ہاپوڑ ضلع میں کانوڑیوں کے ایک گروپ کی جانب سے بری طرح پیٹے گئے 24 سالہ عظیم کی 4 اگست کو دہلی کے ایک اسپتال میں موت ہو گئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان کی گاڑی سڑک کے کنارے کھڑے ایک آٹو رکشہ سے ٹکرا گئی تھی، جس میں کانوڑ یاتری سوار تھے۔ اس معاملے میں دو ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ پہلی ایف آئی آر مقتول کے والد نے درج کروائی ہے، جبکہ دوسری آٹو ڈرائیور کے والد کی شکایت پر مقتول کے خلاف درج کی گئی ہے۔

علامتی تصویر: پی ٹی آئی
نئی دہلی:اتر پردیش کے ضلع ہاپوڑ میں ایک سڑک حادثے کے بعد مبینہ طور پر کانوڑیوں کے ایک گروپ کی جانب سے بری طرح پیٹے گئے 24 سالہ عظیم کی 4 اگست کو دہلی کے ایک اسپتال میں موت ہو گئی تھی۔
قابل ذکر ہے کہ سڑک حادثے کا یہ واقعہ عظیم کی موت سے چار دن قبل پیش آیا تھا۔ عظیم کے پسماندگان میں ان کی اہلیہ، ایک نومولود بیٹا اور ان کے بیمار والد انتظار ہیں۔ ان کے والد انتظار ایک سال سے زیادہ سے بستر پر ہیں۔
اس سلسلے میں انتظار نے مرادآبادواقع اپنے گھر سے دی وائر کو بتایا، ’میرے بیٹے کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا گیا۔ اصل میں کیا ہوا، کون جانتا ہے؟ میں صرف انصاف چاہتا ہوں۔ وہ ہمارے خاندان کا واحد کمانے والا تھا۔‘
معلوم ہو کہ عظیم کی موت اس سڑک حادثے کے بعد ہوئی، جو ہاپوڑ میں برج گھاٹ ٹول پلازہ سے آگے شیوا ڈھابے کے قریب پیش آیا تھا۔ عظیم مرادآباد سے دہلی کام پر جانے کے لیے منی ٹرک چلا رہے تھے۔ اسی دوران ان کی گاڑی سڑک کے کنارے کھڑے ایک آٹو رکشہ سے ٹکرا گئی، جس میں کانوڑ یاتری سوار تھے۔
واقعے کے بعد عظیم کو گڑھ مکتیشور کے ایک مقامی نرسنگ ہوم لے جایا گیا۔ وہاں سے انہیں میرٹھ کے ایس ایس اسپتال ریفر کیا گیا، جہاں وہ کوما میں تھے۔ اس کے بعد انہیں دہلی لایا گیا، جہاں وہ ہوش میں آئے بغیر اپنی چوٹوں کے باعث دم توڑ گئے۔
پولیس نے عظیم کے ساتھ مارپیٹ کرنے اور بالآخر ان کی موت کا سبب بننے کے الزام میں آٹو ڈرائیور سمیت آٹو میں سوار تقریباً نصف درجن لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا ہے۔
وہیں، 3 اگست کو آٹو ڈرائیور فرمان کے والد عمران کی شکایت پر عظیم کے خلاف بھی اقدام قتل کے الزام میں ایف آئی آر درج کی گئی۔ دونوں ایف آئی آر ہاپوڑ کے گڑھ مکتیشور تھانے میں درج ہوئی ہیں۔
اس سلسلے میں گڑھ مکتیشور تھانے کے ایس ایچ او نے 9 اگست کو دی وائر کو بتایا کہ معاملے میں اب تک کسی کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔ افسر نے یہ بھی تصدیق کی کہ عظیم کی موت چوٹوں کے باعث ہوئی تھی۔
پہلی ایف آئی آر 31 جولائی کو رات 10:33 بجے عظیم کے والد انتظار کی شکایت کی پر درج کی گئی تھی۔ اس میں آٹو ڈرائیور فرمان، آٹو میں سوار چار لوگوں، جنہیں مبینہ طور پر کانوڑ یاتری بتایا گیا ہے—انکت، لوکیش، منیش اور شوم—اور دو دیگر نامعلوم افراد کے نام درج کیے گئے تھے۔ ان پر اقدام قتل، فساد برپا کرنے اور جان بوجھ کر چوٹ پہنچانے کے الزامات لگائے گئے تھے۔
