نکسل ازم کا خاتمہ اور احتساب کے فقدان کا مسئلہ

کامیابی کا یہ نشہ، جو اس وقت اپنے عروج پر ہے، پچھلے بیس برسوں میں ماؤ نوازوں اور خصوصاً پولیس فورسز کے ہاتھوں ہونے والی ہزاروں ہلاکتوں کے باوجود، کسی کو بھی جوابدہ ٹھہرانے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ سلوا جڈوم کی وجہ سے خواتین کے ساتھ زیادتیاں ہوئیں، سو سے زائد گاؤں جلا دیے گئے اور بستر میں ہزاروں لوگوں کو بے گھر ہونا پڑا۔ لیکن ’کامیابی‘ کے شور میں ان واقعات پر اٹھنے والے اہم سوالات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

کامیابی کا یہ نشہ، جو اس وقت اپنے عروج پر ہے، پچھلے بیس برسوں میں ماؤ نوازوں اور خصوصاً پولیس فورسز کے ہاتھوں ہونے والی ہزاروں ہلاکتوں کے باوجود، کسی کو بھی جوابدہ ٹھہرانے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ سلوا جڈوم کی وجہ سے خواتین کے ساتھ زیادتیاں ہوئیں، سو سے زائد گاؤں جلا دیے گئے اور بستر میں ہزاروں لوگوں کو بے گھر ہونا پڑا۔ لیکن ’کامیابی‘ کے شور میں ان واقعات پر اٹھنے والے اہم سوالات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

سال2023کی یہ تصویر چھتیس گڑھ کے چاندمیٹا گاؤں کی ہے، جہاں ماؤ نوازوں نے ایک یادگار قائم تھی۔ اس وقت یہ علاقہ ان کا قلعہ سمجھا جاتا تھا۔ (فوٹو: شراوستی داس گپتا/دی وائر)

جب حکومت سی پی آئی (ماؤسٹ) پر اپنی فتح کا اعلان کرتی ہے تو وہ دراصل اس کے نتیجے میں ہوئی اپنی ایک شکست کو بھی چھپا نے کی کوشش کر رہی  ہوتی ہے- یعنی آئینی احتساب اور جوابدہی کے عمل سے بچ نکلنا اور اس جرم کو معمول کے طور پر قبول کر لیا جانا۔

بہت سے ماؤ نواز رہنماؤں اور مسلح کیڈروں کے ہتھیار ڈالنے کے ساتھ، وزیر داخلہ امت شاہ کی مقرر کردہ 31 مارچ کی ڈیڈ لائن تک نکسل ازم بھلے ہی  خاتمے کےقریب ہو، لیکن دو دہائیوں تک جاری قتل و غارت، نقل مکانی اور سزا سے بری ہونے کے سوال کا جواب نہیں ملتا۔ گزشتہ دو سالوں میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤسٹ) کے گوریلا/جنگجو ممبران کو اپنے ساتھ لانے کے مقصد سے حکومت  کی جانب سے بڑے پیمانے پرقتل و غارت اور ترغیبات کا ایک شدید اور وسیع دور چلا ہے۔

سرکاری اندازے کے مطابق، 2024 سے 2026 کے درمیان 706 نکسلائٹ انکاؤنٹر میں مارے گئے، 2,218 گرفتار کیے گئے، جبکہ 4,839 سے سرینڈر کروایا گیا۔ اب بہ مشکل 100 کے قریب کیڈر ہیں، جو یا تو آہستہ آہستہ ہتھیار ڈال رہے ہیں یا پھر خاتون ماؤ نواز رہنما روپی کی طرح، جسے اپریل 2026 میں کانکیر میں مار ڈالا گیا، انکاؤنٹر میں مار گرایا  جا رہاہے ۔

سرینڈر کر چکے ماؤ نوازوں کو میڈیا کے سامنے پیش کیا جارہا ہے، جہاں وہ آئندہ آئین کے دائرے میں رہ کر کام کرنے کی بات کرتے ہیں۔ لیکن ایک بات بالکل واضح ہے کہ آئین کی ترجیحات یہاں کسی کے، خصوصی طور پر حکومت کے، دل یا ارادوں میں بالکل نہیں ہیں۔

مرکزی حکومت اور ان کے سیٹیلائٹ کے طور پر کام کرنے والی ریاستی حکومتوں نے نکسلیوں کو شکست دینے کے لیے جو رویہ اپنایا ہے، وہ آئین کے تئیں احتساب اورجوابدہی سے فرار اختیار کرنے کے رویے  کی عکاسی کرتا ہے۔


