بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی مرکزی حکومت اگرچہ عوام کو یقین دہانی کرا رہی ہے کہ ملک میں ایل پی جی سلنڈروں کی سپلائی میں کوئی کمی نہیں ہے، لیکن کئی ریاستوں میں اس کی قلت دیکھی جا رہی ہے۔ بہار حکومت نے پی ڈی ایس کے ذریعے راشن کارڈ ہولڈروں کو کوئلہ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وہیں ہریانہ کے محکمہ تعلیم نے اسکولوں میں مڈ ڈے میل کے لیے سلنڈر کے متبادل کے طور پر لکڑی استعمال کرنے کو کہا ہے۔
نئی دہلی: گھریلو گیس کی فراہمی میں کمی نہ ہونے کے مرکزی حکومت کے دعوے کے درمیان بہار کی بی جے پی حکومت نے کھانا پکانے کے لیے گھریلو کوئلے کو پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم (پی ڈی ایس) کے ذریعے فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث بڑھتی ہوئی ایل پی جی قیمتوں اور فراہمی میں رکاوٹوں سے متاثر کم آمدنی والے خاندانوں کو راحت فراہم کرنا ہے۔
ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، بدھ کے روز حکام نے بتایا کہ اس اسکیم سے تقریباً 21 ملین راشن کارڈ ہولڈروں کو فائدہ ہوگا، جس کے نتیجے میں نیشنل فوڈ سکیورٹی ایکٹ (این ایف ایس اے) کے تحت اندازاً 85.1 ملین افراد مستفید ہوں گے۔
ریاست کے فوڈ اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈیارٹمنٹ کی جانب سے شروع کی گئی اس پہل کا مقصد کھانا پکانے کے لیے متبادل ایندھن فراہم کرنا ہے، خصوصی طور پر دیہی علاقوں میں جہاں ایل پی جی کی دستیابی متاثر ہوئی ہے۔ کوئلے کی فراہمی ریاست بھر میں موجود 52,055 مناسب قیمت کی دکانوں کے ذریعے کی جائے گی، تاکہ آسان رسائی اور تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس حوالے سے محکمہ کے سکریٹری ابھے کمار سنگھ نے کہا،’گھریلو ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو مدنظر رکھتے ہوئے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں، ہم اپنے پی ڈی ایس مراکز کے ذریعے تمام راشن کارڈ ہولڈروں کو ایندھن کے متبادل ذریعے کے طور پر کوئلہ فراہم کریں گے۔ ‘
ابتدائی مرحلے میں حکومت ہر راشن کارڈ پر ماہانہ 100 کلوگرام تک کوئلہ فراہم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
سنگھ نے مزید کہا،’چونکہ یہ مانگ پر مبنی پہل ہے، اس لیے ہم ضرورت کا اندازہ لگائیں گے اور مانگ بڑھنے پر گھریلو کوٹے میں اضافہ کریں گے۔‘
تاہم، حکام نے اشارہ دیا ہے کہ پی ڈی ایس مراکز پر کوئلہ دستیاب ہونے میں ایک ماہ سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے، کیونکہ حکومت ابھی کوئلے کی کانوں سے مناسب قیمت کی دکانوں تک کوئلہ پہنچانے اور نقل و حمل کے اخراجات سمیت دیگر انتظامات پر کام کر رہی ہے۔
کول انڈیا لمیٹڈ سے کوئلہ خریدنے کے لیے منصوبہ
بہار اسٹیٹ مائننگ کارپوریشن لمیٹڈ کو کول انڈیا لمیٹڈ سے کوئلہ خریدنے اور اٹھانے کے لیے نوڈل ایجنسی نامزد کیا گیا ہے، جبکہ محکمہ ٹرانسپورٹ تقسیم کے مراکز تک کوئلہ پہنچانے کی لاگت طے کرے گا۔ ان تفصیلات کی بنیاد پر ضلع مجسٹریٹ کی سربراہی میں ضلعی سطح کی کمیٹیاں مستحقین کے لیے فی کلو قیمت کا تعین کریں گی۔
سنگھ نے کہا،’کوئلے کی قیمت پی ڈی ایس دکانوں کی کوئلہ کانوں سے دوری کے مطابق مختلف ہوگی۔‘
