پنڈت باپ بیٹے کی داستان کشمیریت اور عزیمت

پنڈت بزاز نے پوری زندگی امن، مفاہمت اور مکالمے کے لیے ثابت قدمی سے جدوجہد کی۔وہ کشمیری تاریخ کے ایک عظیم کردار پنڈت پریم ناتھ بزاز کے فرزند تھے، مگر ان کو بھی بھائی چارے اور کشمیریت کے علمبردار اور ایک اصول پسند کشمیری پنڈت آواز ہونے کے ناطے وسیع احترام حاصل تھا۔

پنڈت بزاز نے پوری زندگی امن، مفاہمت اور مکالمے کے لیے ثابت قدمی سے جدوجہد کی۔وہ کشمیری تاریخ کے ایک عظیم کردار پنڈت پریم ناتھ بزاز کے فرزند تھے، مگر ان کو بھی بھائی چارے اور کشمیریت کے علمبردار اور ایک اصول پسند کشمیری پنڈت آواز ہونے کے ناطے وسیع احترام حاصل تھا۔

پنڈت بھوشن بزاز، فوٹو بہ شکریہ: ایکس

اپنے ہفتہ وار کالم کےلیےکسی اور موضوع پر میں نے لکھنا شروع ہی کیا تھا کہ نئی دہلی سے خبرآئی کہ ممتاز سماجی و سیاسی کارکن جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فرنٹ (جے کے ڈی ایف) کےسربراہ پنڈت بھوشن بزاز طویل علالت کے بعد 91برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔

ا ن کی اصل پہچان تو یہ تھی کہ وہ کشمیری تاریخ کے ایک عظیم کردار پنڈت پریم ناتھ بزاز کے فرزند تھے، مگر ان کو بھی بھائی چارے اور کشمیریت کے علمبردار اور ایک اصول پسند کشمیری پنڈت آواز ہونے کے ناطے وسیع احترام حاصل تھا۔

پنڈت بزاز نے پوری زندگی امن، مفاہمت اور مکالمے کے لیے ثابت قدمی سے جدوجہد کی۔ وہ جموں و کشمیر کی متنوع برادریوں کے درمیان ہم آہنگی، باہمی احترام اور افہام و تفہیم کے فروغ کے لیے گہرے طور پر وابستہ رہے۔

وہ جنوبی دہلی کے حوض خاص علاقہ میں رہائش پذیر تھے۔ ان کا گھر کشمیری لیڈران خاص طور پر میرواعظ عمر فاروق اور ان کی فیملی کا دہلی کا مسکن ہوتا تھا۔ان کے گھر کی پہلی منزل تو ان کے  لیے ہی وقف تھی۔

میرا دفترجانے کا راستہ ان کی کالونی سے ہوکر گزرتا تھا، اس لیے جب ان کو لیڈران کی میزبانی سے فرصت ملتی تھی، تو ہر دس پندرہ دن بعد ان کا فون آتا تھا کہ آفس جاتے ہوئے ان کے ساتھ چائے ناشتہ کروں۔

حالات حاضرہ پر تبصروں کے علاوہ دوران گفتگو ان کے والد کے بارے میں بیش بہا معلومات ملتی تھیں۔

ہر سال 13جولائی کو جب کشمیر ی 1931کے شہیدوں کی یاد مناتے تھے، اسی دن وہ اپنے گھر پر قریبی دوستوں و رشتہ داروں کے ہمراہ پریم ناتھ بزاز کا یوم پیدائش منا کر ان کو یاد کرتے تھے۔

پنڈت پریم ناتھ بزاز

 سن 2000میں وہ سجاد غنی لون اور اسماء خان، جوجموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے لیڈر امان اللہ خان کی صاحبزادی ہے، کی شادی خانہ آبادی میں شرکت کرنے کے لیے پاکستان گئے تھے۔

جہاں انہوں نے میزبانوں سے میر پور جانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔دیر رات  میر پور پہنچ کر انہوں نے وہاں پرانی جیل کو دیکھنے کا مطالبہ کیا، جس میں ڈوگرہ حکمرانوں نے ان کے والد کو قید کرکے رکھا تھا۔

معلوم ہوا کہ وہ  جیل تو اب منگلا ڈیم کا حصہ ہے۔ مگر رات کو ہی کشتی میں وہ اس جیل تک پہنچے اور اس کی چند شکستہ اینٹیں اکھاڑ کر اپنے ساتھ لے کر آگئے۔

واپسی پر ان اینٹوں کر لےکر واگہہ-اٹاری بارڈر پر کسٹم حکام کے ساتھ خاصی لے دے ہوئی۔ ان اینٹوں کو ایکسرے سے گزاراگیا اور ایک کو توڑا بھی گیا تھا۔ کسٹم اہلکاروں کو شک تھا کہ ان کے اندر ممنوعہ اشیاء لے جائی جا رہی ہیں۔

خیر چند اینٹیں دہلی پہنچ گئیں  اور انہوں نے ان کو گھر کے کونے میں بنے مندر کے پاس ہی فریم بنوا کر رکھا تھا۔

