اجئے دیوگن کی نئی فلم ’چوہان‘کے ٹریلر میں پیلٹ گن کومحدود نقصان پہنچانے والا بتایا گیا ہے، جس کے بعد اس کی تنقید کی جا رہی ہے۔ کشمیر میں پیلٹ گن متاثرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ریاستی تشدد برداشت کیا ہے اور اب بالی وڈ ان کے درد کا مذاق اڑا رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2010 سے 2016 کے درمیان جموں و کشمیر میں تقریباً 10,000 افراد پیلٹ گن سے زخمی ہوئے،متعدد معذور ہوگئےجبکہ کئی لوگوں کی آنکھوں کی روشنی بھی چلی گئی۔

شری مہاراجہ ہری سنگھ اسپتال میں پیلٹ گن سے زخمی ایک نوجوان۔ (فائل فوٹو: سدھارتھ وردراجن/دی وائر)
پلوامہ/سری نگر: اجئے دیوگن کی آنے والی ایکشن فلم ’چوہان‘کے ٹریلر نے کشمیر میں پیلٹ گن سے زخمی ہوئے ہزاروں افراد کی تلخ یادیں ایک بار پھر سےتازہ کر دی ہیں۔ وادی میں بدامنی کے دوران پیلٹ گن کی چوٹوں نے ان لوگوں کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی تھی۔
جوکشمیر کی حالیہ تاریخ سے واقف نہیں ہیں، ان کے لیے ٹریلر کا یہ ڈائیلاگ-’پیلٹ گن، لمیٹڈ ڈیمیج (محدود نقصان)‘-شاید معمولی بات لگے۔ لیکن پیلٹ گن کا شکار ہوئے لوگوں کے لیے یہ ان کے اس کربناک تجربے کو جھٹلانے جیسا ہے، جس نے ہزاروں افراد کو معذور اور سینکڑوں کو جزوی یا مکمل طور پر نابینا بنا دیا۔
فلم کے ٹریلر پر ہونے والی تنقید کے مرکز میں یہ بات ہے کہ بالی وڈ ہندوستان اور دنیا بھر کے ناظرین کے سامنے کشمیر کی حالیہ تاریخ کے سب سے دردناک ابواب میں سے ایک کو کس طرح یاد کرتا ہےاور پیش کرتا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2010 سے 2016 کے درمیان جموں و کشمیر میں تقریباً 10,000 افراد پیلٹ گن سے زخمی ہوئے۔ ان میں سب سے زیادہ واقعات 2016 کی عوامی تحریک کے دوران پیش آئے، جب حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد ہونے والے مظاہروں میں 6,000 سے زیادہ افراد، جن میں مظاہرین بھی شامل تھے، پیلٹ گن سے زخمی ہوئے۔
سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کم از کم 782 افراد کی آنکھوں میں شدید چوٹ آئی، جن میں سے بہت سے لوگوں نے ایک یا دونوں آنکھوں کی بینائی کھو دی۔ وادی کے اسپتالوں میں آنکھوں کی پھٹی ہوئی پتلی، ریٹینا کی چوٹوں اور ہمیشہ کے لیےبینائی سے محروم مریضوں کا علاج کیا گیا۔
سال2016 میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے پیلٹ گنوں پر پابندی کے مطالبے کے ساتھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ مارچ 2020 میں عدالت نے یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’جب تک بے قابو ہجوم تشدد کرتا رہے گا، اس وقت تک طاقت کا استعمال ضروری رہے گا۔‘
’یہ زخم کبھی نہیں بھرا‘
پیلٹ گن لگنے سےدائیں آنکھ کی بینائی سے محروم ہو جانے والے محمد اشرف کہتے ہیں کہ اس حادثے کا صدمہ اب ان کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔
