گزشتہ چند برسوں میں بلڈوزر کو تعزیری کارروائی کے طور پر استعمال کرنے کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس کارروائی میں اکثر مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ 2022 اور 2023 میں گرائے گئے گھروں میں سے 44 فیصد گھرمسلمانوں کے تھے۔ دراصل یہ پیٹرن بن گیا ہے کہ مسلسل قانونی عمل کو نظرانداز کرتے ہوئے اور آئینی تحفظات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایسی کارروائیاں کی جاتی ہیں۔

چالیس سالہ گھریلو خادمہ یاسمین محبوب علی محمد میواتی کے پاس بورین، گلی میں رہنے والا کتا، بیٹھا ہواہے جو شاید ہی ان کا ساتھ چھوڑتا ہے۔ یاسمین اپنے پانچ بچوں کی اکیلے پرورش کرتی ہیں، اپنے دو کمروں والے پکے پرانے گھر کے باقیات کے پاس بیٹھی ہیں— جہاں وہ 2002 سے رہ رہی تھیں- جسے انہوں نے اپنی جمع پونجی اور قرض لے کر بنوایا تھا، اور جس میں ان کی بیٹیوں کے بستر تھے۔ ان کا گھر احمد آباد کی چندولا جھیل کے آس پاس بنے ان 12,500 سے زیادہ گھروں میں سے ایک تھا، جنہیں اگست 2025 میں ’غیر قانونی بنگلہ دیشیوں‘ کے خلاف کارروائی کے بعد مسمار کر دیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں ہزاروں مسلمان—جن میں سے کئی کے پاس دستاویز بھی موجود تھے—بے گھر ہو گئے۔ (تصویر: صبا گرمت)
سال2017سےپورے ہندوستان میں انہدامی کارروائیوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ طویل عرصے سے شہروں میں لوگوں کو بے دخل کیا جاتا رہا ہے، لیکن بلڈوزر کو تعزیری کارروائی کے طور پر استعمال کرنے کے سبب اس کی شرح میں نمایاں طور پر عددی اضافہ ہواہے۔ اور اس کارروائی میں غیر متناسب طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
سال 2022 اور 2023 میں گرائے گئے گھروں میں سے 44 فیصد مسلمانوں کے تھے۔ باقاعدگی سے قانونی عمل کو نظرانداز کرتے ہوئے اور آئینی تحفظات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایسی کارروائیاں انجام دی جاتی ہیں۔ اکثر احتجاجی مظاہروں اورفرقہ وارانہ کشیدگی کے فوراً بعد ایسی کارروائیاں کی جاتی ہیں، یا بعض اوقات اس کی کوئی واضح وجہ نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ متاثرین مسلمان تھے۔ چھ مضامین پر مشتمل سیریز کا یہ دوسرا مضمون انکشاف کرتا ہے کہ کس طرح بلڈوزر اکثریت پسندی کی نمائش میں ریاستی اقتدار کی علامت بن گیا ہے۔ (اس سیریز کا پہلا مضمون یہاں پڑھا جا سکتا ہے۔)
◊◊◊
ایسا نہیں ہےکہ بلڈوزر—بڑے موٹر والے ٹرالر جس کے آگے کے حصے میں میٹل بلیڈ لگا ہوتا ہے، اور جو تعمیراتی سامان لے جا سکتے ہیں اور گھروں کو توڑ سکتے ہیں—ہندوستان کے گورننس کے منظرنامے پر ابھی ابھی نمودار ہوئے ہیں، اور نہ ہی انہیں اب فیصلہ کن گورننس کی علامت کے طور پر اپنایا گیا ہے۔
دہائیوں سے، بلڈوزر غیر منظم بستیوں میں رہنے والوں یا سڑک کے فٹ پاتھ پر سامان بیچنے والے شہریوں کے لیے خوف کی مستقل علامت رہے ہیں۔ جھگی جھونپڑیوں اور فٹ پاتھوں پر رہنے والے یا سڑک کنارے سامان فروخت کرنے والے افراد شہری انتظامیہ کی امتیازی پالیسیوں اور منصوبوں کے باعث ہمیشہ غیر قانونی ماحول میں رہنے اور کام کرنے کے لیے مجبور ہیں۔
اکثر، بہت کم وقت یا بغیر کسی نوٹس کے اور رہائش یا روزگار کے لیے کسی متبادل کے، بلڈوزر آتے ہیں اور منٹوں میں ان کی پوری زندگی کی کمائی کو تباہ کر دیتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں متعدد عدالتی فیصلوں میں کچی آبادی اور فٹ پاتھ پر رہنے یا کاروبار کرنے والوں کو باقاعدہ نوٹس دینے اور زندگی بسر کرنے کے باوقار متبادل کا انتظام کرنے کے زیادہ انسانی عمل کو اپنانے کی سفارش کی گئی ہے۔