ایک ملک کی تاریخ میں مسلح جدوجہد آتی جاتی رہیں گی، لیکن عوام کی منتخب کردہ حکومت کی جانب سے آئین اور قانون کی حکمرانی کو نظرانداز کرنے کے دور رس نتائج ہوتے ہیں۔


جوابدہی سے فرار کا پہلو ان کے اختیار کردہ فوری اقدامات میں صاف نطر آتا ہے؛

اول، گزشتہ دو برسوں میں ہونے والی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر غور کرنے سے انکار کرنے میں۔ دوم، سابق ماؤ نوازوں کو سکیورٹی فورسز میں بھرتی کرنے کے عمل میں،پہلے ڈسٹرکٹ ریزرو گارڈ (ڈی آر جی) کے طور پر، اور اب جیسا کہ بتایا جا رہا ہے، عام پولیس میں۔ مؤخر الذکر دراصل بی جے پی کی وہائٹ واشنگ مشینری کی جارحانہ اور مقامی اکائی ہے، جس کا استعمال سیاسی مخالفین کو اپنے خیمے میں آنے کو مجبور کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

سکیورٹی فورسز میں شامل ہونے سے پہلے ڈی آر جی مطلوبہ ماؤ نواز تھے، جن پر مقدمات درج تھے اور ان کے سروں پر انعام رکھا گیا تھا۔ فورسز میں شامل ہونے کے بعد بھی ان کے خلاف مقدمات واپس نہیں لیے گئے، تاکہ ان کی گردن پر تلوار لٹکتی رہے۔ اس طرح ان کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر دوسروں کو قابو میں رکھنے کی طاقت حاصل کی جاتی ہے۔

اگر یہاں ہتھیار ڈال چکے ماؤ نوازوں کو سکیورٹی فورسز میں شامل کیے جانے کا ایک مناسب عمل ہوتا، جیسا کہ دنیا کے دیگر حصوں میں جنگ بندی کی صورتحال میں دیکھا گیا ہے، تو اس مسئلے کا حل نکالا جا سکتا تھا۔ اب تو ہمارے یہاں ایسی صورتحال بن گئی ہے جہاں پولیس فورس کے عہدوں پر ایک بڑا حصہ ایسے لوگوں کا ہے جن کی شبیہ مجرمانہ رہی ہے۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کوئی سزا نہیں

کامیابی کا یہ نشہ، جو اس وقت اپنے عروج پر ہے، پچھلے بیس برسوں میں ماؤ نوازوں اور خصوصاً پولیس فورسز کے ہاتھوں ہونے والی ہزاروں ہلاکتوں کے باوجود، کسی کو بھی جوابدہ ٹھہرانے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ سلوا جڈوم کی وجہ سے عورتوں کے ساتھ زیادتیاں ہوئیں، سو سے زیادہ گاؤں جلا دیے گئے اور بستر میں ہزاروں افراد کو بے گھر ہونا پڑا۔

ان زیادتیوں کی تفصیلات  نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (این ایچ آر سی) اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے قومی کمیشن (این سی پی سی آر) جیسے آئینی اداروں کے ذریعے جمع کیے گئے ان بیانات میں موجود ہیں جو سپریم کورٹ کے سپرد کیے گئے ہیں۔ عدالتی تحقیقات میں یہ پایا گیا کہ سکیورٹی فورسز نے غیر مسلح شہریوں کو قتل کیا ہے۔

مثال کے طور پر، 2012 میں سرکیگوڑا میں 17 گاؤں والوں کو قتل کیا گیا، 2013 میں ایڈیس میٹا میں آٹھ افراد کو ہلاک کیا گیا۔ لیکن سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی، نہ ہی سکیورٹی، انتظامی یا سیاسی اعلیٰ حکام کو ان بے گناہ اموات کی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑا۔ ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے، تمام ان-سروس یا ریٹائرڈ پولیس افسران یہ دعویٰ کرنے میں مصروف رہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات سکیورٹی فورسز کے مورال کو توڑنے کی ایک نفسیاتی حکمت عملی ہے۔


ساؤتھ ایشین ٹیررازم پورٹل (ایس اے ٹی پی)، نیوز رپورٹس کی بنیاد پر اندازہ لگاتا ہے کہ سال 2000 سے 2026 کے درمیان 4,138 بے گناہ شہری، 2,723 سکیورٹی اہلکار، اور 5,069 ماؤ نواز، یعنی مجموعی طور پر 12,182 افراد ہلاک ہوئے۔ واضح ہے کہ یہ اندازہ حقیقت سے کوسوں دور ہے۔