انہوں نے دی وائر سے کہا،’ہم پیلٹ گن متاثرین کی بحالی کے مطالبے کے لیے ایک تنظیم چلا رہے تھے، لیکن مسلسل دھمکیوں اور ہراسانی کے باعث ہمیں 2024 میں اسے بند کرنا پڑا۔ میڈیا سے ہماری آخری بات چیت میں ہم نے صرف کشمیر ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں پیلٹ گنوں پر مکمل پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔ اس درد کو جس طرح ہم محسوس کرتے ہیں، شاید بہت کم لوگ اسے سمجھ سکتے ہیں۔‘
اشرف مزید کہتے ہیں،’مجھے ایک بار گولی بھی لگی تھی، لیکن اس کا زخم بھر گیا اور وقت کے ساتھ میں اسے بھول بھی گیا۔ مگر پیلٹ سے لگنے والا زخم ایسا ہے جو شاید میری موت کے بعد ہی بھر سکے گا۔‘
اپنے خاندان پر انحصار کرنے والے اشرف کا کہنا ہے کہ یہ تکلیف آج تک ختم نہیں ہوئی۔
اسی طرح33سالہ جہانگیر احمد کو آج بھی درد سے پہلے وہ آواز یاد آتی ہے۔ برہان وانی کی موت کے بعد وادی میں بند کے دوران وہ پلوامہ کے پیار علاقے میں واقع اپنے پولٹری فارم سے گھر لوٹ رہے تھے۔ تاہاب گاؤں کے قریب وہ سکیورٹی فورسز اور پتھراؤ کرنے والے مظاہرین کے درمیان پھنس گئے۔
انہوں نے بتایا،’جب میں وہاں سے بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا تو پولیس نے پیلٹ فائرنگ شروع کر دی۔ کچھ پیلٹ میری دائیں آنکھ میں لگے۔‘
پہلے انہیں ضلع اسپتال لے جایا گیا، پھر سرینگر کے شری مہاراجہ ہری سنگھ(ایس ایم ایچ ایس) اسپتال ریفر کر دیا گیا۔ احمد یاد کرتے ہیں،’مجھے ایک حاملہ خاتون کے ساتھ ایمبولینس شیئرکرنے کو کہا گیا۔ جب ہم پلوامہ کے نیوا پہنچے تو فوج اور پولیس اہلکاروں نے مجھے ایمبولینس سے باہر کھینچ لیا اور پیٹا۔‘
تقریباً ایک دہائی گزر جانے کے باوجود یہ چوٹ آج بھی ان کی روزمرہ کی زندگی کو متاثر کر رہی ہے۔
انہیں فاصلے کا درست اندازہ لگانے میں دشواری پیش آتی ہے اور تیز روشنی سےپریشانی ہوتی ہے۔ کئی برسوں تک بینائی کے مسئلے کی وجہ سے ان کی شادی بھی نہ ہو سکی، تاہم بعد میں ان کی شادی ہو گئی۔
فلم ’چوہان‘کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا،’ہم نے ریاستی تشدد برداشت کیا ہے اور اب بالی وڈ ہمارے درد کا مذااق اڑا رہا ہے۔ وہ ہمارے درد سے فائدہ بھی اٹھا سکتے ہیں اور ساتھ ہی حقیقت میں جو کچھ ہوا، اسے توڑ مروڑ کر بھی پیش کر سکتے ہیں۔‘
احمد کے لیے یہ تنازعہ صرف ایک جملے تک محدود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا،’یہ صرف ایک غلط ڈائیلاگ نہیں ہے۔ اس نے مجھے یہ احساس دلایا کہ ہمارے ساتھ جو کچھ ہوا، اسے محض ایک فلمی ڈائیلاگ میں سمیٹ دیا گیا۔‘
ایک ماں کی یادیں
مہ جبیں، جن کے نوعمر بیٹے کو 2016 کی بدامنی کے دوران پیلٹ لگی تھی، انہوں نے فلم کا ٹریلر نہیں دیکھا ہے، لیکن متنازعہ ڈائیلاگ کے بارے میں سن چکی ہیں۔
