آسام نفرت کے حصار سے کیسے نکلے گا؟

ہمنتا بسوا شرما بنگلہ بولنے والے مسلمانوں کے خلاف جو مہم چلا رہے ہیں، اسے وہ یہ کہتے ہوئے جائز قرار دیتے ہیں کہ یہ مقامی اسامیا مسلمانوں کے خلاف نہیں صرف دراندازوں کے خلاف ہے۔ اگر مان بھی لیں کہ یہ مسلمان ٹھیٹ اسامیا نہیں ہیں، تو بھی ان کے خلاف تشدد کی ترغیب اور تشدد کی - کیا قانون اجازت دیتا ہے؟

ہمنتا بسوا شرما بنگلہ بولنے والے مسلمانوں کے خلاف جو مہم چلا رہے ہیں، اسے وہ یہ کہتے ہوئے جائز قرار دیتے ہیں کہ یہ مقامی اسامیا مسلمانوں کے خلاف نہیں صرف دراندازوں کے خلاف ہے۔ اگر مان بھی لیں کہ یہ مسلمان ٹھیٹ اسامیا نہیں ہیں، تو بھی ان کے خلاف تشدد کی ترغیب اور تشدد کی – کیا قانون اجازت دیتا ہے؟

جب صوبے کامکھیا، وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم نفرت کی باتیں کرے تو وہ محض بیان بازی نہیں رہتی، بلکہ ریاست کی پالیسی بن جاتی ہے۔ (تصویر بہ شکریہ: ایکس / آسام بی جے پی)

آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے اے آئی ایم آئی ایم  کے رکن پارلیامنٹ اسدالدین اویسی کے اس الزام کی تردید کی ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں۔ اویسی نے شرما کے خلاف پولیس کے پاس شکایت اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد درج کروائی جو آسام  کی بی جے پی یونٹ نے جاری کی ہے، اورجس میں ہمنتا مسلمانوں پر بندوق سے نشانہ لگاتے نظرآرہے ہیں۔

ویڈیو میں لکھا ہے’پوائنٹ بلینک‘ اور ’کوئی رحم نہیں‘۔ اس کے ساتھ  ہی ’جاتی، ماٹی، بیٹی‘، ’غیر ملکیوں سے پاک آسام‘، ’پاکستان کیوں گیا تھا؟‘ اور ’بنگلہ دیشی پر رحم نہیں‘ جیسے نعرے بھی لکھے ہوئے ہیں۔ ویڈیو جاری کرنے کے فوراً بعد جب سوشل میڈیا پر اس پر تنقید شروع ہوئی، تو بی جے پی نے اسے ہٹا لیا، لیکن تب تک یہ اپنا کام کر چکا تھا۔ تقریباً دس لاکھ لوگ اسے دیکھ چکے تھے۔ کئی لوگوں نے اسے ڈاؤن لوڈ کر کے بھی پھیلایا ہی ہوگا اور اب بھی پھیلا رہے ہوں گے۔

غنڈہ بزدل ہی ہوتا ہے۔ کمزور پر زورآزمائی کرنے  والے کو جب کسی بڑی طاقت سے مقابلے کا اندیشہ ہوتا ہے تووہ  نیک اورشریف بن جاتا ہے۔ شاید قانون کے خوف سے ہمنتا کہہ رہے ہیں کہ انہیں ایسے کسی ویڈیو کی معلومات نہیں ہے۔ حالانکہ انہیں قانون سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ 2014 سے ہندوستان میں ایک نئی منواسمرتی نافذ ہے؛ بی جے پی برہمنوں کی طرح ہر قانون سے اوپر ہے۔ دہلی میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کا اکساوادینے والے بی جے پی لیڈر کپل مشرا کے خلاف رپورٹ درج کرنے کا حکم دینے والے ججوں کو فوراً اس کی سزا دے دی گئی۔

عدالتوں نے اب تک اپنے رویے سے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ انہیں بی جے پی یا ہندوتوادیوں کی نفرت پر کوئی عذرنہیں، سوانہیں قانون کی پروا کرنے کی ضرورت  نہیں۔ یہ بات سپریم کورٹ کے رخ سے ظاہر بھی ہوگئی۔ اس مسئلے کو جب ان کے سامنے پیش کیا گیا، تو انہوں نے ٹال مٹول کے انداز میں کہا کہ ہم سب سمجھ رہے ہیں، اب انتخابات عدالت میں لڑے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف تشدد بھڑکانے کے عمل کو اس طرح ہوا میں اڑا دیا گیا گویا وہ کوئی مذاق ہو۔


