رام مندر چڑھاوا: گرفتاریوں کے بیچ چمپت رائے کے استعفیٰ پر وی ایچ پی نے کہا – ہمیں کوئی جانکاری نہیں

02:59 PM Jun 27, 2026 | دی وائر اسٹاف

ایودھیا پولیس نے رام مندر میں چڑھاوے کے پیسے اور قیمتی سامان کی چوری، ہیرا پھیری اور غبن کے معاملے میں آٹھ ملزمین کو گرفتار کرکے عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔ دریں اثنا، شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے اور ٹرسٹی انل مشرا نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وشو ہندو پریشد، جس کے چمپت رائے بین الاقوامی نائب صدر ہیں، نے کہا ہے کہ اسے استعفیٰ کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے۔

جمعہ، 26 جون 2026 کو ایودھیا میں رام مندر کےچڑھاوے کے پیسے کے مبینہ غبن کےمعاملے میں پولیس اہلکار ملزمین کو عدالت لے جاتے ہوئے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی:ایودھیا میں جمعرات کو درج ایف آئی آر میں نامزد تمام آٹھ ملزمین کو جمعہ (26 جون) کو گرفتار کرکے عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا۔ یہ ایف آئی آر شہر کے رام مندر سے پیسے اور قیمتی اشیا کی چوری، ہیرا پھیری اور غبن کی شکایت پر درج کی گئی تھی۔

جمعہ کو ہی شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے اور ٹرسٹی انل مشرا، جو مبینہ طور پر لاپتہ چڑھاوےکے پیسےکے تنازعہ کے مرکز میں رہے ہیں، نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔مبینہ طور پر چمپت رائے نے ’اخلاقی بنیادوں‘پر استعفیٰ دیا۔

تاہم، پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی)، جس کے چمپت رائے بین الاقوامی نائب صدر ہیں، نے جمعہ کو کہا کہ اسے استعفیٰ کے بارے میں ’کوئی جانکاری نہیں‘ہے۔ رپورٹ میں تنظیم کے ترجمان ونود بنسل کے حوالے سے یہ بات کہی گئی۔ اس سے قبل وی ایچ پی کے سربراہ آلوک کمار نے مندر میں مبینہ چوری کی خبروں کو’انتہائی افسوسناک‘قرار دیا تھا۔

رام مندر ٹرسٹ کے ایک ٹرسٹی کی شکایت پر درج ایف آئی آر میں اویناش مشرا، لوکش مشرا، ان کے بھائی انوکلپ مشرا، منیش کمار یادو، کرونیش پانڈے، رما شنکر یادو عرف ٹنو، رما شنکر مشرا (کیش کاؤنٹر انچارج) اور سبھاش شریواستو کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ مندر انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں میں صرف سبھاش شریواستو کا نام ایف آئی آر میں شامل ہے، جو چندہ گنتی مرکز کے انچارج تھے۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق، جمعہ کی دوپہر ایودھیا کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت کے استغاثہ افسر کے سی ورما نے صحافیوں کو بتایا کہ ملزمین کو سوموار (29 جون) کو خصوصی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آٹھ میں سے سات ملزمین کے پاس سے 79 لاکھ 85 ہزار 493 روپے برآمد کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق، سبھاش شریواستو مبینہ غبن کی سازش میں شامل تھے، لیکن ان کے پاس سے کوئی برآمدگی نہیں ہوئی۔

جمعہ کو گرفتار ہونے والوں میں چمپت رائے کے ڈرائیور ٹنو یادو بھی شامل ہیں، جنہیں ان کا قریبی ساتھی بتایا جاتا ہے۔

حالاں کہ،چمپت رائے کا نام ایف آئی آر میں شامل نہیں ہے، لیکن ریاستی حکومت کی تشکیل کردہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے مندر احاطے میں ان سے اور ٹرسٹ سے وابستہ بعض دیگر افراد سے کئی گھنٹوں تک پوچھ گچھ کی تھی۔

