فیکٹ چیک: مرکزی وزیر کرن رجیجو نے مودی حکومت کے 12 سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقد ایک پروگرام میں ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں پر ہونے والے جبر کو اپوزیشن کی جانب سے پھیلایا گیا ’پروپیگنڈہ‘ قرار دے کر مسترد کر دیا۔ تاہم، بی جے پی کے گزشتہ ایک دہائی کے دور حکومت میں ہندوستان کی اقلیتوں، خصوصی طور پر مسلمانوں اور عیسائیوں کو ہندوتوا انتہاپسندوں کے حملوں کا سب سے زیادہ سامنا کرنا پڑا ہے۔

السٹریشن: پری پلب چکرورتی / دی وائر
منگلورو:نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں گزشتہ جمعرات (4 جون) کو وزارت اقلیتی امور کے ’ریفارمز اتسو‘، جو مودی حکومت کے 12 سال مکمل ہونے کے موقع پر کسی مرکزی وزارت کی جانب سے منعقد کیا جانے والا اپنی طرح کا پہلا پروگرام تھا، سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کرن رجیجو نے ایک بیان دیا۔
انہوں نے کہا،’مجھے ایک بھی ایسی مثال دیجیے جہاں کسی شخص نے اپنی پہچان یا مذہبی پس منظر کی وجہ سے عدم تحفظ کے احساس میں ہندوستان چھوڑ دیا ہو۔‘
انہوں نےہندوستان میں مذہبی اقلیتوں پر ہونے والے جبر واستبداد کو اپوزیشن کی جانب سے پھیلایا گیا ’پروپیگنڈہ‘ کہہ کر خارج کر دیا۔
اقلیتی امور کے وزیر کا یہ بیان صرف حقیقت سے انکار نہیں بلکہ زمینی حقائق کو شدید طور پر مسخ کرنے کی کوشش بھی ہے، جہاں نفرت پر مبنی تشدد اور ادارہ جاتی امتیازی سلوک میں اضافہ ہو رہا ہے۔
گزشتہ ایک دہائی میں، یعنی جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے، ہندوستان کی اقلیتوں-خصوصی طور پر مسلمانوں اور حاشیے پر موجود ان طبقات سے عیسائیت اختیار کرنے والوں-کو ہندوتوا انتہاپسندوں کے حملوں کا سب سے زیادہ سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ سب اس لیے ممکن ہوپایا ہے کہ سرکاری مشینری یا تو ناکارہ ثابت ہوا یا پھر ایسے کھلے عام حملوں پر پوری طرح سے خاموشی اختیار کر لی گئی۔
اور تو اور مرکزی حکومت اور بی جے پی مقتدرہ ریاستوں نے ایسی پالیسیاں نافذ کی ہیں، جنہوں نے پہلے سے کمزور ان برادریوں کو اور زیادہ حاشیے پر دھکیل دیا ہے۔
یہاں اقلیتی حقوق کی ان خلاف ورزیوں کی چند مثالیں دی جا رہی ہیں جنہیں رجیجو نے اپنی حکومت کا مثبت تاثر پیش کرنے کی کوشش میں نظرانداز کر دیا۔
’گئو رکشک‘ اورتشدد
اگر رجیجو یا ان کی تقریر کو تیارکرنے والوں نے صرف ایک بار گوگل پرسرچ کیا ہوتا تو انہیں 2014 کے بعد ہندوستان میں ’گئو رکشک‘ کے تشدد کی فہرست مل جاتی۔ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (این سی آر بی) ، جو ہر سال جرائم کے اعداد و شمار جاری کرنے والا واحد سرکاری ادارہ ہے، نے ہمیشہ ’گئو رکشکوں‘ کےتشدد یا نفرت پر مبنی جرائم(ہیٹ کرائم)کو الگ زمرے میں رکھنے سے انکار کیا ہے۔
حالاں کہ،الگ الگ وقتوں میں سامنے آئے مطالعے میں ملک کے مختلف حصوں میں قتل اور تشدد کے واقعات کو درج کیا گیا ہے۔ وکی پیڈیا پر ایسے کم از کم 82 واقعات کی فہرست موجود ہے۔ یہ کسی بھی طرح سے مکمل فہرست نہیں ہے، کیونکہ ملک کے بیشتر حصوں میں اس طرح کے تشدد کے کئی واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔
اس کے باوجود، اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ’گئو رکشک‘ گروہوں نے ہندوستان کے مختلف علاقوں میں مسلم برادریوں کے اندر کس حد تک خوف و ہراس پھیلایا ہے۔
مذہبی اقلیتوں کے خلاف ہیٹ اسپیچ
حالیہ برسوں میں مذہبی اقلیتوں، خصوصی طور پر مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف ہیٹ اسپیچ میں تیزی کے ساتھ اضافہ دیکھا گیا ہے۔
سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ(سی ایس او ایچ)کے تحت چلنے والا ایک آزاد پروجیکٹ انڈیا ہیٹ لیب گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ سے نفرت انگیز تقاریر کے واقعات پر گہرائی سے نظررکھ رہاہے۔ صرف 2025 میں ٹریکرس نے 21 ریاستوں، ایک مرکز کے زیر انتظام علاقہ اور دہلی میں ہیٹ اسپیچ کے 1,318 تصدیق شدہ واقعات کو درج کیا، یعنی ہر دن اوسطاً چار واقعات۔
’انڈیا ہیٹ لیب‘کی تحقیق کے مطابق ،یہ تعداد 2024 کے مقابلے 13 فیصد زیادہ تھی اور 2023 میں ریکارڈ کی گئی 668 واردات کے مقابلے تقریباً دوگنی تھی۔ ان میں سے تقریباً 98 فیصد واقعات مسلمانوں کو نشانہ بنا کر انجام دیے گئے، باقی عیسائیوں کو۔ اس تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ واقعات زیادہ تر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے زیراقتدار ریاستوں میں، ریلیوں، مذہبی جلوسوں یا عوامی اجتماعات کے دوران پیش آئے۔ ان تقریبات میں بائیکاٹ اور سماجی علیحدگی کی اپیلیں عام تھیں۔
بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتوں کے متعدد ارکان پارلیامان، ارکان اسمبلی اور وزراء پر کھلے عام ہیٹ اسپیچ کے الزام لگے ہیں۔ اسٹیٹ مشینری اور عدلیہ، دونوں ہی ان کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
بلڈوزر سے ناانصافی
املاک کو گرانے کے لیے بلڈوزر کے استعمال – جسے دائیں بازو کے حلقوں میں اکثر’ بلڈوزر جسٹس‘کہا جاتا ہے- نے مسلم علاقوں کو شدید طور پر متاثر کیا ہے۔ اس کےپس پردہ ایک پیٹرن ہے۔ ہر بار کسی فرقہ وارانہ واقعہ یا احتجاجی مظاہرے کے بعد مسلمانوں کے گھر آسانی سے نشانہ بن جاتے ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے صرف اپریل اور جون 2022 کے درمیان ایسی 128 انہدامی کارروائیوں کو درج کیا۔ ان واقعات میں 600 سے زائد افراد کو نشانہ بنایا گیا، جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ 2024 میں سپریم کورٹ کی جانب سے سزا کے طور پر کی جانے والی انہدامی کارروائیوں کو روکنے کی ہدایات کے باوجود، اتر پردیش، گجرات، مہاراشٹر اور دیگر ریاستوں میں یہ مہم جاری رہی۔
خاص طور پر بی جے پی مقتدرہ ریاستوں میں’ انصاف‘دلانے کے ایک عام طریقے کے طور پر رائج ہونے سے بہت پہلے مدھیہ پردیش میں شیوراج چوہان کی حکومت نے 2016 ہی میں اس کی شروعات کر دی تھی۔ تازہ ترین واقعہ 13 مئی کا ہے، جب آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے ایک کونسلر بلڈوزر کارروائی کا نشانہ بنے۔
مہاراشٹر کے ضلع چھترپتی سمبھاجی نگر میں متین پٹیل کا گھر اس وقت منہدم کر دیا گیا، جب پولیس نے الزام لگایا کہ انہوں نے ندا خان کو پناہ دی تھی۔ ندا خان ایک نوجوان ٹیلی کالر ہے، جو ناسک کے مشہور ’ٹی سی ایس کیس‘میں اپنے مبینہ کردار کی وجہ سے تحقیقات کی زد میں آئی تھی۔
