نیوزکلک کو راحت، مگر بے روزگاری، بدنامی اور غیر یقینی صورتحال کا بوجھ آج بھی ڈھو رہے ہیں سابق ملازمین

فروری 2024 تک نیوزکلک میں تقریباً سو لوگ کام کرتے تھے، جن کا گھر صرف اسی تنخواہ سے چلتا تھا۔ لیکن ادارے کے خلاف ایجنسیوں کی کارروائی اور بینک اکاؤنٹس فریز ہونے کی وجہ سے نیوزکلک سے نوکری گنوانے والے تقریباً 80 فیصد ملازمین کو اب تک کوئی مستقل نوکری نہیں ملی ہے۔

فروری 2024 تک نیوزکلک میں تقریباً سو لوگ کام کرتے تھے، جن کا گھر صرف اسی تنخواہ سے چلتا تھا۔ لیکن ادارے کے خلاف ایجنسیوں کی کارروائی اور بینک اکاؤنٹس فریز ہونے کی وجہ سے نیوزکلک سے نوکری گنوانے والے تقریباً 80 فیصد ملازمین کو اب تک کوئی مستقل نوکری نہیں ملی ہے۔

نیوزکلک کے دفتر کے اندر کی ایک تصویر۔ (فوٹو: سونیا یادو/دی وائر)

 ’نیوزکلک میں تقریباً پانچ سال نوکری کرنے کے بعد مجھے اس ادارے سے خالی ہاتھ نکلنا پڑا۔ تین ماہ کی تنخواہ رکی ہوئی تھی۔ ماتھے پر ’اینٹی نیشنل‘ کا ٹیگ تھا اور کوئی نوکری دینے کو تیار نہیں تھا۔ جہاں بھی جاؤ، لوگوں کو چھاپے کی کہانی سننے میں زیادہ دلچسپی تھی، بجائے اس کے کہ وہ ہماری پریشانیاں سنیں۔ سب بربادہو گیا، اور آج تک برباد ہی ہے۔‘

یہ باتیں نیوز پورٹل نیوز کلک میں کام کرنے والے ایک ایسے سابق ملازم نے دی وائر کو بتائیں، جن کے گھر 3 اکتوبر 2023 کی صبح تقریباً 6 بجے دہلی پولیس چھاپے  ماری کرنے پہنچی تھی۔ اس چھاپے ماری میں ان کا فون اور لیپ ٹاپ ضبط کر لیا گیا تھا، اور ان سے ادارے کی فنڈنگ اور رپورٹنگ سے متعلق  سوال  جواب کیے گئے تھے۔

قابل ذکر ہے کہ نیوزکلک کی فنڈنگ سے متعلق حال ہی میں دہلی ہائی کورٹ کا فیصلہ آیا ہے، جس نے ادارے کو ایک بار پھر سرخیوں میں لا دیا ہے۔ منی لانڈرنگ معاملے میں عدالت کی جانب سے ادارے کو کلین چٹ دیے جانے کے ساتھ ہی مرکزی ایجنسی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کو ‘قانون کے سنگین غلط استعمال’ پر سخت سرزنش بھی کی گئی ہے۔

نیوزکلک سے متعلق دہلی ہائی کورٹ کی جسٹس نینا بنسل کرشنا نے اپنا فیصلہ 29 مئی 2026 کو سنایا تھا، جسے 10 جون کو اپلوڈ کیا گیا۔


اس فیصلے میں عدالت نے اکنامک آفنسز ونگ (ای او ڈبلیو) کی ایف آئی آر اور اس کی بنیاد پر شروع کی گئی پی ایم ایل اے کارروائی کو رد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ کارروائی نہ صرف بدنیتی پر مبنی ہے بلکہ درخواست گزاروں کی آزاد اور منصفانہ صحافت کے خلاف اختیارات کا من مانی استعمال اور غلط استعمال بھی ہے۔ ہائی کورٹ نے ای ڈی کے دعوے کو ’بالکلیہ غلط اور بے بنیاد‘مانا۔