کہا جاتا ہے کہ چمپت رائے مندر کے روزمرہ کے کام کاج کی نگرانی سے وابستہ رہے ہیں۔ 2019 میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بنے اس مندر کی تعمیر اور انتظامی امور میں ان کا اہم کردار رہا ہے۔ وہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے کل وقتی پرچارک رہے ہیں، کئی دہائیوں سے وی ایچ پی سے وابستہ ہیں اور بابری مسجد انہدام تحریک کے بڑے چہروں  میں شامل رہے ہیں۔

ایودھیا کے ایک اہم مذہبی مرکز منی رام چھاؤنی کے مہنت نرتیہ گوپال داس کو ٹرسٹ کا صدر مقرر کیا گیا تھا۔

دوسری جانب، وزیر اعظم کے دفتر کے سابق پرنسپل سکریٹری اور شری رام جنم بھومی مندر تعمیراتی کمیٹی کے چیئرمین نریپیندر مشرا نے پہلے چمپت رائے کا دفاع کیا تھا اور مندر کے روزمرہ کے کام کاج کو سنبھالنے کے لیے ایک کل وقتی چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مقرر کرنے کی تجویز دی تھی۔

یہ ایف آئی آر ان الزامات کے تقریباً تین ہفتے بعد درج کی گئی، جن میں کہا گیا تھا کہ عقیدت مندوں کی جانب سے رام مندر میں چڑھائے گئے کروڑوں روپے اور سونے چاندی کی قیمتی اشیا غائب ہوگئی ہیں۔

سات جون کو یہ الزامات سامنے کے بعد بڑا تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا۔ اس کے بعد اتر پردیش حکومت نے براہ راست پولیس تحقیقات شروع کرنے کے بجائے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی۔ اس دوران کئی ایسے لوگ، جنہوں نے مندر میں قیمتی اشیا عطیہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا، سوشل میڈیا اور مختلف نیوز پلیٹ فارموں پر سامنے آئے اور ٹرسٹ سے جوابدہی کا مطالبہ کرنے لگے۔

کارسیوک پورم کے پجاری اور چند دیگر لوگوں نے مبینہ چوری کی خبروں پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے عوام کے خدشات دور کرنے کی کوشش کی، لیکن عوامی غصہ مسلسل بڑھتا گیا۔

آخرکار، 26 جون کو کوتوالی رام جنم بھومی تھانے کی پولیس نے مندر ٹرسٹ کے رکن کرشن موہن کی شکایت کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کی۔

مندر کے انتظام و انصرام پر سوال اٹھانے والی دیگر مذہبی شخصیات نے بھی چمپت رائے پر انگلی اٹھائی ہے۔ انہوں نے مندر کے قیام میں ہندو روایات سے انحراف، ٹرسٹ کے معاملات میں سیاسی مداخلت اور مندر کے انتظامی امور سے متعلق کئی دیگر باتوں پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔

انڈین ایکسپریس کی جمعہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مندر نے عطیات اور فنڈز کے انتظام کی ذمہ داری ایک بینک کو سونپی  ہے، جس نے بدلے میں یہ کام کرنے کے لیے ایک نجی ایجنسی کو آؤٹ سورس کر دیا۔ تاہم، یہ واضح نہیں ہے کہ گرفتار کیے گئے ملزمین میں سے کوئی اس آؤٹ سورس ٹیم کا حصہ تھا یا مندر ٹرسٹ کا ملازم۔

دوسری جانب، ایس آئی ٹی کی جانچ ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے۔ لکھنؤ ڈویژن کے کمشنر وجئے وشواس پنت، لکھنؤ رینج کی پولیس انسپکٹر جنرل کرن ایس، اور محکمہ خزانہ کے اسپیشل سکریٹری نیل رتن کی سربراہی میں قائم اس ٹیم نے اب تک صرف اپنی ابتدائی رپورٹ وزیر اعلیٰ کے چیف سکریٹری سنجے پرساد کو سونپی ہے، جس کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے جاری نہیں کی گئی ہیں۔