معزز جج صاحبان کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ویڈیو مسلمانوں کو خطرے میں ڈالتا ہے، یہ ان کے تحفظ سے متعلق معاملہ ہے، یہ کوئی انتخابی تقریر یا مہم کا مسئلہ نہیں۔ لیکن ہم اپنی عدالتوں کو جانتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کے خلاف تشدد کی ترغیب کو ہنسی مذاق کہہ کر ٹالتی رہی ہیں۔ وہ یہ ماننے کو تیار ہو جاتی ہیں کہ بیچارے بی جے پی والوں سے دیش بھکتی کے جوش میں یہ ہو جاتا ہے، ان کا ارادہ  نیک ہے اور مسلمانوں کو بھی اس کا برا نہیں ماننا چاہیے۔


اس ویڈیو پر شکایت کے  پہلے آسام کے ممتاز دانشوروں نے عدالتوں کو ایک خط لکھ کر گزارش کی تھی کہ ہمنتا کی مسلم مخالف نفرت انگیز مہم پر لگام لگائی جائے ۔ اگرچہ یہ ویڈیو خود ہمنتا نے جاری نہ بھی کی ہو، اس سے پہلے وہ ’میاں‘ لوگوں کے خلاف تشدد بھڑکانے والے بیان دیتے رہے ہیں، بلکہ یہ توان کے لیے معمول کی بات ہے۔

آسام کی بی جے پی یونٹ  نے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے والے بے شمار ویڈیو بنائے اور جاری کیے ہیں۔ جو اس کے خلاف شکایت کرتا ہے، ہمنتا اسے پولیس کارروائی کی دھمکی دیتے ہیں۔ ہرش مندر نے جب ہمنتا کے ایسے بیانات کے خلاف پولیس میں شکایت کی تو ہمنتا نے دھمکی دی کہ وہ ہرش کے خلاف 100 ایف آئی آر درج کروائیں گے۔

پچھلے سال جب ہرش آسام گئے تھے تو پولیس مسلسل ان کا تعاقب کرتی رہی اور ان کے میزبانوں کو طرح طرح سے ہراساں کیا گیا۔ ہمنتا ہرش کے خلاف اسامیا لوگوں کو (ظاہر ہے، یہ اسامیا غیر مسلم ہی ہیں)  بھڑکاتے رہے  ہیں کیونکہ انہوں نے این آر سی کے متاثرین اور حراستی کیمپوں میں بند لوگوں کے لیے عدالتی لڑائی لڑی ہے کی اور اس پر مسلسل لکھتے اور بولتے رہے ہیں۔

ہمنتا نے حال ہی میں بیان دیا کہ وہ ہنگامہ کرتے رہیں گے اور ’میاں‘ مسلمانوں کاجینا دوبھر کردیں گے۔ انہوں نے آسام کے ہندوؤں اور غیر مسلمانوں کوکہا کہ اگر کوئی ’میاں‘ رکشہ والا پانچ روپے مانگے تو اسے چار روپے دینا چاہیے۔ انہوں نےیہ  کہہ کر اپنے بیانوں کو  درست ٹھہرایا کہ وزیر اعلیٰ  کے طور پر ایسا کرنا ان کا فرض ہے۔ اس کے بعد ہم نے ایک ویڈیو دیکھا، جس میں ایک لڑکی ایک مسلمان رکشہ والے کو کم پیسے دے رہی ہے اور دلیل دے رہی ہے کہ اسے ایسا کرنے کو وزیر اعلیٰ نے کہا ہے۔

اس سے پہلے بھی ہمنتا لوگوں سے کہتے رہے ہیں کہ مسلمان سبزی فروش سے سبزی نہیں خریدی جانی چاہیے اور ان کا کاروبار ٹھپ کر دینا چاہیے۔ کیا یہ سب ہنسی مذاق ہے؟ کیا یہ سب صرف بات کی بات ہے؟ لوگ ٹھیک کہتے ہیں کہ جب صوبے کا مکھیا،وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم اس قسم کی باتیں کرے تو وہ محض بیان بازی نہیں رہتی، ریاستی پالیسی بن جاتی ہے۔

آسام میں روزانہ مسلمانوں کے گھروں کو توڑا جا رہا ہے، بنگالی مسلمانوں کو سرحد کے باہر دھکیلا جا رہا ہے۔ انہیں درانداز کہہ کر ووٹر لسٹ سے ان  کانام ہٹانے اور انہیں غیر قانونی قرار دینے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ مسلمانوں کے خلاف اس مہم کی ٹھیک ٹھیک معلومات باہر کی دنیا کو نہیں ہے، کیونکہ باہر سے کوئی حقائق جاننے آسام جائے گاتو اسے سنگین نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔ گزشتہ سال دہلی میں اس مسئلے پر منعقد ہوئےایک پروگرام میں بی جے پی کے بھیجے  غنڈوں نے حملہ کر دیا تھا اور خصوصی طور پر سیدہ حمید کو نشانہ بنایا گیا تھا۔