یہاں صاف کر دیں کہ یہ فیصلہ ای ڈی اور ای او ڈبلیو کی جانب سے مبینہ طور پر غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) قوانین اور دیگر ضوابط کی خلاف ورزی کے الزام سے متعلق تھا، جبکہ ادارے کے خلاف یو اے پی اے کا معاملہ ابھی عدالت میں زیر سماعت ہے، جس کو لے کر 3 اکتوبر 2023 کو نیوزکلک کے دفتر اور اس سے منسلک 70 سے زائد صحافیوں، سابق ملازمین اور دیگر عملے کے گھروں سمیت تقریباً 100 گھروں پر دہلی پولیس نے چھاپے ماری کی  تھی۔

فی الحال، ہائی کورٹ سے جس معاملے میں نیوزکلک کو راحت ملی ہے، وہ کیس تقریباً چھ سال پہلے درج کیا گیا تھا۔

زندگی کی جد وجہد

اب کئی سال بعد آئے اس فیصلے کے قانونی پہلو تو بہت اہم ہیں، لیکن انسانی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اس میں ’دیر آئے درست آئے‘کا محاورہ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ کیونکہ ان برسوں میں ایک ادارے کے طور پر نیوزکلک کے لیے کیا بدلا، اس کا اندازہ شاید لگایا جا سکتا ہے، لیکن وہاں کام کرنے والے لوگوں کی زندگی کس طرح جدوجہد میں تبدیل ہوگئی، اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔

فروری 2024 تک نیوزکلک میں تقریباً سو لوگ کام کرتے تھے۔ ان میں زیادہ تر ادارے کے مستقل ملازمین اور صحافی تھے، جن کا گھر صرف نیوزکلک کی تنخواہ پر چلتا تھا۔ ان میں اکثریت ایسے افراد کی تھی جو ملک کی مختلف ریاستوں کے نچلے متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور اپنے گھر کے واحدکمانے والے تھے۔

ادارے میں کئی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بھی تھے، جو اپنے خاندان کی پہلی نسل کے طور پر روزگار کے لیے گھر سے باہر نکلے تھے۔ نوکری جانے سے انہیں مالی مشکلات کا سامنا تو کرنا ہی پڑا، ساتھ ہی چھاپے کے باعث ذہنی دباؤ اور سماجی سطح پر ’اینٹی نیشنل‘کے لیبل کی وجہ سے لوگوں کی مشتبہ نظروں کا بھی سامنا کرنا پڑاہے۔

اس رپورٹ کے دوران ہمیں پتہ چلاکہ چھاپوں کے بعد نیوزکلک سے نوکری گنوانے والے تقریباً 80 فیصد ملازمین کو اب تک کوئی مستقل نوکری  نہیں ملی ہے۔

معاملے کی شروعات کہاں سے ہوئی؟

ادارے کے خلاف اس معاملے کی شروعات اگست 2020 میں بتائی جاتی ہے، جب دہلی پولیس کی اکنامک آفنسز ونگ نے تعزیرات ہند کی دفعات 406 (مجرمانہ امانت میں خیانت)، 420 (دھوکہ دہی) اور 120بی (مجرمانہ سازش) کے تحت ایف آئی آر درج کی تھی۔ اس کے بعد اکنامک آفنسز ونگ کی اسی ایف آئی آر کی بنیاد پر ای ڈی نے 2 ستمبر 2020 کو پی ایم ایل اے کے تحت نیوزکلک کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ تاہم، نیوزکلک کے زیادہ تر ملازمین کو اس کی خبر فروری 2021 میں تلاشی مہم کے دوران ہی ملی۔

اس کے بعد 9 فروری 2021 کی صبح جب زیادہ تر لوگ روزمرہ میں مصروف میں تھے، اسی وقت ٹوئٹر (اب ایکس) پر نیوزکلک کے دفتر پر ای ڈی کی چھاپے ماری کی خبریں کچھ صحافیوں نے پوسٹ کیں، جو جلد ہی آن لائن میڈیا اور ٹی وی چینلوں پر بھی بریکنگ نیوز کے طور پر دکھائی جانے لگیں۔