اس وقت ان کا بیٹا 16 سال کا تھا۔ کرفیو کے دوران گھر سے باہر نکلنے پر اس کے چہرے پر پیلٹ لگی۔ ڈاکٹروں نے کئی گھنٹوں تک اس کی دونوں آنکھیں بچانے کی کوشش کی، مگر صرف ایک آنکھ ہی محفوظ رکھی جا سکی۔
انہیں آپریشن والی رات آپریشن تھیٹر کے باہر انتظار کرنا آج بھی یاد ہے۔ انہوں نے دی وائر کو بتایا،’آپریشن کی رات میں آپریشن تھیٹر کے باہر بیٹھی رہی۔ ہر بار جب کوئی ڈاکٹر باہر آتا تو مجھے امید ہوتی کہ شاید کوئی اچھی خبر ملے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔‘
ان کا بیٹا تو بچ گیا، مگر اس کی زندگی مکمل طور پر بدل گئی۔ اسے پڑھنے لکھنے میں دشواری ہونے لگی اور کمزور بینائی کی وجہ سے روزگار کے مواقع بھی محدود ہو گئے۔
مہ جبیں کہتی ہیں،’جب میں نے سنا کہ کسی نے پیلٹ سے لگنے والی چوٹ کو ’محدود نقصان‘ قرار دیا ہے تو مجھے حیرت ہوئی کہ کیا وہ کبھی کسی ایسے بچے کے پاس بیٹھے ہیں جو شاید اب کبھی دیکھ نہ سکے؟‘
’سب سے سنگین چوٹوں میں سے ایک‘
سال 2010 میں پیلٹ گنوں کو اسالٹ رائفلوں کے مبینہ طور پر کم خطرناک متبادل کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا، لیکن تب سے انسانی حقوق کی تنظیمیں اور طبی ماہرین اس کی تنقید کرتے آ رہے ہیں۔
سال2019میں سری نگر کے انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز کی ایک تحقیق میں پایا گیا کہ پیلٹ گن کا نشانہ بننے والے 85 فیصد لوگ ذہنی امراض کا شکار ہو گئے۔
تحقیق کے مطابق، آنکھوں میں چوٹ لگنے والے مریضوں میں یہ شرح تقریباً 93 فیصد تھی۔
ایک اور تحقیق، جس کی قیادت ممبئی کے ریٹینا کےماہر ڈاکٹر ایس نٹراجن نے کی، بتاتی ہے کہ علاج کے بعد بھی 82.4 فیصد زخمی آنکھوں کی بینائی صرف انگلیاں گن پانے یا اس سے بھی بدتر سطح پر پہنچ گئی۔
اس تحقیق کو سری نگر کے ایس ایم ایچ ایس اسپتال کے انسٹی ٹیوشنل ریویو بورڈکی منظوری حاصل تھی اور اسے ورلڈ میڈیکل ایسوسی ایشن کے ہیلسنکی اعلامیہ کے اخلاقی اصولوں کے مطابق تیار کیاگیا تھا۔
یہ اعلامیہ ورلڈ میڈیکل ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ اخلاقی اصولوں کا ایک مجموعہ ہے، جو میڈیکل ریسرچ میں انسانی شرکاء کے تحفظ کے لیے رہنما اصول فراہم کرتا ہے۔
’فلمیں لوگوں کی یادیں بناتی ہیں‘
فلم ’چوہان‘کے اس ڈائیلاگ پر سیاسی رہنماؤں، انسانی حقوق کے کارکنوں، ڈاکٹروں، فلم کے ناقدین اور سوشل میڈیا صارفین نے تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پیلٹ گن کو ’محدود نقصان پہنچانے والا‘قرار دینا ہزاروں کشمیریوں کےدکھ اور تجربات کو کم تر دکھانے کے مترادف ہے۔
دہلی کی محقق ڈاکٹر روچیکا شرما کہتی ہیں،’فلموں کو فنکارانہ آزادی حاصل ہے، لیکن جب وہ حقیقی واقعات پر مبنی ہوں تو وہ لوگوں کی اجتماعی یادداشت بھی تشکیل دیتی ہیں۔‘
شرما کے مطابق اس ڈائیلاگ پر ناراضگی کی وجہ یہ ہے کہ اس میں درد کو کم تر دکھانے کی کوشش محسوس ہوتی ہے، اور پیلٹ گن کو ایک معمول کی چیز کے طور پر پیش کرنا بھی’انتہائی تشویشناک‘ہے۔