مگر شاذ و نادر ہی ان احکامات کی روح یا حتیٰ کہ ان کے الفاظ پر بھی عمل کیا جاتا ہے۔ بلڈوزر ’انصاف‘ کے اس پرانے طریقے کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس نے شہری منصوبہ بندی کی گہری عدم مساوات کو دور کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا ہے، جو غریب محنت کشوں کو قانونی طور پر اس کا حصہ بننے سے روکتی ہیں۔
حالیہ برسوں میں ہندوستان میں، وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں، انہدام کے واقعات میں نمایاں اضافہ کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ ہاؤسنگ اینڈ لینڈ رائٹس نیٹ ورک(ایچ ایل آر این)، جو ایک لیگل ایڈووکیسی گروپ ہے، نے 2017 سے 2023 کے درمیان بے دخلی کے بڑھتے رجحان پر رپورٹ شائع کی، جس کے مطابق 16.8 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔
پورے ہندوستان میں بے دخلی کی تعداد 2019 میں 1,07,625 تھی جو 2022 میں بڑھ کر 2,22,686 ہو گئی اور 2023 میں 5,15,752 تک پہنچ گئی— دوسرے لفظوں میں، پانچ سالوں میں 379 فیصد کا اضافہ ہوا۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2022 اور 2023 میں جن کے گھر توڑے گئے، ان میں سے 89 فیصد یا تو مسلمان، درج فہرست قبائل، درج فہرست ذات یا دیگر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتے تھے۔
سفاکی اور نئے اہداف
جیسا کہ ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے، ریاست کی جانب سے جبری بے دخلی کے لیے بیان کردہ وجوہات میں اسمارٹ سٹی سے متعلق منصوبے، سڑکوں کی توسیع، شاہراہیں اور بنیادی ڈھانچہ، اور جنگلات کا تحفظ شامل ہیں، جبکہ بعض اوقات مبہم طور پر محض ’تجاوزات کا خاتمہ‘ یا ’شہر کی تزئین کاری‘ کا حوالہ دیا جاتا ہے۔

فیمان اسرا،57سالہ چائے کی دکان کی مالکن، نئی دہلی کے مہرولی میں اپنے ٹوٹے ہوئے گھر کے ملبے کے درمیان ۔ انہوں نے اپنے شوہر، چار بچوں اور ان کے خاندانوں سمیت 12 افراد کے مشترکہ خاندان کے لیے تین کمروں کا گھر بنانےمیں 10 لاکھ روپے خرچ کیے تھے۔ اس کام میں انہیں 35 سال لگے۔ (تصویر: مکتا جوشی)
یہ دور ایسی بے وجہ اور بے مطلب کی سفاکی کے لیے بھی یاد رکھا جائے گا، جیسا اس سے پہلے کبھی دیکھانہیں گیا۔ فرنٹ لائن میگزین میں’انڈیا ز بلڈوزر راج‘ کے عنوان سے 2024 میں شائع ایک کہانی میں یہ کچھ آوازیں تھیں؛
– شیخ اکبر علی؛ ’پہلے، ہم نے کبھی شام پانچ بجے کے بعد یا صبح سویرے بلڈوزر آتے نہیں دیکھے تھے، لیکن اب یہ بھی عام ہو گیا ہے۔‘ کئی لوگوں نے انہدام کے دوران بڑی تعداد میں تعینات نیم فوجی دستوں کا ذکر بھی کیا۔
– دہلی کے اشوک؛ ’وہ صرف ہمیں اس جگہ سے ہٹانے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں، بلکہ یہ بھی یقینی بنا رہے ہیں کہ یہ جگہ رہنے کے قابل نہ رہے۔ ہم یہاں سے کہاں جائیں گے؟ پچھلی بار جب وہ ہماری جھگیوں کو گرانے آئے تھے ، تو انہوں نے پانچ سے چھ فٹ گہرا گڑھا کھود دیا تھا تاکہ ہم یہاں دوبارہ اپنے گھر تعمیر نہ کر سکیں۔‘
– یمنا کے سیلابی علاقے میں رہنے والی کسان، ریکھا؛’انہوں نے ہمیں کئی بار ہٹانے کی کوشش کی ہے۔ وہ گڑھے کھودتے ہیں اور ہماری ضروری اشیاء، جن میں راشن جیسی بنیادی ضرورتیں بھی شامل ہیں، ان میں پھینک دیتے ہیں اور پھر انہیں ریت سے بھر دیتے ہیں۔‘
