آپریشن سیندور کے بعد سیاستدانوں کے غیر ملکی دورے پر یومیہ 73 لاکھ روپے خرچ ہوئے، ہندوستان کو کیا ملا؟

آپریشن سیندور کے بعد ہندوستانی حکومت نے 32 ممالک میں 7 کثیر جماعتی وفد بھیجنے کے لیے 13 کروڑ  روپے سے زیادہ خرچ کیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس قدر مہنگی سفارتی مہم سے ہندوستان کو کوئی ٹھوس بین الاقوامی حمایت یا تزویراتی فائدہ حاصل ہوا؟

آپریشن سیندور کے بعد ہندوستانی حکومت نے 32 ممالک میں 7 کثیر جماعتی وفد بھیجنے کے لیے 13 کروڑ  روپے سے زیادہ خرچ کیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس قدر مہنگی سفارتی مہم سے ہندوستان کو کوئی ٹھوس بین الاقوامی حمایت یا تزویراتی فائدہ حاصل ہوا؟

کثیرجماعتی وفد کی پوری مہم پر 13 کروڑ 11 لاکھ 16 ہزار 647 روپے خرچ ہوا ہے۔ اس  کا42.17 فیصد صرف ان دو وفد پر خرچ کیا گیا، جس کی قیادت روی شنکر پرساد اور ششی تھرور کر رہے تھے ۔ (تصویر: پی ٹی آئی اور پی آئی بی)

نئی دہلی: 22 اپریل 2025 کو کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ہندوستان نے اسے پاکستان کی سرپرستی میں کیا گیا حملہ بتایا اور اس کے جواب میں 7 مئی 2025 کو ‘آپریشن سیندور’ کے تحت پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر (پی او کے) میں دہشت گردوں کے 9 ٹھکانوں پر فوجی کارروائی کی۔

اس کے بعد بین الاقوامی سطح پر اپنی کارروائی کو درست ٹھہرانے کے لیے اور دہشت گردی کے خلاف ‘زیرو ٹالرنس’ کا سخت پیغام دینے کے لیے  ہندوستانی حکومت نے وسیع پیمانے پر سفارتی مہم کا آغاز کیا، جس کے تحت 32 ممالک میں 7 کثیر جماعتی وفد بھیجے گئے۔

ان وفود میں 59 ارکان تھے، جن میں این ڈی اے کے 31 قائدین،  اپوزیشن کے 20قائدین اور کئی سابق سفارت کار شامل تھے۔ یہ مہم 21 مئی 2025 سے 7 جون 2025 تک جاری رہی۔

اب آر ٹی آئی کے توسط سے اس مہم پر ہوئے اخراجات کی مکمل تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ آر ٹی آئی ایکٹوسٹ کنہیا کمار کی جانب سے دی وائر  کو دستیاب کرائے گئے دو درجن سے زیادہ آر ٹی آئی جوابات میں وزارت خارجہ کا وہ جواب بھی شامل ہے، جس میں  مکمل اخراجات کی تفصیلات فراہم کی گئی  ہیں۔

تفصیلات کے مطابق،حکومت نے اس مہم پر 13 کروڑ 11 لاکھ 16 ہزار 647روپےخرچ کیے۔ یہ مہم 18 دنوں تک جاری رہی، یعنی ہر روز اوسطاً 72 لاکھ 84 ہزار 258 روپے خرچ ہوئے۔

عوامی خزانے سے اتنے زیادہ پیسے خرچ ہونے کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ‘آپریشن سیندور’ کے بعد یہ سفارتی مہم واقعی ایک اسٹریٹجک کامیابی تھی یا یہ محض ایک مہنگی مشق تھی، جس کے نتیجے ابھی تک واضح نہیں ہیں؟ دی وائر کے بانی مدیر اور سینئر صحافی سدھارتھ وردراجن ان باتوں سے قطع نظر سوال اٹھاتے ہیں کہ ہندوستانی حکومت کو وفد بھیجنے کی ضرورت ہی کیوں پڑی؟

سب سے زیادہ خرچ کس وفد پر ہوا؟

سب سے زیادہ خرچ اس وفد نے کیا، جس کی قیادت بی جے پی کے رکن پارلیامنٹ روی شنکر پرساد کر رہے تھے۔اس وفد نے فرانس، اٹلی، ڈنمارک، برطانیہ، جرمنی اور بیلجیم جیسے ممالک کا دورہ کیا۔

اس 14 روزہ دورے پر کل اخراجات 3کروڑ 44 لاکھ 29ہزار 432 روپے آئے، یعنی اس دس رکنی وفد کے ہر رکن پر اوسطاً34 لاکھ 42 ہزار روپے خرچ  ہوئے۔

