بی جے پی ہے اصلی ’ٹکڑے ٹکڑے گینگ‘، مسلمانوں کے بعد سکھوں کے خلاف ہندوؤں کو بھڑکا رہی: سکھ بیر سنگھ بادل

بی جے پی کی سابق اتحادی پارٹی اکالی دل کے صدرسکھ بیر سنگھ بادل نے کہا کہ بی جے پی بے شرمی سے ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف اکسا رہی ہےاوراب افسوس ناک طریقے سے امن پسند پنجابی ہندوؤں کو ان کے سکھ بھائیوں بالخصوص کسانوں کے خلاف کر رہی ہے۔ وہ محب وطن پنجاب کو فرقہ واریت کی آگ میں دھکیل رہے ہیں۔

بی جے پی کی سابق اتحادی پارٹی اکالی دل کے صدرسکھ بیر سنگھ بادل نے کہا کہ بی جے پی بے شرمی سے ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف اکسا رہی ہےاوراب افسوس ناک طریقے سے امن پسند پنجابی ہندوؤں کو ان کے سکھ بھائیوں بالخصوص کسانوں کے خلاف کر رہی ہے۔ وہ  محب وطن  پنجاب کو فرقہ واریت  کی آگ میں دھکیل رہے ہیں۔

سکھ بیر سنگھ بادل۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

سکھ بیر سنگھ بادل۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی:مرکز کے تین زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے مظاہرہ کے مد نظر بی جے پی پر حملہ بولتے ہوئے شرومنی اکالی دل کے صدر سکھ بیر سنگھ بادل نے منگل کو اپنی سابق اتحادی پارٹی کو ‘اصلی ٹکڑے ٹکڑے گینگ’قرار دیا اور اس پر پنجاب میں ہندوؤں کو سکھوں کے خلاف کرنے کاالزام لگایا۔

بادل نے کہا، ‘بی جے پی نے پہلے ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف کیا’ اور یہ پارٹی ‘سب سے طاقتوربانٹنے والی طاقت’ بن گئی ہے، جو ‘پنجاب میں اپنے خراب کھیل کو انجام دینا چاہتی ہے’۔بادل نے کہا کہ بی جے پی کو متنازعہ قوانین پر ‘گھمنڈی رویہ’ چھوڑکر کسانوں کی بات مان لینی چاہیے۔ انہوں نے بی جے پی کو وارننگ کے انداز میں ہندوؤں کو سکھوں کے خلاف کرنے سے بچنے کو کہا۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مرکزی حکومت کے حق میں بولتا ہے تو اسے ‘محب وطن’کہا جاتا ہے اوراگر وہ اس کے خلاف بولتا ہے تو اسے ‘ٹکڑے ٹکڑے گینگ’ کہا جاتا ہے۔

بادل نے ایک ٹوئٹ میں الزام لگایا،‘ملک میں بی جے پی اصلی ٹکڑے ٹکڑے گینگ ہے۔ اس نے ملک  کی ایکتا کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے، بےشرمی سے ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف اکسا رہی ہے اور اب افسوس ناک طریقے سے امن پسند پنجابی ہندوؤں کو ان کے سکھ بھائیوں بالخصوص کسانوں کے خلاف کر رہی ہے۔ وہ محب وطن پنجاب کو فرقہ واریت  کی آگ میں دھکیل رہے ہیں۔’

اکالی دل نے پارلیامنٹ سے پاس زرعی قوانین کے خلاف مرکز میں مقتدرہ این ڈی اےسے ناطہ توڑ لیا تھا۔ اکالی دل کی رہنما اور سکھ بیر سنگھ بادل کی بیوی ہرسمرت کور بادل نے مرکزی وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

بعد میں بادل نے ایک بیان میں الزام لگایا کہ بی جے پی ایک کمیونٹی کو دوسرے کے خلاف کرکے ملک کو ٹکڑوں میں بانٹ رہی ہے۔انہوں نے الزام لگایا،‘وہ اقتدار کے لیے اتنی گر چکی ہے کہ اسے فرقہ وارانہ پولرائزیشن کا راستہ اپنانے اور ملک کو فرقہ وارانہ  آگ میں دھکیلنے میں بھی شرم نہیں ہے۔’

بادل نے کہا، ‘وہ (بی جے پی)پنجاب میں ہمارے امن پسند ہندو بھائیوں کو ان کے سکھ بھائیوں کے خلاف کرنے کی سازش کررہی ہے جن کے ساتھ ان کے صدیوں سے خون کے مضبوط رشتے رہے ہیں۔ بی جے پی خون کے ان رشتوں کی جگہ خون خرابہ چاہتی ہے۔’

اکالی دل کےصدر نے بی جے پی پر صرف بیہودہ سیاسی مقصد کی تکمیل  کے لیے بڑی محنت سے بنائے گئے امن و امان  اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی  کے ماحول کو بگاڑنے کی خطرناک سازش کرنے  کاالزام لگایا۔انہوں نے کہا، ‘بی جے پی قیادت کو سمجھنا چاہیے کہ آج ان کی پارٹی سب سے زیادہ طاقتور بانٹنے والی طاقت بن گئی ہے۔ یہ ملک کو بانٹ رہی ہے اور اس کے لوگ دھرم کے نام پر نفرت پھیلا رہے ہیں۔’

