بھوپال لٹریچر فیسٹیول: دائیں بازو کے گروپوں کے احتجاج کی دھمکی کے باعث بابر سے متعلق کتاب پر مذاکرے کا پروگرام رد

بھوپال میں ایک ادبی تقریب میں بابر پر آئی نئی کتاب پر ہونے والے مذاکرہ کو پولیس نے دائیں بازو کے گروپوں کی ممکنہ احتجاج کی دھمکی کے بعد رد کر دیا۔ کتاب کے مصنف کا کہنا ہے کہ انتہائی تشویشناک بات یہ ہے کہ صوبے کے وزیر ثقافت نے کتاب کا ایک ورق بھی پڑھے بغیر سرعام اس کی مذمت کر دی۔

بھوپال میں ایک ادبی تقریب میں بابر پر آئی نئی کتاب پر ہونے والے مذاکرہ کو پولیس نے دائیں بازو کے گروپوں کی ممکنہ احتجاج کی دھمکی کے بعد رد کر دیا۔ کتاب کے مصنف کا کہنا ہے کہ انتہائی تشویشناک بات یہ ہے کہ صوبے کے وزیر ثقافت نے کتاب کا ایک ورق بھی پڑھے بغیر سرعام اس کی مذمت کر دی۔

بابر سے متعلق کتاب اور اس کے مصنف آبھاس ملدہیار۔ (تصویر بہ شکریہ: سوشل میڈیا)

نئی دہلی: مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں منعقدلٹریچر اینڈ آرٹس فیسٹیول میں مغل بادشاہ بابر کے بارے میں ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ۔یہاں منتظمین نے بابر پر آئی نئی کتاب پر طے شدہ مذاکرے کو ممکنہ احتجاج کے انتباہ کے بعد رد کر دیا۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق، اس کتاب کا نام ‘بابر: دی کویسٹ فار ہندوستان’ ہے، جسے آبھاس ملدہیار نے لکھا ہے۔ اس کتاب پر سنیچر (10 جنوری) کو بھارت بھون میں مذاکرے کا پروگرام تھا۔ تاہم، ہندو تنظیموں کے احتجاج اور محکمہ ثقافت کے اعتراضات کے بعد اس پروگرام کو رد کر دیا گیا۔

اس حوالے سے مصنف نے کہا کہ منتظمین نے انہیں پروگرام کی منسوخی کے پیچھے انتظامی دباؤ کے علاوہ کوئی وضاحت نہیں کی۔

ملدہیار نے اخبار کو بتایا، ‘بھوپال لٹریچر فیسٹیول 2026 میں میری نئی کتاب ‘بابر: دی کویسٹ فار ہندوستان’ پرہونے والا سیشن اخبار ‘سودیش’ کی جانب سے میرے خلاف جھوٹی اور ہتک آمیز خبریں شائع کرنے کے بعد منسوخ کر دیا گیا۔’

وہ مزید بتاتے ہیں،’ان خبروں میں الزام لگایا گیا تھا کہ میرا ارادہ  بابر کی عظمت کو بیان کرنے کا ہے۔ ان بے بنیاد دعووں کی وجہ سے کچھ نام نہاد ہندو تنظیموں نے مجھے دھمکیاں دیں، جن میں میری کتاب کو جلانے اور کتابوں کی دکانوں میں توڑ پھوڑ کی دھمکیاں بھی شامل ہیں۔’

مصنف کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ تھی کہ ‘مدھیہ پردیش کے وزیر ثقافت مسٹر دھرمیندر سنگھ لودھی نے کتاب کا ایک ورق بھی پڑھے بغیر اس سیشن کی سر عام مذمت کر دی۔ انہوں نے کہا،’یہ مدھیہ پردیش کی وزارت ثقافت کے کام کاج اور فکری سالمیت پر سنگین سوال اٹھاتا ہے، جہاں پڑھے بغیر ادبی تخلیقات کاجائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔’

ملدہیار نے مدھیہ پردیش ساہتیہ اکادمی کے ڈائریکٹر وکاس دوے پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دوےنے بھی ‘محض افواہوں کی بنیاد پر’ کتاب کو مسترد کر دیا۔

تاہم منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ انہوں نے اپنی مرضی سے نہیں لیا ہے۔ اس ادبی میلے کے شریک بانی ابھیلاش کھانڈیکر نے اخبار کو بتایا کہ پولیس نے دائیں بازو کی تنظیموں کی جانب سے خلل پیدا کرنے کے بارے میں خبردار کیا  تھا۔

انہوں نے کہا، ’10 جنوری کے طے شدہ سیشن کو منسوخ کر دیا گیا، کیونکہ پولیس نے کہا تھا کہ ایک اخبار کی رپورٹ کی بنیاد پر دائیں بازو کے گروپ تقریب میں توڑ پھوڑ کر سکتے ہیں۔’

کھانڈیکر نے مزید کہا،’مصنف نے اپنے کام میں بابر کا پردہ فاش کیا ہے، اور کوئی بھی اسے چیلنج کر سکتا تھا۔ ہم اپنے پورے ایونٹ کو بچانا چاہتے تھے، اس لیے ہمیں اسے منسوخ کرنا پڑا۔’

کھانڈیکر نے یہ بھی کہا کہ منتظمین کو خوف تھا کہ اس واقعے کا اثر سہ روزہ پروگرام پر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بھوپال اور مصنف کی شبیہ کی حفاظت کرنے اور تقریب کو کامیاب بنانے کا فیصلہ کیا۔’ کھانڈیکر کے مطابق، اعتراض کرنے والے زیادہ تر لوگوں نے کتاب پڑھی ہی نہیں  ہے۔