہوریت کا فائدہ اٹھا رہے ہیں، اور یہ سب نیپال اور سری لنکا میں ہیں۔ ’گرے زون‘ جمہوریت—بھوٹان، منگولیا اور مالدیپ-میں رہنے والی آبادی بہت کم ہے۔ بڑی آبادی (85 فیصد) ہندوستان، قازقستان اور پاکستان جیسے انتخابی آمریت والے ممالک میں رہتی ہے۔

وہیں، افغانستان اور ترکمانستان جیسے مکمل آمریت والے ممالک میں 13 فیصد آبادی رہتی ہے، جس میں 2025 میں بنگلہ دیش بھی شامل ہو گیا۔

اس خطے میں صرف سری لنکا (7 فیصد آبادی) جمہوریت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ہندوستان ان چار ممالک میں شامل ہے (29 فیصد آبادی) جو آمریت کی طرف بڑھ رہے ہیں، دیگر ممالک افغانستان، کرغزستان اور پاکستان ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، ہندوستان کا آمریت کی طرف بڑھنا (2009 سے) جمہوری اداروں کو بتدریج اور منصوبہ بندی کے تحت کمزور کرنا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکمران ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور وزیر اعظم مودی کی جانب سے جمہوریت کو کمزور کرنے کی مثالوں میں اظہار رائے کی آزادی اور میڈیا کی آزادی میں گراوٹ، حکومت کی تنقید کرنے والے صحافیوں کو ہراساں کرنا، اور سول سوسائٹی و اپوزیشن پر حملے شامل ہیں۔

رپورٹ  کے اس حصےمیں بھی ہندوستان کا ذکر ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ 22 ممالک میں پرنٹ اور براڈکاسٹ میڈیا کے مختلف نظریے ختم ہوتے جا رہے ہیں، اور 21 ممالک میں حکومت کے فیصلوں اور کاموں پر تنقیدی جائزہ ختم ہوتا جا  رہا ہے۔ امریکہ بھی ان ممالک میں شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اظہاررائے کی آزادی سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے-2025 میں 44 ممالک میں اس میں گراوٹ درج کی گئی۔ میڈیا سنسرشپ آمریت کی طرف بڑھنے والی حکومتوں کا سب سے عام ہتھیار بن چکی ہے، جسے 32 ممالک (73 فیصد) استعمال کر رہے ہیں۔

ہندوستان ان ممالک میں بھی شامل ہے، جہاں حکومت کے غیر قانونی اقدامات کو روکنے میں پارلیامنٹ کا اثر کمزور ہوتا جا رہا ہے۔

امریکہ اور ہندوستان ان ممالک میں بھی شامل ہیں، جہاں فعال سول سوسائٹی کمزور ہو رہی ہے اور اہم فیصلوں سے پہلے مشاورت کا عمل محدود ہو رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مغربی یورپ اور شمالی امریکہ میں بھی عام شہری کے لیے جمہوریت کی سطح گزشتہ 50 سال کی کم ترین سطح پر ہے، جس کی بڑی وجہ امریکہ میں آمریت کی طرف بڑھتا رجحان ہے۔

رپورٹ میں 2025 میں 10 نئے ممالک کی نشاندہی کی گئی ہے جو آمریت کی طرف بڑھ رہے ہیں، جن میں برطانیہ بھی شامل ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سول سوسائٹی پر جبر میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اب یہ 30 ایسے ممالک کو متاثر کر رہا ہے جو آمریت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