اتر پردیش: سی اے اے مخالف مظاہرہ کا حصہ نہیں رہے مسلم نابالغ کو 11 مہینے بعد ملی رہائی

ٹھاکرگنج کے رہنے والے 16سالہ حسین کو سی اے اےمخالف مظاہرہ میں شامل ہونے کے الزام میں25 دسمبر 2019 کو ان کے دوست کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔حسین کا کہنا ہے کہ انہوں نے سی اے اے مخالف کسی بھی مظاہرہ میں کبھی حصہ نہیں لیا تھا۔

ٹھاکرگنج کے رہنے والے 16سالہ حسین کو سی اے اےمخالف مظاہرہ میں شامل ہونے کے الزام میں25 دسمبر 2019 کو ان کے دوست کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔حسین کا کہنا ہے کہ انہوں نے سی اے اے مخالف کسی بھی مظاہرہ میں کبھی حصہ نہیں لیا تھا۔

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

اتر پردیش کے ٹھاکرگنج کے رہنے والے 16سالہ حسین نے تقریباً11 مہینے بعد چھ نومبر کو گھر کا بنا ہوا کھانا کھایا۔ حسین گزشتہ چھ نومبر کو جیل سے رہا ہوکرگھر لوٹے ہیں۔حسین کو 25 دسمبر 2019 کو اپنے ایک دوست کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ انہوں نے پچھلے 10 مہینے جووینائل ہوم میں گزارے۔ انہیں شہریت قانون (سی اے اے)کے خلاف مظاہرہ میں شامل ہونے کے لیے گرفتار کیا گیا تھا۔

جبکہ حسین کا کہنا ہے کہ اس نے اب تک سی اے اے مخالف ایک بھی مظاہرے میں حصہ نہیں لیا تھا۔حسین نے کہا، ‘ہم غریب ہیں، ہمارے پاس زیادہ وسائل نہیں ہیں۔ میرے والد پلمبر ہیں، جو بہ مشکل ہماری اسکول فیس بھر پاتے ہیں اور کتابیں خرید پاتے ہیں۔’

اتر پردیش کے کئی اضلاع کے لوگوں نے بڑھ چڑھ کر سی اے اے اور این آرسی کی مخالفت میں ملک بھر میں ہوئے مظاہروں میں حصہ لیا۔قابل ذکر ہے کہ پولیس نے جہاں بھی پرتشددمظاہرہ ہوئے، وہاں لوگوں کو حراست میں لیا یا گرفتار کیا تھا۔

گزشتہ 19 دسمبر 2019 کو دائر کی گئی ایف آئی آر میں نامزد 25 ملزمین میں سے ایک حسین کو دوپہر میں گرفتار کیا گیا تھا اور ٹھاکرگنج پولیس تھانے لے جایا گیا اور کچھ ہی گھنٹوں کے اندر جووینائل ہوم بھیجا گیا۔حسین نے کہا، ‘مجھے میرے والدین کو فون کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ انہیں میری گرفتاری کی اطلاع  تک نہیں دی گئی۔’

سب انسپکٹر کیلاش نارائن کی جانب سے ٹھاکرگنج پولیس تھانے میں درج کی گئی ایف آئی آر میں حسین کے خلاف آئی پی سی کی14 دفعات  کے تحت معاملہ درج کیا گیا، جس میں دنگا کرنے سے لےکر اپنی مرضی  سے سرکاری افسر کو چوٹ پہنچانا اورمجرمانہ  سازش کرناشامل ہے۔

اس پرمجرمانہ قانون ترمیمی ایکٹ 1932 کی دفعہ سات کے تحت بھی معاملہ درج کیا گیا۔ حسین کو سیشن عدالت سے 13 نومبر 2020 کو ضمانت ملی ہے۔اس معاملے میں پہلی ضمانت عرضی15 ستمبر کو جووینائل جسٹس عدالت میں دائر کی گئی تھی، لیکن اسے اس بنیاد پر خارج کر دیا کہ اگر نابالغ کو رہا کر دیا گیا تو وہ سماج کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے۔

یہ آرڈر اس وقت آیا، جب وہ پہلے ہی آٹھ مہینے جیل میں کاٹ چکے تھے۔حسین کی وکیل آشمہ عزت نے کہا کہ یہ آرڈر من مانا تھا کیونکہ جیل میں رہنے کے بجائے نابالغ کو والدین کے ساتھ رکھنا زیادہ صحیح رہتا۔معاملے میں اگلی ضمانت عرضی29 ستمبر 2020 کو ضلع  اورسیشن جسٹس کی عدالت میں دائر کی گئی۔ ضمانت کا آرڈر13 نومبر کو آیا۔

