الزامات کو جھوٹا بتاتے ہوئے بہار پولیس نے 49 ہستیوں کے خلاف سیڈیشن کا معاملہ بند کیا

بہار پولیس نے کہا کہ ملزمین کے خلاف شرارت بھرے الزام لگائے گئے ہیں اور ان کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہے۔اس معاملے کو لے کر ایف آئی آر درج کروانے والے مقامی وکیل سدھیر کمار اوجھا پر کارروائی کی جائے گی۔

بہار پولیس نے کہا کہ ملزمین کے خلاف شرارت بھرے الزام لگائے گئے ہیں اور ان کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہے۔اس معاملے کو لے کر ایف آئی آر درج کروانے والے مقامی وکیل سدھیر کمار اوجھا پر کارروائی کی جائے گی۔

 فلمساز اڈور گوپالکرشنن، شیام بینیگل اور مؤرخ رام چندر گہا۔ (فوٹوبہ شکریہ : فیس بک/ وکیپیڈیا)

فلمساز اڈور گوپالکرشنن، شیام بینیگل اور مؤرخ رام چندر گہا۔ (فوٹوبہ شکریہ : فیس بک/ وکیپیڈیا)

نئی دہلی: بہار کی مظفر پور پولیس نے ‘ماب لنچنگ’کے بڑھتے  ہوئے واقعات میں دخل دینے کے لیے سال کی شروعات میں وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھنے والی 49 جانی -مانی ہستیوں کے خلاف درج سیڈیشن کا معاملہ بند کرنے کا حکم دیا ہے۔مظفر پور کے  سینئر پولیس سپر نٹنڈنٹ   منوج کمار سنہا نے کہا کہ معاملہ بند کرنے کا انہوں نے حکم دیا ہے کیونکہ اب تک کی جانچ میں یہ بات سامنے آئی  ہے کہ ملزمین کے خلاف لگائے گئے الزام شرارت سے بھرے ہیں اور ان میں کوئی  ٹھوس بنیاد نہیں ہے۔

بہار پولیس نے یہ بھی کہا ہے کہ اس معاملے کو لے کر ایف آئی آر درج کروانے والے مقامی وکیل سدھیر کمار اوجھا پر کارروائی کی جائے گی۔کمار نے انڈین ایکسپریس سے کہاکہ ،’سبھی حقائق کی جانچ کے بعد پتہ چلتاہے کہ یہ معاملہ جھوٹا ہے اور جانچ افسر کو فائنل  رپورٹ سونپنے کے لیے کہا گیا ہے۔اس کے ساتھ یہ بھی پایا گیا ہے کہ شکایت کرنے والے نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے،شکایت کرنے والے  کے خلاف جھوٹی  شکایت درج کرانے کے لیے آئی پی سی کی دفعہ 182 کے تحت کیس درج کیا جائے گا۔’

غور طلب ہے کہ مقامی وکیل سدھیر کمار اوجھاکی ایک عرضی پر چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ کے حکم پر گزشتہ ہفتے صدر پولیس اسٹیشن میں ایک ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔3 اکتوبر کو  فلم ڈائریکٹر شیام بینیگل، اڈور گوپالکرشنن، منی رتنم، مؤرخ رام چندر گہا، گلو کارہ شبھا مدگل،اداکارہ اور ڈائریکٹر اپرنا سین سمیت 49 ہستیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔اس ہستیوں نے ماب لنچنگ کے بڑھ رہے واقعات کو لے کر جولائی میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی کو خط لکھا تھا۔

ایف آئی آرسیڈیشن سمیت آئی پی سی کی کئی دفعات کے تحت درج کی گئی تھی۔وہ بھی تب،جب سپریم کورٹ کے جج جسٹس دیپک گپتا نے حال ہی میں ایک پروگرام میں کہا کہ حکومت کی تنقید کرنے پر سیڈیشن کا الزام نہیں لگایا  جا سکتا۔خط لکھنے والوں  پر ایف آئی آر درج کرنےکی مخالفت کرتے ہوئے ثقافتی اور ادبی شعبے سے جڑی ہوئی 180 سے زیادہ ہستیوں نے ان لوگوں کی حمایت کی۔

اس خط پر دستخط کرنے والوں میں اداکار نصیر الدین شاہ، قلمکار نین تارا سہگل، رقاصہ ملکہ سارا بھائی، مؤرخ رومیلا تھاپر، قلمکار آنند تیلتمبڑے، گلوکار ٹی ایم کرشنا اور فنکار ووان سندرم شامل ہیں۔ان 185 ہستیوں کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 49 ساتھیوں  کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی کیونکہ انہوں نے سوسائٹی کے معزز ممبر کے طور پر  اپنے فرائض کی تکمیل کی تھی۔

انہوں نے کہا، ‘ انہوں نے (49 ہستیوں) نے وزیر اعظم مودی کو خط لکھ‌کر ملک میں ماب لنچنگ کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔ کیا اس کو سیڈیشن  کہا جا سکتا ہے؟ اور کیا عدالتوں کا غلط استعمال کرکے شہریوں کی آواز کو خاموش کرانا ظلم نہیں ہے؟ ‘