وارانسی: بھارتیہ جنتا یوا مورچہ لیڈر کی شکایت پر گنگا میں کشتی پر افطار کرنے والے 14 مسلمان گرفتار

وارانسی میں گنگا ندی کے بیچ کشتی پر افطار پارٹی کرنے اور بریانی کھا کر ہڈیاں ندی میں پھینکنے کے الزام میں 14 مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر بھارتیہ جنتا یوا مورچہ کے ایک عہدیدار کی شکایت پر درج کی گئی، جنہوں نے ان  افراد پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام لگایا ہے۔

وارانسی میں گنگا ندی کے بیچ کشتی پر افطار پارٹی کرنے اور بریانی کھا کر ہڈیاں ندی میں پھینکنے کے الزام میں 14 مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر بھارتیہ جنتا یوا مورچہ کے ایک عہدیدار کی شکایت پر درج کی گئی، جنہوں نے ان  افراد پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام لگایا ہے۔

گرفتار کیے گئے مسلم نوجوان۔ (تصویر: سوشل میڈیا ویڈیو اسکرین گریب)

نئی دہلی: اتر پردیش کے وارانسی میں گنگا ندی کے بیچ کشتی پر ’افطار ‘ کرنے اور بریانی کھا کر ہڈیاں ندی میں پھینکنے کے الزام میں 14 مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر بھارتیہ جنتا یوا مورچہ کے رجت جیسوال کی شکایت پر درج کی گئی تھی، جنہوں نے ان پر مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کا الزام لگایا ہے۔

ایف آئی آر درج کروانے والے بی جے وائی ایم او عہدیدار کا کہنا ہے؛


’مسلم نوجوانوں کی طرف سے جس طرح گنگا جی میں گوشت کا استعمال کیا گیا ہے… یہ ہم تمام سناتن دھرم کے پیروکاروں کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ ہم اس کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔‘


یہ واقعہ سوموار (16 مارچ) کا ہے۔ پولیس ڈپٹی کمشنر کو دی گئی شکایت میں لکھا گیا ہے، ’اس عمل کے ذریعے مسلم برادری کے یہ نوجوان جان بوجھ کر جہادی ذہنیت کو فروغ دے رہے ہیں۔ آپ سے گزارش ہے کہ ان کے اس نازیبا اور جان بوجھ کر ہندو جذبات کو مجروح کرنے کے لیے کیے گئے عمل پر مناسب دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے سخت تعزیری کارروائی کی جائے اور فوری طور پر سب کی گرفتاری یقینی بنائی جائے۔‘

شکایت کنندہ نے پولیس کو مذکورہ ویڈیو بھی فراہم کی ہے۔ ساتھ ہی اس کشتی بان کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس نے اپنی کشتی ’افطار‘پارٹی کے لیے استعمال کرنے دی۔

اس شکایت کے چند ہی گھنٹوں بعد پولیس نے نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق، ایک پولیس افسر نے کہا،’ہم معاملے کی جانچ کر رہے ہیں اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنا رہے ہیں۔‘