الیکٹورل بانڈ: لاٹری، انفرا اور کان کنی کمپنیاں عطیہ دہندگان میں سرفہرست؛ کس نے کس کو چندہ دیا، اس بارے میں جانکاری نہیں

جمعرات کو ای سی آئی کی جانب سے شائع ڈیٹا ہمیں 2019 اور 2024 کے درمیان سیاسی جماعتوں کو چندہ دینے والے کارپوریشن، نجی کاروباری گھرانے اور افراد کی فہرست فراہم کرتا ہے، لیکن یہ اس بارے میں کوئی جانکاری نہیں دیتا ہے کہ کس پارٹی نے کس کمپنی سے حاصل بانڈ کو کیش کرایا۔

جمعرات کو ای سی آئی کی جانب سے شائع ڈیٹا ہمیں 2019 اور 2024 کے درمیان سیاسی جماعتوں کو چندہ دینے والے کارپوریشن، نجی کاروباری گھرانے اور افراد کی فہرست فراہم کرتا ہے، لیکن یہ اس بارے میں کوئی جانکاری نہیں دیتا ہے کہ کس پارٹی نے کس کمپنی سے حاصل بانڈ کو کیش کرایا۔

(تصویر بہ شکریہ: PIB/Twitter)

(تصویر بہ شکریہ: PIB/Twitter)

نئی دہلی: عدالت کی جانب سے دی گئی آخری تاریخ سے ایک دن پہلےالیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے 2019 سے خریدے اور کیش کرائے گئے الیکٹورل بانڈ پر اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کی جانب سے فراہم کردہ ڈیٹا کو اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر  دیا ہے۔

کمیشن نے ڈیٹا کے دو سیٹ اپ لوڈ کیے ہیں ۔ ایک فائل میں کمپنیوں کے ذریعےبانڈ کی خریداری کی تاریخ وار فہرست ہے اور دوسری فائل میں بانڈ کو کیش کرانے والی سیاسی جماعتوں کی طرف سے ڈپازٹ کی تاریخ وار فہرست ہے۔ دی وائر نے 30 سب سے بڑے عطیہ دہندگان کی فہرست تیار کی ہے۔

الیکٹورل بانڈ کے 30 سب سے بڑے خریدار۔ (ماخذ: الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سےاپ لوڈ کیے گئے پی ڈی ایف سے دی وائر کے ذریعے مرتب کیا گیا۔)

الیکٹورل بانڈ کے 30 سب سے بڑے خریدار۔ (ماخذ: الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سےاپ لوڈ کیے گئے پی ڈی ایف سے دی وائر کے ذریعے مرتب کیا گیا۔)

اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ کمپنیوں اور افراد نے یہ بانڈ تین قیمتوں میں خریدے – 1 لاکھ روپے، 10 لاکھ روپے اور 1 کروڑ روپے۔ یہ 12 اپریل 2019 سے خریدے گئے۔ الیکٹورل بانڈ اسکیم 2018 میں شروع کی گئی تھی اور پہلے سال میں تقریباً 2500 کروڑ روپے کے بانڈ فروخت کیے گئے تھے، لیکن وہ ڈیٹا ابھی تک دستیاب نہیں کرایا گیا ہے۔

حالاں کہ ، ای سی آئی کی طرف سے جمعرات کو شائع ڈیٹا ہمیں 2019 اور 2024 کے درمیان سیاسی جماعتوں کو چندہ دینے والوں کارپوریشن، نجی کاروباری گھرانوں اور افراد کی فہرست فراہم کرتا ہے،لیکن یہ اس بارے میں کوئی جانکاری نہیں دیتا کہ کس پارٹی نے کس کمپنی سے حاصل بانڈ کو کیش کرایا۔

حالانکہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر کہا تھا کہ سیاسی چندےکے حوالے سے غیر شفافیت کمپنیوں اور حکومت میں بیٹھے سیاسی جماعتوں کے درمیان باہمی سمجھوتے کی بنیاد ہو سکتی ہے، لیکن ایس بی آئی کے ڈیٹا جاری کرنے کے لیے 30 جون کی ڈیڈ لائن مانگے جانے پر بنچ نے اس ہفتے اس سے کہا تھا کہ اس کے پاس جو بھی ڈیٹا دستیاب ہے اسے فوراً  دستیاب  کرائے۔