تقسیم کے عمل کو آسان بنانے کے لیے محکمہ خوراک کوئلے کی فراہمی کو موجودہ ای-پی او ایس (الکٹرانک پوائنٹ آف سیل) نظام میں شامل کرے گا، جس سے مستفید افراد بایومیٹرک تصدیق کے ذریعے کوئلہ حاصل کر سکیں گے۔
حکام نے بتایا کہ اس اقدام سے ایل پی جی تک رسائی میں موجود اسٹرکچرل مسائل بھی حل ہوں گے، جن میں دیہی علاقوں میں سلنڈر ریفل کے درمیان لازمی 45 دن کی لاک ان مدت بھی شامل ہے۔
بہار میں اس وقت ایل پی جی ریفل کا اوسط بیک لاگ 4.86 دن کا ہے۔ ریاست کے 38 اضلاع میں سے کم از کم 12 اضلاع میں پانچ دن سے زیادہ کی تاخیر درج کی گئی ہے، جن میں روہتاس (5.93 دن)، مدھوبنی (5.68 دن)، مظفرپور (5.39 دن)، گوپال گنج (5.35 دن)، سمستی پور (5.23 دن)، دربھنگہ (5.27 دن)، بھوجپور اور اورنگ آباد (ہر ایک 5.11 دن) شامل ہیں۔
پی ڈی ایس آؤٹ لیٹس کے ذریعے کوئلے کی تقسیم کی تجویز سب سے پہلے 30 مارچ کو چیف سکریٹری پرتیہ امرت کی صدارت میں منعقدہ کرائسز مینجمنٹ گروپ کے اجلاس میں پیش کی گئی تھی، اور بعد میں ترقیاتی کمشنر مہر سنگھ کی قیادت میں ہونے والی بات چیت میں اسے باضابطہ شکل دی گئی۔
ابھے کمار سنگھ نے منگل کے روز کان و ارضیات اور ٹرانسپورٹ محکموں کے سکریٹریوں کو منصوبے کے نفاذ کے لیے خط لکھا، جو اس اسکیم کو نافذ کرنے کے لیے مربوط بین محکمہ کوشش کی نشاندہی کرتا ہے۔
دہلی ہائی کورٹ نے ایل پی جی بحران سے متعلق عرضی پر سماعت سے انکار کیا
قابل ذکر ہے کہ اس دوران قومی دارالحکومت دہلی میں ایل پی جی سلنڈروں کی شدید قلت اور کالا بازاری کے خلاف دائر کی گئی
مفاد عامہ کی عرضی پر ہائی کورٹ نے بدھ کو سماعت سے انکار کر دیا۔
چیف جسٹس دیویندر کمار اپادھیائے اور جسٹس تیجس کاریا کی بنچ نے کہا کہ حکومت حالات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور جب پہلے ہی اقدامات کیے جا رہے ہوں تو کوئی حکم جاری نہیں کیا جا سکتا۔
بنچ نے کہا کہ عدالت ایل پی جی سلنڈروں کی فراہمی کا حکم نہیں دے سکتی کیونکہ یہ معاملہ انتظامیہ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ بنچ نے یہ بھی کہا کہ عدالت ایسا کوئی حکم جاری نہیں کر سکتی جس پر عملدرآمد ممکن نہ ہو۔
بنچ نے کہا کہ اس معاملے میں حکم جاری کرنا ایسا ہی ہوگا جیسے حکومت کو ہندوستان سے غربت ختم کرنے کا کہنا۔ بنچ نے مزید کہا کہ ایسے معاملات میں حکومت یا تیل کمپنیوں کی ذمہ داری ان کے دستیاب وسائل پر منحصر ہوتی ہے۔
بنگلورو کے لوگ چولہا جلانے کے لیے سڑک کنارے لگے درختوں کی لکڑی کاٹ رہے ہیں
معلوم ہو کہ ایل پی جی سلنڈر کی قلت کے درمیان
بنگلورو کے لوگ چولہا جلانے کے لیے سڑک کنارے لگے درختوں کا سہارا لے رہے ہیں۔
شہر میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران غیر قانونی طور پر درخت کاٹنے کے دو واقعات سامنے آئے ہیں۔ عینی شاہدین کا دعویٰ ہے کہ اس میں ملوث افراد ان درختوں کو کھانا پکانے کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
کارکنان اور حکام کو تشویش ہے کہ ایل پی جی بحران میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے، اور اگر اسے قابو میں نہ رکھا گیا تو یہ اور وسیع ہو سکتا ہے۔