سال 2005سے 2007 کے دوران جب سلوا جڈوم اپنے عروج پر تھا، تب بھی اتنی ہلاکتیں نہیں ہوئیں جتنی 2024 اور 2026 کے درمیان ہوئی ہیں۔


دی کیمپین فار پیس اینڈ جسٹس ان چھتیس گڑھ (سی پی جے سی) ہر جھڑپ کی تعداد میں اوسط اضافے (2023 میں 0.29 سے بڑھ کر 2024 میں 1.79) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہے کہ یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ گرفتاری اور خودسپردگی کے بجائے انکاؤنٹر کو ترجیح دیا گیا۔ مارے گئے افراد میں سے بہت سے عام شہری تھے۔

چھتیس گڑھ میں لاگو ہوئی نکسل سرینڈر/ وکٹم ریلیف اینڈ ری ہیبلیٹیشن پالیسی  – 2025 کے سیکشن 8.8 میں نکسلیوں کو ’زندہ یا مردہ‘پکڑوانے پر لاکھوں روپے کے انعام کا اہتمام ہے۔ ظاہر ہے یہ اعلان بے گناہ لوگوں کے قتل کر کے انہیں مطلوبہ ماؤ نواز کے طور پر پیش کرنے کی تحریک دیتا ہے۔

ایک تو مطلوبہ ماؤ نوازوں کی کوئی عوامی فہرست ہے ہی نہیں، جس سے مارے گئے مبینہ ماؤ نوازوں کا موازنہ کیا جا سکے، اور نہ ہی انعام کی رقم کے حقدارکو پیسے دیے جانے کے حوالے سے کوئی عوامی جوابدہی — پھر چاہے وہ خود ہتھیار ڈالنے والا ماؤ نواز ہو یا انہیں پکڑنے، مارنے اور پولیس کے حوالے کرنے والا کوئی شخص۔ بہت سے نچلے درجے کے کیڈر، جن سے کہا گیا تھا کہ اگر وہ ہتھیار ڈال دیں تو انہیں رقم دی جائے گی، نے بتایا کہ انہیں کچھ بھی نہیں ملا۔

جہاں تک ماؤ نوازوں کا تعلق ہے، وہ برسوں سے مشتبہ مخبروں کے قتل کے ذمہ دار رہے ہیں۔ ماؤ نوازوں کے خوف کی وجہ سے ان میں سے کئی ہلاکتیں رپورٹ ہی نہیں ہوئیں، اور جو رپورٹ ہوئیں وہ دراصل ریاستی پولیس فورسز کے ہاتھوں ہونے والے واقعات تھے۔

نکسلی متاثرین کو سرکاری معاوضے کی ادائیگی، سپریم کورٹ کے بار بار احکامات کے باوجود، ریاستی پولیس کے متاثرین کو معاوضہ نہ ملنے کی پالیسی نے بھی اعداد و شمار کو بگاڑ دیا ہے۔ لیکن سرکاری اعداد و شمار کچھ بھی ہوں، یہ اموات جہاں ہوئی ہیں، وہاں کے گاؤں میں انہیں کبھی فراموش  نہیں کیا جا سکتا۔

جس طرح اسپیشل پولیس افسران اور ان کے اہل خانہ، جنہوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا جرم کیا ہے، کے لیے اپنے گاؤں واپس جانا آسان نہیں رہ گیا ہے، بالکل اسی طرح مشتبہ مخبروں کے قتل میں ملوث ماؤ نوازوں کو بھی اپنے گاؤں واپس جا کر مارے گئے مخبروں کے اہل خانہ کے غصے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔


سرینڈر کر چکے ماؤ نواز رہنماؤں میں سے زیادہ تر اب بھی پولیس کی گرفت میں ہیں۔ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ ان کی رہائی کب ہوگی، اور ان کے خلاف درج مقدموں کا کیا ہوگا۔ اور اگر حکومت ان مقدمات کو کمزور کرنے کی اجازت بھی دے دیتی ہے، تب بھی وہ قانونی نظام کے دائرے میں ہی رہیں گے۔


