شہادت کو شکست نہیں بلکہ اخلاقی فتح کے طور پر دیکھا جانا چاہیے …

مغربی ایشیا کے تنازعات اس بات کے شاہد ہیں کہ فوری عسکری فتح کا تصور اکثر طویل مدتی عدم استحکام میں بدل جاتا ہے۔ جب کسی معاشرے کی شناخت، اس کا عقیدہ اور اس کی تاریخی یادداشت داؤ پر  ہو، تو جدوجہد صرف مادی نہیں رہتی؛ بلکہ ایک نظریاتی اور اخلاقی پہلو اختیار کر لیتی ہے۔ ایسے میں’فتح‘ اور ’ شکست ‘کے روایتی پیمانے غیر متعلق ہو جاتے ہیں ۔

مغربی ایشیا کے تنازعات اس بات کے شاہد ہیں کہ فوری عسکری فتح کا تصور اکثر طویل مدتی عدم استحکام میں بدل جاتا ہے۔ جب کسی معاشرے کی شناخت، اس کا عقیدہ اور اس کی تاریخی یاد داشت داؤ پر  ہو، تو جدوجہد صرف مادی نہیں رہتی؛ بلکہ ایک نظریاتی اور اخلاقی پہلو اختیار کر لیتی ہے۔ ایسے میں’فتح‘ اور ’ شکست ‘کے روایتی پیمانے غیر متعلق ہو جاتے ہیں ۔

کربلا کی وراثت اس حقیقت کی سب سے گہری اور مستقل یاد دہانی ہے کہ کچھ جدوجہد صرف فتح یابی کے لیے نہیں ہوتیں، بلکہ یہ طے کرنے کے لیےہوتی ہیں کہ سچ اور انصاف کی تعریف کیا ہوگی۔ (تصویر: اے پی)

مغربی دنیا کے بعض اسٹریٹجک حلقوں میں یہ خیال بار بار ابھرتا رہا ہے کہ پیچیدہ جیوپولیٹکل بحرانوں کو فوری عسکری کارروائی کے ذریعے چند دنوں میں حل کیا جا سکتا ہے اور اپنی پسند کے حکمراں مسلط کیے جا سکتے ہیں ۔ یہ سوچ بظاہر پرکشش لگتی ہے کیونکہ یہ بے یقینی سے بھری دنیا میں فوری اور فیصلہ کن نتائج کا یقین دلاتی ہے، مگر حقیقت میں یہ اتنی ہی گمراہ کن ہے۔

یہ ان معاشروں اور ان کے تاریخی شعور کو سمجھنے میں شدید ناکامی کا نتیجہ ہے، جن کے بارے میں ہزاروں میل دور بیٹھ کر نتائج اخذ کیے جاتے ہیں۔ ایران کے تناظر میں یہ رجحان خصوصی طور پر واضح  نظر آتاہے۔ یہ فرض کر لینا کہ اس کے ساتھ کوئی بھی تصادم چند دنوں میں فیصلہ کن طور پر ختم ہو جائے گا، نہ صرف ایک اسٹریٹجک اور تزویراتی بھول ہے بلکہ ایک سنگین فکری لغزش اور کوتاہی بھی ہے۔

یہ اندازہ اس گہرے ثقافتی اور اخلاقی پس منظر کو نظر انداز کرتا ہے، جس کی جڑیں واقعہ کربلا اور امام حسین ابن علی کی میراث میں پیوست ہیں۔

یاد رکھنا چاہیے کہ680عیسوی میں پیش آنے والا واقعہ کربلا اسلامی تاریخ کا ایک فیصلہ کن واقعہ ہے، لیکن اسے صرف ایک تاریخی واقعہ سمجھنا اس کی اصل اہمیت کو محدود کر دینا ہوگا۔ خاص طور پر شیعہ روایت میں کربلا ایک زندہ اور متحرک اخلاقی نمونہ ہے-ایک ایسا معیار، جو یہ طے کرتا ہے کہ ظلم اور اقتدار کے ناجائز استعمال کے سامنے فرد اور معاشرے کا طرز عمل کیا ہونا چاہیے۔

امام حسین اور ان کے ساتھیوں نے جس طرح ظلم کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے بجائے شہادت کو اختیار کیا، اس نے اس تصور کو جنم دیا کہ اخلاقی سچائی کے تحفظ کے لیے دی گئی قربانی شکست نہیں بلکہ ایک اعلیٰ درجے کی فتح ہے۔


شیعہ تاریخی شعور میں یہ تصور صرف یادداشت تک محدود نہیں بلکہ ایک مسلسل متحرک اخلاقی قوت ہے۔ ’ہر دن عاشورہ ہے، ہر زمین کربلا ہے‘جیسا قول اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ظلم کے خلاف جدوجہد کو کسی ایک وقت یا مقام تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔یہ ایک دائمی اخلاقی ذمہ داری ہے۔

اسی لیے یہاں شہادت کا تصور صرف مذہبی عقیدے کا حصہ نہیں، بلکہ ایک گہرے سماجی اور سیاسی فلسفے کی بنیاد بن جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ شعور صرف مذہبی مباحث تک محدود نہیں رہا۔ ایران سمیت کئی معاشروں میں اس نے سیاسی رویوں کو اندر تک متاثر کیا۔


بیسویں صدی کا ایرانی انقلاب اس کی ایک بڑی مثال ہے، جہاں کربلا کی علامت اور امام حسین کی میراث نے عوامی تحریک کو فکری توانائی فراہم کی۔ اس جدوجہد کو محض اقتدار کی تبدیلی کے طور پر نہیں بلکہ ایک غیر منصفانہ نظام کے خلاف اخلاقی بحالی کے طور پر دیکھا گیا۔

ضمنی طور پر ذکر کیا جاسکتا ہے کہ کربلا کی علامت اور امام حسین کی اس میراث نے اردو شاعری کو بھی خوب متاثر کیا ہے، مولانا محمد علی جوہر کا یہ شعر توہم سب نے سن رکھا ہےکہ؛

قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

بہر حال، وسیع اسلامی تاریخ میں بھی ظلم کے خلاف مزاحمت کا یہ جذبہ مختلف صورتوں میں نظر آتا ہے۔’صبر‘ (تحمل) اور ’جہاد‘جیسے تصورات کے اخلاقی پہلو کو اکثر غلط سمجھا جاتا ہے۔ ان کا بنیادی مطلب صرف جنگ یا جدوجہد تک محدود نہیں ہے، بلکہ ظلم کے خلاف کھڑے ہونے، خود پر قابو رکھنے اور سچ کے ساتھ ڈٹے رہنے کے وسیع اخلاقی تقاضے کو ظاہر کرتا ہے۔ جب یہ تصورات سماجی شعور کا حصہ بن جاتے ہیں تو کسی بھی بیرونی دباؤ یا خوف کی حدود واضح ہو جاتی ہیں۔

فوری حل‘ کا تصور

یہی وہ مقام ہے جہاں مغربی اسٹریٹجک سوچ کی حدود بے نقاب ہوتی ہیں۔ امریکی-اسرائیلی تھنک ٹینکس کی جانب سے پیش کردہ ’فوری حل‘ کا تصور اس مفروضے پر مبنی ہوتا ہے کہ شدید عسکری دباؤ، معاشی پابندیاں یا سیاسی علیحدگی کسی قوم کو جلد ہی ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیں گی۔

یہ نقطۂ نظر بنیادی طور پر خطی / لکیری اور میکانکی ہے، جو یہ فرض کرتا ہے کہ تمام معاشرے ’لاگت‘ اور ’نقصان‘ کا حساب ایک ہی طریقے سے کرتے ہیں۔ لیکن جن معاشروں میں کربلا جیسی تاریخی یادیں زندہ ہیں، وہاں یہ حساب وکتاب بالکل مختلف ہو جاتا ہے۔

یہاں شہادت کو شکست کے طور پر نہیں بلکہ اخلاقی فتح کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ایسے میں مادی نقصان یا معاشی دباؤ اس معاشرے کے عزم کو کمزور کرنے کے بجائے اکثر زیادہ مضبوط کر دیتے ہیں۔ یہ نفسیات روایتی اسٹریٹجک تجزیے کے دائرے سے باہر ہے، اور یہی وجہ ہے کہ فوری حل کے تصورات بار بار ناکام ہوتے ہیں۔


ہمعصر تاریخ اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے۔ مغربی ایشیا کے متعدد تنازعات اس بات کے شاہد ہیں کہ فوری عسکری فتح کا تصور اکثر طویل مدتی عدم استحکام میں بدل جاتا ہے۔ جب کسی معاشرے کی شناخت، اس کا عقیدہ اور اس کی تاریخی یادداشت داؤ پر لگی ہو، تو تنازع صرف مادی نہیں رہتا؛ وہ ایک فکری، نظریاتی  اور اخلاقی جہت اختیار کر لیتا ہے۔

ایسے میں ’فتح‘ اور ’شکست‘ کے روایتی پیمانے غیر متعلق ہو جاتے ہیں، کیونکہ جدوجہد کا مقصد صرف علاقائی یا سیاسی کنٹرول نہیں، بلکہ خودداری اور اخلاقی جواز کا تحفظ بن جاتا ہے۔


سفارت کاری کے لیے اس کا اہم ترین حاصل یہ ہے کہ حکمت عملی صرف طاقت، دباؤ اور فوری نتائج کی امید پر مبنی نہیں ہو سکتی۔ پالیسی سازوں کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہر معاشرے کے لیے ’لاگت‘ اور ’نقصان‘ کے معنی یکساں نہیں ہوتے۔ جو ایک ملک کے لیے ناقابل برداشت قیمت ہو سکتی ہے، وہی دوسرے کے لیے ایک اخلاقی سرمایہ کاری یا تاریخی فرض کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

معاشرے کا سیاسی رویہ

اس تناظر میں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ پائیدار امن صرف رسمی معاہدوں یا عسکری توازن کے ذریعے قائم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے ان گہرے ثقافتی، تاریخی اور اخلاقی عوامل کو سمجھنا ضروری ہے جو کسی معاشرے کے سیاسی رویے کو تشکیل دیتے ہیں۔ یہ سمجھ صرف خفیہ رپورٹوں یا اسٹریٹجک تجزیوں سے حاصل نہیں ہوتی؛ اس کے لیے تاریخ، ادب، مذہبی روایات اور سماجی تجربات کا گہرا مطالعہ ضروری ہے۔


آج کی دنیا میں عدم مساوات صرف طاقت کی تقسیم تک محدود نہیں ہیں؛ وہ معنی، تشریح اور نقطۂ نظر کی سطح پر بھی موجود ہیں۔ ایک ہی واقعہ کو مختلف معاشرے اپنے تاریخی تجربات اور ثقافتی حافظےکی بنیاد پر مختلف انداز میں سمجھتے ہیں۔ اس لیے کسی بھی ملک کی صلاحیت کا اندازہ صرف اس کے عسکری یا معاشی وسائل کی بنیاد پر لگانا بالکل ناکافی ہے۔ اس سے کہیں زیادہ اہم اس کا اجتماعی عزم، اس کے عقائد اور اس کا تاریخی شعور ہے۔


یہاں یہ واضح ہو جاتا ہے کہ پیچیدہ جیو پولیٹکل بحرانوں کا حل فوری عسکری مداخلت میں نہیں بلکہ صبر آزما، حساس اور کثیر سطحی سفارت کاری میں مضمر ہے۔ مکالمہ صرف حکومتوں کے درمیان نہیں،بلکہ معاشروں، ثقافتوں اور خیالات کی سطح پر بھی ہونا چاہیے۔ سفارت کاری کو محض طاقت کے توازن کا آلہ سمجھنا اس کے حدود کو محدود کرنا ہے۔

اگر عالمی طاقتیں واقعی استحکام اور امن کی خواہاں ہیں تو انہیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ دنیا کو صرف طاقت کے توازن سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ خیالات، یادیں اور اخلاقی نقطہ نظر بھی اتنے ہی فیصلہ کن ہوتے ہیں-اور اکثر یہی تاریخ کےسمت کا تعین کرتے ہیں۔

کربلا کی میراث اس حقیقت کی سب سے گہری اور مستقل یاد دہانی ہے کہ کچھ جدوجہدیں صرف فتح یابی کے لیے نہیں ہوتیں بلکہ یہ طے کرنے کے لیے ہوتی ہیں کہ سچ اور انصاف کی تعریف کیا ہوگی۔

(منوج کمار جھا راشٹریہ جنتا دل کے راجیہ سبھاممبرہیں۔)