افغانستان کا الزام – کابل کے اسپتال پر پاکستان کے حملے میں 400 افراد ہلاک

افغانستان نے الزام لگایا ہے کہ سوموار  کی رات دیر گئے دارالحکومت کابل میں ایک اسپتال پر پاکستان کے فضائی حملے میں 400 لوگوں کی جان چلی گئی۔ وہیں،پاکستان نے اسپتال پر حملے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے حملے، جو مشرقی افغانستان میں بھی کیے گئے، میں کسی بھی شہری مقام کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

افغانستان نے الزام لگایا ہے کہ سوموار  کی رات دیر گئے دارالحکومت کابل میں ایک اسپتال پر پاکستان کے فضائی حملے میں 400 لوگوں کی جان چلی گئی۔ وہیں،پاکستان نے اسپتال پر حملے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے حملے، جو مشرقی افغانستان میں بھی کیے گئے، میں کسی بھی شہری مقام کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک منشیات بحالی (ڈرگ ریہیبلیٹیشن) ہسپتال پر سوموار کی رات دیر گئے ہوئے فضائی حملے کے مقام پر کھڑی دو خواتین ۔ (تصویر: اے پی / پی ٹی آئی)

کابل: افغانستان نے الزام عائد کیاہے کہ سوموار (16 مارچ) کی رات دیر گئے دارالحکومت کابل میں ایک ڈرگ ریہیبلیٹیشن اسپتال پر کیے گئے فضائی حملے میں پاکستان نے کم از کم 400 افراد کو ہلاک کر دیا۔ یہ گزشتہ ماہ کے آخر میں شروع ہونے والے تنازعہ میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، جہاں سرحد پار جھڑپوں اور افغانستان کے اندر فضائی حملوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر جنگ بندی کی اپیلوں کو نظرانداز کیا گیا ہے۔

پاکستان نے اسپتال پر حملے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے حملے، جو مشرقی افغانستان میں بھی کیے گئے، کسی بھی شہری مقام کو نشانہ نہیں بناتے۔

افغان حکومت کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ یہ فضائی حملہ مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 9 بجے کابل کے اسپتال پر ہوا، جس سے 2000 بستروں پر مشتمل اس اسپتال کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا۔ ان کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 400 تک پہنچ چکی ہے جبکہ تقریباً 250 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

مقامی ٹی وی چینلوں نے ایسے ویڈیوز شیئر کیے، جن میں سکیورٹی اہلکار ٹارچ کی روشنی میں زخمی افرادکو باہر نکالتے دکھائی دے رہے ہیں جبکہ فائر فائٹرز عمارت کے ملبے میں لگی آگ بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فطرت کے مطابق امدادی ٹیمیں آگ پر قابو پانے اور لاشیں نکالنے میں مصروف ہیں۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب چند گھنٹے قبل ہی دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر فائرنگ ہوئی تھی، جس میں افغانستان میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ حالیہ برسوں میں دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان مہلک ترین تنازعہ کے تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔

افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستان پر ‘اسپتالوں اور شہری مقامات کو نشانہ بنا کر خوف پھیلانے’ کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے تمام افراد اسپتال کے مریض تھے۔

انہوں نے کہا، ‘ہم اس جرم کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اسے تمام تسلیم شدہ اصولوں کے خلاف اور انسانیت کے خلاف جرم سمجھتے ہیں۔’

پاکستان نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے ترجمان مشرف زیدی نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ کابل میں کسی اسپتال کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے منگل کی صبح کہا کہ پاکستانی فوج نے ‘درست نشانے والے فضائی حملے’ کیے جن کا ہدف کابل اور مشرقی صوبہ ننگرہار میں فوجی ٹھکانے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کابل کے دو مقامات پر ‘تکنیکی معاونت کے ڈھانچے اور اسلحہ گودام’ تباہ کیے گئے۔

انہوں نے کہا،’تمام حملے مکمل درستگی کے ساتھ صرف ان ڈھانچوں پر کیے گئے ہیں جنہیں افغان طالبان حکومت مختلف دہشت گرد نیٹ ورکس کی معاونت کے لیے استعمال کر رہی ہے۔’

پاکستان کی وزارت اطلاعات نے پہلے مجاہد کے دعوؤں کو ‘جھوٹا اور گمراہ کن’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد جذبات بھڑکانا اور سرحد پار دہشت گردی کو دی جانے والی ‘غیر قانونی حمایت’ کو چھپانا ہے۔ وزارت نے کہا کہ پاکستان کی کارروائی ‘انتہائی محتاط اور درست’ طریقے سے کی گئی تاکہ کسی قسم کا نقصان نہ ہو۔

اقوام متحدہ کی اپیل

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان کے طالبان حکمرانوں سے دہشت گردی کے خلاف اپنی کوششیں تیز کرنے کی اپیل کی تھی۔ پاکستان مسلسل کابل پر الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ شدت پسند گروہوں، خصوصاً پاکستانی طالبان، کو پناہ دیتا ہے جو پاکستان میں حملے کرتے ہیں، جبکہ کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

سلامتی کونسل کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی، جس میں ہر قسم کی دہشت گرد سرگرمیوں کی مذمت کی گئی اور افغانستان میں اقوام متحدہ کے سیاسی مشن کی مدت میں تین ماہ کی توسیع کی گئی۔

حالیہ تنازعہ کا پس منظر

دونوں ممالک کے درمیان یہ تنازعہ، جو حالیہ برسوں میں سب سے شدید ہے، فروری کے اواخر میں اس وقت شروع ہوا جب افغانستان نے پاکستان کے فضائی حملوں کے جواب میں سرحد پار کارروائیاں کیں۔ ان جھڑپوں نے اکتوبر میں قطر کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کو بھی متاثر کیا، جب پہلے کی لڑائی میں درجنوں فوجی، عام شہری اور مشتبہ عسکریت پسند ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ ‘کھلی جنگ’ کی صورتحال میں ہے۔ اس تنازعہ نے بین الاقوامی برادری کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ خطے میں دیگر شدت پسند تنظیمیں بھی سرگرم ہیں اور دوبارہ مضبوط ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔

اتوار کو پاکستان کے وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ فوج نے 684 افغان طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے، جسے افغانستان نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اصل تعداد اس سے کہیں کم ہے۔

وہیں، افغانستان کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس نے 100 سے زائد پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کیا ہے۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ افغان طالبان انتظامیہ نے ڈرون حملوں کے ذریعے حد پار کر دی ہے، جن میں گزشتہ ہفتے پاکستان میں کئی شہری زخمی ہوئے۔ اس کے جواب میں پاکستان فضائیہ نے ہفتے کے آخر میں افغانستان کے قندھار صوبے میں آلات کے ذخائر اور تکنیکی ڈھانچوں پر حملے کیے۔ کابل کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں ایک خالی سکیورٹی مقام اور ایک ڈرگ ریہیبلیٹیشن مرکز کو معمولی نقصان پہنچا۔

کابل میں انتظامی نائب وزیر اعظم عبدالسلام حنفی نے کہا کہ ملک کی خودمختاری کا دفاع کرنا تمام شہریوں کا فرض ہے۔ انہوں نے حالیہ پاکستانی حملوں میں شہری ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ افغانستان پر مسلط کی گئی ہے۔