نیوزکلک کی ایک سابق صحافی آرتی* اس دن کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں، ’ای ڈی کی ریڈ کی جانکاری مجھے صبح ایک صحافی کی سوشل میڈیا پوسٹ سے ملی تھی۔ میں نے اس کے بعد کچھ لوگوں کو فون اور میسج کیے تو پتہ چلا کہ چھاپہ دفتر اور کچھ سینئر لوگوں کے گھروں پر جاری ہے، جن میں ہمارے ایڈیٹر ان چیف پربیر پرکایستھ، ایڈیٹر پرانجل پانڈے اور ایچ آر ہیڈ امت چکرورتی کے گھر کی جانکاری سامنے آئی۔ لیکن ان سب کے درمیان نیوزکلک کا کام نہیں رکا، ٹیم نے ہمیشہ کی طرح مقررہ وقت پر اپنا کام شروع کیا اور اس دن بھی ہماری خبریں شائع ہوئیں۔ بغیر کسی خوف کے حکومت سے سوال کرتی ہوئی، اپنے معمول کے انداز میں۔‘

اس حوالے سے ادارے کے ایک اور سابق ملازم آکاش* بتاتے ہیں، ’نیوزکلک کے دفتر میں تقریباً 38 گھنٹے تک چھاپے ماری چلی، جبکہ پربیر کے گھر پر پانچ دن تک چھاپے ماری جاری  رہی۔ یہ ایک لمبا وقت تھا۔ تاہم اس دوران ادارے کے کام پر کوئی اثر نہیں پڑا کیونکہ اس وقت کووڈ وبا چل رہی تھی اور زیادہ تر لوگ گھر سے کام کر رہے تھے۔‘


نیوزکلک کے کئی سابق صحافیوں نے بتایا کہ چھاپے کے کچھ دن بعد پربیر نے تمام ملازمین کے ساتھ ایک آن لائن میٹنگ کی اور سب کو صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ادارے نے فنڈنگ سے متعلق تمام ضروری قواعد کی مکمل پاسداری کی ہے اور کہیں بھی کسی طرح کی کوئی بے ضابطگی نہیں کی گئی ۔ ادارہ پہلے کی طرح اپنا کام جاری رکھے گا اور حاشیے پر موجود لوگوں کی آواز بلند کرنے کی کوشش جاری رکھےگا۔


وہیں، فروری 2021 میں ریڈ کے دوران نیوزکلک کو ملک اور دنیا بھر سے بھرپور حمایت ملی تھی۔ صحافیوں، مزدوروں، فنکاروں اور نوجوان کی تنظیموں کے ساتھ ساتھ عوامی تحریکوں اور سائنس و ٹکنالوجی کے شعبوں سے وابستہ افراد نے ادارے کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔

سات مہینے بعد پھر آئی ای ڈی

اس کے بعد ستمبر 2021 آیا اور انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے نیوزکلک کا سروے کیا۔ اس وقت ایک بار پھر نیوزکلک کے حق میں یکجہتی اور حکومت سے سوال اٹھانے کی آوازیں بلند ہوئیں۔ اس کے بعد معاملہ ایک بار پھر ٹھنڈے بستے میں چلا گیا۔

پھر اگست 2023 میں نیوزکلک  کا نام لوک سبھا میں گونجا۔ نیوزکلک کی سابق صحافی ریما* بتاتی ہیں،’ 7 اگست 2023 کو میرے علاوہ کئی لوگ دفتر میں موجود تھے اور لوک سبھا کی کارروائی دیکھ رہے تھے۔ اسی دوران بی جے پی کے رکن پارلیامنٹ نشی کانت دوبے نے نیویارک ٹائمز کی کسی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے نیوزکلک کا نام لیا اور اسے چینی فنڈنگ اور ملک مخالف قرار دیتے ہوئے’ٹکڑے ٹکڑے گینگ‘سے جوڑ دیا۔ وہ دن ہم سب کے لیے کبھی نہ بھولنے والا ہے۔ ‘