ہندوستان میں تبدیلی مذہب مخالف قانون
ہندوستان کی ایک درجن سے زائد ریاستوں نے تبدیلی مذہب سے متعلق سخت قانون نافذ کیے ہیں، جو اکثر عیسائیوں اور مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
عیسائیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے حوالے سے دائر متعدد درخواستوں کے بعد اس سال فروری میں سپریم کورٹ نے ’ریاستی سرپرستی میں ہونے والی غنڈہ گردی‘اور گرفتاریوں کے معاملوں کا جائزہ لینے پر رضامندی ظاہر کی۔ درخواست گزار تنظیم’نیشنل کونسل آف چرچز ان انڈیا‘نے دلیل پیش کی کہ ان قوانین کی تعریف مبہم ہے اور یہ قوانین غنڈہ گردی کرنے والوں کو اقلیتوں کے خلاف جھوٹی شکایتیں درج کرانے کی ترغیب دیتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ان قوانین کے تحت 400 سے زائد عیسائیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
اکتوبر 2025 میں سپریم کورٹ نے اتر پردیش کے تبدیلی مذہب قانون کے تحت درج کئی مقدمات کو خارج کر دیا۔ عدالت نے کہا تھاکہ ان میں’ایسی قانونی خامیاں موجود تھیں جنہیں دور نہیں کیا جا سکتا‘اور ایسا لگتا ہے کہ یہ معاملے ہراسانی کے مقصد سے درج کیے گئے تھے۔ ایسے فیصلوں کے باوجود شمالی اور وسطی ہندوستان کی متعدد ریاستوں میں دعائیہ اجتماعات اور چرچ کی عبادت کے دوران گرفتاریاں اور پولیس کی مداخلت جاری رہی ہے۔
ان قوانین کا مسلمانوں پر بھی شدیداثر پڑا ہے، خصوصی طور پر بین مذہبی شادیوں سے متعلق نام نہاد’لو جہاد‘کے معاملوں میں۔
’غیر قانونی بنگلہ دیشی‘ کا نیریٹو
بڑے پیمانے پر ’غیر قانونی بنگلہ دیشی دراندازوں‘ کا بیانیہ، جس کی شروعات آسام، مغربی بنگال اور بی جے پی کی انتخابی مہم سے ہوئی تھی، اب ہندوستانی سیاست میں بار بار دہرایا جانے والا موضوع بن چکا ہے۔
سن 2016 میں رجیجو، جو اس وقت وزیر مملکت برائے داخلہ تھے، نے بغیر کسی حوالے کے پارلیامنٹ میں کہا تھا کہ ملک میں تقریباً 2 کروڑ ’غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجر‘ ہیں۔ یہ دعویٰ اس وقت کیا گیا تھا جب حکومت خود یہ تسلیم کر چکی تھی کہ اس سلسلے میں اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔
’بنگلہ دیشی‘ کہی جانے والی اس سیاسی بیان بازی کا ہندوستان میں مسلمانوں کی زندگی پر براہ راست اثر پڑا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں کئی مسلمانوں، خصوصی طور پر مہاجر مزدوروں، کو ’بنگلہ دیشی درانداز‘ ہونے کے الزام میں بھیڑ کے غصے اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
’آرٹیکل 14‘ میں شائع ہونے والی ایک جامع رپورٹ میں ایسے متعدد واقعات کا ذکر کیا گیا ہے جہاں ہندو ویجیلنٹ گروپوں اور پولیس نے بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو بی جے پی مقتدرہ ریاستوں سے نقل مکانی کے لیے مجبور کیا۔
سن 2019 میں جب آسام میں این آر سی کا عمل شروع ہوا تو تقریباً 19 لاکھ افراد کو غیر قانونی درانداز قرار دے کر فہرست سے خارج کر دیا گیا۔ ان میں بڑی تعداد بنگالی نژاد مسلمانوں کی تھی، اگرچہ اس سے بہت سے ہندو بھی متاثر ہوئے تھے۔