قانونی سوال سے ہٹ کر یہاں ایک مسئلہ عام لوگوں کے سامنے جوابدہی کا بھی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اپنی حکومت کے دوران سی پی آئی (ماؤ نواز) کی داخلی غور و فکر کی ممکنہ راہ اور پھر زیادہ منظم مذاکرات کے ذریعے کھلے ماحول میں آنے کے عمل کو آگے نہیں بڑھا سکی۔ لیکن 2012 کے بعد جب بستر میں سکیورٹی کیمپوں کی تعداد میں شدید اضافہ ہوا، پیسے لے کر اطلاع دینے والے مخبروں کی تعداد بھی اسی تناسب سے بڑھی، اور وہاں خوراک کی رسائی بھی مشکل ہو گئی، تو خطرے کی گھنٹی بج چکی تھی۔

سول سوسائٹی کی درخواست پر اگر ماؤ نواز پہلے ہی باہر آ گئے ہوتے تو وہ نہ صرف اپنے ذاتی وجود بلکہ قبائلیوں کے مطالبات کے حوالے سے بھی بات چیت کی پوزیشن میں ہوتے۔ ماؤ نوازوں نے اپنی زندگی قبائلیوں کے لیے قربان کرنے کا دعویٰ کیا، لیکن بدلتے ہوئے معاشی اور سیاسی حالات کو سمجھنے سے انکار نہ صرف ان کے لیے بلکہ ان لوگوں کے لیے بھی مہلک ثابت ہوا جن کے لیے وہ لڑنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

آئینی خلاف ورزیوں کے لیے کریڈٹ کی دوڑ

قابل ذکر ہے کہ30 مارچ کو پارلیامنٹ میں خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے نکسل ازم کے خاتمے کا کریڈٹ لیا، کانگریس پر اسے فروغ دینے کا الزام لگایا، پارلیامانی بائیں بازو کو غیر ملکی طاقتوں کا ایجنٹ قرار دے کر مسترد کیا، شہری حقوق کے کارکنوں پر حملہ کیا، اور جسٹس سدرشن ریڈی کو طویل عرصے سے جاری نکسل ازم کے لیے اور 2011 کے ان کے سلوا جڈوم کے فیصلے کو سینکڑوں اموات کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا۔

امت شاہ کو سنتے ہوئے کوئی ایک لمحے کے لیے یہ بھی بھول سکتا ہے کہ آئین اور ہندوستانی فوجداری قانون جیسی بھی کوئی چیز ہے، جو ان اموات کے لیے جوابدہی طے کرتی ہے، اور بطور وزیر داخلہ قانون کی حکمرانی کو قائم رکھنے کی ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی ہے۔


جہاں تک کانگریس کا تعلق ہے، تو انہیں اس بات کی حسرت ہے کہ ماؤ ازم کا خاتمہ ان کی نگرانی یا حکومت میں نہیں ہو سکا، باوجود اس حقیقت کے کہ اقتدار میں رہتے ہوئے انہوں نے ایک کے بعد ایک عسکری مہم، ان کے سکیورٹی کیمپوں اور ماہر نکسل مخالف فورسز کے ذریعے اس کی بنیاد خود ہی رکھی تھی۔


اب چاہے یو پی اے ہو یا این ڈی اے، ان نکسل مخالف مہمات میں اجیت ڈوبھال کا اہم کردار رہا ہے، اور ان کی پالیسیوں میں بھی کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ 2004-05 میں انٹلی جنس بیورو کے چیف کے طور پر جس تباہ کن سلوا جڈوم کی شروعات انہوں نے کی تھی، اس نے واقعی ماؤ نوازوں کو بڑا دھچکا دیا۔ وہ باشندے جن کے گاؤں جلا دیے گئے یا جن کے رشتہ دار ریاستی پولیس کے ہاتھوں مارے گئے، ان کے پاس اس میں شامل ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں  تھا۔

عدلیہ بھی کوئی سوال نہیں کر رہی ہے، اور جسٹس ریڈی پر ہونے والے غیر مناسب حملے کو پارلیامانی کارروائی کا حصہ بنانے کی اجازت دے رہی ہے۔ جب امت شاہ جسٹس ریڈی کی مذمت کر رہے تھے تو وہ دراصل پورے سپریم کورٹ کی توہین کر رہے تھے۔

سال2007میں جب سلوا جڈوم کے خلاف درخواست دائر کی گئی، اور 2025 میں جب اس کا فیصلہ ہوا، تو یہ معاملہ سپریم کورٹ کے 24 مختلف ججوں کے سامنے سے گزرا، جن میں کچھ چیف جسٹس بھی شامل تھے۔ سپریم کورٹ کی ہر بنچ اس مسئلے کے پیمانے سے بخوبی واقف تھی، اور انہوں نے ایف آئی آر درج کرنے اور معاوضے کے رجسٹریشن کے احکامات جاری کیے۔