– دہلی کی ایک گمنام خاتون؛’ہمیں اپنا قیمتی سامان اور چیزیں نکالنے کا وقت بھی نہیں دیا گیا۔ میرے بچوں کی کتابیں اور یونیفارم سب ضائع ہو گئیں۔ جس دن توڑ پھوڑ ہوئی، اس دن بہت تیز بارش ہو رہی تھی۔ ہم نے ان سے درخواست کی کہ کم از کم ہمیں ایک دن کا وقت دیں تاکہ ہم اپنا سامان بچا سکیں۔ لیکن ہمارے گھروں کے ساتھ- ساتھ ہمارے خواب بھی ٹوٹ گئے۔‘
سال2023میں ویب سائٹ آرٹیکل 14 نے بتایا تھا کہ کیسےقانون کے ہونے کے باوجود—جس میں توڑ پھوڑ سے پہلے نوٹس دینا اور متاثرہ افراد کی بازآبادکاری کرنا لازمی ہے—تین مہینے میں توڑ پھوڑ کے چار بڑے واقعات کے بعد ہندوستان کے دارالحکومت میں کم از کم 1,600 گھر منہدم کر دیے گئے اور تقریباً 2,60,000 افراد بے گھر ہو گئے۔ اکثر نوٹس اس وقت دیے گئے جب توڑ پھوڑ کرنے والی ٹیمیں موقع پر پہنچ چکی تھیں۔

عطا الرحمٰن، ایک درزی اور نئی دہلی کی تغلق آباد بستی کے رہائشی، اپنے اس گھر کے ملبے کے درمیان ،جو انہوں نے 11 سال پہلے بنایا تھا۔ وہ کام پر تھے جب ان کے بچوں نے گھبرا کر انہیں فون پر بتایا کہ بلڈوزر آ گئے ہیں۔ (تصویر: مکتا جوشی)
غور طلب ہے کہ24فروری 2023 کو وزیر اعظم نریندر مودی نے جی-20 ممالک کے مالیاتی سربراہان سے ’سب سے کمزور‘افراد کی مدد پر توجہ مرکوز کرنے کو کہا، جبکہ ان کی حکومت نے دہلی کے کچھ غریب ترین لوگوں کے گھروں کو گرا دیا، جن میں سرکاری پناہ گاہوں میں رہنے والے افراد بھی شامل تھے، اور ان میں سے کچھ پناہ گاہیں بھی منہدم کر دی گئی تھیں۔
دہلی کے قرون وسطیٰ کے تغلق آباد قلعے کے قریب ایک بستی یا جھگی میں شدید بارش کے دوران رات بھر توڑ پھوڑ جاری رہی، جس کے بعد متاثرین نے پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال کی شکایت کی۔ بیس سالہ گھریلو ملازمہ بپاشا منڈل نے بتایا کہ جب بلڈوزر ان کے گھر کو گرا رہے تھے، تو اس دوران ایک خاتون افسر نے ان کے بال کھینچے۔
عدالتوں سے اوپربلڈوزر ’ جسٹس ‘
مدھیہ پردیش کے رہائشی حقوق کے کارکن آنند لکھن نے فرنٹ لائن سے بات کرتے ہوئے انصاف کی امیدوں کے حوالے سے اپنی مایوسی کااظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرین کو انصاف دلانے میں عدالتیں اپنے ماضی کے فعال کردار سے پیچھے ہٹ گئی ہیں۔
لکھن نے کہا؛ ’ہم عدالتی انصاف سے بلڈوزر انصاف کے دور میں آ گئے ہیں۔ شروع میں ہمیں لگتا تھا کہ ہم رحم کی بھیک مانگنے کے بجائے عدالت میں ٹھوس شواہد پیش کر کے انصاف حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن حکومت اکثر ان شواہد کو بالکلیہ نظر انداز کر دیتی ہے۔ ‘
بلڈوزر بھیجتے وقت ریاستی حکام آئینی حقوق اور قانون کی حکمرانی کی ضرورتوں کی پروا نہیں کرتے۔ آخر، کسی بھی ہندوستانی قانون کی کتاب میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے جو ریاست کو یہ اختیار دیتا ہو کہ محض کسی جرم کے الزام کی بنیاد پر کسی شخص کی جائیداد کو تباہ کر دیا جائے۔
دہلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس جسٹس اے پی شاہ نے کہا کہ ’ (صرف مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہونا کبھی بھی کسی کی جائیداد کو گرانے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔‘
کسی شخص نے واقعی کوئی جرم کیا ہے یا نہیں اس نتیجہ تک پہنچنے کے لیے آئین اور قانون میں ایک باضابطہ طریقہ کار موجود ہے جو سزا دینے سے پہلے ملزم کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔ اب اس عمل کو بھی لاپرواہی سے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