تمام الیکٹورل بانڈ کا ایک منفرد شناختی نمبر ہوتا ہے – یا جسے ‘منفرد مماثلت کوڈ’ کے نام سے جانا جاتا ہے – جس کا استعمال ہر عطیہ دہندہ کا ملان مستفید سیاسی جماعت سے کرنے کے لیےکیا جا سکتا ہے۔

اس کو دیکھتے ہوئےماہرین کا کہنا ہے کہ ایس بی آئی آسانی سے اس بارے میں تفصیلات دے سکتا تھا کہ کس سیاسی جماعت نے کون سے بانڈ کیش کرائے، خاص طور پر تب جب سپریم کورٹ نے شفافیت کی خاطر اس متنازعہ اسکیم کو ختم کر دیا ہے۔

اپ لوڈ کردہ ڈیٹا کی نوعیت سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے کہ کیا بانڈ خریدنے والی کمپنیوں اور مختلف حکومتوں کے درمیان کوئی لین دین ہوا تھا۔

بانڈ کے پانچ سرفہرست خریدار

اعداد و شمار پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے پتہ چل جاتا ہے کہ عطیات میں بی جے پی کا حصہ سب سے زیادہ  46.74 فیصد یا تقریباً 11562.5 کروڑ روپے ہے۔

وہیں، کانگریس کو اسی مدت کے دوران بانڈ کے توسط سے سیاسی جماعتوں کو عطیہ کیے گئے کل 16518.11 کروڑ روپے میں سے صرف 9.3 فیصد ملا۔

باقی رقم دوسری سیاسی جماعتوں میں شیئر ہوئی۔

سرفہرست پانچ عطیہ دہندگان فیوچر گیمنگ اینڈ ہوٹل سروسز پی آر (‘لاٹری کنگ’ سینٹاگو مارٹن کے ذریعے چلائی جا رہی کمپنی)، میگھا انجینئرنگ اینڈ انفراسٹرکچر لمیٹڈ، ہلدیا انرجی لمیٹڈ، ویدانتا لمیٹڈ اور ریلائنس انڈسٹریز کی ملکیت والی کوئیک سپلائی چین پرائیویٹ لمیٹڈ ہیں۔

جب رادھےشام کھیتان کی ملکیت والی تین کمپنیوں – کیونٹرز، مدن لال لمیٹڈ اور ایم کے جے لمیٹڈ – کے عطیات کو جوڑدیتے ہیں تو کل رقم 572 کروڑ روپے بنتی ہے، جس کی وجہ سے وہ عطیہ دہندگان کی فہرست میں تیسرے نمبر پر آتے ہیں۔

دیگر سرفہرست عطیہ دہندگان میں زی گروپ کے ذریعے چلنے والی ایسل مائننگ، ڈی ایل ایف، ویسٹرن یوپی پاور ٹرانسمیشن لمیٹڈ، غازی آباد کا یشودا ہسپتال، آلوک نارائن پانڈے، بیل وے انٹرنیشنل، پیرامل انٹرپرائزز، سن فارما، متھوٹ فنانس، ویدانتا گروپ، بجاج آٹو، بجاجا فائنانس بھارتی ایرٹیل، فینولیکس کیبلز، پرل گلوبل، نویگ، سالگانوکر کارپ، ٹورینٹ، فیوچر گیمنگ، آئی ٹی سی لمیٹڈ اور دیگر شامل ہیں۔

سب سے زیادہ حصہ فیوچر گیمنگ اور ہوٹل سروسز پی آر سے 1368 کروڑ روپے آیا۔ اس کے بعد میگھا انجینئرنگ اینڈ انفراسٹرکچر لمیٹڈ آتا ہے، جس نے 966 کروڑ روپے کے الیکٹورل بانڈ خریدے۔ کوئیک سپلائی چین پرائیویٹ لمیٹڈ نے 410 کروڑ روپے کے الیکٹورل بانڈ خریدے۔ ویدانتا لمیٹڈ اور ہلدیہ انرجی لمیٹڈ نے بالترتیب 400 کروڑ روپے اور 377 کروڑ روپے کے بانڈ خریدے۔

SBI EC Details by Taniya Roy


SBI EC Details of Political… by Taniya Roy

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں ۔