جمعہ کو آئی خبروں کے مطابق، ایس آئی ٹی کے ارکان آئندہ دنوں میں ایودھیا میں واقع مندر کا دوبارہ دورہ کریں گے اور عطیات کے انتظام کو مزید سخت اور شفاف بنانے کے لیے سفارشات اور تجاویز پیش کریں گے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے دفتر کو حتمی رپورٹ پیش کرنے کے لیے ایس آئی ٹی کو مزید 15 دن کی مہلت دی گئی ہے۔

اس سے قبل وزیر اعلیٰ نے مبینہ چوری پر تشویش کا اظہار کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ نیو انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق، اس کے بعد ایس آئی ٹی نے ٹرسٹیوں، چمپت رائے اور ایف آئی آر میں نامزد دیگر لوگوں سے پوچھ گچھ شروع کی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایس آئی ٹی کی پوچھ گچھ کی بنیاد پر 2 کروڑ روپے اور سونا برآمد کیا گیا۔ تاہم، بعد میں ایک عدالتی افسر کی جانب سے تقریباً 79.85 لاکھ روپے کی برآمدگی کا ذکر کیا گیا، جو ابتدائی رپورٹ میں بتائی گئی رقم سے کافی کم ہے۔

دی وائر نے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ 19 جون کو سابق کارسیوک سنتوش دوبے نے ان سے پہلےدو دیگر لوگوں کے ساتھ ایودھیا کی مقامی پولیس میں مبینہ چوری کے سلسلے میں شکایت درج کرائی تھی۔ تینوں شکایات میں شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے کا ذکر کیا گیا تھا، جبکہ ایک شکایت میں ان پر گمشدہ عطیات کے لیے براہ راست ذمہ دار ہونے کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔ تاہم، ان شکایات کی بنیاد پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی تھی۔

اس پورے معاملے کی آزادانہ تحقیقات کرانے کے مطالبے پر سپریم کورٹ میں ایک علیحدہ عرضی بھی دائر کی گئی ہے۔ تاہم، عدالت نے اس معاملے کا ذکر 29 جون کو کرنے کو کہا ہے۔

گزشتہ19جون کی دینک بھاسکر کی رپورٹ کے مطابق، ایس آئی ٹی نے عطیہ دہندگان کے بیانات بھی قلمبند کیے۔ ان میں ممبئی کے تاجر انل وشوکرما بھی شامل ہیں، جنہوں نے الزام لگایا کہ ان کے خاندان نے ایودھیا مندر میں براجمان رام للا کو 3 کلوگرام چاندی کی مالا اور 1 کلوگرام چاندی کی چرن پادوکا بطور عطیہ پیش کی تھی، لیکن انہیں اس کی کوئی رسید فراہم نہیں کی گئی۔

انڈین ایکسپریس نے 24 جون کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا کہ تقریباً چھ سال قبل ایک نجی آڈیٹنگ فرم نے مندر کے مالیاتی انتظام میں سنگین خامیوں کے بارے میں خبردار کیا تھا، لیکن ان انتباہات کو مبینہ طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔

یہ ایف آئی آر بھارتیہ نیائے سنہتا، 2023 کی دفعات 306، 316(5)، 317(4)، 317(5)، 61 اور 3(5) کے تحت درج کی گئی ہے۔ ان دفعات کا تعلق چوری کی سازش، چوری، کرمنل بریچ آف ٹرسٹ، چوری کی املاک کو چھپانے یا اس سے متعلق لین دین کرنے اور مجرمانہ سازش جیسے الزامات سے ہے۔

یہ تنازعہ پہلی بار اس وقت سامنے آیا جب اتر پردیش کے سابق وزیر پون پانڈے نے الزام لگایا کہ رام مندر سے 5 کروڑ سے 7.5 کروڑ روپے تک کی رقم غائب ہو گئی ہے۔ بعد ازاں سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے بھی ان الزامات کو عوامی سطح پر اٹھایا۔ تقریباً ایک ہفتے بعد ریاستی حکومت نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی۔