جیسا کہ سپریم کورٹ کے ایک معزز ریٹائرڈ جج مدن لوکور نے پوچھا؛’ کس قانون کے تحت انتظامیہ ایسے جرم کے لیے کسی کا گھر گرا سکتی ہے جو ابھی تک ثابت ہی نہیں ہوا؟‘
گھروں کو توڑنے کے یہ واقعات گزشتہ کئی دہائیوں سے ہندوستانی جمہوریہ میں بار بار ہوئے ہیں۔ لیکن بلڈوزر کے اس نئے دور میں جو چیز بدلی ہے، وہ ہے اس کا ہدف اور اسے بائیکاٹ والی نفرت کی سیاست کے لیے نظریاتی ہتھیار کے طور پر اس کااستعمال۔
چنندہ اور نمائشی توڑ پھوڑ
ریکارڈ کے لیے، بلدیاتی کارپوریشن اور ضلع حکام عموماً یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ بلڈوزر صرف غیر قانونی قبضوں کے خلاف معمول کی کارروائی کے طور گھروں کو توڑنے کے لیے لائے جاتے ہیں۔ وہ یہ وضاحت نہیں کرتے کہ صرف چند مخصوص جائیدادوں کو ہی کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے، جبکہ آس پاس کی سینکڑوں دیگر جائیدادیں، جن کی قانونی حیثیت بھی اتنی ہی متنازعہ ہوتی ہے، محفوظ رہتی ہیں۔
سال2025میں مدھیہ پردیش کے اجین اور دموہ میں—جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے—مسلمان مشتبہ افراد کو عوامی طور پر شرمندہ کیا گیا، کوڑے مارے گئے، پریڈ کرائی گئی اور ’گائے ہماری ماتا ہے‘ اور ’پولیس ہمارے پتا ہیں‘جیسے نعرے لگانے کے لیے مجبور کیا گیا۔ اس طرح کی تذلیل اور شرمندگی کی مقبولیت کے بعد توہین کا سیاسی مقابلہ بھی شروع ہو گیا۔
دموہ میں، کانگریس پارٹی کے زیر انتظام میونسپل کونسل نے ان کی جائیدادیں گرانے کا حکم دیا، جبکہ اسی ریاست کے چھندواڑہ میں حال ہی میں گئو کشی کے ایک معاملے میں ہندو مشتبہ افراد کو بغیر کسی عوامی تماشے یا زیادہ میڈیا کوریج کے گرفتار کر لیا گیا۔

مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں 15 جولائی 2023 کی تاریخ کا ایک نوٹس 19 جولائی کو منصوری بلڈنگ پر چسپاں کیا گیا تھا—یہ عمارت ایک مسلم نوجوان کے والد کی تھی، جس پر ہندو جلوس پر تھوکنے کا غلط الزام لگایا گیا تھا—اور نوٹس میں ’غیر قانونی تعمیر‘ کی جگہ ’ خطرناک عمارت‘ لکھ دیا گیا تھا۔ اگر عمارت ’غیر قانونی ‘ تھی، تو بلدیاتی قوانین کے مطابق 14 دن کا نوٹس دینا لازمی تھا۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ عمارت ’ خطرناک‘کیوں تھی۔ دو گھنٹے بعد، عمارت ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئی۔
انتظامیہ پرانی تاریخ والا نوٹس دکھا کر یہ کارروائی کرتی ہے اور اچانک عمارتوں کو گرانے کی وجوہات بھی واضح نہیں کرتی، یہ بھی نہیں بتاتی کہ ایسی کارروائیاں اکثر فرقہ وارانہ جھڑپوں یا مسلمانوں کے احتجاج کے فوراً بعد کیوں ہوتی ہیں، یا کبھی کبھی کسی مبینہ توہین کے بعد۔
مثال کے طور پر، جیسا کہ آرٹیکل 14 نے 2023 میں رپورٹ کیا تھا، بغیر کسی ثبوت کے الزامات کی بنیاد پر مدھیہ پردیش کے اجین شہر میں پولیس نے تین مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا، جن پر ہندو جلوس پر تھوکنے کا الزام تھا۔ ڈھول اور میوزک کے ساتھ بلدیاتی حکام نے بعد میں ان کا گھر یہ کہہ کر گرا دیا کہ عمارت ’ خطرناک‘تھی۔
دو سابق پولیس سربراہوں، ایک ہائی کورٹ کے جج اور ایک سپریم کورٹ کے وکیل نے کہا کہ اجین میں گھر گرانا غیر قانونی اور غیر آئینی تھا۔ خوف زدہ اور پریشان خاندان صرف اپنے بچوں کو جیل سے باہر نکالنے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔
لیکن زیادہ تر سیاسی رہنما کھل کر اپنی خوشی کا اظہار کر رہے تھے۔ وہ اس بات پر خوش تھے کہ انہوں نے غلط کام کرنے والوں کو مثال بنانے اور فوراً سزا دینے کے لیے بلڈوزر بھیجے، اور اس طرح اشاروں-اشاروں میں مسلم متاثرین کے گھروں کو گرانے کی بات کہی۔
کئی انہدامی کارروائیوں کا ایک طے شدہ پیٹرن یہ ہے کہ ہندو مذہبی جلوس مسجدوں کے باہر رکتے ہیں، جہاں لوگ اونچی آواز میں میوزک، ایچ-پاپ یا ہندوتوا پاپ گانوں پر پاگلوں کی طرح ناچتے ہیں۔ ان گانوں کے ذریعے مسلمانوں، ان کے پیغمبر اور ان کے مذہب کی توہین کی جاتی ہےاور گالی گلوچ کی جاتی ہے۔ اس سے عموماً فرقہ وارانہ جھڑپ شروع ہو جاتی ہے۔ صرف ایک یا دو دن بعد ان لوگوں کی پراپرٹی گرانے کے لیے بلڈوزر آ جاتے ہیں جنہیں پولیس اور مقامی انتظامیہ تشدد کے لیے ذمہ دار مانتی ہے۔
تشدد میں شامل ہندو شرپسندوں کو کبھی ایسی سزا نہیں ملتی۔
ایک اور عام صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب مسلمان پیغمبرمحمد کی عوامی توہین، اجتماعی عبادت سے روکے جانے یا مسجدوں اور مزاروں کو گرائے جانے کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کرتے ہیں۔ جن لوگوں کو پولیس اور انتظامیہ ان مظاہروں کا لیڈر یا شریک مظاہرہ گردانتی ہے، ان کے گھروں کو مسمار کرنے کے لیے بلڈوزر بھیجے جاتے ہیں۔
عجلت میں اور خوف وہراس پھیلانے کے لیے کی جانے والی نمائشی توڑ پھوڑمیں کبھی کبھی جن جائیدادوں کو گرایا جاتا ہے، وہ ان افراد کی ملکیت ہی نہیں ہوتی جنہیں حکومت نشانہ بنانا چاہتی تھی۔
فطری یا قدرتی انصاف کی خلاف ورزی
ایک معاملے میں مقامی انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس یہ یقین کرنے کی وجہ تھی کہ جس شخص کو وہ سزا دینا چاہتے تھے، اس نے اس گھر میں جزوی طور پر سرمایہ کاری کی تھی جسے انہوں نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے توڑ دیا۔ ایک اور معاملے میں، اجین میں ایک اسکول کے طالبعلم کا گھر گرا دیا گیا، جس نے اپنے ہم جماعت کو چاقو مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
ریاست کی ان تمام کارروائیوں نے کھلے عام اور بلا جھجھک فطری انصاف کے تمام مسلمہ اصولوں کی خلاف ورزی کی۔ ہندوستان کے قوانین میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے جو ریاست کو کسی جرم کے مرتکب فرد کی جائیداد گرانے کا اختیار دیتا ہو۔ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی فرد کے جرم کو ثابت کرنے کے لیے شواہد اکٹھے کرے اور انہیں عدالت میں پیش کرے۔
اگر ٹرائل کورٹ کسی شخص کو قصوروار قرار دیتی ہے تو بھی اسے ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اپیل کا حق حاصل ہوتا ہے۔ تینوں مراحل مکمل ہونے اور عدالت کی جانب سے قصوروار قرار دیے جانے کے بعد بھی سزا صرف انہی طریقوں سے دی جا سکتی ہے جو قانون میں درج ہیں۔
ان سب کے علاوہ ریاست کو آئینی طور پر شہریوں کو ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنانے اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے سے روکا گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) مقتدرہ ریاستوں میں بلڈوزر شہریوں کے ایک مخصوص طبقے کے خلاف ریاستی حملے کا ہتھیار بن چکے ہیں۔
قانونی عمل کا دکھاوا بھی شاذ و نادر ہی کیا جاتا ہے، آئینی غیر جانبداری کی تو بات ہی چھوڑ دیجیے۔ 2019 کے بعد کئی بی جے پی مقتدرہ ریاستوں میں ریاستی حکومتوں نے زیادہ تر مسلم شہریوں کو نشانہ بنایا ہے۔

