جب ملک کو ترقی کی ضرورت ہے، این ایس اے ’انتقامی جذبے‘ کو بھڑکا رہے ہیں

ایسے وقت میں جب ہندوستان کو اقتصادی، سائنسی، سماجی اور اخلاقی طور پر آگے بڑھنے کے بارے میں بات کرنی چاہیے، یہ افسوسناک ہے کہ ایک اعلیٰ سیکورٹی اہلکار ’انتقام‘ کی بات کر رہا ہے۔ این ایس اے کا کردار حقیقی خطرات کے خلاف ملک کو متحد کرنا ہے، نہ کہ تاریخ کے زخموں کو کرید کر معاشرے میں تفرقہ پیدا کرنا۔

ایسے وقت میں جب ہندوستان کو اقتصادی، سائنسی، سماجی اور اخلاقی طور پر آگے بڑھنے کے بارے میں بات کرنی چاہیے، یہ افسوسناک ہے کہ ایک اعلیٰ سیکورٹی اہلکار ’انتقام‘ کی بات کر رہا ہے۔ این ایس اے کا کردار حقیقی خطرات کے خلاف ملک کو متحد کرنا ہے، نہ کہ تاریخ کے زخموں کو کرید کر معاشرے میں تفرقہ پیدا کرنا۔

السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر

کیا ہندوستان واقعی اپنے مسلمان شہریوں کے خلاف تشدد کی جانب گامزن ہے ، جیسا کہ اداکار پرکاش راج نے حال ہی میں خبردار کیا تھا ؟ اس سنگین سوال کو یوں ہی ہلکے میں لے کرمسترد نہیں کیا جا سکتا، خاص طور پر قومی سلامتی مشیر (این ایس اے)اجیت ڈوبھال کے حالیہ تبصروں کے تناظر میں،جن میں ‘انتقامی’ جذبے کی حوصلہ افزائی نظر آتی ہےاور واضح طور پر صدیوں پہلے کے واقعات کے لیے ہندوؤں کو حساب برابر کرنے کا براہ راست اشارہ دیا گیا ہے۔

ملک کے انتہائی طاقتورسیکورٹی عہدیداروں میں سے ایک ڈوبھال کا اس طرح کا بیان حددرجہ تشویشناک ہے اور اس پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔

ذاتی طور پر ڈوبھال کے بیان نے مجھے بہت مضطرب کیا۔ میں انہیں طویل عرصے سے جانتی ہوں، وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اقتدار میں آنے سے پہلے سے۔ وہ اکثر میرے والد مفتی محمد سعید صاحب سے ملنے آتے تھے اور دونوں گھنٹوں سیاست، اقتدار اور ملک کے مستقبل پر تبادلہ خیال کرتے تھے۔

جس شخص کے ساتھ میرے والد کی  اتنی قربت رہی، وہ مجھے کبھی فرقہ وارانہ سوچ سے متاثر نہیں لگے۔ آج اس شخص کو ملک کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے طور پر تاریخ کے زخموں کا حوالہ دے کر جذبات کو بھڑکاتے دیکھنا، اس پرانی امیج سے میل نہیں کھاتا۔ یہ بات بھی پریشان کن ہے کہ اگر ڈوبھال جیسی تعلیم یافتہ، تجربہ کار اور مبینہ  طور پر لبرل شخصیت بھی عوام کو غصے کے ساتھ ماضی میں  جھانکنے کے لیے اکساتی ہے تو معاشرے کو کیا پیغام جاتا ہے؟

اکیسویں صدی میں صدیوں پرانے واقعات کے لیے ’انتقام‘ کا مطالبہ تاریخی شعورنہیں، بلکہ ایک خطرناک اشارہ ہے۔ یہ ان غریب اور ناخواندہ نوجوانوں کو مشتعل کرسکتا ہے، جو پہلے سے ہی مایوسی اور غصے کی وجہ سے آسانی سے  بہکائے جا سکتے ہیں، تاکہ وہ بڑھتے ہوئے سماجی، سیاسی اور اقتصادی دباؤ کا سامنا کر رہی ایک اقلیتی برادری کے خلاف اپنی ناراضگی کو ظاہر کریں۔

تاریخ کا ترجیحی حوالہ دیتے ہوئے ڈوبھال آسانی سے ہندوستان کے حالیہ اور سب سے تباہ کن باب- برطانوی راج کو اپنی سہولت کے مطابق نظر انداز کر دیتےہیں۔انگریزوں نے ہندوستان پر حکومت کی، یہاں کے لوگوں کو غلاموں کی طرح رکھا اور ملک کی دولت کو منظم طریقے سے لوٹا۔ اس لوٹ  سے مستفید ہونے والوں میں کئی آج  بھی خاصے ثروت مند ہیں، پھر بھی وہاں اس طرح کے ‘انتقام’ کی کوئی پکارنہیں سنائی دیتی۔

اگر ان کی بات کو مغلیہ دور پر  ہی مرکوز کیا جاتا ہے، تو فکری دیانت ایک متوازن نقطہ نظر کا تقاضہ کرتی ہے۔ مغل حکمرانوں نے بھی دوسرے حکمرانوں کی طرح اپنے دور میں زیادتیاں کیں، لیکن انہوں نے اپنے پیچھے ایک غیر معمولی ثقافتی ورثہ چھوڑا۔ تاج محل، لال قلعہ اور ایسی ان گنت دیگر یادگاریں، جونہ صرف ہندوستان کی ثروت مندتاریخ کی علامت ہیں، بلکہ اس کی سیاحت معیشت میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ ان حکمرانوں کی دور دراز کی اولادیں آج انتہائی غربت میں زندگی بسر کر رہی ہیں، جبکہ کئی ہندو شاہی خاندان، جو اکثر شادیوں کے ذریعے مغلوں کے ساتھ وابستہ تھے، پرتعیش زندگی گزار رہے ہیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ آج کے مسلمانوں کو ان صدیوں پرانے حکمرانوں کے اچھے یا برے اعمال سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ایسے میں کوئی اشارہ دینا اجتماعی الزام تراشی جیسے خطرناک تصور کو فروغ دینا ہے، جو جمہوریت، آئینی اقدار اور انصاف کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب ہندوستان کو اقتصادی، سائنسی، سماجی اور اخلاقی طور پر آگے بڑھنے کی  بات ہونی چاہیے، یہ افسوسناک ہے کہ ایک اعلیٰ سیکورٹی اہلکار انتقام کی بات کر رہا ہے۔ این ایس اےکا کردار حقیقی خطرات کے خلاف ملک کو متحد کرنا ہے، نہ کہ تاریخ کے زخموں کوکرید کر معاشرے میں تفرقہ پیدا کرنا۔

تاریخ کا مطالعہ ہمیشہ سیکھنے اور اس کی روشنی میں بہتری کے لیے ہونا چاہیے نہ کہ پولرائزیشن کے لیے۔ جب اقتدار میں بیٹھے لوگ اس فرق کو دھندلا دیتے ہیں تو اس کے نتائج نہ صرف ایک خاص برادری کے لیے، بلکہ ‘آئیڈیا آف انڈیا’ کے لیے بھی تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں ۔

(محبوبہ مفتی پی ڈی پی کی سربراہ اور جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ ہیں۔)