کچھ ممالک کے ہندوستانی سفارت خانوں/ہائی کمیشنوں نے آر ٹی آئی کی درخواستوں کے جواب میں وفد کے اخراجات کی تفصیلات فراہم کی ہیں، کچھ  نے نہیں بھی کی  ہیں۔ مثال کے طور پر، اٹلی میں ہندوستانی سفارت خانے نے ‘سکیورٹی اور اسٹریٹجک وجوہات’ کا حوالہ دیتے ہوئے تفصیلات فراہم کرنے سے منع کردیا۔ وہیں برطانیہ نے جواب دیا کہ ‘اخراجات کی معلومات فی الحال دستیاب نہیں ہیں۔’

تاہم، ڈنمارک، بیلجیم اور جرمنی کے سفارت خانوں نے معلومات فراہم کی ہیں کہ ان ممالک میں ہوٹل پر 23 لاکھ 24 ہزار 412 روپے خرچ ہوئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا 44 فیصد (10 لاکھ 22 ہزار 826 روپے) صرف بیلجیم میں ٹھہرنے پر خرچ ہوا۔

نقل و حمل کی بات کریں تو ان تینوں ممالک میں 63 لاکھ 55 ہزار 361  روپے خرچ ہوئے ہیں۔ ڈنمارک میں سب سے زیادہ (30 لاکھ 39 ہزار 919 روپے) خرچ ہوئے۔وفد کے اراکین کو بعض ممالک کے دوروں کے دوران یومیہ الاؤنس (ڈی اے)بھی دیا گیا، جیسے بیلجیم میں 2 لاکھ 80 ہزار 517 روپے اور جرمنی میں2 لاکھ 9 ہزار 583 روپے۔

تھرور کی قیادت والے گروپ نے کتنا خرچ کیا؟

کانگریس ایم پی ششی تھرور کا وفداخراجات کے معاملے میں دوسرے نمبر پر رہا۔ اس وفد نے ریاستہائے متحدہ، کولمبیا، برازیل، گیانا اور پانامہ کا سفر کیا، جس  پرمجموعی طور پر 2 کروڑ 8 لاکھ 56 ہزار 844 روپے خرچ ہوئے۔یعنی فی رکن اوسطاً 23 لاکھ 17 ہزار روپے۔ تھرور کا گروپ نو ارکان پر مشتمل تھا۔

پانامہ سمیت چار دیگر ممالک میں اخراجات کی تفصیلات آر ٹی آئی کے توسط سے موصول ہوئی ہیں۔ ریاستہائے متحدہ، کولمبیا، برازیل اور گیانا میں ہوٹل پر 64 لاکھ روپے اور نقل و حمل پر 25 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ صرف ریاستہائے متحدہ  کی بات کریں تو ہوٹل پر 38 لاکھ اور نقل و حمل پر 12 لاکھ سے زیادہ کاخرچ آیا۔

تھرور کے گروپ نے صرف ڈنمارک میں فوٹو اور ویڈیو پر 2 لاکھ 67 ہزار 930 روپے خرچ کیے۔ وہیں کمبوڈیا میں وفد نے سم کارڈز اور ٹاک ٹائم پر 22,351 روپے خرچ کیے۔

ان ممالک کے دورے کے دوران ممبران کے ڈی اے کا  ذکر نہیں ملتا، لیکن دیگر متفرق اخراجات لاکھوں میں ہیں۔

فی کس تھرور سے زیادہ کنیموزی کے گروپ  کاخرچ

ڈی ایم کے ایم پی کنیموزی کروناندھی کی قیادت میں یہ گروپ سات ارکان پر مشتمل تھا۔ وفد نے پانچ ممالک کا دورہ کیا۔ ان کے دورے پر 1 کروڑ 90 لاکھ سے زیادہ کا خرچ آیا ہے، یعنی فی کس  اوسطاً 27 لاکھ 17 ہزار 585 روپے۔

اس گروپ کےصرف تین ممالک (یونان، سلووینیا اور اسپین) کے سفری اخراجات کی تفصیلات ملی ہیں۔ اس میں بھی سلووینیا نے ہوٹل اور نقل و حمل کے اخراجات کے الگ الگ بریک ڈاؤن فراہم نہیں کیے ہیں، بلکہ  کل رقم (13 لاکھ 56 ہزار 258 روپے) بتائی ہے۔

یونان اور اسپین میں ان دونوں ممالک میں ہوٹل کے اخراجات 11 لاکھ روپے سے تجاوز کر گئے۔ نقل و حمل کے اخراجات کل 795,962 روپے، اورڈی اے پر 2 لاکھ 99 ہزار روپے ۔ دیگر اخراجات لاکھوں میں ہیں۔