اکالی دل چیف نے کسانوں کے مظاہرہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ‘بی جے پی کو چھوڑکر پوراملک خاکساری کے ساتھ ہمارے محب وطن  کسانوں اور جوانوں کے ہمارے اوپر قرض کو مانتا ہے۔’

انہوں نے کہا، ‘بی جے پی لوگوں کو اس قرض کو نہیں ماننے کے لیے اکسا رہی ہے۔ وہ صرف کسانوں کی قربانی کو جذباتی طریقے سے بھنانے میں بھروسہ رکھتی ہے، لیکن ان کےلیے اتنی بے شرم  ہو گئی ہے کہ انہیں ملک مخالف کہہ رہی ہے۔’

بادل نے کہا، ‘آج وہ کسانوں کے خلاف ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ بی جے پی کو اگر کل ٹھیک لگا تو جوانوں کے بارے میں بھی کیا کہہ سکتی ہے۔ کسان صدمے میں  ہیں اور بی جے پی سے ناراض ہیں۔’انہوں نے کہا کہ کتنی حیرانی کی بات ہے کہ ہندوستان  کی وراثت پر فخر کرنے کا دعویٰ کرنے والی پارٹی ان وراثتوں کی بنیاد کو ہی برباد کرنے پر تلی ہے۔

بتا دیں کہ پنجاب اور ہریانہ جیسی ریاستوں کے سینکڑوں کسانوں نےمتنازعہ قوانین کے خلاف دو ہفتہ سے زیادہ سے دہلی کی سرحدوں سے سٹے کچھ شاہراہوں کو جام کر دیا ہے۔انہیں خدشہ ہے کہ حکومت ریاست کی جانب سے کم سے کم مقررہ قیمتوں پر سیدھے فصل خرید نابند کر دےگی جس کوایم ایس پی کہا جاتا ہے۔
ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ حکومت امبانی اور اڈانی جیسے بڑے کارپوریٹ گروپوں کی خودمختاری کاراستہ کھولنے کی تیاری کر رہی ہے۔جب تک سرکار ان قوانین کو رد نہیں کرتی ہے، اجتجاج کرنے والے کسانوں نے ملک بھر میں اپنے مظاہرہ کو بڑھانے کی قسم کھائی ہے۔ حکومت نے اب تک ان کی مانگ پر دھیان دینے سے انکار کر دیا ہے۔

پچھلے 9 دسمبر کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ بیٹھک کے بعدوزارت زراعت کے ذریعہ متنازعہ قوانین کے بارے  میں بھیجے گئے مسودہ کو کسان تنظیموں نےمتفقہ طور پرخارج کر دیا تھا۔تنظیموں نے کہا تھا کہ 14 دسمبر کو کسان بی جے پی کے دفتروں کا گھیراؤ کریں گے اور ملک کے کئی حصوں میں ان قوانین  کے خلاف مظاہرہ کریں گے ۔ ملک کے کئی حصوں کے کسانوں کو دہلی بلایا جا رہا ہے۔

متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف پچھلے 20 دنوں سے دہلی کی سرحدوں پرمظاہرہ کر رہے کسانوں نے سوموار کو دن بھر بھوک ہڑتال بھی کی۔ اس کے ساتھ ہی ملک کے دیگر حصوں میں بھی کسانوں نے مظاہرہ کیا۔انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، دہلی کے سنگھو بارڈر پر کسانوں نے اپنا رخ سخت کر لیا ہے اور کہا ہے کہ وہ سرکار سے ان قوانین کو ختم کرواکر مانیں گے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ان کی لڑائی اب اس سطح پر پہنچ گئی ہے جہاں انہوں نے جیتنا طے کر لیا ہے، چاہے جو ہو جائے۔ انہوں نے اپنی مانگوں کے لیے بدھ کو دہلی اور نوئیڈا کے بیچ چلا بارڈر کو پوری طرح سے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کسان یونین سمجھوتے سے پیچھے نہیں ہٹ رہے ہیں، بلکہ سرکار کو کسی مضبوط تجویز کے ساتھ آگے آنا چاہیے۔سنگھو بارڈر پر پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے کسان رہنما جگجیت سنگھ دلیوال نے کہا، ‘سرکار کہہ رہی ہے کہ وہ ان قوانین کو ختم نہیں کرےگی، ہم کہتے ہیں ایسا کرواکر رہیں گے۔’

کسان تنظیموں نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ان سب کسانوں کے لیے ایک ملک گیر تعزیت کاانعقاد کریں گے، جو موجودہ مظاہروں  کے دوران مارے گئے۔بھارتیہ کسان یونین کے ہریانہ ریاست کے چیف گرنام سنگھ چاڈھونی نے کہا کہ یا تومظاہرہ  کے دوران یا مظاہرہ  سے گھر جانے کے دوران اب تک 14 کسانوں کی موت ہو چکی ہے۔

مظاہرےکا انعقادکر رہے لوگوں نے منگل کو سنگھو بارڈر پر 67 سالہ گرمیت سنگھ کی موت  کی تصدیق  کی جو کہ پنجاب کے موہالی ضلع کے کانڈلا گاؤں کے کسان تھے۔

(خبررساں  ایجنسی بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)