گزشتہ 13 مئی کو منی پور کے چوڑا چاندپور میں منعقد ایک پروگرام سے کانگپوکپی واپس لوٹ رہے چرچ رہنماؤں کی گاڑیوں پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ واقعہ وزیر اعلیٰ یومنم کھیم چند سنگھ کے چوڑا چاندپور دورے سے محض چند دن پہلے پیش آیا ہے۔

بدھ کو منی پور کے چوڑاچاندپور واقع کانگپوکپی میں تین چرچ رہنماؤں اور ایک عام شہری کے قتل کے خلاف کُکی اور ناگا برادریوں کی جانب سے بلائے گئے بند کے باعث معمولات زندگی مفلوج رہے۔ اس دوران سڑک پر درخت گرا کر راستہ بند کر دیا گیا۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
نئی دہلی: 13 مئی کو منی پور میں تین قبائلی چرچ رہنماؤں کے قتل نے تشدد سے متاثرہ ریاست میں ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے۔ یہ واقعہ وزیر اعلیٰ یومنم کھیم چند سنگھ کے چوڑاچاندپور دورے سے چند دن پہلے پیش آیا ہے۔
گزشتہ13 مئی کا یہ حملہ اس وقت ہوا جب تھاڈو بیپٹسٹ ایسوسی ایشن آف انڈیا (ٹی بی اے آئی) اور یونائیٹڈ بیپٹسٹ کونسل (یو بی سی) کے رہنما چوڑاچاندپور میں منعقد ایک بیپٹسٹ کانفرنس سے کانگپوکپی ضلع واپس جا رہے تھے۔ حملے میں بچ جانے والوں کے مطابق، صبح تقریباً 10 بجے کوٹلین اور کوٹزیم گاؤں کے درمیان کچھ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی دو گاڑیوں پر فائرنگ کی۔
یہ واقعہ پہاڑی علاقے میں واقع ’ٹائیگر روڈ‘پر پیش آیا۔ اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں ٹی بی اے آئی کے صدر ریورنڈ وومتھانگ سٹلہاؤ ، ٹی بی اے آئی کے مالیاتی سکریٹری ریورنڈ کائگاؤلون لہووم اور ایک پادری پاؤگاؤلین سٹلہاؤ شامل تھے۔
دونوں گاڑیوں میں آٹھ افراد سوار تھے۔ حملے میں بچ جانے والوں میں سے ایک- ہیکائی سمٹے نے دی وائر کو بتایا کہ فائرنگ’کم از کم ایک منٹ تک مسلسل‘جاری رہی اور پھر اچانک رک گئی۔ 56 سالہ سمٹے دوسری گاڑی میں سوار تھے اور اس حملے میں بال بال بچ گئے۔ سمٹے نے کہا،’حملہ آوروں کے پاس جدید ہتھیار تھے، اسی لیے وہ کافی دور سے بھی فائرنگ کر سکے۔‘
میتیئی اور کُکی، دونوں برادریوں کے افراد نے اس حملے کا الزام ایک دوسرے پر عائد کیا ہے، تاہم ابھی کئی سوالوں کے جواب سامنے آنا باقی ہیں۔ سمٹے نے دی وائر کو بتایا کہ فائرنگ’پہاڑی کی جانب سے‘کی گئی تھی۔
حملے کی جگہ اس لیے بھی سرخیوں میں ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے منی پور میں’آزادانہ نقل و حرکت‘ یقینی بنانے کی کوششوں کے باوجود میتیئی گروہوں کی پہاڑی اضلاع تک رسائی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ کُکی برادری کے لوگ اب بھی وادی کے علاقوں میں آزادانہ طور پر نہیں جا سکتے۔ قتل کن حالات میں ہوا اور اسے کس نے انجام دیا، یہی دونوں پہلو اب تفتیش کا مرکزی نکتہ بن گئے ہیں۔
ان ہلاکتوں نے ریاست بھر کی قبائلی برادریوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ واقعہ اس لیے بھی زیادہ حیران کن ہے کہ سٹلہاؤ نے حال ہی میں کُکی عیسائی رہنماؤں کے ایک وفد کی قیادت کرتے ہوئے پڑوسی ریاست ناگالینڈ کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے کا مقصد منی پور کے شورش زدہ کامجونگ اور اُکھرول اضلاع میں کُکی اور تانگکھل ناگا برادریوں کے درمیان امن قائم کرنے کی کوشش کرنا تھا۔