یہاں تک کہ اپنے 15 مئی 2025 کے فیصلے میں جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس ستیش شرما نے 2011 کے فیصلے کو دہراتے ہوئے کہا کہ،’ہم اس جانب توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ یہ اسٹیٹ آف چھتیس گڑھ کے ساتھ ساتھ یونین آف انڈیا کا بھی فرض ہے،… وہ اسٹیٹ آف چھتیس گڑھ کے ان باشندوں کو امن اور بازآبادکاری فراہم کرنے کے لیے مناسب اقدامات کریں، جو کسی بھی طرف سے شروع ہونے والے تشدد کی لہر سے متاثر ہوئے ہیں (پیرا 13، اٹالکس مائن)۔ ‘

درحقیقت سلوا جڈوم کو ممنوع قرار دیے جانے کے فیصلے سے سب سے زیادہ فائدہ ماؤ نوازوں کو نہیں بلکہ اُن لوگوں کو ہوا جنہوں نے ہتھیار ڈال دیے تھے اور جنہیں اسپیشل پولیس آفیسرز (ایس پی او) کے طور پر تعینات کیا گیا، اوراس کے  بعد میں ڈی آر جی، جنہیں اچھی تنخواہ اور جدید ہتھیار فراہم کیے گئے تھے۔

ایس پی اوپر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات کو دیکھتے ہوئے عدالت نے کاؤنٹر-انسرجنسی کارروائیوں میں ان کی خدمات لینے پر پابندی لگا دی، اور ہدایت دی کہ انہیں ٹریفک پولیس یا دیگر کاموں میں لگایا جائے۔ اور یہ بھی تب ہی ممکن تھا جب انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے قصورواروں کو الگ کر دیا جائے۔ لیکن ایسا کبھی ہوا ہی نہیں۔ بلکہ اس فیصلے کو چالاکی سے نظرانداز کرنے کے لیے چھتیس گڑھ نے 2011 کا’آکزیلری آرمڈ پولیس فورسز ایکٹ ‘نافذ کر دیا۔

ایک حلف نامے میں، جس پر جھوٹی گواہی اور فرضی شواہد کی دفعات لگنی چاہیے تھی، چھتیس گڑھ حکومت نے دعویٰ کیا کہ اس نے تمام ایس پی او کو غیر مسلح کر دیا ہے اور انہیں ان کارروائیوں میں استعمال نہیں کر رہی ہے۔ اس ایکٹ کا نام ہی بذات خود ایک فریب ہے۔ ایک طرف اسے معاون مسلح فورس کے نام سے جانا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف اس کا مقصد ’سکیورٹی فورسز کے معاون کے طور پر ان کی مدد کرنا… ماؤ نواز تشدد اور بغاوت کو روکنا، قابو پانا اور ان سے لڑنا‘(4.1) بتایا گیا ہے۔

قیدیوں اور ہتھیار ڈالنے والوں کا المیہ

نکسل ازم کے ’خاتمے‘کے اس مبہم اور قانونی طور پر غیر واضح عمل میں کئی تلخ حقیقتیں پوشیدہ ہیں، جن میں سے ایک ان لوگوں کی تقدیر ہے جنہیں ماؤ نوازوں سے ہمدردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ایک طرف انسانی حقوق کے وکیل سریندر گاڈلنگ جیسے لوگ ہیں جو 2018 سے جیل میں ہیں؛ اور ان کے ساتھ ایلگار پریشد کیس میں نامزد سولہ افراد میں سے کئی دیگر ضمانت پر رہا ہونے کے باوجود طویل مقدموں کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں، حالانکہ ان کے خلاف پیش کیے گئے پولیس ثبوتوں کے فرضی ہونے کے خاطرخواہ شواہد موجود ہیں۔

اور دوسری طرف بستر کے مول نواسی بچاؤ منچ کے رگھو میڑیامی، سنیتا پوٹم جیسے کئی نوجوان رہنما ہیں ،جنہیں یو اے پی اے لگا کر دو سال سے زیادہ عرصے سے الگ الگ وقتوں کے دیگر چالیس کارکنوں کے ساتھ میں جیل میں رکھا گیا ہے۔ ایک ٹوٹی ہوئی انگلی کے علاج جیسے بنیادی حق کو بھی این آئی اے کی جانب سے روکا جاتا ہے۔