ریما مزید کہتی ہیں،’ہمارے مدیران نے دفتر میں موجود تمام لوگوں سے فوراً گھر جانے کو کہا۔ ساتھ یہ بھی کہا کہ احتیاط سےجائیں اور اگلی کسی اطلاع تک دفتر نہ آئیں۔ اس کے بعد ڈر کا ماحول بننا شروع ہو ا، کیونکہ ٹی وی چینلوں اور ان کے صحافیوں نے نیوزکلک اور اس کے ملازمین کو اینٹی نیشنل اور تمام ملک مخالف تمغوں کے ساتھ ٹیگ کرنا شروع کر دیا۔ تاہم ادارے کا کام اس کے بعد بھی بغیر رکے جاری رہا۔‘

معلوم ہو کہ فنڈنگ کے معاملے پر سمبت پاترا، انوراگ ٹھاکر سمیت کئی بی جے پی رہنماؤں نے ادارے پر چینی پروپیگنڈہ پھیلانے کے الزامات لگائے تھے۔ اس کے بعد دہلی پولیس نے بھی انسداد دہشت گردی قانون، غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت کیس درج کیا۔

فنڈنگ اور مبینہ پروپیگنڈہ سے متعلق الزام

نیوزکلک پر الزام لگایا گیا کہ اس نے’چینی پروپیگنڈہ‘پھیلانے کے لیے ایک امریکی ارب پتی سے فنڈنگ لی ہے۔ اسی سلسلے میں 3 اکتوبر 2023 کو ویب سائٹ کی اعلیٰ قیادت سے لے کر جونیئر اسٹاف اراکین، سابق ملازمین اور کئی دیگر بیرونی افراد، جو کبھی کسی نہ کسی صورت میں اس ادارے سے وابستہ رہے تھے، کے گھروں پر چھاپے ماری کی گئی تھی۔

پولیس نے چھاپوں کے دوران ان لوگوں کے موبائل، لیپ ٹاپ، کمپیوٹر سمیت الکٹرانک سامان ضبط کر لیا اور اس معاملے میں نیوزکلک کے ایڈیٹر ان چیف پربیر پرکایستھ اور ایچ آر ہیڈ امت چکرورتی کو گرفتار کیا۔

اکتوبر 2023 میں پولیس نے دہلی میں واقع نیوزکلک کے دفتر کو سیل کر دیا تھا۔ (تصویر: ارینجمنٹ)

اس کے بعد غیر یقینی صورتحال اور ملازمین کے درمیان خوف، ذہنی دباؤ اور روزگار کے بحران کا آغاز ہو گیا۔ کچھ لوگوں نے نوکری کی تلاش شروع کر دی، جبکہ کچھ اس چھاپے کی دہشت کو ذہن سے نکالنے کی کوشش کرتے رہے۔ کسی  طرح فون، لیپ ٹاپ وغیرہ کا انتظام کیا گیا، مگر اس دوران کام جاری رہا۔

اورپھر دسمبر 2023 آیا، 18 تاریخ کے قریب یہ خبر سامنے آئی کہ نیوزکلک کے بینک اکاؤنٹ فریز کر دیے گئے ہیں۔

اس سلسلے میں ایک سابق ملازم راکیش* بتاتے ہیں،’ہمیں بینک اکاؤنٹ فریز ہونے کی خبر بھی سوشل میڈیا سے ملی۔ پھر ایک آن لائن میٹنگ میں ادارے کی طرف سے بتایا گیا کہ اس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا گیا ہے اور امید ہے کہ عدالت لوگوں کے روزگار کے مسئلے کو ترجیح دے گی۔ تاہم اس دوران کرسمس اور نیا سال آ گیا اور نیوزکلک کے ملازمین کو نہ تنخواہ ملی اور نہ ہی عدالت میں فوراً سماعت ہوئی۔‘