آشمہ کا کہنا ہے کہ یوپی پولیس نے پچھلے سال دسمبر مہینےمیں سی اے اے کے خلاف  ہوئے مظاہرہ کے دوران تشدد کے لیے من مانے ڈھنگ سے مسلم نوجوانوں کو نشانہ بناکر انہیں گرفتار کیا۔آشمہ نے کہا، ‘ان گرفتاریوں کو لےکر پولیس پر بہت دباؤ تھا۔ ریاستی حکومت کو خوش کرنے کے لیے پولیس نے من مانے ڈھنگ سے گرفتاریاں کیں۔ پانچ دنوں تک لکھنؤ میں مسلمانوں کو گرفتار کیا جاتا رہا۔’

انہوں نے کہا کہ کیونکہ من مانے ڈھنگ سے گرفتاری کی گئی، پولیس نے چارج شیٹ کی تصدیق کے لیےکافی  جدوجہد  کی کیونکہ حسین کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔آشمہ نے کہا،‘ریاستی سرکار بچوں کی حفاظت کے بجائے ان کے خلاف ہی کام کر رہی ہے۔ اس سے بچوں کی ذہنی  صحت کافی متاثر ہو رہی ہے۔’

آشمہ نے ایک دیگرنابالغ ملزم کی مثال دی، جو عدالت میں شنوائی کے دوران جذباتی  ہو گیا تھا۔آشمہ نے کہا کہ کچھ نابالغوں کو غیرقانونی طورپرضلع جیلوں میں بھی بھیجا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حسین ان نابالغوں میں سے ایک ہے، جس کو بنا کسی جرم کے جیل بھیجا گیا۔

اس کارروائی  میں نابالغ کا ایک تعلیمی سال بھی برباد ہو گیا۔ حسین نے کہا، ‘وہ کہتے ہیں کہ اب مجھے داخلہ نہیں دیا جائےگا کیونکہ میرا رجسٹریشن نہیں ہو پایا ہے۔’حسین نے لکھنؤ کے راجکیہ حسین آباد انٹر کالج سے میٹرک کا امتحان  پاس کیا ہے۔ جب اس کے امتحان کا نتیجہ آیا، تب وہ جووینائل ہوم  میں ہی تھا۔

حالانکہ، حسین کا ایک سال برباد ہو گیا ہے لیکن اسے امید ہے کہ وہ ایک دن بحریہ میں شامل ہوگا۔

نابالغوں کی غیرقانونی گرفتاری اورتشدد

گزشتہ31 جنوری 2020 کو ایچ اےکیو سینٹر فار چائلڈ رائٹس کے زیراہتمام‘بروٹیلائزنگ انوسینس ڈٹینشن، ٹارچر اینڈ کریمنلائزیشن آف مائنرس بائی یوپی پولیس ٹو کویل اینٹی سی اے اے پروٹیسٹرس’ نام سے ایک رپورٹ شائع کی گئی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ لکھنؤ سمیت ریاست میں کئی نابالغوں کو پولیس کے ذریعے غیرقانونی طریقے سے حراست میں لیا گیا اور انہیں اذیت  دی گئی۔ رپورٹ میں مظفرنگر، بجنور اور سنبھل کا ذکر بھی ہے۔

اس فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کی بنیاد پر ایچ اےکیو نے ایک عرضی دائر کی ہے، جس میں کہا گیا ہے؛

عرضی گزارکی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں نابالغوں کو غیرقانونی طور پرحراست میں لینے اور انہیں اذیت  دینے کے یوپی پولیس کی کارروائی پر روشنی ڈالی ہے، جو جووینائل جسٹس ایکٹ2015 کی شدید خلاف ورزی ہے۔یواین کنونشن آن دی رائٹس آف دی چائلڈ،اذیت  اور دیگرتشدد کے خلاف یواین کنونشن، غیرانسانی اور توہین آمیز سلوک اور سزا اور دفعہ14، 15، 19 اور 21 کے تحت بچوں کے آئینی حقوق پرروشنی ڈالی گئی ہے۔

گزشتہ17 نومبر کو الہ آباد ہائی کورٹ نے دسمبر 2019 میں ریاست میں سی اے اے کےخلاف مظاہروں کے دوران نابالغوں کی غیرقانونی گرفتاری اور اذیت  دینے کے خلاف  دائر پی آئی ایل پر شنوائی کرتے ہوئے اتر پردیش سرکار سے جواب مانگا۔

الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس گووند ماتھر اور جسٹس سدھارتھ ورما نے ریاست سے جووینائل جسٹس(بچوں کی دیکھ بھال اورتحفظ)ایکٹ2015 کے اہتماموں کےعرضی  کےسلسلے میں ریاست کےہر ضلع سےجانکاریاں مانگی ہیں۔

اس معاملے پر اب اگلی شنوائی 14 دسمبر کو ہوگی۔

نوٹ نابالغ کی پہچان کو خفیہ  رکھنے کے لیے نام بدل دیےگئے ہیں۔

(اس رپورٹ کو انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔)