سرکاری آرڈر کے بعد یوٹیوب چینل 4 پی ایم نیوز بند، مدیر نے کہا – سخت تنقید کی وجہ سے ہوئی کارروائی

مدیر سنجے شرما کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے، جب ان کے چینل کو حکومت کی جانب سے اس طرح کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس سے پہلے بھی گزشتہ سال پہلگام کے دہشت گرد حملے کے وقت چینل بند کروایا گیا تھا اور بعد میں جب معاملہ سپریم کورٹ پہنچا، تو حکومت نے خاموشی سے اپنا آرڈر واپس لے لیا اور چینل کو دوبارہ بحال کر دیا گیا تھا۔

مدیر سنجے شرما کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے، جب ان کے چینل کو حکومت کی جانب سے اس طرح کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس سے پہلے بھی گزشتہ سال پہلگام کے دہشت گرد حملے کے وقت چینل بند کروایا گیا تھا اور بعد میں جب معاملہ سپریم کورٹ پہنچا، تو حکومت نے خاموشی سے اپنا آرڈر واپس لے لیا اور چینل کو دوبارہ بحال کر دیا گیا تھا۔

تصویر بہ شکریہ: یوٹیوب

نئی دہلی:یوٹیوب چینل ’4 پی ایم نیوز‘کھولنے پر اب یہ پیغام نظر آ رہا ہے کہ  ’قومی سلامتی یا عوامی نظم و ضبط سے متعلق حکومت کے ایک آرڈر کی وجہ سے یہ چینل فی الحال اس ملک میں دستیاب نہیں ہے۔‘جمعرات (12 مارچ) سے یہ چینل یوٹیوب پر نظر نہیں آ رہا ہے۔

اس چینل کے مدیر سنجے شرما نے الزام لگایا ہے کہ حکومت ان کی سخت تنقید کی وجہ سے بار بار چینل کو بین کر کے سچ کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔

دی وائر سے بات کرتے ہوئے سنجے شرما نے کہا کہ انہیں یوٹیوب کی طرف سے موصول ہونے والے ای میل میں چینل بند کرنے کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں دی گئی۔ صرف اتنا کہا گیا ہے کہ حکومت کی ہدایت پر قومی سلامتی اور عوامی نظم و ضبط کا حوالہ دیتے ہوئے چینل کو بند کیا جا رہا ہے۔

تاہم، ان کا ماننا ہے کہ ایران کے پروفیسر عباس کے ساتھ بات چیت کے ویڈیو کی وجہ سے یہ کارروائی کی گئی ہے۔

سنجے شرما نے بتایا کہ ان کا یوٹیوب چینل صرف ہندوستان  میں بین کیا گیا ہے، بیرون ملک اسے ابھی بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

سنجے شرما مطابق، یہ پہلی بار نہیں ہے، جب حکومت نے ان کے چینل کے خلاف ایسی کارروائی کی ہو۔ اس سے پہلے بھی گزشتہ سال پہلگام دہشت گرد حملے کے وقت اسی الزام کی ’آڑ‘ میں چینل بند کروایا گیا تھا۔ بعد میں جب معاملہ سپریم کورٹ پہنچا تو حکومت نے خاموشی سے اپنا آرڈر واپس لے لیا اور چینل بحال کر دیا گیا۔

سنجے شرما کا کہنا ہے کہ 2022کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے دوران بھی ان کے چینل پر پابندی لگائی گئی تھی۔ ان کا الزام ہے کہ جب سے یوگی آدتیہ ناتھ اتر پردیش کے اقتدار میں آئے ہیں تب سے ان پر مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ حکومت کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں اور سرکارسے سخت سوال نہ پوچھیں۔

گزشتہ 8-9 سالوں سے مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے:  مدیر

مدیر کے مطابق، انہیں پچھلے 8-9سالوں سے مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔ پہلے ان کے اخبار کو نشانہ بنایا گیا اور پھر ان کے یوٹیوب چینل کو بین کر کے انہیں صحافت کرنے سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وہ کہتے ہیں،’یوگی آدتیہ ناتھ کے اقتدار میں آنے کے چھ ماہ بعد ان کے ایک سینئر افسر نے مجھے بلایا اور کہا کہ وزیراعلیٰ آپ سے بہت ناراض ہیں کیونکہ آپ ان کے خلاف خبریں شائع کر رہے ہیں… میں نے ان سے کہا کہ ہم کسی حکومت کے خلاف نہیں لکھتے، ہم صرف اقتدار میں بیٹھے لوگوں سے سوال کرتے ہیں۔‘