انہوں نے کہا،’یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پیلٹ گن طویل عرصہ تک رہنے والی اور شدید نوعیت کی چوٹیں پہنچاتی ہے۔ یہ کسی رائے کا معاملہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا،’آج کل ان فلموں میں تشدد کی سطح انتہائی تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔ ’دھرندھر ‘ میں تشدد کی ایسی شکلیں دکھائی گئی ہیں جنہوں نے لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا- چاہے وہ جاسوسوں پر تشدد ہو یا کچھ اور- یہ سب حد سے زیادہ ہے۔ سینسر بورڈ کا اتنے زیادہ تشدد کی اجازت دینا حیران کن ہے۔‘
نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے فلمسازوں پر گمراہ کن کہانی پیش کرنے کا الزام عائد کیا۔
انہوں نے کہا،’یہ ٹیزر حقائق پر مبنی نہیں ہے۔ نیم فوجی دستوں کے بارے میں دیے گئے اعداد و شمار بھی گمراہ کن ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ نفرت اورتفرقہ پیدا کرنے کے مقصد سے کیا گیا پروپیگنڈہ ہے۔ ‘
انہوں نے مزید کہا،’پیلٹ گن کی وجہ سے بہت سے لوگ زندگی بھر کے لیے معذور ہو گئے ہیں۔ بعض معاملوں میں لوگوں کی جان بھی گئی ہے۔ ان کی تکلیف کو کم تر دکھانا قابل مذمت ہے۔‘
فنکارانہ آزادی؟
فلمساز اور رائٹر سنجے کاک کا ماننا ہے کہ یہ تنازعہ سماج کے تئیں سنیما کی ذمہ داری سے متعلق نہایت اہم سوال کھڑے کرتا ہے۔ انہوں نے دی وائر سے کہا، ’پیلٹ گن سے محدود نقصان‘ والی لائن کو صرف فنکارانہ آزادی یا بے حسی کا معاملہ سمجھنا کافی نہیں ہوگا۔‘
کاک کے مطابق، یہ مکالمہ اس وسیع تر سیاسی ماحول کی عکاسی کرتا ہے جس میں کشمیریوں کے درد کو کم تر کر کے پیش کیا جاتا ہے۔
کاک نے کہا،’اس اکثریتی پس منظر کو سمجھنا زیادہ ضروری ہے جو ایک بڑے بجٹ اور بڑے ستاروں والی بالی وڈ فلم کو اس ہولناک ہتھیار سے دیے گئے کبھی نہ بھرنے والے، عمر بھر کے زخموں پر نمک چھڑکنے کی اجازت دیتا ہے۔‘
انہوں نے ٹریلر کی ایک اور لائن کا بھی ذکر کیا: ’پچہتر سال بعد جواب آ رہا ہے‘ ’پٹھانوں سے کہہ دو کہ چوہان آ رہا ہے ‘ـ کاک کا کہنا ہے کہ یہ بات کہانی کو ایک اکثریتی سیاسی بیانیے میں ڈھال دیتی ہے۔
کاک نے کہا، ’یہ ’75 سال‘ شاید ہندوستان کی آزادی کے سال ہیں۔ اور یہاں ’پٹھان‘ کا لفظ ایک وسیع مفہوم میں استعمال ہوا ہے، جس میں کم از کم کشمیری مسلمان، پاکستانی مسلمان اور مغل شامل ہیں- آپ ان میں سے کسی کو بھی منتخب کر سکتے ہیں۔ اور چوہان؟ یہ شاید اس پرتھوی راج چوہان کی بات ہو رہی ہے، جنہوں نے مسلم حملہ آوروں کے خلاف ہندو راجپوتوں کو متحد کیا تھا۔‘
کاک نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کے بیانیے میں پیلٹ گن سے ہونے والے درد کو ایک فاتحانہ سیاسی پیغام کے سامنے مٹا دیے جانے کا خطرہ ہے۔