وہ میر پور کی ان اینٹوں کی بھی پوجا کرتے تھے اور فخر کے ساتھ دکھاتے تھے۔ 2004 میں ان کے جواں سال فرزند گورو بزاز کو کینڈا کے شہرٹورنٹو میں گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ 2010میں کینڈا پولیس کے کسی وجے سنگھ کو اس قتل کے لیے گرفتار کیا تھا۔ مگر قتل کی وجوہات وغیرہ پر پردہ ہی رہا۔

کشمیری تاریخ کے ایک درخشاں ستارہ کے بطور بھوشن بزاز کے والدپنڈت پریم ناتھ بزاز بنیادی طور پر ا یک صحافی تھے۔

بتا یا جاتا ہے کہ ان کے اثر و رسوخ کے باعث شیخ عبداللہ نے آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کو نیشنل کانفرنس میں تبدیل کردیا تھا تاکہ اس میں پنڈت اقلیتوں کی شمولیت ممکن ہو سکے۔

مگر جلد ہی بزازپنڈت ہونے کے باوجود خود مسلم کانفرنس کے قریب آگئے۔ 1932 میں انہوں نے روزنامہ وِتستا کشمیر کا پہلا اخبارجاری کر دیا۔

بعد میں شیخ عبداللہ کے ساتھ مل کر انہوں نے اخبار ہمدرد کی بنیاد رکھی۔مگر جلد ہی دونوں الگ ہوگئے۔ انہوں نے ہمدرد کو مسلم کانفرنس کا ایک طرح کا ‘ترجمان’ بنا دیا اور شیخ عبداللہ اور ان کی نیشنل کانفرنس کے خلاف لکھنا شروع کیا۔ 11 اپریل 1947 کو پریم ناتھ بزاز پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔

دو افراد، غلام احمد میر اور محمد سلطان نجار، کو حراست میں لیا گیا، لیکن جب شیخ عبداللہ ہنگامی منتظم بنے تو عدالت نے دونوں کو بری کر دیا۔ 21 اکتوبر 1947 کو بزاز کو ایمرجنسی انتظامیہ نے گرفتار کر کے تین برس تک قید میں رکھا، اور عبداللہ کے وزارت اعظمیٰ کے دور میں ان کو نئی دہلی جلاوطنی پر مجبور کر دیا گیا، جہاں انہوں نے حوض خاص علاقہ میں پلاٹ لےکر مکان کی تعمیر کی۔

شیخ عبداللہ نے ا ن پر الزام لگایا کہ اس مکان کی تعمیر کے لیے پاکستانی حکومت نے ان کی مالی مدد کی۔ اپنی سوانح حیات آتش چنار میں شیخ عبداللہ رقم طراز ہیں کہ؛


پنڈت بزازایک ہوشیار آدمی ہیں اور دھن کے پکے بھی۔ سیاسیات میں ایک وسیع نظر رکھتے ہیں اور حسب استعدار حق و انصاف کے لیےآواز بھی بلند کرتے رہتے ہیں۔ مگر کسی اصول پر استقلال سے قائم رہنا  وہ شاید خوبی تصور نہیں کرتے۔ ان کی سب سے بڑی کمزوری حصول زر ہے جس نے ان کی بہت سی خوبیوں کو گہنا دیا ہے۔


مگر یہی الزام خود شیخ عبداللہ اور ان کے خاندان پر بھی فٹ آتا ہے۔

پریم ناتھ بزاز نے 1954 میں لکھا تھا کہ؛


 کشمیر کشمیریوں کا ہے، اور نہ مہاراجہ کو، نہ کسی باہر والے کو، خواہ وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اس کے مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ مسلط کرنے کا حق ہے۔


نا انصافی کے خلاف جدوجہد کی حمایت نے انہیں خود اپنی برادری میں بھی غیر محفوظ بنا دیا تھا کیونکہ اکثر پنڈت افراد کے مفادات ڈوگرہ اقتدار سے  وابستہ تھے۔1975 میں اندرا گاندھی اور شیخ عبداللہ معاہدے کی مخالفت کے نتیجے میں وہ میرواعظ فاروق کی عوامی ایکشن کمیٹی کے زیرِ اثر ایک منظم اتحاد کا حصہ بنے۔

مئی  1944 کو جب محمد علی جناح سرینگر کے دورے پر آئے، تو انہوں نے  معروف صحافی جے این ساتھو کو ایک انٹرویو دیا۔ جس میں انہوں نے پریم ناتھ بزاز کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ؛


پریم ناتھ بزاز جیسے لوگ کشمیری پنڈتوں کو قومی سیاست کے دھارے میں لا سکتے ہیں اور انہیں ڈوگرہ آمریت کے خلاف جدوجہد کے لیے متحرک کر سکتے ہیں۔


دس جون 1947 کو بزاز کا تحریر کردہ ایک اداریہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہے، جس میں انہوں نے تحریر کیا کہ؛