ایک اور ملازم شہباز* بتاتے ہیں،’میرا خاندان دہلی میں کرایہ کے مکان میں رہتا ہے، بچوں کی اسکول فیس ادا کرنی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ گھر کے دیگر اخراجات بھی ہوتے ہیں جن کے لیے ہم تنخواہ پر ہی انحصار کرتے تھے۔ جیسے تیسے بچت کے پیسوں سے کچھ دن گزارا کیا۔ پھر ادارے کی طرف سے جنوری کے آخری ہفتے میں کہا گیا کہ’افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اب آپ دوسری نوکری تلاش کر لیں کیونکہ ادارہ تنخواہ دینے کی حالت میں نہیں ہے، ہمارے اکاؤنٹ فریز ہیں اور ادارہ کئی قانونی معاملات میں الجھا ہوا ہے جن میں بہت زیادہ پیسہ لگ رہا ہے۔‘

وہ مزید بتاتے ہیں،’ہم نے ایک ماہ کا نوٹس پیریڈ مکمل کیا اور فروری کے آخر میں تقریباً تمام ملازمین کی نوکری چلی گئی۔ ہمیں مبینہ مین اسٹریم کے چینلوں یا اداروں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ ہم نیوزکلک سے تھے، ایک ایسا ادارہ جس پر ملک مخالف کام کرنے کے الزامات لگے ہیں۔ کئی لوگوں نے ہمیں اینٹی نیشنل بھی سمجھ لیا تھا۔‘

اکتوبر 2023 میں نیوزکلک کے حق میں ہونے والا ایک احتجاج۔ (تصویر: یاقوت علی/دی وائر)

نوکری کے لیے جدوجہد

دی وائر سے بات کرتے ہوئے ادارے کے ایک سابق صحافی بتاتے ہیں کہ انہوں نے اپنی موجودہ تنخواہ سے تقریباً 30 فیصد کم پر مجبوری میں ایک اور میڈیا ادارے میں نوکری کی، کیونکہ ان کے پاس آمدنی کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں تھا۔ کچھ میڈیا اداروں نے انہیں کہا کہ’آپ کا کام اچھا ہے، لیکن ہم آپ کو نوکری دے کر قانونی نظر میں نہیں آنا چاہتے کیونکہ آپ کے سابق ادارے کی جانچ ابھی  بھی جاری ہے۔‘


نیوزکلک کے زیادہ تر سابق صحافیوں اور ملازمین کو نوکری گنوانے کے تقریباً دو سال بعد بھی کوئی مستقل نوکری نہیں ملی ہے۔ وہ کسی نہ کسی طرح فری لانس کام کے ذریعے گزارہ کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ زیادہ تر لوگ ایسے ہیں جنہوں نے کسی دوسرے ادارے میں کم تنخواہ پر کام شروع کیا ہے، لیکن دہلی پولیس کا خوف اب بھی ان کے ساتھ ہے۔

ایسے میں دہلی ہائی کورٹ کا فیصلہ انہیں کچھ حد تک سکون ضرور دے سکتا ہے، لیکن ان کی چلی گئی نوکری واپس نہیں لا سکتا۔


نیوزکلک کے لیے 2018 میں چند ماہ جونیئر سطح پر کام کرنے والی سواتی* بتاتی ہیں کہ انہوں نے صرف ڈھائی سے تین ماہ وہاں کام کیا تھا اور اب وہ میڈیا سے پوری طرح دوری  بنا چکی ہیں، اور اس وقت گھر سے کچھ کتابوں کے ترجمے کا کام کرتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دہلی پولیس ان کے گھر بھی چھاپے کے لیے پہنچی تھی اور ان کا لیپ ٹاپ اور فون لے گئی تھی۔ لیپ ٹاپ میں ان کا ترجمے سے متعلق اہم کام تھا جس کی بدولت انہیں پیسے ملنے تھے، مگر چھاپے کے بعد سب مشکل ہو گیا۔ انہیں کئی مہینوں تک پوچھ گچھ کے باعث ذہنی اذیت کا سامنا رہا اور آج بھی تقریباً دو سال گزرنے کے باوجود انہیں ان کا لیپ ٹاپ اور فون واپس نہیں ملا ہے۔