اجین میں ایک مسلم مالک کی عمارت گرائے جانےسے پہلے ڈھول بجایا جا رہا تھا اور ایک ساؤنڈ ٹرک پر ہندو بھکتی گیت چل رہے تھے، جہاں تین مسلم نوجوانوں پر ایک ہندو جلوس پر تھوکنے کا جھوٹا الزام لگایا گیا تھا۔(فوٹو: اسپیشل ارینجمنٹ)
جب جائیدادیں گرائی جاتی ہیں تو ماحول عموماً جشن جیسا ہوتا ہے۔ اکثر تماشائی اور ٹیلی وژن میڈیا خوشی کا اظہار کرتے ہیں، اور حکومت اور برسر اقتدار جماعت کے منتخب رہنما اس توڑ پھوڑ کو بہادری اور جائز انتقامی کارروائی قرار دیتے ہیں۔ یہ جرم ثابت ہوئے بغیر ایک طرح کی سخت اور جشن مناتی غیر عدالتی تعزیری کارروائی ہے۔
ایسا کر کے بی جے پی حکومتوں نے ایک لکشمن ریکھا پار کر دی ہے۔ وہ شہریوں، سیاسی اپوزیشن اور عدالتوں کو یہ پیغام دے رہی ہیں کہ انہوں نے آئین کی حکمرانی اور سیکولر جمہوریت دونوں کو مسترد کر دیا ہے۔ اپنے شہریوں کے ایک طبقے کے خلاف کھلی دشمنی کے باعث ریاست خود قانون شکنی پر آمادہ نظر آتی ہے۔
یہ نیا ٹرینڈ حالیہ برسوں میں بنیادی طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنا کر کی جانے والی تعزیری کارروائیوں میں نمایاں اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
مثال کے طور پر، فرنٹ لائن نے 2023 میں مدھیہ پردیش کے کھرگون، اتر پردیش کے پریاگ راج اور سہارنپور؛ ہریانہ کے نوح اور دہلی کے جہانگیر پوری سمیت کئی مقامات پر بے دخلی اور مسماری کے متعدد واقعات کی رپورٹ شائع کی۔ آرٹیکل 14 نے ان مسماریوں اور دیگر واقعات پر باقاعدگی سے نظر رکھی ہے، جیسے کہ اگست 2025 میں گجرات میں پیش آنے والا سب سے بڑا انہدامی واقعہ۔
آرٹیکل 14 نے بتایا تھا کہ قومی سلامتی کے نام پر 2025 میں ’غیر قانونی بنگلہ دیشیوں‘کے خلاف کارروائی کے بعد احمد آباد کی چندولا جھیل کے آس پاس 12,500 سے زائد گھر مسمار کر دیے گئے، جس کے نتیجے میں ہزاروں مسلمان – جن میں سے کئی قانونی دستاویز رکھنے والے ہندوستانی شہری تھے -بے گھر ہو گئے۔ بغیر کسی نوٹس کے ان گھروں کو گرا دیا گیا، سامان ملبے تلے دب گیا اور بچوں کو اسکول سے نکال دیا گیا۔

مغربی بنگال کے بشیرہاٹ کی رہنے والی 55 سالہ حفیظہ بانو بیگم، جو 2003 میں احمد آباد آئی تھیں، اب اس ترپال کے باہر بیٹھی ہیں جو اب ان کا گھر بن گیا ہے۔ وہ مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کردہ آدھار اور ای شرم کارڈ اور راشن بک دکھا رہی ہیں۔ یہ تصویر 2025 میں بنگالی واس جھگی بستی میں واقع ان کے دو کمروں کے پکے گھر کی مسماری کے دو ماہ بعد لی گئی ہے۔(فوٹو : صبا گرمت)
جبکہ گجرات سرکار نے دعویٰ کیا کہ یہ آپریشن غیر قانونی مہاجرین کے خلاف تھا، لیکن گھروں کو گرانے، حراست میں لینے اور خاموشی سے ملک بدر کرنے کے واقعات-جن میں زیادہ تر بنگلہ بولنے والے مسلمان متاثر ہوئے-نے کمزور تصدیقی عمل، امتیازی رہائشی قوانین اور بڑھتے ہوئے خوف کے ماحول کو بے نقاب کیا۔
توڑ پھوڑ کے ذریعے اکثر مخصوص گروہوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، 20 اپریل 2022 کو ہنومان جینتی کے جلوس کے دوران فرقہ وارانہ جھڑپوں کے بعد، نیم فوجی دستوں کی 12 کمپنیوں کی تعیناتی کے ساتھ میونسپل حکام نے جہانگیرپوری میں بنیادی طور پر مسلمانوں کی 25 دکانیں، ٹھیلے اور گھروں کو توڑ دیا۔
اسی طرح کھرگون میں بھی ہوا۔ اپریل 2022 میں رام نومی اور ہنومان جینتی کی تقریبات کے دوران ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کے بعد مسلمانوں کے 16 گھر اور 29 دکانیں توڑ دی گئیں۔
فروری 2024 میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ توڑ پھوڑ کے 128 واقعات میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا، جس سے 617 افراد متاثر ہوئے۔