ہمنتا بنگلہ بولنے والے مسلمانوں کے خلاف اپنی مہم کو یہ کہہ کر جائز ٹھہراتے ہیں کہ یہ مقامی اسامیا مسلمانوں کے خلاف نہیں  ہے، صرف دراندازوں کے خلاف ہے۔ اگر مان بھی لیا جائے کہ یہ مسلمان ٹھیٹ اسامیا نہیں ہیں، اس کے بعد بھی ان کے خلاف تشدد کی ترغیب اور تشدد کی -کیا قانون اجازت دیتا ہے اور کیا کسی بھی نظریے سے یہ درست ہے؟


اور بھی  افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمنتا کی اینٹی مسلم سیاست کی مخالفت آسام میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ شاید ہی کوئی اخبار یا میڈیا کا کوئی بھی حصہ ہمنتا پر تنقید کرتا ہو۔ آج ہیرین گوہائیں جیسے دانشور اس نفرت انگیز مہم کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں، لیکن وہ الگ تھلگ نظر آتے ہیں۔ اسامیا ہندوؤں میں نہ صرف اس مسلم مخالف سیاست کے خلاف بیزاری نہیں  ہےبلکہ وہ اس کی تائید کرتے نظر آتے ہیں۔

آدی واسیوں کا ریکارڈ بھی ہندوؤں سے بہتر نہیں  ہے۔ مقامیت کے تحفظ کے  اور اس کے خالص اسامیا تشخص کی تلاش اور اس کی حفاظت کے نام پر باہری کے خلاف چلائی گئی طویل مہم کو جو حمایت دی گئی اس کا نتیجہ اب نظر آنے لگاہے۔ اس میں سپریم کورٹ کا بھی بڑا کردار رہا ہے۔ آخرجسٹس روہنٹن نریمن نے ہی کہا تھا کہ آسام پر دراندازوں نے چڑھائی کر دی ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے این آر سی کی جانی چاہیے۔

این آر سی نے آسام میں جو تباہی مچائی، اسے باہر کے لوگ کبھی نہیں سمجھ سکتے۔ اس کا ارادہ بڑی تعداد میں مسلمانوں کو باہر کرنا تھا۔ جب ایسا نہ ہو سکا تو بی جے پی نے خود ہی این آر سی کے نتائج کو مسترد کر دیا۔ اس کا کہنا ہے کہ این آر سی تب تک جاری رہنی چاہیے جب تک جنہیں باہر کرنا ہے، انہیں باہر نہ کر دیا جائے، یعنی مسلمان!

آسام میں مسلمانوں کا ایک حصہ بھی اپنی حفاظت کے خیال  کرتے ہی خاموش ہوگیا جان پڑتا ہے۔ شاید سب کو لگتا ہے کہ نشانہ صرف بنگالی مسلمانوں کو بنایا جائے گا۔ رائفل سے مسلمانوں پر نشانہ سادھتے ہمنتا کے ویڈیو میں لوگوں نے نوٹ کیا ہےکہ جس پر نشانہ لگایا جا رہا ہے، وہ مسلمان کے بھیس میں کانگریس لیڈر گورو گگوئی ہیں۔ بی جے نے پی پہلے بھی ایسے کئی ویڈیوز بنائے ہیں جن میں کانگریسی رہنماؤں کو مسلمان  کی شکل دی گئی ہے۔ اس کامطلب بھی واضح ہے؛ بی جے پی کو چھوڑکر ساری جماعتیں مسلم -پارٹی ہیں۔

آسام کے ہندوؤں کو یہ خوف دکھا کر کہ اگر ’دراندازوں‘ کو باہر نہ کیا گیا تو وہ اقلیت میں بدل جائیں گے، بی جے پی انہیں اپنی طرف کھینچنا چاہتی ہے۔ اس کے مطابق، صرف وہی ان کے مفادات کا تحفظ کر سکتی ہے۔ آسام سے آہستہ آہستہ ہر غیر ہندو نقش کومٹایا جا رہا ہے۔

نفرت اور تشدد کے اس حصار سے آسام باہر کیسے نکلے گا؟ کیا اس سوال کا جواب کوئی اسامیا دے سکتا ہے؟

(اپوروانند دہلی یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔)