حکومت کی کل آمدنی میں انکم ٹیکس (شخصی ٹیکس) کی حصہ داری 21 فیصد ہے، جو کارپوریٹ ٹیکس (18فیصد) سے زیادہ ہے۔ دستاویز کے مطابق، 2026-27 کے لیے کارپوریٹ ٹیکس کا بجٹ تخمینہ 1231,000 کروڑ روپے ہے، جبکہ انکم ٹیکس کی آمدنی کا تخمینہ 1466,000 کروڑ روپے رکھا گیا ہے۔

علامتی تصویر بہ شکریہ: پکسابے
نئی دہلی: حکومت کی کل آمدنی میں انکم ٹیکس (شخصی ٹیکس)کی حصہ داری ایک بار پھر 21 فیصدہو گئی ہے، جو کارپوریٹ ٹیکس (18فیصد) سے زیادہ ہے ۔ یہ گزشتہ ایک دہائی کے اس رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جس میں ہندوستان کا ٹیکس نظام کارپوریٹس اور بالواسطہ ٹیکسوں کے حق میں رہا ہے۔
سال2019 میں حکومت نے کارپوریٹ ٹیکس کی شرح میں کٹوتی کرتے ہوئے موجودہ گھریلو کمپنیوں کے لیے 22فیصد اور نئی مینوفیکچرنگ کمپنیوں کے لیے 15فیصد کر دیا تھا۔
‘بجٹ ایٹ اے گلانس‘ دستاویز کے مطابق، 2026-27 کے لیے کارپوریٹ ٹیکس کا بجٹ تخمینہ 12,31,000 کروڑ روپے ہے، جبکہ انکم ٹیکس سےوصولی کا تخمینہ 14,66,000 کروڑ روپے رکھا گیاہے۔
اس کےمقابلے،2025-26 میں کارپوریٹ ٹیکس کے بجٹ کا تخمینہ 10,82,000کروڑ روپےتھا، جبکہ انکم ٹیکس کا تخمینہ 14,38,000کروڑ روپے رہا۔ اسی سال کارپوریٹ ٹیکس کا نظرثانی شدہ تخمینہ 11,09,000کروڑ روپے اور انکم ٹیکس کا 13,12,000 کروڑ روپے تھا۔
پی آر ایس لیجسلیٹو ریسرچ کے تجزیہ کے مطابق ، 2000-01 اور 2023-24 کے درمیان کارپوریٹ ٹیکس میں اوسطاً 15فیصداور شخصی انکم ٹیکس میں 16فیصد کاسالانہ اضافہ ہوا۔ اس مدت کے دوران کل براہ راست ٹیکسوں میں انکم ٹیکس کا حصہ بڑھ گیا ہے۔ سال 2023-24 میں یہ کل براہ راست ٹیکسوں کا 53فیصد رہا، جو 2000-01 میں 47فیصدتھا۔
یونین بجٹ 2026-27 کے اہم نکات کے مطابق، حکومت کی آمدنی میں سب سے بڑا حصہ قرض اور واجبات کا ہے، جو 24فیصد ہے۔ اس کے بعد انکم ٹیکس (21فیصد) ہے۔
کارپوریٹ ٹیکس 18فیصد، جی ایس ٹی اور دیگر ٹیکس 15فیصد، نان ٹیکس ریونیو 10فیصد، سینٹرل ایکسائز ڈیوٹی 6فیصد، کسٹم ڈیوٹی 4فیصد اور غیر قرض دار سرمایہ کی رسیدیں 2فیصد ہیں۔
وہیں، حکومتی اخراجات کی تشکیل میں ریاستی ٹیکسوں کا سب سے بڑا حصہ (22فیصد)، اس کے بعد سود کی ادائیگی (20فیصد)، مرکزی شعبے کی اسکیمیں (17فیصد)، دفاع (11فیصد)، دیگر اخراجات اور مالیاتی کمیشن اور دیگر منتقلی (دونوں 7فیصد)، اور اہم سبسڈیز (6فیصد) شامل ہیں۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندوستان کے ٹیکس نظام نے کارپوریٹس اور بالواسطہ ٹیکسوں کو ترجیح دی ہے۔ گھریلو کمپنیوں کے لیے کارپوریٹ ٹیکس 30 فیصد سے کم کر کے 22 فیصد اور نئی مینوفیکچرنگ کمپنیوں کے لیے 15 فیصد کر دیا گیا، لیکن اس کے باوجود ان سے ٹیکس وصولی جی ڈی پی کے 3.5 فیصد سے کم ہو کر 2.8 فیصد رہ گئی۔ دوسری طرف، گزشتہ پانچ سالوں میں جی ایس ٹی سے ہونے والی آمدنی 4.4 لاکھ کروڑ سے بڑھ کر22.08 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی ہے، جس میں سال بہ سال 9.4 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔
ٹیکس کا یہ غیر متوازن نظام معاشی عدم مساوات میں اضافے کا باعث بنا ہے۔ عالمی عدم مساوات کی رپورٹ 2026 کے مطابق، ہندوستان دنیا کے سب سے زیادہ غیر مساوی ممالک میں شامل ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے،’ملک کی کل آمدنی کا تقریباً 58فیصد سرفہرست دس لوگوں کے پاس جاتا ہے، جبکہ نیچے کے 50فیصد کو صرف 15فیصدملتا ہے۔ دولت کی عدم مساوات اس سے بھی زیادہ ہے،سب سے امیر 10فیصد کے پاس کل دولت کا تقریباً 65فیصداورسر فہرست 1فیصد کے پاس تقریباً 40فیصد جائیدادہے۔’
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں ۔