اس گروپ کے دیگر اخراجات ہوٹل اور ٹرانسپورٹیشن سے کئی گنا زیادہ

شیو سینا لیڈر شری کانت ایکناتھ شندے کی قیادت میں وفد نے متحدہ عرب امارات، کانگو، سیرا لیون اور لائبیریا کا سفر کیا، جس پر 1 کروڑ 53 لاکھ روپے کا خرچ آیا۔ 14 دن کے دورے میں فی کس اوسطاً 17 لاکھ روپے کا خرچ آیا ہے۔

یہ وفد چار ممالک کے دورے پر تھا، لیکن سفری اخراجات کی تفصیلات صرف متحدہ عرب امارات کے لیے ملی ہیں۔

ابوظہبی میں ہندوستانی سفارت خانے کے مطابق، وفد کے لیے ہوٹل کی بکنگ پر 2 لاکھ 87 ہزارروپے کا خرچ آیاہے۔ وہیں،نقل و حمل پر 2 لاکھ روپے سے زیادہ خرچ ہوا ہے۔ اراکین کو2 لاکھ 14 ہزار 606 روپےکا ڈی اےبھی دیا گیا ہے۔ دیگر اخراجات8 لاکھ 34 ہزار روپے بتائے گئے۔

کانگو کی راجدھانی برازاویل میں واقع ہندوستانی سفارت خانے نے اخراجات کی تفصیلات بتائے بغیر اپنے آر ٹی آئی جواب میں لکھا ہے کہ ‘آپ کی آر ٹی آئی درخواست میں مانگی گئی معلومات،  جو’آپریشن سیندورور’ اور پہلگام دہشت گردانہ حملے کے تناظر میں دہشت گردی کے خلاف’ زیرو ٹالرینس’ کے سخت پیغام کو  دنیا تک پہنچانے کے مقصد سے اراکین پارلیامنٹ، اہم سیاسی شخصیات اور نامور سفارت کاروں پر مشتمل ایک آل پارٹی وفد کے مختلف ممالک کے دوروں سے متعلق  ہے، اسے ‘صفر’ مانا جا سکتا ہے۔’

جاپان میں وفد کو 3 لاکھ روپے سے زیادہ کا یومیہ الاؤنس ملا

راجیہ سبھا ایم پی  اور جنتا دل (یونائیٹڈ) لیڈر سنجے کمار جھا کی قیادت میں وفد کے پانچ ممالک کے دورے پر 1 کروڑ 48 لاکھ  سے زیاکا خرچ آیا۔ یعنی 13 دن کے دورے پر اوسطاً فی شخص 14 لاکھ 80 ہزار 585 روپے کاخرچ آیا ہے۔

پانچ میں سے صرف دو ممالک (جاپان اور انڈونیشیا) کے اخراجات کی تفصیلات موصول ہوئی ہیں۔ ہوٹل پردونوں ممالک میں 14 لاکھ 80 ہزار 627 روپے کا خرچ آیا۔ وہیں دونوں ممالک کے لیے نقل و حمل کے اخراجات کل 23 لاکھ 87 ہزار 923 روپے ہیں۔ جاپان میں وفد کے ارکان کو 3 لاکھ 12 ہزار 923 روپےکا یومیہ الاؤنس بھی دیا گیا۔

آر ٹی آئی کے جواب میں ملیشیا میں ہندوستانی سفارت خانے نے لکھا ہے کہ اس کے پاس یہ معلومات ہیں۔

موبائل سم پر12 ہزار روپے خرچ ہوئے

ہندوستانی حکومت نے وفد کے بحرین، کویت، سعودی عرب اور الجزائر کے 10 روزہ دورے پر1 کروڑ 35 لاکھ 96 ہزار 279 روپےخرچ کیے ہیں۔ اس طرح 9 رکنی وفد کے فی رکن  پراوسطاً  15 لاکھ روپے سے زیادہ کا خرچ آیاہے۔

الجزائر کے علاوہ کسی اور ملک میں ہندوستانی سفارت خانے نے اخراجات کی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔ الجزائر میں ہوٹل کے اخراجات 1 لاکھ 40 ہزار روپے اور نقل و حمل کے اخراجات 3 لاکھ 88 ہزار روپےہیں۔ یہاں اراکین کے یومیہ الاؤنس  پر 2 لاکھ 83 ہزار روپے اور اور سم کارڈ پر 12 ہزار 248 روپے خرچ کیا گیا۔