انتظار کے مطابق، 31 جولائی کی صبح عظیم اپنے آبائی شہر مرادآباد سے دہلی کے لیے منی ٹرک چلا رہے تھے۔ برج گھاٹ ٹول پلازہ کے قریب ان کی گاڑی سڑک کے کنارے کھڑے ایک آٹو سے ٹکرا گئی۔
انتظار نے کہا کہ آٹو ڈرائیور اور اس میں سوار دیگر لوگوں نے عظیم کو بری طرح پیٹا، جس سے انہیں شدید چوٹیں آئیں۔
انتظار نے بتایا کہ عظیم کو گڑھ مکتیشور کے ایک نرسنگ ہوم میں داخل کرایا گیا اور بعد میں میرٹھ کے ایس ایس اسپتال ریفر کیا گیا، جو نزدیکی بڑا شہر ہے۔ ایف آئی آر درج ہونے کے وقت عظیم کوما میں تھے اور ان کی حالت تشویشناک تھی۔
انتظار نے بتایا کہ میرٹھ کے اسپتال میں دو دن رہنے کے باوجود جب ان کی حالت میں بہتری نہیں آئی تو انہیں دہلی لے جایا گیا، جہاں 4 اگست کی رات ایک اسپتال میں ان کی موت ہو گئی۔
انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹے کو واقعہ کے بارے میں بتانے کا موقع ہی نہیں ملا۔ انتظار نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’اسپتال لے جانے کے بعد اس نے ایک لفظ بھی نہیں بولا۔‘
وہیں، آٹو ڈرائیور کے والد کی شکایت کی بنیاد پر عظیم کے خلاف درج ایف آئی آر بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ آٹو میں سوار افراد ہاپوڑ کے ایک گاؤں کے کانوڑ یاتری تھے۔
بتادیں کہ19سالہ آٹو ڈرائیور فرمان کے والد عمران کی شکایت پر عظیم کے خلاف اقدام قتل کے الزام میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ یہ معاملہ 3 اگست کو شام 7:53 بجے درج کیا گیا تھا۔
عمران کے مطابق، 30 جولائی کی رات ان کے گاؤں کے کچھ مقامی لوگوں نے ان کے بیٹے فرمان کا آٹو رکشہ کرایہ پر لیا تھا۔ انہیں گنگا ندی کے برج گھاٹ سے کانوڑ کا جل لینے جانا تھا۔ عمران نے الزام لگایا کہ 31 جولائی کو علی الصبح تقریباً 3 بجے فرمان سڑک کے کنارے کھڑا تھا، اسی دوران عظیم اور کچھ نامعلوم افراد کو لے کر آنے والے تیز رفتار چھوٹے ٹرک نے جان بوجھ کر ان کے بیٹے کو زور دار ٹکر مار دی، جس سے وہ سڑک پر گر گیا۔
عمران نے الزام لگایا، ’ڈرائیور نے میرے بیٹے کو مارنے کی نیت سے گاڑی دوبارہ اس کے اوپر چڑھا دی۔‘
عمران کے مطابق، گاڑی کے پہیے فرمان کے پیٹ اور سینے کے اوپر سے گزر ے، جس کے بعد ڈرائیور گاڑی لے کر موقع سے فرار ہو گیا۔ فرمان کے سر، پیٹ اور ریڑھ کی ہڈی میں شدید چوٹیں آئیں۔ مقامی لوگوں نے انہیں بے ہوشی کی حالت میں پایا اور پاس کے پلکھوا قصبہ کے سرسوتی اسپتال لے گئے۔
عمران نے بتایا کہ مقامی پولیس چوکی کے اہلکار اسپتال پہنچے، ان کے بیٹے کی تفصیلات درج کیں اور علاج کو ترجیح دیتے ہوئے انہیں قانونی کارروائی کا مشورہ دیا۔ فرمان کی تشویشناک حالت کے پیش نظر انہیں دہلی کے ایمس ٹراما سینٹر ریفر کیا گیا ہے۔
عمران نے کہا کہ گاڑی کا پہیہ ان کے بیٹے کے پیٹ کے اوپر سے گزرنے کے باعث فرمان کی تلی اور آنتیں پھٹ گئیں۔ والد کی جانب سے پولیس میں شکایت درج کرائے جانے کے وقت فرمان کوما میں تھے۔
(عمر راشد آزاد صحافی ہیں۔)
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