سنجے شرما بتاتے ہیں جب انہوں نے اس افسر کی بات نہیں مانی، تو ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کر کے انہیں پریشان کرنے کی کوشش کی گئی۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ انہوں نے اپنے اخبار میں اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) سے متعلق ایک خبر شائع کی، جس پر ایس ٹی ایف کے چیف نے ان کے خلاف اور ان کی اہلیہ کے خلاف- جن کے نام پر اخبار تھا- ہتک عزت کا مقدمہ دائر کر دیا۔ اس کے چند دنوں بعد ان کے دفتر پر  حملہ کیا گیا۔

سنجے شرما کے مطابق، عام آدمی پارٹی کے رہنما سنجے سنگھ کا ایک انٹرویو کرنے کے بعد انہیں حکومت کی طرف سے دیا گیا سرکاری فلیٹ، جو اس وقت صحافیوں کو دیے گئے تھے، ان سے خالی کروا لیا گیا۔ ان کی سرکاری منظوری (اکریڈیشن) بھی منسوخ کر دی گئی۔ ان کے اخبار کو اشتہارات بھی نہیں دیے گئے۔ ان سب مشکلات کے بعد انہوں نے اپنا یوٹیوب چینل شروع کیا جسے لوگ بڑی تعداد میں دیکھ رہے ہیں، لیکن یہی بات حکومت کو ناگوار گزر رہی ہے۔

وہ کہتے ہیں،’اتر پردیش انتخابات کے دوران جب پہلی بار میرا چینل بند ہوا تو میں نےیو پی 4 پی ایم کے نام سے نیا چینل بنا لیا۔ اورہم نے قانونی لڑائی بھی جاری رکھی۔ میرے وکیل نے یوٹیوب کو سخت نوٹس بھیجا، جس کے بعد تیسرے دن انہوں نے معافی مانگتے ہوئے ہمارا چینل بحال کر دیا۔‘

وہ مزید بتاتے ہیں کہ ان کے نیشنل 4پی ایم چینل کے تقریباً 85 لاکھ سبسکرائبرز ہیں اور ویورشپ تقریباً ایک کروڑ کے آس پاس ہے۔ جبکہ یوپی 4 پی ایم کے تقریباً 18 لاکھ سبسکرائبرز ہیں۔

حکومت سے سوال پوچھنے پر کارروائی

پہلگام حملے کے بعد چینل کے خلاف کارروائی کے بارے میں وہ کہتے ہیں،’میں نے صرف یہ سوال اٹھایا تھا کہ دہشت گرد وہاں داخل کیسے ہوئے؟ اس کے بعد میرے خلاف انکم ٹیکس اور ای ڈی کی تحقیقات کی سفارش کر دی گئی۔ اب ہم نے صرف یہ سوال پوچھا کہ ایران تو ہندوستان کا دوست ہے، پھر حکومت اس کے ساتھ ایسا رویہ کیوں اختیار کر رہی ہے؟ جو کسی بھی صحافی کو پوچھنا چاہیے۔ اس پر ہمارے چینل کے خلاف ملکی مفاد کے نام پر کارروائی کر دی گئی۔‘

سنجے شرما کے مطابق، اس دوران انہیں گجرات کی عدالت سے کئی نوٹس ملے ہیں اور لکھنؤ میں بھی ان کے خلاف کئی مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں انہیں بہت زیادہ تحقیقات اور سرکاری کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

غور طلب ہے کہ گزشتہ سال مئی میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان فوجی کشیدگی کے دوران رافیل طیاروں کے مبینہ طور پر مار گرائے جانے سے متعلق سی این این کی ایک رپورٹ شائع کرنے کے بعد دی وائر کی ویب سائٹ کو 12 سے 15 گھنٹے سے زیادہ وقت تک بلاک کر دیا گیا تھا۔

گزشتہ ماہ دی وائر کا انسٹاگرام اکاؤنٹ  وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت پر طنزیہ کارٹون کی وجہ سے 9 فروری کی شام تقریباً دو گھنٹے کے لیے ہندوستان میں بلاک رہا۔ اس معاملے میں وزارت نے ذمہ داری لینے سے انکار کیا، جبکہ میٹا کی جانب سے ‘غلطی’ کی بات سامنے آئی۔ پیشگی اطلاع کے بغیر کی گئی اس کارروائی نے اظہار رائے کی آزادی اور ڈیجیٹل سنسرشپ پر سوال کھڑے کیے۔