کاک نے کہا، ’اسی لیے جب فلم اپنے اکثریتی ناظرین کو یہ دکھاتی ہے کہ کشمیریوں پر پیلٹ گن کے ذریعے کتنا بڑا ظلم ہوا، تو کشمیر میں کسی کے جسم میں پیوست ہونے والے ہر پیلٹ میں پوشیدہ جرم – چاہے وہ 19 ماہ کی ہبہ نثار ہو یا 80 سالہ عبد القیوم بھٹ – اس بڑی ’آزادی‘ کے سامنے دبا دیا جاتا ہے جو چوہان نئے ’ہندو بھارت‘ کی صورت میں پیش کرتی ہے۔‘
اردو ترجمہ
’تفریح کے لیے گھاؤ کریدنا غیر انسانی عمل ہے‘
معروف کشمیری نژاد برطانوی مصنف مرزا واحد نے بھی اسی نوعیت کے خدشات کا اظہار کیا۔
انہوں نے دی وائر سے کہا،’دنیا کے کئی حصوں میں فنکار اور فلمساز تشدد کے شکار لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ بیداری پیدا کرتے ہیں، بحالی کے عمل میں مدد دیتے ہیں اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ ایک آفاقی انسانی جذبہ ہے۔‘
انہوں نے کہا، ’بدقسمتی سے بالی وڈ کے ایک حصے میں صورتحال اس کے برعکس ہو گئی ہے۔ وہ تشدد کے متاثرین کا مذاق اڑاتے ہیں، ان نوجوان کشمیریوں کی تضحیک کرتے ہیں جن کی بینائی ایک دہائی قبل پیلٹ گن سے چلی گئی اور جو تب سے تاریکی میں زندگی گزار رہے ہیں اور آئندہ بھی اسی طرح گزاریں گے۔ یہ کہنا کہ انہیں اندھا کرنا بھی کافی نہیں تھا، ان کے درد کی توہین ہے اور مزید تشدد پر اکسانے کے مترادف ہے۔‘
واحد نے فلمسازوں سےایسی پیشکش کے اخلاقی نتائج پر غور کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا،’انہیں سوچنا چاہیے کہ کیا باکس آفس پر کامیابی کی دوڑ میں وہ بہت آگے نکل گئے ہیں؟ کیا مسلمانوں اور کشمیریوں کی زندگیوں کو غیر انسانی بنا کر پیش کرنے کی دوڑ میں انہوں نے اپنے انسانی جذبے کو کھو دیا ہے؟‘
واحد نے کہا، ’پیلٹ گن سے متاثرہ افراد اور ان کے خاندانوں کے لیے زندگی بھر کے لیے بینائی کھو دینا ایک ایسا زخم ہے جو کبھی نہیں بھرتا۔ تفریح کے لیے ان زخموں کو کریدنا غیر انسانی عمل ہے۔‘
صرف ایک ’ڈائیلاگ‘ نہیں
ہزاروں متاثرین کے لیے ٹریلر پر غصے کی وجہ صرف ایک ڈائیلاگ نہیں ہے۔ اصل خدشہ یہ ہے کہ کشمیر کے سب سے دردناک ابواب میں سے ایک کو محض تفریح کی غرض سے سادہ اور معمولی بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، اور ممکن ہے اسے ازسرنو لکھنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہو۔
حکومت کے ہر اعداد و شمار کے پیچھے ایک چہرہ ہوتا ہے۔ ہر میڈیکل ریکارڈ کے پیچھے ایک خاندان ہوتا ہے۔ آنکھ کی ہر چوٹ کے پیچھے ایک ایسی زندگی ہوتی ہے جو ہمیشہ کے لیے بدل چکی ہوتی ہے۔ ایسے ہر ’ڈائیلاگ‘ کے پیچھے ایک ایسا مظلوم ہوتا ہے جس کی آواز دبا دی گئی ہے۔
اسی لیے کشمیر میں بہت سے لوگوں کے لیے ’محدود نقصان‘ جیسے لفظوں کا مفہوم اتنا محدود نہیں جتنا فلمسازوں نےسوچاتھا، بلکہ اس سے کہیں زیادہ گہرا اور تکلیف دہ ہے۔
(جنید ڈار آزاد صحافی ہیں۔)
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