اتر پردیش: قبرستان کے لیے جگہ نہیں، اپنوں کو گھر میں ہی دفن کرنے کو مجبور ہیں مسلمان

اتر پردیش کے آگرہ واقع اچھنیرا بلاک کے گاؤں چاہ پوکھر میں قبرستان نہ ہونے کی وجہ سے مسلمان اپنے لوگوں کو گھروں میں ہی دفن کرنے کو مجبو رہیں۔

اتر پردیش کے آگرہ واقع اچھنیرا بلاک کے گاؤں چاہ پوکھر میں  قبرستان نہ ہونے کی وجہ سے مسلمان اپنے لوگوں کو گھروں میں ہی دفن کرنے کو مجبو رہیں ۔

علامتی فوٹو بہ شکریہ،www.hdsindia.org

علامتی فوٹو بہ شکریہ،www.hdsindia.org

نئی دہلی: آگرہ کے اچنیرا بلاک میں رہنے والے چاہ پوکھر کے مسلمان میت کو اپنے ہی گھر میں دفن کرنے کے لیے مجبور ہیں ۔قبرستان کے لیے جگہ نہیں ملنے کی وجہ سے ان کو اپنے ہی گھر میں قبر بنانے کو مجبور ہونا پڑ رہا ہے ۔ اس گاؤں کے لوگوں کے پاس زمین نہیں ہے اور و ہ بے حد غریب ہیں ۔ زیادہ تر مسلمان مرد ٹھیکے پر مزدوری  کرتے ہیں ۔اتر پردیش کے آگرہ واقع اچھنیرا بلاک کے گاؤں چاہ پوکھر میں مٹھی بھر مکانوں میں رہنے والے ان مسلمانوں کے گھر قبرستان بن چکے ہیں ۔

گاؤں میں قبرستان نہ ہونے کی وجہ سے یہ اپنے لوگوں کو گھروں میں ہی دفن کرنے کو مجبو رہیں ۔رپورٹ کے مطابق، عورتیں جہاں کھانا بنارہی تھیں ،اس کے پاس ہی ان کے بچوں کی قبریں ہیں ۔ گھر کے پیچھے والے حصے میں جہاں بزرگ آرام کر رہے تھے وہاں بھی قبریں ہی قبریں ہیں ۔

مقامی لوگوں  کا کہنا ہے کہ سالوں سے ان کے قبرستان کے مطالبے کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ٹائمس آف انڈیا کی رپورٹر سے بات کرتے ہوئے سلیم شاہ نے کہا کہ ،آپ میری دادی کی قبر پر بیٹھی ہیں ۔ ان کو یہیں دفن کیا گیا تھا ۔ٹائمس آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق،فیکٹری میں کام کرنے والے منیم خان نے اخبار کو بتایا کہ، ہم اپنے آباو اجداد کے لیے کچھ زمین ہی تو مانگ رہے ہیں ۔گاؤں کے پاس ہی ہندو کمیونٹی کے لیے شمشان گھاٹ ہے لیکن ہم اپنی میت کے ساتھ رہنے کو مجبو رہیں ۔

اسی گاؤں کی رہنے والی رنکی بیگم نے کہا کہ ، انہوں نے اپنے گھر کے پیچھے ہی فیملی کے 5 لوگوں کو دفن کیا ہے ۔ اس میں ان کا 10 مہینے کا ایک بیٹا بھی شامل ہے،جس کی موت وقت پر علاج نہیں کرا پانے کی وجہ سے ہوگئی تھی ۔وہیں گڈی کا کہنا ہے کہ، ہم جیسے غریب لوگ عزت سے مر بھی نہیں پاتے ۔ گھر میں جگہ کی کمی وجہ سے ہم قبر پر ہی بیٹھنے اور چلنے کو مجبور ہیں ۔ یہ بہت شرمناک صورت حال ہے ۔

رپورٹ کے مطابق ، کچھ دن پہلے گاؤں کے لوگوں کو قبرستان کے لیے زمین مختص کی گئی تھی لیکن وہ تالاب کے بیچ میں پڑ گئی ۔ بار بار شکایت کرنے کے باوجود بھی اس تعلق سے کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔

اس بات کو لے کر گاؤں کے لوگوں نے دو سال پہلے اس کی مخالفت کی تھی ۔ مقامی باشندہ منگل خان کی موت کے بعد گاؤں کے لوگ قبرستان   کے لیے زمین ملنے پر ہی ان کو دفن کرنے کے لیے دباؤ بنا رہے تھے ۔لیکن انتظامیہ کی یقین دہانی کے بعد ان کو تالاب کے پاس دفن کیا گیا تھا۔

گاؤں کے پردھان سندر کمار نے اخبار کو بتایا کہ میں نے کئی بار اس بارے میں افسروں سے بات کی اور مسلمانوں کے قبرستان کے لیے جگہ کے بارے میں پوچھا لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔وہیں ضلع مجسٹریٹ روی کمار این جی نے بتایا کہ ان کو اس بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے۔انہوں نے کہا ،میں اس کے لیے افسروں کی ایک ٹیم کو گاؤں بھیجوں گا اور قبرستان کے لیے ضروری زمین کی  تفصیلات حاصل کروں گا۔

واضح ہو کہ انتظامیہ سے بار بار مطالبے کے باوجود اس سلسلے میں کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔ اب ان گاؤں والوں کے سامنے اپنے ہی گھر میں جگہ کا مسئلہ کھڑا ہوگیاہے۔ رپورٹ کے مطابق، گھر میں تازہ بنی قبروں کو اب پختہ نہیں کیا جاتا کیوں کہ اس سے زیادہ جگہ گھرتی ہے۔ قبروں کو نمایاں کرنے کے لیے ان پر چھوٹے بڑے پتھر رکھ دیے گئے ہیں۔پریشان گاؤں والوں نے نزدیک کے سانن گاؤں اچھنیرا قصبے کے قبرستانوں میں بھی اپنوں کو دفنانے کی کوشش کی لیکن وہاں کے لوگ بھی اپنی زمین دینے کو تیار نہیں ہیں ۔ نظام خان جو ایک میکینک ہیں، انہوں نے اخبار کو بتایا کہ ان گاؤں کی چاہ پوکھر سے زیادہ آبادی ہے ان کے قبرستان پہلے سے بھرے ہوئے ہیں ۔