کم خرچ  والاوفد

این سی پی (شرد پوار) کی رکن پارلیامنٹ سپریہ سولے کی قیادت میں ہندوستانی وفد نے چار ممالک کا دورہ کیا۔ 12 دن کے سفر کے دوران اس وفد پر 1 کروڑ 31 لاکھ 4 ہزار 366 روپے خرچ ہوئے۔ اس طرح، 10 رکنی وفد کے ہر رکن پر اوسطاً 13 لاکھ 10 ہزار روپے خرچ ہوئے۔

یہ واحد گروپ ہے، جس کے اخراجات کی تفصیلات تمام ممالک کے سفارت خانوں سے موصول ہوئی ہیں۔ ان چار ممالک میں ہوٹل کے اخراجات کل 31 لاکھ روپے اور نقل و حمل کے اخراجات 20 لاکھ 61 ہزار 397 روپے ہیں۔ قطر میں اراکین کے لیے یومیہ الاؤنس 2 لاکھ 49 ہزار روپےتھا۔

کنہیا کمار نے تمام 32 ممالک میں اخراجات کی تفصیلات کے لیے آر ٹی آئی درخواست کی  تھی۔ رپورٹ میں ان ممالک کے اخراجات کی تفصیلات شامل نہیں ہیں، جن کے سفارت خانوں/ہائی کمیشنوں نے آر ٹی آئی کا جواب نہیں دیا۔ اگر تمام سفارت خانے/ہائی کمیشن جواب دیتے، تو اس سے  پوری مہم کے دوران ہوٹلوں، ٹرانسپورٹیشن، کمیونٹی ریسپشن، میڈیا، فوٹو-ویڈیو، یومیہ الاؤنس اور سم کارڈ پر ہوئےخرچ کا پتہ چلتا۔

اب تک، وزارت خارجہ کے جواب میں صرف یہ انکشاف ہوا ہے کہ مہم پر 13 کروڑ 11 لاکھ 16 ہزار 647 روپے کا خرچ آیا۔ اس رقم کا 42.17 فیصد صرف ان دو گروپوں پر خرچ ہوا جس کی قیادت روی شنکر پرساد اور ششی تھرور کر رہے تھے ۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے 10 جون 2025 کو نئی دہلی میں اپنی رہائش گاہ (7، لوک کلیان مارگ) پر مختلف ممالک میں ہندوستان کی نمائندگی کرنے والے مختلف وفود کے ارکان سے ملاقات کی تھی۔

ہندوستان کو کیا حاصل ہوا؟

اس قدر بھاری بھرکم خرچ والے دورے سے ہندوستان کوکیا حاصل ہوا؟ کیا اس مہم کے بعد پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر الگ-تھلگ کر دیا گیا؟ کیا کسی بڑے یا بااثر ملک نے پاکستان کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ریاست کے طور پر مذمت کرتے ہوئے کوئی سرکاری بیان جاری کیا؟ کیا اقوام متحدہ یا اس کے کسی بڑے ادارے نےہندوستان کے حق میں کوئی قرارداد پاس کی؟ کیا کسی ملک یا کثیر جہتی تنظیم نے پاکستان پر اقتصادی یا سفارتی پابندیاں لگائی ہیں؟

اگر ان سوالوں کے جوابات نفی یا مبہم ہیں، تو یہ بحث فطری ہے کہ کیا یہ خرچ جائز تھا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس مشق کا مقصد دنیا کے سامنے یہ ظاہر کرنا تھا کہ ہندوستان کے اندر، حکمران جماعت اور حزب اختلاف دونوں کے اندر، دہشت گردی کے معاملے پر وسیع قومی اتفاق رائے ہے۔ یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ ہندوستان کے عزائم اور اس کی سنجیدگی کو واضح طور پر بین الاقوامی برادری تک پہنچایا گیا ۔

ممکن ہے کہ یہ پیغام ان وفود کی ملاقاتوں، مکالموں اور تقریبات کے ذریعے پہنچا بھی ہو۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا درجنوں لیڈروں کو ہوائی سفر، ہوٹلوں، کمیونٹی پروگراموں اور تقریبات کے ساتھ بیرون ملک بھیجنا ضروری تھا؟

سدھارتھ اس الگ سوال اٹھاتے ہیں،’اگر پہلگام کے بعد صورتحال اتنی واضح تھی اور آپریشن سیندور ہی واحد آپشن تھا، تو دنیا نے اس کو سمجھا کیوں نہیں؟ یہ سوال ضروری ہے کہ پہلگام اور آپریشن سیندورور کے بعد دنیا کے الگ الگ ممالک نے ہندوستان کا ساتھ کیوں نہیں دیا؟ جب تک اس سوال کا جواب نہیں ملتا، وفود بھیجنا اور پیسے خرچ کرنا-یہ سب ثانوی باتیں ہیں۔  بنیادی سوال یہ ہے کہ وفد بھیجنے کی ضرورت ہی کیوں محسوس  کی گئی؟  یہ ہماری پالیسی کی بنیادی ناکامی ہے۔’