جن املاک کو مسمار کیا گیا ان میں گھر، دکانیں اور عبادت گاہیں شامل تھیں، جو زیادہ تر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)مقتدرہ ریاستوں آسام، گجرات، مدھیہ پردیش اور اتر پردیش، نیز عام آدمی پارٹی (آپ) کے زیر اقتدار دہلی میں مسلمانوں کی تھیں۔
رپورٹ میں درج کیا گیا ہے کہ گھروں کو توڑنے کی کارروائیاں زیادہ تر مسلم اکثریتی علاقوں میں کی گئیں، اور مخلوط آبادی والے علاقوں میں بھی خصوصی طور پر مسلمانوں کی املاک کو نشانہ بنایا گیا۔ قریبی ہندو املاک کو-خصوصاً گجرات اور مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں میں-اتھ تک نہیں لگایا گیا۔
سب سے زیادہ متاثر وہ برادریاں ہوئیں جن کے آس پاس حال ہی میں ہندو مسلم تشدد کے بعد کشیدگی پیدا ہوئی تھی، اکثر رمضان کے دوران ہندو گروپوں کی اشتعال انگیزی کے بعد، یا جہاں مسلمانوں نے احتجاج کیا تھا۔
ایچ ایل آر این کے اعداد و شمار کے مطابق، 2022 اور 2023 میں بے دخل کیے گئے 7 لاکھ سے زائد افراد میں سے 44 فیصد مسلمان تھے؛ 23 فیصد درج فہرست قبائل، آدی واسی اور دیگر قبائلی گروہ تھے؛ 17 فیصد دیگر پسماندہ طبقات سے تھے؛ اور 5 فیصد درج فہرست ذات سے تعلق رکھتے تھے۔
اس نوعیت کی چنندہ توڑ پھوڑ 2024 میں آسام میں بھی ہوئی۔ سپریم کورٹ نے آسام حکومت کو آدی واسیوں کے لیے مخصوص زمین پر گھروں کو گرانے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا، کیونکہ 17 ستمبر 2024 کے ایک آرڈر کے ذریعے ملک بھر میں مسماری پر روک لگائے جانے کے بعد یہ واقعہ پیش آیا تھا۔
گاؤں والوں، کارکنوں اور وکلاء نے دلیل پیش کی کہ آسام میں زیادہ تر بنگلہ بولنے والے مسلمانوں کو بے دخل کرنا سابقہ عدالتی نظیروں کی خلاف ورزی تھی کہ لوگوں کو عوامی یا محفوظ زمین سے ہٹایا جائے۔ اسی زمین پر بنے ہندو گھروں کو ہاتھ تک نہیں لگایا گیا۔ آرٹیکل 14 کی ایک رپورٹ میں پایا گیا کہ کچھ لوگوں کے پاس 1920 کی دہائی کے زمین کے مالکانہ حقوق کے دستاویز تھے، جب اس زمین کو قبائلی زمین قرار نہیں دیا گیا تھا۔
’اجتماعی سزا کا ہتھیار‘
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سکریٹری جنرل، ایگنس کیلامارڈ نے مسماری کی مذمت کرتے ہوئے اسے’سفاک اور ہولناک ‘قرار دیا—غیر قانونی، امتیازی اور غیر منصفانہ بے دخلی کی ایک شکل بتایا۔
جیسا کہ فرنٹ لائن نے لکھا، ’توڑ پھوڑ اجتماعی سزا کا ایک ہتھیار بن چکی ہے، جو قانونی یا انتظامی خدشات کو دور کرنے کے بجائے فرقہ وارانہ تقسیم کو مزید گہرا کرتی ہے۔ جبکہ بے دخلی اکثر ایسے طریقہ کار کی پیروی کرتی ہے جو واضح طور پر فرقہ وارانہ اور تعزیری نوعیت کے ہوتے ہیں، قانونی عمل محض طریقہ کار کی ظاہری قانونی حیثیت پر مرکوز رہتا ہے۔‘
متاثرہ گھروں میں سے کئی قانونی طور پر مشکوک زمرے میں آتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے ملک بھر میں مختلف ذاتوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے غریب افراد کے گھر ہوتے ہیں۔ تاہم، متعدد افراد نے بتایا کہ مسلم املاک کی مبینہ غیر قانونی حیثیت کو چنندہ طور پر مسماری کا جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
توڑ پھوڑ اکثر مسلمانوں کی جانب سے مبینہ تشدد کے دعوے کے بعد کی جاتی ہے، چاہے آر ایس ایس سے وابستہ گروہ تشدد بھڑکانے میں شامل ہوں۔ سپریم کورٹ کے وکیل چندر ادے سنگھ کی مرتب کردہ 2023 کی ایک رپورٹ، روٹس آف ریتھ، میں دکھایا گیا کہ کس طرح 2022 کی رام نومی کے دوران، جلوسوں کو بار بار مساجد کی طرف موڑا گیا، جہاں تیز موسیقی بجائی گئی اور توہین آمیز نعرے لگائے گئے، جس کے بعد چھوٹی موٹی جھڑپیں ہوئیں۔
