ہمنتا بسوا شرما: نفرت کی سیاست کا چہرہ

ہمنتا بسوا شرما بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد کئی شدت پسند آر ایس ایس کارکنوں سے بھی زیادہ جارح اور مسلم مخالف ہو چلے ہیں۔ انہوں نے اپنے آئینی عہدے کا استعمال ہیٹ اسپیچ کے لیے کیا ہے۔

ہمنتا بسوا شرما بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد کئی شدت پسند آر ایس ایس کارکنوں سے بھی زیادہ جارح اور مسلم مخالف ہو چلے ہیں۔ انہوں نے اپنے آئینی عہدے کا استعمال ہیٹ اسپیچ کے لیے کیا ہے۔

ہمنتا بسوا شرما۔ (تصویر: پی ٹی آئی / السٹریشن: پری پلب چکرورتی / دی وائر)

’میرا کام میاں لوگوں کو پریشان کرنا ہے۔‘صوبہ آسام کے سب سے اعلیٰ آئینی عہدے پر فائز شخص — وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما — کی جانب سے اپنے کام کے بارے میں دیا گیا یہ بیان ہر لحاظ سے غیر معمولی ہے۔

اور یہ ایک ایسا کام ہے جسے وہ کھلے طور پر پوری سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ آسام کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے اپنے پورے دور اقتدار میں وہ اپنے آئینی عہدے کا استعمال آسام میں بنگالی نژاد اور مسلم مذہبی پہچان والے لوگوں پر ظلم کرنے اور ان کے خلاف نفرت بھڑکانے کے لیے کرتے رہے ہیں۔

سال2011کی مردم شماری کے مطابق، ایسے لوگ آسام کی آبادی کا ایک تہائی حصہ ہیں۔ وہ انہیں تحقیر آمیز لہجے میں ’میاں‘ کہتے ہیں۔

میا یا میاں جنوبی ایشیا میں مسلم اشرافیہ کے لیے استعمال ہونے والا ایک عام اور معزز لفظ ہے۔ تاہم، آسام میں بنگالی نژاد مسلمانوں کے لیے میاں لفظ کا استعمال توہین کے لیے کیا جانے لگا۔

استاد اور شاعر حفیظ احمد نے 2016 میں ایک نظم لکھی، جو بنگالی نژاد مظلوم آسامی لوگوں کی آواز بن کر سامنے آئی۔ حفیظ احمد کی نظم کےابتدائی سطور یہ ہیں؛

لکھو
میں ایک میاں ہوں

این آر سی میں میرا سیریل نمبر 200543 ہے

میرے دو بچے ہیں

ایک اور آنے والا ہے

اگلی گرمیوں میں

کیا تم اس سے بھی نفرت کرو گے

جیسے مجھ سے کرتے ہو؟

اس نظم نے ’میاں شاعری‘ کی مزاحمت کی ایک پوری تحریک کو جنم دیا۔ گزشتہ دہائی میں میاں شاعروں نے بے جھجھک میاں لفظ کو اپنایا ہے، اور اس کا استعمال فخر، پہچان اور اپنی بات کہنےکی علامت کے طور پر استعمال کیا ہے۔

شرما فخر کے ساتھ ان طریقوں کا ذکر کرتے ہیں جن سے انہوں نے ’میاں لوگوں کو پریشان کیاہے۔‘ وہ اکثر ڈیڑھ لاکھ بیگھہ زمین سے میاں لوگوں کو ہٹانے کا دکھاوا کرتے ہیں۔

میاں لوگوں کے تئیں اپنی دشمنی کوظاہر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ اعلان کرتے ہیں کہ ان کے پاس ’چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ ہم کچھ ہنگامہ کریں گے، لیکن قانون کے دائرے میں… ہم غریب اور دبے کچلے لوگوں کے ساتھ ہیں، مگر ان کے ساتھ نہیں جو ہماری قوم (برادری) کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔‘

ریاستی اسمبلی میں جب ان سے ان کی امتیازی پالیسیوں کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے جارحانہ انداز میں کہا؛

’میں سائیڈ لوں گا، تم کیا کر سکتے ہو؟ ’میاں ‘مسلمانوں کو آسام پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔ ‘

وہ آسام کی ہندو برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پہچانیں کہ ان کا ’اصل دشمن‘ کون ہے۔ ریاستی حکومت نے ’پسماندہ اور دور دراز علاقوں‘ میں رہنے والے ’مقامی باشندوں‘ کو اسلحہ لائسنس دینے کی پالیسی کا اعلان کیا ہے، جن کے بارے میں شرما کا دعویٰ ہے کہ وہ ’خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے تھے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا شہریوں کو اسلحہ دینے سے ریاست کی صورتحال ’دھماکہ خیز‘ہو سکتی ہے، تو شرما نے جواب دیا؛

’میں چاہتا ہوں کہ آسام میں صورتحال دھماکہ خیز ہو۔‘

شرما نے اعلان کیا کہ شہریت کی جانچ کے لیے بنائے گئے نیم عدالتی فارنرز ٹریبونلز اب صرف مسلم پہچان والے لوگوں کے معاملات کی شنوائی کریں گے، جبکہ چھ دیگر غیر مسلم مذہبی پہچان والے لوگوں —  ہندو، بدھ، سکھ، عیسائی، پارسی اور جین — کے خلاف معاملے واپس لے لیے جائیں گے۔ساتھ ہی گورکھا اور راج بونگشی پہچان والے لوگوں  کے معاملے بھی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ ریاست میں ووٹر لسٹ کے ’خصوصی نظرثانی‘ کے تحت صرف میاں مسلمانوں کو نوٹس دیے جا رہے ہیں۔ ادالگیری میں ایک ریلی میں ہمنتا بسوا شرما نے اعلان کیا کہ جنہیں انہوں نے ’ہمارے لوگ‘ کہا، ان سے دستاویز مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دستاویز ان لوگوں سے مانگے جانے چاہیے جنہیں حال ہی میں بے دخل کیا گیا  تھا اور الزام لگایا کہ بنگلہ دیش سے لوگ روزانہ آسام میں داخل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پہچانیں کہ آسام کے اصلی دشمن کون ہیں۔

انہوں نے ریاست کے لوگوں سے میاں لوگوں کو ’پریشان کرتے رہنے‘ کی اپیل کی۔’پہلے لوگ ڈرے ہوئے تھے؛ اب میں خود لوگوں کو پریشان کرتے رہنے کی ترغیب دے رہا ہوں۔‘
ایسا اس لیے کرنا چاہیے کیونکہ ’اگر انہیں پریشانی ہوگی، تبھی  وہ آسام چھوڑیں گے۔‘شرما دعویٰ کرتے ہیں کہ اگر آپ انہیں پریشان نہیں کریں گے، تو ’آپ کے اپنے گھر میں لو جہاد ہوگا۔‘

وہ ایسے طریقے بتاتے ہیں جن سے میاں لوگوں کو پریشان کیا جانا چاہیے۔ شرما کہتے ہیں،’  رکشہ کا کرایہ اگرپانچ روپے ہے تو انہیں چار روپے دو۔

’انہیں آدھی رات کو فون کرو۔‘

’جب انہیں پریشانی ہوگی، تبھی وہ آسام چھوڑیں گے۔‘

یہ کسی حکومت کے مکھیا،  جو کبھی کبھی ذہنی طور پر غیر مستحکم لگتا ہے، کی محض بے ترتیب، اچانک ، غیر ذمہ دارانہ بیان بازی نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ کے طور پر اپنے پانچ سالہ دور میں شرما کے بیانات کا یہی انداز رہا ہے۔

تصویر بہ شکریہ: فیس بک

وہ میاں لوگوں پر عجیب و غریب سازشوں اور مختلف قسم کے ’جہاد‘ کا الزام لگاتے ہیں۔ میں یہاں ان میں سے چند کا ذکر کر رہا ہوں؛

ڈیموگرافک حملہ

شرما کا سب سے زیادہ دہرایا جانے والا دعویٰ یہ ہے کہ میاں لوگ پڑوسی بنگلہ دیش سے آئے غیر قانونی ’درانداز‘ ہیں، جو آسام پر ایک خطرناک ’آبادیاتی حملہ‘ کر رہے ہیں۔

وہ جان بوجھ کر اس تاریخی حقیقت کو چھپاتے ہیں کہ آسام میں زیادہ تر میاں لوگ ان لوگوں کی اولاد ہیں جو قانونی طور پر مشرقی بنگال سے، خصوصی طور پر بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں، ہجرت کر کے آئے تھے۔ یہ پاکستان کے ہندوستان سے اور بنگلہ دیش کے پاکستان سے الگ ہونے سے بہت پہلے کی بات ہے۔ وہ آسام اس وقت آئے تھے جب مشرقی بنگال اور آسام دونوں ایک متحدہ ملک کا حصہ تھے۔

غریب، زمین کے بھوکے،محنتی اورجفاکش مشرقی بنگال کے مزدوروں کو نوآبادیاتی منتظمین اور آسام کے  زمینداروں نے آسام کی بنجر زمینوں اور دریائی جزیروں میں دھان کی کاشت کے لیے بلایا تھا۔ ان میں سےکچھ ہندو تھے اور کئی مسلمان تھے۔

اس کے بعد میں بنگلہ دیش کی آزادی کی خونریز جنگ کے دوران مزید بے گھر افراد کے قافلے آئے۔

ان بنگالی نژاد مہاجرین — مسلمان اور ہندو دونوں — نے تقسیم ہند کے بعد آسام کی زبان اور ثقافت کو اپنا لیا۔ لسانی تحریک کے دوران، ان میں سے بیشتر نے آسامی زبان کو اپنی زبان قرار دیا۔ انہیں ’نا اسامیا‘ یا ’نو-اسامیا‘ کہا جاتا تھا۔ وہ اپنے بچوں کو آسامی میڈیم اسکولوں میں بھیجتے ہیں، اور جن علاقوں میں نا- اسامیا کی اکثریت ہے، وہاں بنگلہ میڈیم اسکول نہیں ہیں۔ 1961 کے مردم شماری کمشنر نے آسامی زبان اور ثقافت میں گھلنے ملنے کی ان کی مخلصانہ خواہش کو ریکارڈ کیا تھا۔

تاہم، زمین اور ثقافت سے متعلق خدشات نے 1970 کی دہائی کے اوخر میں آسام تحریک کو ہوا دیا۔ اس عوامی تحریک کا نشانہ بنگالی نژاد لوگ تھے — ہندو اور مسلمان دونوں۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے لسانی و ثقافتی عزائم کی تحریک کو ایک فرقہ وارانہ تحریک میں بدل دیا، جو خاص طور پر بنگالی نژاد مسلمانوں کو حملے کانشانہ بنارہا تھا، نہ کہ بنگالی ہندوؤں کو۔ خصوصی طور پر وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے آسام کی ثقافت اور زمین سےمتعلق خدشات کی اس تحریک کو بنگالی نژاد آسامی مسلمانوں کے خلاف کھلی جنگ میں تبدیل کر دیا۔

غور طلب ہے کہ شرما کی سیاسی پرورش آر ایس ایس کے ماحول میں نہیں ہوئی تھی۔ 2015 میں بی جے پی میں شامل ہونے سے پہلے تک وہ کانگریس کے رکن تھے۔ وہ کانگریس کے ٹکٹ پر مسلسل تین بار رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور 2006 سے وزیر کے طور پر کام کیا۔ لیکن بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد ان کی زبان کئی شدت پسند آر ایس ایس کارکنوں سے بھی زیادہ جارحانہ اور مسلم مخالف ہو گئی۔

بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد انہوں نے جو نیا روپ اختیار کیا، اس میں وہ مسلسل نفرت انگیز باتیں کرتے ہیں، جن میں اکثر عجیب و غریب سازشی کہانیاں شامل ہوتی ہیں۔