وہ مزید کہتے ہیں،

پہلگام کے بعد ہندوستان کا کہنا تھا کہ اس میں پاکستانی ملوث ہیں اور اس کے ثبوت بھی موجود ہیں۔  پھرآپ نے اس ثبوت کو مختلف ممالک کے ساتھ کیوں نہیں شیئر کیا؟ ہندوستان نے 26/11 کے بعد ایک ڈوزیئر مرتب کیا تھا، جسے سفیروں کے ساتھ شیئر کیا گیا تھا، جس سے بین الاقوامی حمایت حاصل ہوئی۔ لیکن اس بار، آپ نے یہ طریقہ اختیار نہیں کیا۔ آپ نے محض دعویٰ کیا کہ پاکستان میں ایسے گروہ موجود ہیں، پھر حملہ کیا، اور سوچا کہ پوری دنیا اس پر یقین کرے گی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا جس کی وجہ سے وفود بھیجنے پڑے۔

ہندوستانی حکومت کی خارجہ پالیسی پر تبصرہ کرتے ہوئے سدھارتھ کہتے ہیں،’اگر آپ اپنا نقطہ نظر دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں تو آپ کے پاس کوئی پالیسی ہونی چاہیے۔ مثال کے طور پر وینزویلا پر امریکہ کا حملہ ہوا، اس کے بارے میں ہندوستانی حکومت  کچھ نہیں بول پا رہی ہے، اگر آپ اتنے بڑے مسئلے پر اپنا موقف بیان نہیں کر سکتے تو دنیا ہندوستان کے موقف کا احترام کیوں کرے گی؟ بہت سی کمزوریاں ہیں جن پر بات نہیں کی جا رہی ہے۔’

کیا روایتی سفارت کاری کافی نہیں تھی؟

ہندوستان کے پاس پہلے سے ہی وزارت خارجہ، سفارت خانوں کا ایک وسیع نیٹ ورک، مستقل نمائندوں اور پیشہ ورانہ سفارتی میکانزم موجود ہیں۔  ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہی پیغام عام سفارتی ذرائع، دو طرفہ ملاقاتوں، سفارتی نوٹوں اور بین الاقوامی فورم پر دیے گئے سرکاری بیانات کے ذریعے نہیں پہنچایا جا سکتا تھا؟ کیا کثیر جماعتی وفود  کے نام پر کیا گیا یہ خرچ واقعی سفارتی ضرورت تھی، یا پھر  یہ ایک سیاسی مظاہرہ بھی تھا؟

سدھارتھ کثیر جماعتی وفد بھیجنے کے فیصلے کو ملک کے اندر بیانیہ کو کنٹرول کرنے کے طریقے کے طور پر دیکھتے ہیں؛


ہندوستانی عوام کو یہ دکھانے کی کوشش کی گئی کہ ہم بین الاقوامی سطح پر اپنا موقف مضبوطی سے پیش کر رہے ہیں۔ لیکن حقیقت میں ہندوستانی عوام کو گمراہ کیا گیا۔ نیوز چینلوں کے توسط سے کہا گیاکہ پاکستان نیست و نابودکر دیا، کراچی بندرگاہ  کوتباہ کر دیا۔ یہ سب جنگ بندی سے پہلے پھیلایا گیا، اور سرکاری ترجمانوں نے کوئی تردید جاری نہیں کی۔ جب ڈونالڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کیا تو بیانیہ ناکام ہوگیا۔ اس لیے پھر کہا گیا کہ آپریشن سیندور جاری ہے، اور دنیا کو سمجھائیں گے۔


جمہوریت میں عوامی خزانے کے استعمال کا فیصلہ صرف نیت سے نہیں، بلکہ نتائج سے بھی پرکھا جاتا ہے۔ جب 13 کروڑ 11 لاکھ 16 ہزار 647 روپے جیسے بڑے اخراجات کا کوئی واضح سفارتی فائدہ نظر نہیں آتا، تو سوال اٹھنا فطری ہے۔

دی وائر نے وزارت خارجہ کے ترجمان کو سوال ای میل کیے ہیں، جس میں اس مہم سے ہندوستان کی حصولیابی کے بارے میں معلومات طلب کی گئی ہیں۔ جواب موصول ہونے پر اس رپورٹ کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