 ہندو نیشنل کانفرنس کو پسند نہیں کرتے۔ البتہ کچھ ہندو اس میں شامل ہوئے ہیں، محبت کی بنا پر نہیں بلکہ اس نفرت کی وجہ سے جو اس جماعت نے مسلمانوں کے خلاف ظاہر کی ہے۔ چند ہندوؤں کی شمولیت نیشنل کانفرنس کو اقلیتوں کی نمائندہ نہیں بناتی۔ ہندو اور سکھ عوامی سطح پر نیشنل کانفرنس کی تعریف کرتے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ یہ مسلمانوں کے مفادات کے خلاف کام کر رہی ہے ۔


اپنی کتاب کشمیر میں آزادی کی جدوجہد کی تاریخ   جو مارچ 1952 میں شائع ہوئی،میں وہ لکھتے ہیں کہ اگر کشمیری نوجوانوں کی خواہشات پوری نہ کی گئیں تو انہیں ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ تین دہائیوں بعد کشمیری نوجوانوں نے ان کی بات درست ثابت کر دی۔

بزاز 13 جولائی 1905 کو پیدا ہوئے۔ ان کے چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں تھیں، مگر ان میں بھوشن بزاز، نے ہی ان کی سیاست کو زندہ رکھا۔

پریم ناتھ بزاز جیسے حقیقت پسند کشمیری پنڈتوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ ڈوگرہ اقتدار کا خاتمہ قریب ہے۔ چنانچہ انہوں نے شیخ عبداللہ اور ان کی تحریک، یعنی مسلم کانفرنس جو بعد میں نیشنل کانفرنس بنی، کے ساتھ ایک مشترکہ پلیٹ فارم کی تعمیر شروع کی۔

آج کشمیری پنڈت اور کشمیری مسلمان کسی مشترکہ سماجی یا سیاسی منصوبے میں شریک نہیں ہیں۔  1931 کی ڈوگرہ مخالف مزاحمت اور کئی افراد کی ہلاکت کے بعد  حقائق معلوم کرنے والے گلینسی کمیشن کے سامنے بزاز نے مسلمانوں کی شکایات کو درست تسلیم کیا، حالانکہ اس سے ان کی اپنی برادری کے دعوے اور مراعات کمزور پڑتے تھے۔

اس پر  بزاز کو اپنے ہی پنڈتوں نے مارا پیٹا۔ بتایا جاتا ہے کہ انہیں پنڈت اکثریتی علاقہ ژندہ پورہ سے نقل مکانی کرکے آبی گذر کے ایک مکان میں منتقل ہونا پڑا۔

 بھوشن بزاز نے اپنے والد کی  ڈائریاں محفوظ کی ہوئی تھیں۔ بارہا تاکید کرنے کے باوجود وہ ان کو شائع کرنے پر تیار نہیں ہوئے۔

بھوشن بزاز کہتے  تھے کہ نہرو نے ان کے والد کو اسٹیٹس پیپلز کانفرنس کے دو جنرل سکریٹریوں میں سے ایک بننے کی پیشکش بھی کی تھی، جس کی وہ خود سربراہی کر رہے تھے۔ مگر والد نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ انہیں کشمیر میں کام کرنا ہے۔

ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بھی ایک بار کہا کہ الحاق کے مسئلے پر شیخ عبداللہ اور بزاز کے درمیان مکمل اختلاف تھا۔شیخ عبداللہ سے اختلافات اور دہلی میں جلاوطنی، جہاں نیشنل کانفرنس کی حکومت نے انہیں کشمیر میں داخلے سے روک رکھا تھا، بزاز کو بدد ل کر دیا تھا۔

بزاز نے نہرو کو لکھا  تھاکہ وہ اب کشمیری مسلمانوں کو خودمختاری کے مؤقف کی طرف لانے کے لیے ان کے ساتھ کام کرنے پر’آمادہ’ ہیں۔ مگر اس کے باوجود وہ وقفے وقفے سے کشمیر کے حقِ خود ارادیت کا سوال اٹھاتے رہے۔ اس نکتے پر وہ کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔

پریم ناتھ بزاز آخری دم تک تاریخ کے طالبعلم رہے۔ انہوں نے ایک درجن سے زائد کتابیں تصنیف کی۔ ان کی کتابوں کے اقتباسات ایک عرصے تک پاکستان کی ٹیکسٹ بکس میں بھی شامل تھے۔

انہوں نے کشمیری مسلمانوں کی سیاسی بیداری کو برصغیر میں اس برادری کے اجتماعی اظہار کا حصہ سمجھا تھا۔

بزاز کا تصورِ معاشرہ یہ تھا کہ دونوں برادریاں یعنی پنڈت اور مسلمان ایک دوسرے پر غلبہ حاصل نہ کریں۔

بزاز اور شیخ عبداللہ کی کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ لازمی نہیں تھا کہ ایک کشمیری پنڈت غیر مبہم طور پر بھارت نواز مؤقف اختیار کرے، اور ایک کشمیری مسلمان پاکستان نواز موقف کا حامی ہو۔

کشمیر جواس وقت اپنے سب سے کٹھن اور نازک دور سے گزر رہا ہے، کو آج پریم ناتھ بزاز جیسے شخص کی اشد ضرورت ہے۔