اسکولوں میں مڈ ڈے میل کی باقاعدہ فراہمی بھی گیس کے بحران کے باعث متاثر ہوتی نظر آ رہی ہے۔ اس سلسلے میں رائٹ ٹو فوڈ کیمپین نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ اس منصوبے کے لیے گیس کی فراہمی کو ترجیحی بنیادوں پر اور زیادہ منظم طریقے سے یقینی بنایا جائے۔

علامتی تصویر بہ شکریہ: ILO Asia-Pacific/Flickr (CC BY-NC-ND 2.0)
نئی دہلی: مغربی ایشیا میں کشیدگی کے باعث ہندوستان کے کئی حصوں میں ایل پی جی کی فراہمی میں رکاوٹ دیکھنے کومل رہی ہے۔ اس دوران اسکولوں میں مڈ ڈے میل کی باقاعدہ فراہمی بھی متاثر ہوتی نظر آ رہی ہے، جس پر رائٹ ٹو فوڈ کیمپین نے حکومت سے اس منصوبے کے لیے گیس کی فراہمی کو ترجیحی بنیادوں پر اور زیادہ مربوط طریقے سے یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔
معلوم ہو کہ یہ مہم ہندوستان میں خوراک کے حق کے لیے سرگرم تنظیموں اور افراد کا ایک غیر رسمی گروپ ہے۔
اس مہم کی جانب سے منگل (17 مارچ) کو جاری بیان میں اس بات کی جانب توجہ دلائی گئی کہ لاکھوں بچوں، خصوصی طور پر معاشی طور پر کمزور خاندانوں کے بچوں کے لیے، اسکول میں ملنے والا دوپہر کا کھانا دن کا سب سے زیادہ غذائیت سے بھرپور کھانا ہوتا ہے۔
مہم نے مزید کہا کہ اس اقدام میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ سے طلبہ کی حاضری اور تعلیمی نتائج پر بھی منفی اثر پڑے گا۔
میڈیا میں آئی خبروں کے مطابق، کئی ریاستوں کے اسکول ایل پی جی ختم ہونے کے خدشے سے دوچار ہیں، جہاں کہیں وہ سلنڈر بُک کروانے یا ریفل کروانے میں پریشانی کا سامنے کر رہے ہیں، یا انہوں نے اپنے مینو میں تبدیلی کی ہے، یا بچوں کو دوپہر کا کھانا فراہم کرنے کے لیے گیس کے بجائے لکڑی کا استعمال شروع کر دیا ہے۔
مہم نے کہا، ’اس طرح کی رکاوٹیں پروگرام کے تسلسل اور معیار کے لیے سنگین خطرہ پیدا کرتی ہیں۔ کھانا تیار کرنے میں کسی بھی قسم کی مشکل نہ صرف بچوں کی غذائیت کو متاثر کرتی ہے بلکہ اسکول میں ان کی حاضری، سیکھنے کے نتائج اور پسماندہ طبقات کے بچوں کی مجموعی صحت پر بھی اثر ڈالتی ہے۔‘
مہم نے کہا مڈ ڈے میل اسکیم (جسے سرکاری طور پر پی ایم پوشن اسکیم کہا جاتا ہے) کے لیے کھانا پکانے کے انتظامات میں کوئی رکاوٹ نہ آئے، یہ یقینی بنانا نہ صرف بچوں کے خوراک کے حق بلکہ تعلیم کے حق کے تحفظ کے لیے بھی ضروری ہے۔
اس مہم نے مہاراشٹر حکومت کے اس فیصلے کی تعریف کی جس میں ایل پی جی فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ سیلف ہیلپ گروپوں اور مڈ ڈے میل اسکیم چلانے والے کچن کو ترجیح دیں۔
تاہم، مختلف ریاستوں سے آنے والی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ پورے ملک میں زیادہ مربوط اور منظم ردعمل کی ضرورت ہے۔
مہم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مڈ ڈے میل اور انٹیگریٹڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ سروسز اسکیموں کے لیے ایل پی جی فراہم کرنے والے کچن کو ایل پی جی کی تقسیم میں ترجیح دے۔ ساتھ ہی ڈسٹری بیوٹرز کو ہدایت دی جائے کہ وہ اسکولوں اور آنگن واڑی مراکز کو بروقت فراہمی اور ریفل یقینی بنائیں، گیس کا ذخیرہ برقرار رکھیں، صورتحال پر کڑی نگرانی کریں اور بلیک مارکیٹنگ اور بے ضابطگیوں کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔
مہم کے مطابق، ’حکومت کو ان پروگراموں کے لیے ایل پی جی کی فراہمی کو ایک لازمی پبلک سروس کے طور پر تسلیم کرنا چاہیے اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہیے۔‘
مہم نے ان رسوئیوں، معاونین، اساتذہ اور کمیونٹی تنظیموں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے جو تمام مشکلات کے باوجود مڈ ڈے میل پروگرام کو جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس حوالے سے مہم نے کہا،’ہم حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ فوری اصلاحی اقدامات کریں تاکہ کوئی بھی بچہ اپنے خواراک کے حق سے محروم نہ رہے۔‘
غور طلب ہے کہ ہندوستان کی ایل پی جی درآمدات بڑی حد تک آبنائے ہرمز پر منحصر ہیں، جسے ایران نے امریکہ-اسرائیل حملوں کے جواب میں بند کر دیا ہے۔ حکومت نے گھریلو صارفین کو ایندھن کی فراہمی کو ترجیح دی ہے، جس کے باعث ریستوران جیسے تجارتی صارفین کو گیس کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