اس واقعے کی وجہ سے تھاڈو برادری سے جڑی پیچیدہ پہچان کی سیاست پر ایک بار پھر توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔ جہاں کچھ تھاڈو تنظیمیں یہ مانتی ہیں کہ وہ ایک الگ برادری ہیں اور بڑے کُکی قبائلی گروہ کا حصہ نہیں ہیں، وہیں کچھ دیگر لوگ خود کو وسیع تر کُکی برادری کا حصہ سمجھتے ہیں۔ سِمٹے، جو اس واقعے میں بچ جانے والوں میں شامل ہیں، خود کو تھاڈو کُکی بتاتے ہیں۔
یہ ہلاکتیں سیاسی طور پر بھی اہمیت رکھتی ہیں۔ کانگپوکپی ضلع کی نمائندگی نیمچا کپگین کرتی ہیں، جو وزیر اعلیٰ یومنم کھیم چند سنگھ کی قیادت والی نئی حکومت میں منی پور کی پہلی خاتون نائب وزیر اعلیٰ بنی ہیں۔ تاہم، عہدہ سنبھالنے کے بعد سے کپگین زیادہ تر عوامی تقریبات سے دور رہی ہیں اور ریاست میں جاری نسلی تنازعے پر میڈیا سے بات نہیں کی ہے۔
اسی دوران، سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں منی پور پولیس نے کہا، 13.05.2026 کو کانگپوکپی ضلع کے نیو کیتھل مانبی پولیس اسٹیشن کے تحت آنے والے صاحبونگ گاؤں سے گزرنے والی دو گاڑیوں پر نامعلوم مسلح افراد نے بلا اشتعال فائرنگ کی، جس میں تین شہری ہلاک اور چار دیگر زخمی ہو گئے۔ اس جرم میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز نے آس پاس کے علاقوں میں محاصرہ اور تلاشی مہم شروع کر دی ہے۔‘
تاہم، ریاست میں سرگرم ایجنسیاں اب تک کسی بھی حملہ آور کو گرفتار نہیں کر سکی ہیں۔
شمال -مشرق میں مذمت
وزیر اعلیٰ کھیم چند سنگھ نے حملے کے بعد عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ لوگ’امن قائم رکھیں، صبر وتحمل کا مظاہرہ کریں اور جذباتی رد عمل سے گریز کریں۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاستی حکومت قتل کے لیے ذمہ دار افراد کی شناخت اور انہیں سزا دلانے کے لیے’ہر ممکن وسائل‘ کااستعمال کرے گی۔
کُکی اور ناگا، دونوں سیاسی گروہوں کے رہنماؤں نے اس حملے کی سخت مذمت کی۔
ناگا لیجسلیچر فورم کے نو اراکین، جن میں نائب وزیر اعلیٰ یانتھونگو پیٹن بھی شامل تھے، نے اس واقعے کو ’سفاک قتل‘قرار دیا اور مجرموں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ نیمچا کپگین کی قیادت والے کُکی اراکین اسمبلی نے اس گھات لگا کر کیے گئے حملے کو’امن پر براہ راست حملہ‘قرار دیا اور حالات کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے صبر و تحمل سے کام لینے اپیل کی۔
ان ہلاکتوں کی مذمت پڑوسی شمال-مشرقی ریاستوں کے رہنماؤں نے بھی کی۔ نیفیو ریو، کونراڈ کےسنگما اور لالدوہوما نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حملے کی مذمت کی۔
مئی 2023 میں میتیئی اور کُکی برادریوں کے درمیان منی پور میں نسلی تشدد بھڑکنے کے بعد چرچ بے گھر کُکی برادری کی روزمرہ زندگی کا مرکز بن گئے ہیں۔ تنازعے کے دوران سینکڑوں گاؤں جلا دیے گئے اور چرچ اکثر ان خاندانوں کے لیے پناہ گاہ بنے جنہیں اپنے گھر چھوڑ کر فرار ہونا پڑا۔ برادری کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ تشدد کے دوران 300 سے زیادہ چرچ تباہ کر دیے گئے۔
مرکزی اور ریاستی حکومت کی جانب سے بے گھر خاندانوں کی بحالی اور باز آبادی کی بار باریقین دہانی کے باوجود، تشدد شروع ہونے کے تقریباً تین سال بعد بھی ہزاروں لوگ امدادی کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