کینیڈا پولیس کا دعویٰ – بشنوئی گینگ ہندوستانی حکومت کے لیے کام کر رہا ہے

کینیڈین میڈیا پلیٹ فارم گلوبل نیوز نے پولیس کےدستاویزوں کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ لارنس بشنوئی گینگ، جو اپنی مجرمانہ سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کے لیے تشدد کا سہارا لینے کے لیے معروف ہے، وہ ہندوستانی حکومت کے لیے کام کرتا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ گینگ جبری وصولی، منشیات کی اسمگلنگ، منی لانڈرنگ اور کانٹریکٹ کلنگ میں ملوث ہے۔

کینیڈین میڈیا پلیٹ فارم گلوبل نیوز نے پولیس کےدستاویزوں کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ لارنس بشنوئی گینگ، جو اپنی مجرمانہ سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کے لیے تشدد کا سہارا لینے کے لیے معروف ہے، وہ ہندوستانی حکومت کے لیے کام کرتا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ گینگ جبری وصولی، منشیات کی اسمگلنگ، منی لانڈرنگ اور کانٹریکٹ کلنگ میں ملوث ہے۔

علامتی تصویر

نئی دہلی: کینیڈا میں جبری وصولی اور کانٹریکٹ کلنگ میں مبینہ طور پر ملوث بدنام زمانہ  لارنس بشنوئی گینگ کے بارے میں رائل کینیڈین ماؤنیٹڈ پولیس(آر سی ایم پی) کے ایک دستاویز میں کہا گیا ہے کہ یہ گینگ ‘ہندوستانی حکومت کے لیے کام کر رہا ہے۔’

یہ جانکاری کینیڈین میڈیا پلیٹ فارم گلوبل نیوز نے دی ہے ۔

بشنوئی گینگ کے بارے میں آر سی ایم پی کے سیکورٹی ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ میں صرف تین صفحات میں ہی اس مجرمانہ گینگ کے ہندوستانی حکومت سے مبینہ روابط کا ذکر کم از کم نصف درجن بار کیا گیا ہے۔

گلوبل نیوز کو موصولہ آر سی ایم پی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ‘لارنس گینگ ایک پرتشدد مجرمانہ تنظیم ہے، جس کی کینیڈا سمیت کئی ممالک میں سرگرمیاں بڑھتی  جا رہی ہیں۔’

دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ بشنوئی گینگ سیاسی یا مذہبی مقاصد کے بجائے لالچ میں جبری وصولی، منشیات کی اسمگلنگ، منی لانڈرنگ اور کانٹریکٹ کلنگ میں ملوث ہے۔

رپورٹ میں کلاسیفائیڈ’اے’کے طور پر درجہ بند دستاویز میں الزام لگایا گیا ہے کہ لارنس گینگ، جو اپنی مجرمانہ سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کے لیے تشدد کا سہارا لینے کے لیے معروف ہے،وہ  ہندوستانی حکومت کی جانب سے کام کرتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ کینیڈا میں بشنوئی گینگ کی بڑھتی ہوئی موجودگی سے متعلق یہ خفیہ دستاویز گلوبل نیوز کو کینیڈین رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت حاصل ہوا ہے۔

تاہم، یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کینیڈین سیکورٹی حکام نے بشنوئی گینگ کے بارے میں اس طرح کے دعوے کیے ہیں۔ اس سے قبل اکتوبر 2024 میں  کینیڈین پولیس نے الزام لگایا تھا کہ ہندوستانی حکومت کے ایجنٹ بشنوئی گینگ جیسے منظم جرائم کرنے والےگروہوں کا استعمال ساؤتھ ایشین ڈائیسپورا کمیونٹی کے لوگوں کی معلومات جمع  کرنے کو لے کر دباؤ ڈالنے کے لیے کر رہے تھے۔

واضح ہوکہ یہ دستاویز آر سی ایم پی کی جانب سے اسی دن جاری کیا گیا تھا، جب برٹش کولمبیا کے پریمیئر ڈیوڈ ایبی نے ہندوستان کے لیے ایک تجارتی مشن کا آغاز کیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق، کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی بھی اس سال کے پہلے نصف میں ہندوستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔

اگرچہ دستاویزوں پر کوئی تاریخ نہیں ہے، لیکن اس میں جون 2025 میں ایبی کی جانب سےحکومت سے بشنوئی گینگ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کی درخواست کا ذکر ہے۔

معلوم ہو کہ 29 ستمبر 2025 کو کینیڈا نے ‘خوف اور دہشت کا ماحول ‘پیدا کرنے کے لیے لارنس بشنوئی گینگ کو باضابطہ طور پر دہشت گرد تنظیم اعلان کیا تھا۔ انہوں نے بشنوئی گینگ پر کینیڈا میں ‘اہمیت کے حامل تارکین وطن کمیونٹی ‘  کے ارکان کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا تھا۔

ہندوستان نے یہ کہتے ہوئے جواب دیا تھا کہ ‘بین الاقوامی منظم جرائم دونوں ممالک کے لیے خصوصی طور پر تشویش کا معاملہ ہے’اور تمام ممالک کو’اس خطرے سے لڑنے کے لیے ایک ساتھ آنا چاہیے۔’

دریں اثنا، کینیڈا میں سکھوں کی وکالت کرنے والے گروپوں نے بشنوئی گینگ سے تعلق کا حوالہ دیتے ہوئے ہندوستان کے ساتھ کینیڈا کی حالیہ سفارتی کوششوں کی مخالفت کی ہے۔

کینیڈا کی خبر رساں ایجنسی نے ورلڈ سکھ آرگنائزیشن آف کینیڈا کے ترجمان بلپریت سنگھ کے حوالے سے کہا کہ آر سی ایم پی اور کینیڈین حکومت کو معلوم ہے کہ بشنوئی گینگ ‘کینیڈا میں لوگوں کو نشانہ بنانے کے لیے ہندوستانی حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔’

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے کو ‘سیاسی سہولت کے لیے’ کم اہمیت دی جا رہی ہے۔’تنظیم نے اسے انتہائی تشویشناک قرار دیا کہ اوٹاوا ‘کینیڈین شہریوں کی حفاظت کی قیمت پر ہندوستان کی جاری بین الاقوامی جبر کی مہم اور بشنوئی گینگ سے اس کے واضح روابط کو نظر انداز کرنے کو تیار’ دکھائی دیتا ہے۔

ہندوستانی حکومت نے ابھی تک اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

دریں اثنا، برٹش کولمبیا کے وزیر اعلیٰ کے دفتر نے کہا کہ ایک ‘مجرمانہ عمل’ جاری ہے اور وفاقی حکومت ‘مشترکہ تشویش کے مسائل’ پر ہندوستان کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔

غور طلب ہے کہ بشنوئی اس وقت گجرات کی سابرمتی جیل میں بند ہیں۔ اسے 2015 میں گرفتار کیا گیا تھا۔