مول نواسی بچاؤ منچ نے اپنے آئینی حقوق کا استعمال کرتے ہوئے آئین کی پانچویں شیڈول اور اپنی زمین کے تحفظ کے لیے پیسا جیسے آئینی قوانین کے تحت جدوجہد جاری رکھی ہے۔ ظاہر ہے کہ کان کنی کمپنیوں کے دباؤ کے سامنے مقامی لوگوں کی یہ پرامن تحریک اب قومی سلامتی کے لیے ماؤ نوازوں سے بھی بڑا خطرہ بن چکی ہے۔

سینکڑوں آدیواسی طویل عرصے سے قانونی اذیت برداشت کرتے ہوئے جیلوں میں قید ہیں۔ اسٹین سوامی کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ انہوں نے 102 زیر سماعت قیدیوں کے انٹرویوز کی بنیاد پر جھارکھنڈ ہائی کورٹ میں ایک مفاد عامہ کی درخواست دائر کی تھی، جس سے یہ بات سامنے آئی کہ ماؤ نواز ہونے کے الزام میں گرفتار افراد میں سے 97 فیصد کا ماؤ ازم سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔

گاؤں والوں کے لیے ہتھیار ڈالنا (خودسپردگی) ایک انتہائی فضول قانونی عمل ہے۔ مثال کے طور پر سکما کے ایک معروف سرپنچ کو لیتے ہیں۔ انہیں 2010 میں تاڑمیٹلا میں ہونے والے ایک حملے کے جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا۔ اس حملے میں سی آر پی ایف کے ستر اہلکار مارے گئے تھے۔ گرفتاری سے بچنے کے لیے وہ انڈر گراؤنڈ ہو گیا لیکن 2017 میں پکڑ لیاگیا۔ تشدد کے ذریعے انہیں ہائی کورٹ میں یہ بیان دینے پر مجبور کیا گیا کہ انہوں نے واقعی ہتھیار ڈال دیے تھے۔ اس کے بعد اپنے گاؤں واپس جانے سے پہلے تک انہوں نے کچھ عرصہ پولیس کے ساتھ کام کیا۔

سال2017میں انہوں نے جو ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا تھا، اس کی بنیاد پر 2024 میں انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ دو سال جیل میں گزارنے کے بعد انہیں تمام مقدموں سے بری کر دیا گیا۔ جب مقدمے زیر التوا ہوں تو ہتھیار ڈالنے کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا، اور پولیس اپنی سہولت کے مطابق ان مقدموں کو کبھی بھی دوبارہ کھول سکتی ہے۔

آئینی امن کے راستے

جہاں حکومت اور ماؤ نواز آئینی دائرے سے باہر ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کر رہے ہیں، وہیں سول سوسائٹی کے لوگوں کو قانون کی حکمرانی کا مطالبہ ضرور کرنا چاہیے۔ کم از کم حکومت کو اتنا تو کرنا ہی چاہیے کہ نکسل ہونے کے جھوٹے الزامات میں گرفتار لوگوں کو فاسٹ ٹریک سماعت کے ذریعے رہا کرے اور یہ یقینی بنائے کہ ان پر درج تمام پرانے مقدمے واپس لے لیے جائیں۔

عدالتوں کو عوامی تحقیقات کے احکامات دینے چاہیے، جن میں 2000 سے اب تک ہونے والی اموات کا ریکارڈ درج ہو اور متاثرہ افراد کو معاوضہ دیا جائے، جس میں زیادتی اور آتش زنی کے متاثرین بھی شامل ہوں۔ سرکیگُڑا اور ایڈیس میٹا میں ہونے والی عدالتی تحقیقات کی رپورٹس کو عام کیا جانا چاہیے۔

اب جبکہ تمام اضلاع کوایل ڈبلیو ای فری (بائیں بازو کی انتہاپسندی سے آزاد) قرار دیا جا چکا ہے، حکومت کو بستر میں ہر دو سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر پھیلے خاردار تاروں سے گھیرے گئے بدصورت سکیورٹی کیمپوں کو ہٹا دینا چاہیے اور وہ زمینیں جن دیہاتیوں سے چھین لی گئی تھیں انہیں واپس کرنا چاہیے۔ اگرچہ وہاں اس وقت امن ہے، لیکن یہ امن انصاف سے خالی ہے۔

نندنی سندر ’دی برننگ فارسٹ: انڈیاز وار اگینسٹ ماؤسٹس‘کی مصنفہ ہیں۔

اس مضمون کو ہندی میں پڑھنے کے لیے یہاں اور انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