سی جے آئی نے اناؤ ریپ کی متاثرہ کے خط پر رپورٹ مانگی، کل سپریم کورٹ میں ہوگی سماعت

اناؤ ریپ کی متاثرہ کے ذریعے بھیجے گئے خط پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا ہے۔ چیف جسٹس رنجن گگوئی نے رجسٹری سے تفصیلی جانکاری دینے کو کہا ہے کہ ابھی تک اناؤریپ متاثرہ کا خط ان کے پاس کیوں نہیں پہنچایا گیا ہے۔

اناؤ ریپ کی متاثرہ کے ذریعے بھیجے گئے خط پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا ہے۔ چیف جسٹس رنجن گگوئی نے رجسٹری سے تفصیلی جانکاری دینے کو کہا ہے کہ ابھی تک اناؤریپ متاثرہ کا خط ان کے پاس کیوں نہیں پہنچایا گیا ہے۔

جسٹس رنجن گگوئی/فوٹو: پی ٹی آئی

جسٹس رنجن گگوئی/فوٹو: پی ٹی آئی

نئی دہلی: ہندوستان کے چیف جسٹس رنجن گگوئی نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار جنرل سنجیو ایس کالگونکر سے اناؤریپ متاثرہ کے ذریعے ان کی اور ان کی فیملی کی حفاظت کے لئے لکھے گئے خط پر رپورٹ مانگی ہے۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے اس خط پر از خود نوٹس لیا ہے اور کل کورٹ میں اس پر سماعت ہوگی۔

دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق، یہ خط گزشتہ منگل دوپہر تک جسٹس گگوئی کے پاس نہیں پہنچا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، چیف جسٹس کو لکھے گئے تمام خط رجسٹری کے ذریعے ان کو بھیج دیے جاتے ہیں لیکن اس کی وجہ ابھی تک معلوم  نہیں ہو پائی ہے کہ 12 جولائی کو ریپ متاثرہ کے ذریعے لکھا گیا خط ابھی تک جسٹس گگوئی کے پاس کیوں نہیں بھیجا گیا ہے۔

بار اینڈ بنچ‌کے مطابق، اب چیف جسٹس نے رجسٹری سے تفصیلی جانکاری دینے کو کہا ہے کہ ابھی تک اناؤریپ متاثرہ کا خط ان کے پاس کیوں نہیں پہنچایا گیا ہے۔لائیولاء  کے مطابق، جسٹس گگوئی نے کہا، ‘ بد قسمتی سے، کل مجھے خط کے بارے میں پتا چلا اور ابھی تک مجھے وہ خط نہیں ملا ہے۔ اخباروں نے اس طرح سے رپورٹ کی کہ جیسے سی جے آئی نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ ہم اس پر کچھ کرنے کی کوشش کریں‌گے۔ ‘

غور طلب ہے کہ 12 جولائی 2019 کو جسٹس رنجن گگوئی کو لکھے خط میں متاثرہ نے بتایا تھا کہ کس طرح ان کو اور ان کی پوری فیملی کو دھمکایا جا رہا ہے اور ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کی مانگ کی تھی۔چیف جسٹس کو لکھے خط میں انہوں نے کہا تھا، ‘ لوگ میرے گھر پر آئے اور معاملے کو واپس لینے کے لئے دھمکایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں ایسا نہیں کرتی ہوں تو پوری فیملی کو فرضی معاملوں میں جیل میں ڈال دیا جائے‌گا۔ ‘

خاص بات یہ ہے کہ متاثرہ کی ماں نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرکے اس معاملے کو اتر پردیش سے دہلی میں ٹرانسفر کرنے کی مانگ کی ہے۔اس پر سپریم کورٹ نے سی بی آئی اور ملزم کو گزشتہ 16 اپریل 2019 کو ایک نوٹس جاری کیا تھا۔ حالانکہ ابھی تک اس معاملے میں سی بی آئی نے کوئی جوابی حلف نامہ دائر نہیں کیا ہے۔

گزشتہ اتوار کو رائے بریلی میں ایک تیز رفتار ٹرک نے ایک کار کو ٹکر مار دی تھی، جس میں متاثرہ اور ان کے رشتہ دار اور وکیل سوار تھے۔ حادثے میں متاثرہ کے دو رشتہ داروں کی موت ہو گئی اور متاثرہ اور وکیل کی حالت بےحد نازک ہے۔اس کے علاوہ ایکسیڈنٹ معاملے میں سوموار کو بی جے پی ایم ایل اے کلدیپ سنگھ سینگر سمیت 10 نامزد اور 15-20 نامعلوم لوگوں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔

اس دوران اترپردیش حکومت نے اناؤسے بی جے پی ایم ایل اے کلدیپ سنگھ سینگر پر ریپ  کا الزام لگانے والی متاثرہ کے رائے بریلی میں ہوئے سڑک حادثہ کی جانچ  سی بی آئی کو سونپےنے کی سفارش  کی ہے۔

وہیں گزشتہ سوموار کو دہلی کے انڈیا گیٹ پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے اور متاثرہ کے تئیں یکجہتی ظاہر کرتے ہوئے انصاف کی مانگ کی۔ اس دوران لوگ پوسٹر بھی لئے ہوئے تھے، جس پر لکھا تھا-‘ تم اکیلی نہیں ہو۔ ‘متاثرہ نے سال 2017 میں اناؤکے بی جے پی ایم ایل اے سینگر پر ریپ  کا الزام لگایا تھا۔ اس معاملے میں سینگر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس وقت سینگر جیل میں ہیں۔