شرما نے جمعہ، 15 اگست 2025 کو گوہاٹی میں ملک کے یوم آزادی کی تقریب کے اسٹیج سے ایک سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی اصل شناخت کو اب غیر قانونی دراندازی سے سب سے بڑا خطرہ لاحق ہے۔ قومی پرچم لہرانے کے بعد انہوں نے ہر مقامی آسامی سے دشمن کے خلاف اپنی زمین، ثقافت اور طرز زندگی کے تحفظ کے لیے متحد ہونے کی اپیل کی۔

انہوں نے کہا، ’یہ محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں ہے، یہ ہمارے وجود کی لڑائی ہے۔ اگر ہم خاموش رہے تو اگلے دس برسوں میں ہم اپنی شناخت، اپنی زمین اور وہ سب کچھ کھو دیں گے جس کی وجہ سے ہم اسامیا ہیں۔ اگر ہم نے ابھی قدم نہیں اٹھایا تو مقدس کاماکھیا مندر کی پہاڑیوں پر بھی قبضہ ہو سکتا ہے۔‘

انہوں نے گزشتہ 78 برسوں میں حکومت کرنے والی تمام حکومتوں پر دراندازی کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا اور کئی اضلاع میں آبادی کے توازن میں تبدیلی کو جڑ پکڑنے دینے کا بھی الزام لگایا۔’ہم نے پہلے ہی کئی اضلاع میں سمجھوتہ کر لیا ہے۔ ایک فخر کرنے والے اسامیا کے طور پرمیں اب اور سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہوں۔‘

شرما نے اگلے 30 برسوں کے لیے ’پولرائزیشن کی سیاست‘   طریقہ بتایا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ یہ ضروری ہے، ’اگر ہم (غیر بنگالی مسلم اسامیا لوگ) جینا چاہتے ہیں۔‘ پولرائزیشن ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نہیں ہے، بلکہ ’اسامیا اور بنگلہ دیشیوں کے درمیان‘ ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ان کی پالیسیاں نہ تو نفرت کی ہیں اور نہ فرقہ واریت کی، بلکہ ایک ’سنگین اور طویل عرصے سے جاری‘ مسئلے کی نشاندہی کی  ہیں جس کے ساتھ ’آسام دہائیوں سے جی رہا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمارا مقصد آسام کی پہچان اور سلامتی کا تحفظ کرنا ہے…‘ انہوں نے کہا، ’آپ دیکھیں گے کہ ہر جگہ، ہندوؤں کی آبادی میں اضافہ کی شرح کم ہو رہی ہے اور آسام کے ہر بلاک میں مسلم آبادی بڑھ رہی ہے۔‘ پی ٹی آئی نے ان کے حوالے سے لکھا، ’ایک طرح سے آسام کے لوگوں کے سرینڈرکا ایک باب شروع ہو گیا ہے۔‘

شرما نے دعویٰ کیا کہ اب آسام کی آبادی میں میاں لوگوں کی حصہ داری  40 فیصد ہے۔ چونکہ 2011 کے بعد سے کوئی مردم شماری نہیں ہوئی، اس لیے انہوں نے اپنے اعداد و شمار کا کوئی ماخذ نہیں بتایا۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ مسلم بنگلہ دیشی جان بوجھ کر بڑی تعداد میں آسام آ رہے ہیں تاکہ ریاست کی آبادی میں اپنی حصے داری کو پہلے 50 اور پھر 60 فیصد تک بڑھا سکیں۔ پھر، انہوں نے ڈراتے  ہوئے کہا، وہ آسام کو بنگلہ دیش میں ضم کرنے کا مطالبہ کریں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بنگلہ دیش ’اکثر کہتا ہے کہ شمال-مشرق کو کاٹ کر بنگلہ دیش میں شامل کر دینا چاہیے۔ انہیں جنگ لڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک بار جب ان کی آبادی (بنگالی نژاد مسلمانوں کی) 50 فیصد سے زیادہ ہو جائے گی تو یہ (آسام) خود بخود ان کے پاس چلا جائے گا۔‘

انہوں نے بی جے پی کی ریاستی عاملہ کی میٹنگ میں اس صورتحال پر اورتفصیل سے بات کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اپنی زندگی میں ہی آسام کے لوگ ایک کے بعد ایک گاؤں اور قصبے پر ’قبضہ‘ ہوتے دیکھیں گے۔ زیادہ مسلم آبادی والے اضلاع کا نام لیتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان علاقوں میں آسام کے لوگ مشکل زندگی گزار رہے ہیں اور انہیں ’دوسرے درجے کا شہری‘ بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے آسام اور ہندوستان کی مقدس سرزمین میں ’سناتن‘ کو بچانے کی اپیل کی۔ مسلمانوں کے بارے میں کہا کہ وہ علیحدگی پسندی پر یقین رکھتے ہیں اور مذہب کو ملک پر فوقیت دیتے ہیں۔ انہوں نے سیاسی مخالفین کے بارے میں کہا کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو انتخابات جیتنے کے بعد دراندازوں کی ’تیل مالش‘ کرنے کے سوا کچھ نہیں کرتے۔

السٹریشن: پری پلب چکرورتی / دی وائر

انہوں نے 2024 میں جھارکھنڈ میں اپنی انتخابی مہم میں مسلمانوں کے ذریعے اسی مبینہ ڈیموگرافک سازش کی بات کی۔ جھارکھنڈ کے رام گڑھ ضلع کے ایک انتخابی حلقہ میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے شرما نے کہا، ’آسام میں 40 سال پہلے بنگلہ دیش سے دراندازی شروع ہوئی تھی۔ اس وقت کانگریس اقتدار میں تھی۔ وہ سمجھ نہیں پائے کہ 40 سال بعد کیا ہوگا۔ اب آسام میں دراندازوں کی تعداد 1.25 کروڑ ہو چکی ہے۔ یہ ایک بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے اور آسام کے لوگ اپنی پہچان کھو چکے ہیں۔ اسی لیے میں جھارکھنڈ آ رہا ہوں اور کہہ رہا ہوں کہ ہمارے جیسی غلطیاں نہ کریں۔ ہم نے 40 سال پہلے غلطی کی تھی، ہم نے اپنی سرحدوں کی حفاظت نہیں کی۔ آپ روہنگیاؤں کو اندر نہ آنے دیں… بنگال اور آسام نے غلطیاں کیں۔ اس وقت ہمیں جو کرنا چاہیے تھا وہ ہم نہیں کر پائے۔ اس وقت ہمارے پاس نریندر مودی نہیں تھے… اب مودی جی جھارکھنڈ کے ساتھ ہیں۔‘

انہوں نے آسام سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ الیکشن’سناتن کو بچانے اور محفوظ رکھنے‘ کا الیکشن ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آسام کی طرح ہی ’درانداز‘ بنگلہ دیش سے بنگال کے راستے آئے اور غیر بی جے پی حکومتوں نے انہیں تحفظ دیا، اور انہوں نے ریاست کے سماجی تانے بانے کو بدل دیا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ’دراندازوں‘ کی آمدسے، ایک خاص برادری جھارکھنڈ کی ریاستی مشینری اور سماج پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’یہ درانداز ہماری بیٹیوں سے شادیاں کرتے ہیں، ہماری زمین پر قبضہ کرتے ہیں۔ ہمیں اپنے کھانے، یٹیوں اور  زمین کے لیے لڑنا ہوگا۔‘

ایک اور ریلی میں انہوں نے پوچھا، ’اگر ’درانداز‘ آتے رہے تو 20 سال بعد جھارکھنڈ آدی واسیوں کا ہوگا یا ہندوؤں کا؟ ان دراندازوں کی پہلے سے ہی اپنےگھر میں دو شادیاں ہو چکی  ہیں اور وہ یہاں آ کر آدی واسی لڑکیوں کو دھوکہ دے کر شادی کرتے ہیں تاکہ زمین چھین سکیں؛ اگر بی جے پی اقتدار میں آتی ہے، تو ہم تمام دراندازوں کی پہچان کر کے انہیں قانونی طریقوں سے باہر نکالیں گے۔‘

جھارکھنڈ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس مبینہ ڈیموگرافک سازش سے لڑنا ’میرے لیے کوئی سیاسی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ زندگی اور موت کا سوال ہے۔‘

لینڈ جہاد

اس سے قبل، اگست 2024 میں گوہاٹی میں بی جے پی کی ریاستی عاملہ کی میٹنگ میں انہوں نے کہا، ’ایک ایک کر کے، ایک ’خاص برادری‘ کے لوگوں نے مقامی باشندوں سے زمین چھین لی اور ہمیں ہماری ہی زمین پر اقلیت بنا دیا۔ ریاستی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم پرانے گوآلپارا ضلع میں اس ’خاص برادری‘ کے لوگوں کو زمین فروخت کرنے پر پابندی لگانے والا قانون لائیں گے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ان لوگوں نے ’خاص برادری‘ سے چندی گڑھ شہر کے برابر زمین خالی کروائی ہے، لیکن اب بھئ ’خاص برادری‘ نے 20 چندی گڑھ کے برابر زمین پر قبضہ کر رکھا ہے۔وی یہ بھی کہتے ہیں کہ آسام حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ کوئی مسلمان کسی ہندو سے یا کوئی ہندو کسی مسلمان سے وزیر اعلیٰ کی منظوری کے بغیر زمین نہیں خرید سکتا۔

شرما نے کہا کہ حکومت نے دیکھا کہ ہندوؤں کے ذریعے مسلمانوں کو زمین بیچنے کے بہت زیادہ معاملے تھے، جبکہ اس کا الٹا کم ہوتاتھا۔ اسی وجہ سے، اگست 2024 میں ،آسام کابینہ نے ایک تجویز کو منظوری دی،جس کے تحت حکومت مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان ہونے والے تمام زمینی لین دین کی جانچ کرے گی۔

شرما نے کہا کہ اسامیا اور مقامی مسلمانوں کو زمین کی منتقلی کے لیے کئی اجازتیں دی گئیں، جن پر حکومت کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔ تاہم، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست کی آبادی میں ہی نہیں، بلکہ جائیداد بنانے کے معاملے میں بھی کافی تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی سے کہا، ‘اب تک ہم  سوچ رہے تھے کہ صرف تعداد بڑھی ہے، لیکن اب دیکھیے کہ جائیداد کا پیٹرن بھی بدل گیا ہے۔’

شرما نے 2015 میں یوم آزادی کی سرکاری تقریبات کا استعمال کرتے ہوئے آسام کے لوگوں کو یہ وارننگ دی  کہ ریاست کئی طرح کے ’جہاد‘ کا سامنا کر رہا ہے — محبت سے لے کر زمین تک — ان کے دعوے کے مطابق جن کا مقصد مقامی لوگوں کے کنٹرول کو کمزور کرنا  تھا۔ انہوں نے (غیر بنگالی مسلمان) شہریوں سے کہا کہ وہ مبینہ لینڈ جہاد سے آسام کے مستقبل کی حفاظت کی شخصی ذمہ داری لیں؛’نامعلوم خریداروں کو زمین کا چھوٹا سا ٹکڑا بھی نہ بیچیں۔’

انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت بے زمین مقامی خاندانوں کو زمین کے حقوق دینے پر کام کر رہی ہے، تاکہ ریاست میں ان کی قانونی اور معاشی شراکت مضبوط ہو سکے۔

السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر

لو جہاد

وزیرِ اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما یہ دعویٰ کرتے ہوئے ’لو جہاد‘ کی من گھڑت مسلم مخالف سازشی تھیوری کو بھی فروغ دیتے ہیں کہ ان کی عورتوں کو ’لو جہاد‘ کے ذریعے ان کےگھروں سے لے جایا جا رہا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ جب ہندو مرد ہندو لڑکیوں سے رومانس کرتے ہیں تو وہ محبت ہوتی ہے، لیکن جب مسلمان مرد ہندو لڑکیوں سےرومانس کرتے ہیں تو وہ محبت نہیں ہوتی۔رومانس کی آڑ میں ایک خطرناک سازش ہوتی ہے۔

انہوں نے ایک قانون لانے کے منصوبے کا اعلان کیا، جس کے تحت ’لو جہاد‘ میں مبینہ طور پر ملوث کسی بھی شخص کو اس کے والدین سمیت گرفتار کیا جائے گا۔

اگست 2024 میں بی جے پی کی عاملہ کمیٹی کی ایک میٹنگ میں انہوں نے کہا؛’ہم نے انتخابات کے دوران لو جہاد کی بات کی تھی۔ کچھ ہی دنوں میں ہم ایک نیا قانون لائیں گے جس کے تحت لو جہاد کے جرم میں قصوروار پائے جانے پر عمر قید کی سزا دی جائے گی۔’

مبینہ لو جہاد کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

فرٹیلائزر جہاد

وزیر اعلیٰ نے میاں برادری پر اپنی مچھلی کی پیداوار کے ذریعے ’کیمیکل اور بایولوجیکل حملہ‘ کرنے کا الزام لگایا ، جس سے گردوں اور جگر کی بیماریوں میں ’اضافہ‘ ہوا ہے۔

اس کے لیے انہوں نے ’فرٹیلائزر جہاد‘ کی اصطلاح ایجاد کی۔ گوہاٹی میں قدرتی کھیتی کے فروغ اور نفاذ کے ایک پروگرام میں وزیر اعلیٰ نے کہا؛’ہم نے اپنے انتخابی مہم کے دوران ’فرٹیلائزر جہاد‘ کے خلاف لڑنے کا عہد کیا تھا۔ ہمیں کھاد کا استعمال کرنا چاہیے، لیکن اس کا زیادہ استعمال جسم کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔’سیاسی مخالفین نے کہا کہ نقصان دہ اور حد سے زیادہ کھاد کے استعمال کو روکنا مکمل طور پر حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن صرف ایک برادری پر زیادہ کھاد استعمال کرنے کا الزام لگانے کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ آسام کے صارفین کو اوپری آسام (جہاں میاں برادری کے لوگ کم ہیں) میں پیدا ہونے والی مچھلی خریدنی چاہیے ، جہاں نامیاتی طریقوں کو فروغ دیا جاتا ہے (اور جہاں ماہی گیر مسلمان نہیں ہیں)۔

شرما نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ’میاں مسلم‘ مچھلی پیدا کرنے والوں کی مچھلی نہ خریدیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مچھلی پیدا کرنے کے لیے یوریا کھاد کااستعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس سے کڈنی کی بیماریاں ہوتی ہیں۔

ریاست کے وزیر اعلیٰ ہونے کے ناطے وہ ایسے کام کرنے والوں کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں، مگر کارروائی کرنے کے بجائے وہ کھلے عام مسلم برادری کے بائیکاٹ کی بات کر رہے ہیں۔ مچھلی آسام کی خوراک کا ایک اہم حصہ ہے۔ نگاؤں، موریگاؤں اور کچھار میں اس کی سب سے زیادہ پیداوار ہوتی ہے، یہ ایسےعلاقے ہیں جہاں ماہی پروری کی صنعت میں مسلم تاجروں کا اہم کردار ہے۔

درانگ ضلع کے خاروپیٹیا علاقے کے ایک کسان امجد علی نے ان  کے الزامات پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا؛’ہماری برادری کے لوگ وہی سبزیاں (اور مچھلی) کھاتے ہیں جو ہم خود اگاتے اور بیچتے ہیں۔ ’فرٹیلائزر جہاد‘ سے ان کا کیا مطلب ہے؟‘

سیلاب جہاد

فرٹیلائزر جہاد کا عجیب دعویٰ کافی نہیں تھا کہ شرما نے ایک اور عجیب دعویٰ کر دیا۔ اگست 2024 کے مانسون کے دوران گوہاٹی شہر میں شدید سیلاب آیا۔ اس سے ریاستی پالیسیوں پر بڑے پیمانے پر تنقید ہوئی۔ اس عوامی تنقید کے جواب میں شرما نے دعویٰ کیا کہ یہ بھی ’باڑھ جہاد‘ کا نتیجہ تھا۔

انہوں نے ایک پرائیویٹ یونیورسٹی پر اس جہاد کو چھیڑنے کا الزام لگایا، جس کے مالک اور چانسلر محبوب الحق آسام کے کریم گنج ضلع سے تعلق رکھنے والے بنگالی نژاد مسلمان ہیں۔ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی میگھالیہ (یو ایس ٹی ایم)، میگھالیہ کے ری-بھوئی ضلع میں ایک پہاڑی ڈھلان پر واقع ہے، جس کا رخ گوہاٹی کی طرف ہے۔

یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی، میگھالیہ۔تصویر بہ شکریہ: ایکس

شرما نے دعویٰ کیا کہ یونیورسٹی نے میڈیکل کالج بنانے کے لیے ڈھلان پر لگےدرخت کاٹ دیے،اور اسی وجہ سے گوہاٹی میں سیلاب آیا۔ انہوں نے کہا؛’مجھے لگتا ہے کہ یو ایس ٹی ایم کے مالک نے جہاد شروع کر دیا ہے۔ ہم لینڈ جہاد کی بات کرتے ہیں، انہوں نے آسام کے خلاف باڑھ جہاد شروع کر دیا ہے۔ نہیں تو،کوئی بھی اس طرح بے رحمی سے پہاڑیوں کو نہیں کاٹ سکتا۔’

انہوں نے سمجھایا؛’جو کوئی بھی فطرت سے محبت کرتا ہے، خاص طور پر کوئی تعلیمی ادارہ، وہ اس طرح انہیں تباہ نہیں کر سکتا۔ مجھے اسے جہاد کہنا ہوگا… مجھے یقین ہے کہ یہ شعوری طور پر کیا گیا ہے۔نہیں تو وہ کسی آرکیٹیکٹ کو بلا کر پہاڑیوں اور پیڑوں کو بچاتے ہوئے بھی بلڈنگ بنا سکتے تھے۔ وہ نکاسی آب کا نظام بنا سکتے تھے… انہوں نے کسی آرکیٹیکٹ سے مدد نہیں لی۔ صرف بلڈوزر کا استعمال کر کے بے رحمی سے زمین کھود دی گئی ہے۔’

یونیورسٹی کو 2021 میں ایکریڈیٹیشن کے پہلے سائیکل میں این اے اے سی کا ‘اے’گریڈ ایکریڈیٹیشن  ملا تھا۔ اس وقت یونیورسٹی میں 6000 طلبہ تھے۔ شرما نے عملے اور طلبہ سے یونیورسٹی کابائیکاٹ کرنے کی اپیل کی، اور اسے باڑھ جہاد کا ’واحد حل‘ قرار دیا۔

انہوں نے یونیورسٹی کی منظوری منسوخ کر دی۔ ان سب کے باوجود یو ایس ٹی ایم کو وزارت تعلیم کی جانب سے اعلان کردہ نیشنل انسٹی ٹیوشنل رینکنگ فریم ورک 2024 میں ٹاپ 200 یونیورسٹیوں میں شامل کیا گیا۔ یہ شمال-مشرق کی واحد پرائیویٹ یونیورسٹی ہے جو اس فہرست میں شامل ہوئی ہے۔

ہندوؤں کے خلاف ’بیف‘کو ہتھیار بنانا

شرما نے دعویٰ کیا کہ مسلمان جان بوجھ کر بیف کا کچرا اور بچا ہوا بیف ادھر اُدھر پھینک رہے ہیں، جس کا مقصد اسی علاقے میں رہنے والے ہندوؤں کو بھگانا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ یہ مسلمانوں کے ذریعے اپنائی گئی ایک نئی حکمت عملی ہے۔ ’پہلے، اگر کچھ مسلم خاندان کسی ہندو محلے میں رہتے تھے، تو وہ اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ ہندوؤں کو کوئی پریشانی نہ ہو۔ اگر انہیں بیف کھانا ہوتا تھا تو وہ مسلم اکثریتی علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں کے پاس جاتے تھے۔‘

انہوں نے مزید کہا،’لیکن اب ایسا ہوگیا ہے کہ وہ بچا ہوا کھانا اور کچرا ادھر-اُدھر پھینک دیتے ہیں تاکہ پڑوس میں رہنے والے ہندوؤں کو آخرکار وہ جگہ چھوڑنی پڑے۔‘

اس طرح، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں ہندوؤں کے خلاف بیف کو ’ہتھیار‘ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

ووٹ جہاد

شرما نے ایک اور جہاد کا الزام لگایا، جسے انہوں نے ’ووٹ جہاد‘ کہا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندو برادری کے ووٹ بی جے پی، کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں سمیت کئی پارٹیوں میں بٹے ہوئے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلمان الگ طرح سے اور فرقہ وارانہ بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں۔ مسلم ووٹروں کے ڈالے گئے کل ووٹوں میں سے 90 فیصد ووٹ پہلے سے برادری میں ہونے والی بات چیت کی بنیاد پر ڈالے جاتے ہیں، جو ذاتی پسند کے بجائے ایک اجتماعی فیصلے کی عکاسی کرتے ہیں۔ اسی کو وہ ’ووٹ جہاد‘ کہتے ہیں۔

علامتی تصویر: پی ٹی آئی

انہوں نے دعویٰ کیا،’اگر ہم کانگریس کے 39 فیصد ووٹوں کا تجزیہ کریں، تو یہ پورے صوبے میں پھیلا ہوا نہیں ہے۔ ان میں سے پچاس فیصد 21 اسمبلی حلقوں میں مرکوز ہیں جو اقلیتی اکثریت والے ہیں۔ ان اقلیتی اکثریت  علاقوں میں بی جے پی کو صرف 3 فیصد ووٹ ملے۔‘

شرما نے کہا،’یہ ثابت کرتا ہے کہ ہندو فرقہ پرستی میں شامل نہیں ہوتے۔ اگر آسام میں کوئی فرقہ پرستی میں شامل ہوتا ہے، تو وہ صرف ایک ہی برادری، ایک ہی مذہب ہے۔ کوئی اور مذہب ایسا نہیں کرتا ہے۔‘

مذہبی اور ثقافتی رسومات کو بدنام کرنا

میں نے بتایا کہ کس طرح شرما نے ایک من گھڑت دعویٰ کیا کہ بنگالی نژاد مسلمان کی ایک مشہور پرائیویٹ یونیورسٹی نے ’باڑھ جہاد‘ چھیڑا ہے۔ لیکن وہ یہیں نہیں رکے۔ انہوں نے یونیورسٹی پر اپنے حملے کو اور تیز کر دیا۔ یونیورسٹی کے بڑے مین گیٹ کو نشانہ بنایا جس پر تین گنبد ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا،’وہاں جانا شرم کی بات ہے، آپ کو ’مکہ‘ کے نیچے سے جانا پڑتا ہے۔ ہم کہہ رہے ہیں کہ وہاں ایک نام گھر (اجتماعی دعائیہ ہال، آسام کی نو-وَیشنو روایت کا حصہ) بھی ہونا چاہیے۔ ’مکہ-مدینہ‘، چرچ — تینوں بناؤ… ہم تینوں کے نیچے سے گزریں گے، صرف ایک کے نیچے سے کیوں گزریں؟‘

انہوں نے زور دے کر کہا کہ یونیورسٹی ’جہادورباپ‘ (سلینگ، جس کا مطلب ہے ’جہاد کا باپ‘) میں ملوث ہے۔’میں اسے جہاد کہہ کر بہت نرمی دکھا رہا ہوں۔ یہ ہمارے تعلیمی نظام کو برباد کر رہا ہے۔ جو بھی ہماری تہذیب، ہماری ثقافت پر حملہ کرتا ہے، اسے جہاد کہتے ہیں۔‘

اس طرح شرما اکثر بنگالی نژاد اسامیا مسلمانوں کی مذہبی اور ثقافتی رسومات پر حملہ کرتے ہیں، ان کا مذاق اڑاتے ہیں اور انہیں بدنام کرتے ہیں۔

مسلمانوں کے تئیں سرکاری دشمنی کا عوامی پیغام دینے کے مقصد سے آسام اسمبلی نے جمعہ کو دو گھنٹے کی جمعہ کی نماز کے وقفے کو ختم کرنے کےلیے ووٹ دیا۔ یہ چھٹی ان کی مذہبی رسومات کے احترام کی علامت تھی اور ایک پرانی روایت تھی۔

جھارکھنڈ میں ایک ریلی کے دوران شرما نے شیخی بگھارتے ہوئے کہا،ملا بنانا ہمارا کام نہیں ہے۔ میں نے ایک  دن میں 700 مدرسے بند کر دیے۔‘

وہ کبھی کبھار کھلے عام اسلامی مذہبی عقائد کا مذاق اڑاتے ہیں۔ انہوں نے آسام کے کچھ لوگوں سے کہا،
’سور پالنا اچھا ہے — یہ ایسی چیز ہے جسے میاں لوگ نہیں چرائیں گے۔‘انہوں نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے لوگوں سے زیادہ سور پالنے کی اپیل کی کہ اس سے زمین پر قبضہ بھی رکے گا۔

انہوں نے بنگلہ بولنے والے مسلمانوں پرکئی شادیاں اور کم عمری کی شادی جیسی رسومات کو جاری رکھنے کا الزام لگا کر انہیں بدنام کیا۔ اسی لیے وہ ریاست کے ’مقامی باشندے‘ ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔
’اگر میاں لوگ مقامی بننے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ لیکن کم عمری کی شادی بند کرنی ہوگی، ایک سے زیادہ شادیاں بند کرنی ہوگی، انہیں لڑکیوں کو اسکول بھیجنا ہوگا۔ مقامی لوگوں کی ایک روایت ہوتی ہے۔‘


’آسام کے لوگوں کی ایک روایت ہے۔ آسام کے لوگ لڑکیوں کو شکتی کے برابر مانتے ہیں، وہ لڑکیوں سے محبت کرتے ہیں… مقامی بننے میں کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن مقامی بننے کے لیے آپ دو تین لوگوں سے شادی نہیں کر سکتے۔ یہ آسام کے لوگوں کی روایت نہیں ہے۔ اگر وہ مقامی بننا چاہتے ہیں تو وہ 11–12 سال کی عمر میں لڑکیوں کی شادی نہیں کر سکتے۔ اگر وہ مقامی بننا چاہتے ہیں تو بچوں کو مدرسوں میں پڑھانے کے بجائے انہیں ڈاکٹر اور انجینئر بنانے کے لیے پڑھائیں۔‘


اے این آئی نے شرما کے حوالے سے رپورٹ کیا،’بنگلہ دیش سے لوگ آسام آتے ہیں اور ہماری تہذیب اور ثقافت کے لیے خطرہ پیدا کرتے ہیں۔ میں نے 600 مدرسے بند کر دیے ہیں اور میرا ارادہ تمام مدرسوں کو بند کرنے کا ہے کیونکہ ہم مدرسے نہیں چاہتے۔ ہم اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں چاہتے ہیں۔‘وہ کرناٹک کے بیلگاوی میں شیواجی مہاراج گارڈن میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کر رہے تھے۔

دہلی میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے زیر اہتمام منعقد ایک پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے شرما نے کہا کہ مدرسوں کا وجود ختم ہو جانا چاہیے۔’مدرسہ‘ لفظ غائب ہو جانا چاہیے۔ قرآن گھر پر پڑھائیں، لیکن بچوں کو اسکول میں سائنس اور ریاضی پڑھائی جانی چاہیے۔‘

انہوں نے جان بوجھ کر اس سچائی کو چھپایا کہ ملک کے زیادہ تر مدرسے مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ سیکولر مضامین بھی پڑھاتے ہیں۔

’پانچ جنیہ‘ اور ’آرگنائزر‘ کے میڈیا کانفرنس میں ہمنتا بسوا شرما۔تصویر بہ شکریہ: پانچ جنیہ ڈاٹ کام

نفرت، بائیکاٹ اور حق رائے دہی چھیننے کی سیاست

وزیر اعلیٰ کبھی ایسی باتیں کرنا بند نہیں کرتے جن سے یہ لگے کہ غیر بنگالی، غیر مسلم اسامیا لوگ زندہ رہنے کے لیے ایک فیصلہ کن جنگ لڑ رہے ہیں۔ ریاستی اسمبلی میں انہوں نے اعلان کیا کہ وہ ’میاں مسلمانوں کو پورے آسام پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔‘

دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، شرما نے گوہاٹی میں صحافیوں سے کہا کہ انہوں نے بی جے پی کے ارکان کو ریاست میں جاری ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے دوران ’میاں‘ ووٹروں کے خلاف شکایتیں درج کرنے کی ہدایت دی ہے۔

انہوں نے چیلنج بھرے انداز میں کہا، ’اس میں چھپانے جیسا کچھ نہیں ہے۔ میں نے میٹنگ کی ہیں، میں نے ویڈیو کانفرنس کی ہیں، اور میں نے لوگوں سے کہا ہے کہ جہاں بھی ممکن ہو، وہ فارم 7 بھریں۔‘
الیکشن کمیشن کا فارم 7 ایک ایسا دستاویز ہے جو کسی ووٹر کا نام ریاست کی ووٹر لسٹ سے ہٹانے کے لیے بھرا جاتا ہے۔ اس سے میاں لوگ مسلسل دباؤ میں رہیں گے۔ انہیں ایسا اس لیے کرنا چاہیے ’تاکہ انہیں (میاں لوگوں کو) تھوڑی بھاگ  دوڑ  کرنی پڑے، پریشانی ہو، تاکہ وہ سمجھیں کہ اسامیا لوگ ابھی بھی زندہ ہیں۔‘

وہ بار بار بنگالی نژاد مسلمانوں کو اسامیا لوگوں سے الگ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، وہ اسامیا نہیں ہیں، وہ بنگلہ دیشی ہیں، اور انہیں آسام میں نہیں بلکہ بنگلہ دیش میں ووٹ دینا چاہیے۔ وہ اعلان کرتے ہیں، ’ہم یہ یقینی بنا رہے ہیں کہ وہ آسام میں ووٹ نہ دے سکیں۔‘

انہوں نے اعلان کیا کہ ریاست میں خصوصی نظرِثانی کے عمل کے دوران ’چار سے پانچ لاکھ میاں ووٹروں‘ کو ووٹر لسٹ سے ہٹا دیا جائے گا۔ انہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑا کہ یہ واضح طور پر ایک غیر قانونی دعویٰ تھا، کیونکہ صرف الیکشن کمیشن ہی لوگوں کو ووٹر لسٹ میں شامل کرنے یا نکالنے کا مجاز ہے۔

السٹریشن: پری پلب چکرورتی/دی وائر

ہندوستان کے سیکولر آئین کو کھلے عام چیلنج کرتے ہوئے وہ اکثر یہ بھی کہتے ہیں، ’ہندوستان ہندوؤں کا ہے اور ہمیشہ رہے گا…2025‘میں دہلی ریاستی انتخابات کے دوران انتخابی مہم میں شرما نے کہا، ’رام مندر بننے کے بعد، لوگوں نے ہندوؤں کی طاقت کو سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ ہندوؤں نے اس ملک کو جنم دیا ہے اور ہندوؤں نے ہی اسے ترقی دی ہے۔ ہم ہندو تھے، ہم ہندو ہیں اور ہم ہندو ہی رہیں گے۔ ہندوستان ایک ہندو راشٹر ہے؛ یہ ایک ہندو تہذیب ہے۔ ہندوؤں کو دوسرے نمبر پر نہیں رکھا جا سکتا۔ ہندوؤں نے اس ملک کو بنایا اور سنوارا ہے، اور وہ اسے وشو گرو بنائیں گے؛ مدرسوں کے طلبہ کو ڈاکٹر اور انجینئر بننا چاہیے، ملا کیوں بنیں؟ آسام میں، میں نے ملا بنانے والی دکانیں بند کر دی ہیں۔‘

وزیراعلیٰ نے ایک انتخابی تقریر میں کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ ملک بھر میں کئی ’بابر‘ چھپے ہوئے ہیں اور انہوں نے خاص طور پر آسام، بنگال، ہریانہ کے نوح اور اتر پردیش کا ذکر کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان لوگوں کو باہر نکالنے کے بعد ملک محفوظ اور ترقی یافتہ ہوگا۔

انہوں نے آسام میں مدرسوں کو بند کرنے کے بارے میں بھی بار بار شیخی بگھاری، اور کہا کہ ان کا ہدف باقی تمام مدرسوں کو بند کرنا ہے۔ انہوں نے وقف بورڈ پر مودی کی کارروائی سے ناراض لوگوں سے بھی اپنی ناراضگی پر قابو رکھنے کو کہا، اور کہا کہ ابھی اور بھی بہت کچھ ہونے والا ہے۔

’ مجھے نہیں پتہ کہ ہم سیاسی طور پر خود کو کتنا بچا پائیں گے، لیکن اگر ہمارا سماج متحد ہے، اگر ہم اپنے اداروں کی ذمہ داری لیتے ہیں اور اگر ہم اپنی آنے والی نسلوں کو دو عظیم شخصیات کے نظریات کے ساتھ زندہ رکھتے ہیں، تو شاید ہم اسامیا کے طور پر جی پائیں گے۔‘آج میاں لوگ ’بس کسی چیز سے ڈرے ہوئے ہیں۔ جس دن وہ ڈرختم ہو جائے گا، ہم آسام کے اوپری اضلاع کو چھوڑ کر پورے آسام میں بنگلہ دیش (حال ہی میں ہندو مردوں کی لنچنگ کی طرف اشارہ) جیسا نظارہ دیکھیں گے۔ اور یہی ہماری زندگی کی اصل سچائی ہے۔ ‘

نیو یارک کے بارڈ کالج میں پالیٹکل اسٹڈیز کے پروفیسر ایمیرٹس سنجیو بروآ اس بات چیت اور عوامی کارروائی کو ایک ’تشویشناک ٹرینڈ‘ قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بنگالی مسلمانوں’کی بڑی آبادی ریاست میں کنسٹرکشن جیسے سیکٹر میں مزدور کے طور پر کام کرتی‘ ہے، اور وہ کام کی تلاش میں ریاست کے ایک حصے سے دوسرے حصے میں جاتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں، ’اب غیر قانونی ہونے کو ایک خاص کمیونٹی اور برادری کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔ یہ اب کسی فرد کی حقیقی شہریت کی حیثیت کا معاملہ نہیں رہا۔‘

شرما آسام کے لوگوں سے ’اسرائیل سے سیکھنے‘ کی اپیل کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ ملک مسلم انتہاپسندوں سے گھرا ہوا ہے۔ ایران اور عراق جیسے پڑوسی ممالک کے باوجود، کم آبادی ہوتے ہوئے اسرائیل نے سائنس اور ٹکنالوجی کے بل پر اور محنت سے ایک مضبوط معاشرہ بنایا ہے۔

انہوں نے بنگالی نژاد مسلمانوں سے بستیاں اور کھیت چھین کر انہیں ’مقامی اسامیا‘ لوگوں کو سونپنے کے منصوبوں کے بارے میں بھی بات کی۔ اس طرح وہ واضح  طور پر تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی حکومت کی جانب سے بنگالی نژاد اسامیا مسلمانوں کو ان کے کھیتوں اور گھروں سے بڑے پیمانے پر بے دخل کرنے کی سوچ فلسطین میں اسرائیلی بستیوں کے ماڈل سے متاثر ہے۔

شرما فرقہ وارانہ بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کی اپیلوں کو کھلے عام مسترد کرتے ہیں، اور انہیں ’تہذیبی جنگ میں برادری کو کمزور کرنے کی سازش‘ قرار دیتے ہیں۔ وزیراعلیٰ جیسے آئینی عہدے پر فائز  شخص کی جانب سے مسلسل نفرت انگیز بیانات بنگالی نژاد مسلم اسامیا لوگوں کے حوصلے پست کرتے ہیں، ان کے اندر عدم تحفظ کا احساس پیدا کرتے ہیں، اور ان کے ذہن و دل پر گہرے منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔

(ہرش مندر سابق آئی اے ایس افسر اور انسانی حقوق کے کارکن ہیں۔)

ہندی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