غور طلب ہے کہ اکتوبر 2023 کی چھاپہ ماری کے دوران پولیس ایسے کئی صحافیوں کے گھروں تک بھی پہنچی تھی، جو برسوں یا مہینوں پہلے نیوزکلک چھوڑ کر کسی اور ادارے میں کام کرنے لگے تھے۔

ایسے کچھ ملازمین نے بتایا کہ دہلی پولیس کی چھاپہ ماری کے بعد ان کے اس وقت کے اداروں نے انہیں نوکری سے نکال دیا اور وہ اچانک بے روزگار ہو گئے۔ پھر دوسری نوکری کی تلاش شروع ہوئی، جس میں بھی چند ہی لوگ کامیاب ہو سکے اور کچھ آج بھی بے روزگاری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

ذہنی اذیت

صحافیوں اور ملازمین کے گھروں پر دہلی پولیس کی اس اچانک چھاپہ ماری کے دوران شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف مظاہروں، کسان تحریک اور دہلی فسادات میں رپورٹنگ سے متعلق سوال پوچھے گئے تھے۔ لوگوں کے ذاتی بینک اکاؤنٹس کی معلومات اور کئی افراد سے ان کے خاندان کی نجی تفصیلات بھی طلب کی گئی تھیں۔

کئی جگہوں پر کچھ لوگوں کو پولیس نے نوکری چھوڑنے کا مشورہ دیا، جبکہ کچھ کے گھروں سے کتابیں اور ضروری سامان، جن میں اہل خانہ کے فون اور لیپ ٹاپ بھی شامل تھے، ساتھ لے جایا گیا۔

زیادہ تر لوگوں کو 3 اکتوبر کو لودھی روڈ پر واقع دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کے دفتر لے جایا گیا اور گھنٹوں تک ایسے سوالوں سے پریشان کیا گیا۔ اس کے بعد کئی لوگوں کو اسی جگہ بار بار پوچھ گچھ کے لیے بلایا گیا، جو ان کے لیے اب تک ذہنی صدمے کا سبب بنا ہوا ہے۔

کارروائی ہی سزا بن گئی

دہلی ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے پر اس کے ایڈیٹر ان چیف پربیر پرکایستھ نے دی وائر سے کہا کہ’دیر آئے درست آئے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ یہ پوری کارروائی ہی سزا کے برابر ہے۔ اس دوران جن لوگوں کو نوکریاں گنوانی پڑیں، انہوں نے صرف اپنی روزی نہیں کھوئی بلکہ فون اور لیپ ٹاپ ضبط ہونے سے روزگار کا ذریعہ بھی کھو دیا۔ ان کے نقصان کی کبھی تلافی نہیں ہو سکتی۔ اس میں کئی ایسے نوجوان بھی تھے جو اپنے کیریئر کے ابتدائی مرحلے میں تھے اور انہیں مالی سمیت دیگر مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

پربیر مزید بتاتے ہیں کہ نیوزکلک کے خلاف اس وقت یو اے پی اے کے علاوہ انکم ٹیکس اور فارن ایکسچینج مینجمنٹ ایکٹ (فیما) کے مقدمات عدالت میں چل رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تمام ٹیکس اور قانونی رکاوٹوں کے باعث ادارہ مسلسل جدوجہد کر رہا ہے۔ ہائی کورٹ کا فیصلہ ایک روشنی کی مانند ہے، لیکن ابھی لمبی لڑائی  ہے، اور یہ سب صحافت کے چیلنجز میں شامل ہے۔

(نوٹ*: یہاں پہچان محفوظ رکھنے کے لیے کئی صحافیوں اور ملازمین کے نام تبدیل کیے گئے ہیں کیونکہ انہیں خوف ہے کہ یو اے پی اے معاملے میں پولیس انہیں کبھی بھی نشانہ بنا سکتی ہے۔ نیوزکلک نے اپنے تمام پریس بیانوں میں تمام ایجنسیوں کے الزامات کو مسترد کیا ہے اور اس کارروائی کو آزاد صحافت پر حملہ قرار دیا ہے۔)