اپریل کے آغاز میں ایک کنڑ نیوز چینل نے خبر دی تھی کہ بسونگوڑی کے بل ٹیمپل روڈ پر واقع ایک درشنی (وجئے لکشمی) نے اپنے ادارے کے عین سامنے ایک بڑے درخت کو کاٹنے کے لیے ٹھیکیداروں کو لگایا تھا۔ میٹرولائف کو موصولہ ویڈیو میں کٹے ہوئے لکڑی کے بڑے ٹکڑے (لٹھے) کھانے کی دکان کے داخلی دروازے کے قریب ڈھیر کی صورت میں نظر آئے۔
ہیریٹیج بسونگوڑی ریزیڈینشل ویلفیئر فورم کے سکریٹری گروپرساد روٹی نے کہا،’جب نیوز چینل نے آکر پوچھ گچھ کی تو معلوم ہوا کہ ان کے پاس درخت کاٹنے کی ضروری اجازت نہیں تھی۔‘
ایک اور واقعہ میں وہائٹ فیلڈ سٹیزنز وارڈ کمیٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ وہائٹ فیلڈ کے پرشانت لے آؤٹ ایکسٹینشن میں پیئنگ گیسٹ رہائش گاہوں نے ایل پی جی بحران سے نمٹنے کے لیے اسی طرح کے طریقے اپنائے ہیں۔
پوسٹ میں کہا گیا،’پیئنگ گیسٹ کی جھگیاں بنگلورو کو واقعی پتھر کے دور میں واپس لے جا رہی ہیں۔ وہ اب ایندھن کے لیے سڑک کنارے درخت کاٹ رہے ہیں اور علاقے کی ہریالی ختم کر رہے ہیں۔‘
اس پوسٹ کے ساتھ تصاویر بھی شیئر کی گئیں، جن میں سڑک کے کنارے کٹے ہوئے درختوں کے ٹھونٹھ، مختلف جگہوں پر لکڑی کے ڈھیروں لگے عارضی چولہے، اور ایک شخص کو اپنی سائیکل پر ایندھن کی لکڑی لے جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ پوسٹ 17 اپریل کو کی گئی تھی۔
ہریانہ میں مڈ ڈے میل بھی لکڑی پر منحصر
دوسری طرف، ہریانہ کے
اسکولوں میں مڈ ڈے میل اسکیم کو صحیح طریقے سے چلانے کے لیے محکمہ تعلیم نے اہم ہدایات جاری کی ہیں، جن میں گیس سلنڈر کے متبادل کے طور پر لکڑی استعمال کرنے کی بات کہی گئی ہے۔
محکمے کے جاری کردہ خط کے مطابق اگر اسکولوں میں ایل پی جی گیس سلنڈر کی فراہمی وقت پر نہ ہو سکے تو مڈ ڈے میل تیار کرنے کے لیے متبادل کے طور پر لکڑی استعمال کی جا سکتی ہے۔
ڈائرکٹر آف ایلیمنٹری ایجوکیشن، ہریانہ کی جانب سے جاری ہدایت میں ضلعی ایلیمنٹری ایجوکیشن افسران کو کہا گیا ہے کہ وہ متعلقہ گیس ایجنسیوں کے ساتھ تال میل قائم کر کے جلد از جلد سلنڈر کی فراہمی یقینی بنائیں۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ گیس کی عدم دستیابی کی صورت میں طلبہ کے کھانے میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔
غور طلب ہے کہ پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت کی سیکریٹری
سجاتا شرما نے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران عوام کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت نے گھریلو ایل پی جی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا ہے تاکہ بیرونی ممالک کے بحران کا اثر عام آدمی پر نہ پڑے۔ اس کے ساتھ گیس بکنگ کی مدت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کے کسی بھی حصے میں گیس ایجنسیوں کے پاس اسٹاک کی کمی نہیں ہے اور سپلائی مکمل طور پر مستحکم ہے۔
تاہم،
ایل پی جی سلنڈر کے بحران کے درمیان راجدھانی دہلی،
ڈائمنڈ سٹی سورت، ممبئی، بنگلورو اور چنئی سمیت تمام بڑے شہروں سے لوگ دیہی علاقوں کی طرف ہجرت کر رہے ہیں۔ ایندھن کی کمی کے باعث کئی کارخانے بند ہو چکے ہیں، جبکہ گھریلو گیس کی قلت نے لوگوں کو شہروں میں کھانے تک کے لیے جدوجہد کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