ایک طرف جہاں اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، وہیں گزشتہ چند برسوں میں مائیگریشن سے متعلق ایک اور رجحان بھی سامنے آیا ہے۔
امریکہ میں واقع پیو ریسرچ سینٹر نے 2024 میں ملک میں ہجرت کے رجحانات پر ایک رپورٹ جاری کی۔ اس تجزیہ سے پتہ چلا کہ ہندوستان سے بیرون ملک جانے والوں میں عیسائی تقریباً 16 فیصد اور مسلمان تقریباً 33 فیصد ہیں۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستان میں تقریباً 80 فیصد لوگ ہندو ہیں، لیکن ملک سے باہر جانے والوں میں ان کا حصہ صرف 41 فیصد ہے۔ یہ بات دنیا بھر میں ہجرت کرنے والوں کے مذہبی پس منظر پر کیے گئے ایک سروے میں سامنے آئی۔
متنازعہ ایس آئی آر عمل
’غیر قانونی بنگلہ دیشیوں‘ کے نام پر بنائے گئے سیاسی ماحول کو اس وقت بھی استعمال کیا گیا جب الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال میں ایس آئی آر کا عمل شروع کیا۔
اس سے پہلے الیکشن کمیشن بہار میں بھی یہی عمل نافذ کر چکا تھا، اور وہاں بھی کئی خاندان راتوں رات ووٹ کے حق سے محروم ہو گئے تھے۔ دونوں ریاستوں میں ایس آئی آر کا عمل ریاستی اسمبلی انتخابات سے عین پہلے انجام دیا گیا تھا۔
بی جے پی نے ایس آئی آر کو غیر قانونی دراندازوں کی ’شناخت‘ اور انہیں ’ہٹانے‘ کے لیے ایک مؤثر قدم قرار دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس سے مغربی بنگال میں ووٹ بینک کی سیاست کا پردہ فاش ہواہے۔ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) سمیت اپوزیشن جماعتوں نے اسے ’پچھلے دروازے سے نافذ کیا گیا این آر سی‘ قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے، اور کہا ہے کہ یہ حقیقی ہندوستانی شہریوں، خصوصی طور پر بنگالی مسلمانوں اور بنگلہ دیش سے آئے بعض ہندو پناہ گزینوں کو نشانہ بناتا ہے۔
جب سے مغربی بنگال میں ایس آئی آر نافذ ہوا ہے، دی وائر نے اس مسئلے پر جامع اورتفصیلی رپورٹنگ کی ہے اور ریاست بھر میں مسلمانوں کی بے بسی اور انہیں دانستہ طور پر باہر کیے جانے کی کہانیاں سنائی ہے۔ مغربی بنگال کے انتخابات سے چند ماہ قبل مکمل ہونے والے اس عمل میں 90 لاکھ سے زائد ووٹر ایس آئی آر کے ذریعے فہرست سے باہر ہو گئے۔ ان میں سے 34 فیصد سے زیادہ مسلمان ہیں۔
پارلیامنٹ اور حکومت میں اقلیتوں کی محدود نمائندگی
آزاد ہندوستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ نریندر مودی کی تیسری کابینہ (2024) میں کوئی مسلم وزیر شامل نہیں ہے۔ یہ سلسلہ گزشتہ حکومت کے آخری دور سے ہی جاری ہے، جب آخری مسلم وزیر مختار عباس نقوی اپنی راجیہ سبھا نشست ہار گئے تھے۔ عیسائیوں کی نمائندگی بھی انتہائی محدود ہے۔ رجیجو عیسائی کمیونٹی کے ان چند افراد میں شامل ہیں جو پارلیامنٹ تک پہنچے ہیں اور مودی حکومت میں مرکزی وزیر ہیں۔
مسلمان، جو ہندوستان کی آبادی کا تقریباً 14 سے 15 فیصد (تقریباً 20 کروڑ لوگ) ہیں، 2024 میں منتخب ہونے والی 18ویں لوک سبھا میں صرف 24 نشستوں (تقریباً 4.4 فیصد) پر ہیں۔ یہ گزشتہ چھ دہائیوں کی سب سے کم نمائندگی ہے۔ تمام 24 مسلم ارکان پارلیامنٹ اپوزیشن جماعتوں، بالخصوص انڈیا اتحاد، سے تعلق رکھتے ہیں۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