اس کے فوراً بعد، خصوصاً بی جے پی مقتدرہ ریاستوں میں، فسادی قرار دیے گئے مسلمانوں کے گھروں کو گرانے کے لیے بلڈوزر آ گئے۔ مسلم مخالف مظاہروں کے بعد اسی نوعیت کی تعزیری مسماری کی گئی—مثلاًبی جے پی کی ترجمان نوپور شرما کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے بعد پریاگ راج میں-یا 2023 میں اجین کی طرح من مانی انداز میں انہیں سزا دی گئی۔ آسام میں بنگلہ بولنے والے مسلمانوں کو بڑے پیمانے پر مبینہ طور پر’درانداز ‘قرار دے کر نشانہ بنایا جاتا ہے۔
انڈین ایکسپریس، ٹائمز آف انڈیا اور نیو انڈین ایکسپریس سمیت بڑے اخباروں نے ان کارروائیوں کو غیر قانونی، تعزیری اور آئینی اصولوں کے منافی قرار دیا۔
جون 2022 میں انڈین ایکسپریس نے لکھا تھا کہ’ایک آئینی جمہوریت میں، بے قابو بلڈوزر کا مطلب ہے کہ ریاست عدالت کی توہین کر رہی ہے، ڈی ایم اور ایس پی جج اور جیوری کا کردار ادا کر رہے ہیں-اور وفادار جلاد بن رہے ہیں۔‘ اسی رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا کہ جب یوپی کے افسران اور سیاستداں ’فساد کے ملزمان‘ کو جمعہ کا ’ریٹرن گفٹ‘ ’سنیچر‘ کو دینے کی بات کرتے ہیں،( تو) یہ عوامی مباحثے میں سفاکی کی ایک نئی سطح کو ظاہر کرتا ہے۔‘
’ڈارک کارنیوال‘
ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ مسماری خوف پیدا کرتی ہے اور مسلمانوں کی حیثیت کو دوسرے درجے کے شہری کے طور پر مضبوط کرتی ہے۔ اس دوران، بلڈوزر شمالی ہندوستان میں ایک معروف علامت بن چکا ہے-یہ بی جے پی کی ریلیوں، پاپ میوزک، ٹی شرٹ اور ٹیٹوز میں نظر آتا ہے، اور یہاں تک کہ نیو جرسی میں یوم آزادی کی پریڈ میں بھی، جس پر امریکی سینیٹروں نے سخت اعتراض کیا اور کھل کر اس کی مذمت کی تھی۔
سال2022میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں نے خبردار کیا تھا کہ یہ ’جبری بے دخلی اور من مانی طور پر گھروں کی مسماری‘تعزیری اقدامات ہیں جو بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ ماہر بشریات تھامز بلوم ہینسن بلڈوزر کو ’انتقام‘کی علامت اور ریاستی طاقت کا ایسا آلہ قرار دیتے ہیں جسے جانبدارانہ طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
کئی لوگوں کو توڑ پھوڑ کے اس طرح کے عوامی تماشے تاریخ کے مخصوص ادوار کی یاد دلاتے ہیں، جیسے امریکہ میں جم کرو نظام کا دور—جو بڑے پیمانے پر قانونی نسلی علیحدگی اور افریقی نژاد امریکیوں کے خلاف امتیاز کا زمانہ تھا، بنیادی طور پر جنوبی امریکہ میں، جو تقریباً 1870 کی دہائی کے اواخر سے لے کر 1960 کی دہائی کے وسط تک جاری رہا—جس میں ہجوم اقلیتوں کی تذلیل اور قتل کا جشن مناتا تھا۔
ہینسن ہندوستان کے بلڈوزر’جسٹس‘کو’ہندو قوم پرست منصوبے کے ایک نئے مرحلے‘ کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کچھ ہندوؤں کا ماننا ہے کہ انہوں نے مسلم حکمرانوں کے ماتحت صدیوں تک ظلم برداشت کیا، جنہیں یکساں طور پر جابر اور شدت پسند کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ان مبینہ ناانصافیوں کے لیے’ انتقام کی ایک صورت، ایک بدلہ لینے کے تصور’ کے طور پر بلڈورزر کا جشن منایا جاتا ہے۔
(ہرش مندر سابق آئی اے ایس افسر اور انسانی حقوق کے کارکن ہیں۔)
ہندی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